Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 4

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 4

–**–**–

اس لیے۔۔ وہ اٹھ کر سیدھا اس کے روم کی جانب بڑھ گیا۔
وہ وہاں آتے ہی۔۔ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا۔۔
اسے سامنے پا کر۔۔ پتہ نہیں کیوں پر نداحل اپنے آنسو نہیں روک پارہی تھی۔۔
تقی کو تشویش ہوئی۔۔
“ارے یہ کیا۔۔؟؟ رو کیوں رہی ہو؟؟
کسی نے کچھ کہا ہے کیا۔۔؟؟
کیا ضروری بات کرنی تھی تمہیں۔۔بولو۔۔!!” تقی اچھا خاصا پریشان ہوا۔۔
نداحل کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ بات کیسے شروع کرے۔۔
ایک تو تقی بھی سامنے بیٹھا ۔۔ اسی کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔اور جواب کا منتظر تھا۔
اس نے بہت مشکل سے ۔۔ بہت ہمت سے کہنے کے لیے الفاظ جمع کیے۔۔
” تقی۔۔ مجھے نہیں پتہ کہ آپ میری بات پر کیسا ری ایکٹ کریں گے۔۔ پر میں بہت پریشان ہوں۔۔ اگر میں نے یہ بات آپ کو نہ بتائی۔۔ تو میرا سکون سے رہنا بہت مشکل ہو جائے گا۔۔”
“گڑیا۔۔ خیر تو ہے۔۔ بات کیا ہے۔۔؟؟ کچھ بتاؤ تو سہی۔۔” تقی اس کا صرف “تقی” کہ کر مخاطب کرنا فراموش کر گیا۔۔ اسے واقعتاً۔۔نداحل کے لیے پریشانی محسوس ہو رہی تھی۔۔
“میں۔۔ آپ سے۔۔ میں آپ سے محبت کرنے لگی ہوں۔۔!!
تقی۔۔!! آپ کو نہیں پتہ کہ میرا کیا حال بنا ہوا ہے۔۔!!
آپ میری بے قراری کا اندازہ بھی نہیں لگا سکتے۔۔
پلیز۔۔!! آپ۔۔آپ مجھ سے شادی کر لیں۔۔۔” نداحل نے بالآخر، اپنا سارا وقار اور تقی کا سارا مان چکنا چور کر دیا۔۔
تقی گنگ سا۔۔اس کی بات سن رہا تھا۔۔
غیظ کی ایک لہر تھی جو اس کے تن بدن میں دوڑی تھی۔۔
اسی غصے کا نتیجہ تھا کہ وہ خود کو روک نہیں پایا۔۔
اور غصے کی شدت کے ہاتھوں مجبور ہوکر ، ایک زوردار تھپڑ۔۔نداحل کے منہ پر دے مارا۔
اسے رہ رہ کر اپنی جلد بازی اور اپنی اس احمقانہ حرکت پر افسوس ہورہا تھا۔۔
اسے ڈر بھی لگ رہا تھا کہ تقی اس بات کہیں گھر والوں کو ہی نہ بتادے۔
پر وہ جانتی تھی کہ وہ اتنا اممیچور نہیں کہ اس کی بات کسی کو بھی جا کر بتا دے ۔
ذلت کا احساس، اس کو الگ ستا رہا تھا،
وہ تو اپنی ہی نظروں میں گر کر رہ گئی تھی۔۔
سارا دن گزر چکا تھا۔۔ اس کی، اپنے روم سے باہر نکلنے تک کی ہمت نہیں ہوئی۔
اب اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ کیا کرے۔۔!!
اپنی کہی بات پر قائم رہے یا تقی سے معافی مانگے،
یقیناً معافی ہی بہتر آپشن تھا،
پر مصیبت یہ تھی کہ اب وہ اس سے معافی کیسے مانگے۔۔
اس کا تو ابھی تک دوبارہ سامنا بھی نہیں کیا تھا،
وہ بھلا کیا منہ لے کر اس کے سامنے جائے۔۔ کیسے بات کرے۔۔ اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا۔۔!!
بس ایک تکلیف تھی جو اندر باہر سے اسے اذیت پہنچا رہی تھی،
صبح تک وہ کافی سنبھل چکی تھی،
وہ یونیورسٹی کے لیے تیار ہوکر باہر آئی تو تقی ناشتے کی ٹیبل پر موجود نہیں تھا،
اس کے پوچھنے پر پتہ چلا کہ وہ جا چکا ہے،
اور آج ڈرائیور اسے ڈراپ کرے گا،
ایک طرح سے اچھا ہی ہوا تھا، کیوں کہ فی الوقت اس میں بالکل بھی حوصلہ نہیں تھا، کہ وہ اسے face کر پاتی،
لیکن نداحل۔۔!! حقیقت سے نظریں چرانے والوں میں سے نہیں تھی،
مانا کہ اس نے اپنی خواہش اور دوستوں کے بہکاوے میں آ کر اپنا سارا image خراب کر دیا تھا۔۔
لیکن اب اسے یہ امیج درست بھی تو کرنا تھا۔۔
وہ بھلا کب تک خود کو اس شخص کے سامنے اس طرح بے مول ہوتا برداشت کرسکتی تھی،
سو اسے اب جلد از جلد ، اس سے بات کرنی تھی،
اسے منانا تھا،
یونیورسٹی پہنچ کر ، اس نے پہلی فرصت میں ہی عائشہ اور مہرین کو آڑے ہاتھوں لیا،
ان کے انتہائی گھٹیا مشوروں پر دو چار سنائیں بھی۔۔
وہ بھی آگے سے ڈھیٹ لڑکیاں تھیں۔۔ اس کی کسی بات کا کہاں اثر ہونا تھا،
الٹا انہوں نے اسے آئینہ دکھایا کہ “بی بی تم کوئی چھوٹی بچی نہیں ہو کہ تمہیں کسی بات کی سمجھ نہ ہو، حقیقتاً۔۔!! تم بھی یہی کرنا چاہتی تھیں جس کا مشورہ ہم نے دیا تھا۔۔ اور اب سارا ملبہ ہم پر ڈال رہی ہو ۔۔۔!!
اور صحیح بے شرم کہا ہے اس نے تمہیں۔۔!! خیال نہیں آیا تمہیں کہ وہ اپنی بہن سمجھتا تھا۔۔!! اب تم نے مزید کوئی بات کی ناں ہم دونوں سے تو اچھا نہیں ہوگا۔۔!!”عائشہ نے جی بھر کر بھڑاس نکالی،
نداحل کو اب مزید پچھتاوا ہورہا تھا،
اس نے تو خود کو دلاسہ دیا ہوا تھا کہ اس سب میں اس کا کوئی قصور نہیں، اور وہ یہ سب اپنی دوستوں کے بہکاوے میں آ کر کر گئی تھی۔۔
پر اب اسے معلوم ہوا تھا کہ اس میں تو سارا عمل دخل اس کی اپنی خواہش کا تھا،
وہ اپنی سوچوں میں گم، دنیا و مافیہا سے بے خبر یوں ہی چلتی جا رہی تھی، اپنی بے دھیانی کی وجہ سے وہ سامنے سے آتے شخص سے آہستہ سے ٹکرائی ۔۔۔
وہ آدمی دراصل اپنی بائیں طرف دیکھتا ہوا چلا آرہا تھا اور نداحل اس کی دائیں جانب سے گزر رہی تھی سو اس لیے ان دونوں کا ٹکراؤ ہوا،
نداحل نے آنکھ بھر کے اس کی طرف دیکھا بھی نہیں، بس وہ اسے سوری کہتی آگے بڑھ گئی،
اور وہ جناب چند لمحوں تک اسے جاتا دیکھتے رہے،
ملک عمیر اکبر کو یہ لڑکی بہت اٹریکٹیو لگی،
خیر وہ جس کام سے آیا تھا، اس کو انجام دینے کے لیے آگے بڑھ گیا، اس بات سے لاعلم کہ اس سے ٹکرانے والی وہ اٹریکشن اس کے سکون کا بیڑا غرق کرنے والی ہے،
ملک عمیر اپنا کام کر کے واپس لوٹا تو پتہ نہیں کیوں۔۔ اس کی نظریں ادھر ادھر بھٹک رہی تھیں۔۔۔
حالانکہ اسے عادت نہیں تھی۔۔ یوں راستے میں یہاں وہاں دیکھنے کی،
پر شاید اس کی نظریں نداحل کو کھوج رہی تھیں۔۔
ابھی دو منٹ ہی ہوئے تھے اسے چلتے ہوئے کہ نداحل انہیں وہیں سامنے گھاس میں، ایک طرف کو اکیلی بیٹھی دکھائی دی،
ملک عمیر نے اپنے سن گلاسز نیچے کو سرکا کر، ذرا غور سے اس کا معائنہ کیا تو معلوم ہوا کہ محترمہ کسی گہری سوچ میں غرق ہیں، اور ساتھ ہی بہت الجھی ہوئی ہیں۔۔
“میرا ۔۔ اس کی الجھنوں سے کیا لینا دینا” ملک عمیر نے دل میں سوچا اور سر جھٹکتا وہاں سے چلا گیا،
نداحل واقعی الجھی ہوئی تھی،
یہ جو رولا اس نے ڈالا تھا۔۔ اب اسے ختم کرنے کا کوئی آئیڈیا ہی اس کے ہاتھ نہیں لگ رہا تھا،
بحر حال ، اب زبان سے ، ڈائریکٹ کچھ بھی کہنا ۔۔ اس کے لیے بہت مشکل تھا۔۔
اسی پریشانی میں اس کا یہ دن بھی گزر گیا۔۔
تقی کا طرف تھا کہ اس نے گھر والوں میں سے کسی کو بھی نداحل کی اس حرکت کی بھنک نہیں لگنے دی،
بس وہ اس کے سامنے آنے اور بات کرنے سے احتراز برت رہا تھا،
نداحل کا تو دل کٹ کر رہ گیا تھا اس بے رخی پر۔۔ پر وہ کیا کہتی۔۔!! وہ تو حقدار تھی اس سب کی۔۔
نداحل کو مزید دو دن لگے۔۔ اپنی حالت بہتر بنانے میں،
فائنلی!! وہ سوچ چکی تھی کہ جس قدر بے باکی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس نے ، اتنی بڑی بات۔۔ آرام سے کہی تھی،
ویسے ہی اس نے اب اس سے معافی مانگنی تھی۔۔
اسے جلد از جلد، اپنے احساس شرمندگی سے جان چھڑانی تھی۔۔!!
سو اس لیے اس نے سوچا کہ پہلے وہ ٹیکسٹ کے ذریعے اسے سوری بولے۔۔ کیوں کہ زبان سے کہنا تو اس کے لیے تھا ہی مشکل،
اس مقصد کے لیے اس نے فون اٹھایا۔۔ واٹس ایپ کھولی۔۔ اور message لکھنا چاہا۔۔
پر یہ کیا۔۔!! تقی تو اسے بلاک کر چکا تھا۔۔
مطلب اس کی ناراضگی کی نوعیت اتنی سخت تھی کہ وہ اس کا نمبر تک فون میں برداشت نہیں کر پایا،
ایسے سچے اور صاف دل والے لوگوں کے دلوں کو جب کوئی ٹھیس پہنچاتا ہے تو۔۔ ان کے اندر باہر ایک کہرام مچ جاتا ہے،
تقی کے جسد و قلب میں بھی یہی کہرام مچ گیا تھا۔۔
نداحل کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ اب وہ کیا کرے۔۔
اب تو صرف ڈائریکٹ بات کرنے والا آپشن باقی رہ گیا تھا۔۔
پر وہ اس سے کیسے بات کرتی۔۔ جب وہ کسی صورت اس کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔۔
پھر بات کرنا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Kesi Teri Preet Piya Novel by Falak Kazmi – Episode 15

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: