Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 5

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 5

–**–**–

اس کی شکل تک دیکھنے کا روادار نہیں تھا۔۔
پھر بات کرنا تو بہت دور کی بات تھی۔۔۔!!
نداحل کی قسمت اچھی تھی کہ وہ اسے لاونج میں مل گیا تھا۔۔
وہاں وہ اکیلا تھا۔۔
سو نداحل نے بغیر وقت ضائع کیے ، آس پاس جا کر اس سے معافی مانگی۔۔ “ت تقی بھائی۔۔ پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔ ایسے ناراض نہ ہوں مجھ سے۔۔
I know..
میں نے آپ کا مان توڑا ہے۔۔
But believe me..
میں بہت شرمندہ ہوں۔۔ !!
پلیز مجھے معاف کر دیں۔۔!!”
تقی اس کی ہمت پر حیران تھا۔۔
کہ اس دن اتنی بے عزتی کروانے کے بعد بھی وہ اس کے سامنے آ کر۔۔ اسے مخاطب کر رہی ہے۔۔
ساتھ میں وہ بہت قہر آلود نظروں سے اسے دیکھ رہا تھا،
“تم سے اسی ڈھٹائی کی توقع تھی۔۔
بے شرم تو تم ویسے ہی ہو۔۔!!
کہا بھی تھا کہ اپنی شکل نہ دکھانا مجھے۔۔!!” تقی کا لب و لہجہ، انتہائی زہریلا تھا ۔
“بھائی پلیز۔۔!! جو بھی کہ لیں پر پلیز مجھے۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔”نداحل بھی اپنی بات پر قائم رہی۔۔
اسے اپنی مزید تذلیل کی کوئی پرواہ نہیں تھی۔۔
وہ بس اسے منانا چاہتی تھی۔۔ جسکا اس نے جانے انجانے میں شدت سے دل توڑا تھا!
“پتہ بھی ہے تمہیں۔۔ کہ کس قدر تکلیف پہنچائی ہے تم نے مجھے۔۔!
میں بار بار خود کو مجرم سمجھ رہا ہوں کہ نجانے میرے کس انداز سے تمہیں یہ تاثر ملا کہ تم نے مجھے خود بلا کر اتنی بڑی بات کہ دی۔۔!!
بالکل امامہ کی طرح سمجھتا تھا میں تمہیں!!”
اس نے شکایتی نظر نداحل پر ڈالی۔۔ اور مزید کوئی بات سنے یا کیے بغیر وہاں سے اٹھ کر چلا گیا،
نداحل کی امید ٹوٹ کر رہ گئی تھی۔۔
وہ یہ کام جتنا آسان سمجھ رہی تھی۔۔ اتنا تھا نہیں۔۔!!
نداحل کا تو دنیا اور اس کے مشاغل سے دل ہی اٹھ کر رہ گیا تھا۔۔
ہر وقت ایک بےزاری۔۔ ایک بے چینی اور غم کی سی کیفیت اس پر طاری رہتی تھی۔۔
گھر میں سب لوگوں کے بار بار پوچھنے پر ۔۔ اس نے خود کو کنٹرول کرنا شروع کیا تھا۔۔۔
اب وہ سب کے سامنے پہلے جیسے ہی رہنے کی کوشش کرتی تھی۔۔!!
وہ نہا دھو کر آئی تھی اور ہلکے ہلکے سے نم بالوں کو کمر پر پھیلائے۔۔
ایک کندھے پر دوپٹہ سیٹ کیے۔۔
موبائل ہاتھ میں پکڑے اور کانوں میں ہینڈ فری لگائے۔۔
لان میں ٹہلنے لگی۔۔
ایک بہت ہی پر شوق نظر اسے اپنے حصار میں لئے ہوئی تھی۔۔
اسے نداحل کی یہ الجھی الجھی اور اداس سی صورت بہت بھا رہی تھی۔
ایک مسکراہٹ بکھری تھی اس کے ہونٹوں پر۔۔
اسے اس لڑکی کو پھر سے اپنے سامنے دیکھ کر خوشگوار حیرت ہوئی تھی۔۔
مطلب وہ تقی ابوبکر کی تختی دار تھی۔۔
وہ اپنا، تقی کے گھر آنے کا مقصد بھلائے۔۔ بہت دلنشین نظروں سے نداحل کا سراپا اپنے دل میں اتار رہا تھا۔۔
دراصل ملک عمیر اپنے چھوٹے بھائی کے ایگزامز کے رزلٹ کے سلسلے میں تقی سے ملنے آیا تھا،
اس نے یونیورسٹی جا کر باقی پروفیسرز سے تو معاملہ طے کر لیا تھا پر وہاں دوسرے پروفیسرز کی زبانی اسے معلوم ہوا کہ تقی تھوڑی ٹیڑھی چیز ہے۔۔!!
یہ آرام سے رشوت لے کر، اس کے بھائی کو بغیر اہلیت کے پاس کرنے سے صاف منع کر دے گا۔۔!!
اس لیے وہ اس سے تفصیلی بات چیت کرنے اس کے گھر آیا تھا۔۔
وہ تقی کے گھر میں، ڈرائنگ روم میں بیٹھا ، اس کا انتظار کر رہا تھا کہ ڈرائنگ روم کی گلاس ونڈو کے پار۔۔ اسے لان میں نداحل کا وجود نظر آیا۔۔
اور بس یہیں اس کی نظر ٹک کر رہ گئی۔۔
ایسا بالکل نہیں تھا کہ اسے دیکھنے پر ملک عمیر کے دل میں کوئی ہلچل مچی ہو۔۔ وہ تو بس اسے نظروں کے سامنے پا کر، ایک عجیب سی خوشی مل رہی تھی کہ جیسے یہی تو ہے وہ جع اس کے دل کی بلند ترین مسند پر براجمان ہونے کے لائق ہے۔۔!!
تقی ڈرائنگ روم میں داخل ہوا تو ملک عمیر کو اپنے آپ سے بیگانہ پایا۔۔ اس نے عمیر کی نظروں کو پرکھ کر ان کا تعاقب کیا تو اندر تک جل کر رہ گیا۔۔
ناراضگی اپنی جگہ پر نداحل اس کے گھر کی عزت تھی اور اسے بالکل یہ بات پسند نہیں تھی کہ کوئی ایرا غیرا ، اس کے گھر کی لڑکی کے وجود پر نظریں جمائے اپنی آنکھیں ٹھنڈی کرے۔۔
خیر وہ جانتا تھا کہ عمیر جیسے اڑیل کو روکنے کا تو کوئی دائرہ نہیں۔۔
اس لیے وہ خاموشی سے باہر نکلا۔۔ اور غصے میں آکر نداحل کو جا لیا۔۔
“بس یہی کام کرتی رہنا۔۔!!
مردوں کو لبھانے کا کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہ دینا۔۔!!
پتہ نہیں ہے کیا کہ گھر پر مہمان آئے ہوئے ہیں۔۔
مزے سے آکر ڈرائنگ روم کے آگے چہل قدمی کے مزے لوٹے جا رہے ہیں۔۔!!” تقی غصے میں آ کر اسے الٹی سیدھی باتیں سنائے جا رہا تھا۔۔
نداحل پریشان۔۔!! کہ وہ آخر یہ سب۔۔ یعنی اتنی گری ہوئی باتیں اس کے متعلق کیسے کر سکتا ہے وہ بھی فضول میں۔۔ بغیر کسی معقول وجہ کے۔۔
وہ گنگ سی۔۔ اسے دیکھ رہی تھی۔۔!!
تقی کو۔۔اس کے ایسے وہیں پر کھڑے رہنے پر غصہ آیا۔۔!! وہ چاہ رہا تھا کہ نداحل خود ہی اس کا مطلب سمجھ کر وہاں سے چلی جائے۔۔
پر تقی کی ان الٹی باتوں کا مطلب اسے خود کو نہیں سمجھ آنا تھا تو نداحل کیسے سمجھتی۔۔!!
“مطلب کیا آپ کا۔۔۔؟؟” نداحل نے اپنی ناسمجھی کے پیشِ نظر۔۔ سوال کیا۔۔!!
“محترمہ۔۔!! کہیں اندر جا کر اپنا یہ چہل قدمی کا شوق پورا کرو۔۔!! وہ ڈرائنگ روم میں بیٹھا عیاش امیر زادہ تمہارے حسن سے لطف اندوز ہورہا ہے۔۔”تقی نے کڑوے لہجے میں کہا۔
اسے اب تقی کا مطلب سمجھ آیا ۔۔ اس لیے وہ خاموشی سے اندر کی طرف بڑھ گئی۔۔
تقی بھی ڈرائنگ روم کی طرف بڑھ گیا۔۔ جہاں عمیر بیٹھا۔۔ بڑی دلچسپی سے مگر ذرا الجھ کر سارا ماجرا دیکھ رہا تھا۔۔ کیوں کہ ان دونوں کے درمیان ہونے والی گفتگو کی نوعیت کا اسے کوئی اندازہ نہیں تھا۔۔!!
عمیر کو تھوڑا سا تجسس بھی ہوا کہ آخر بات کیا ہورہی ہے!!!
مگر تقی کے الفاظ۔۔!! وہ تو اسے بالکل ہی حقیر کر گئے۔۔
“یعنی ایک معمولی سی غلطی پر وہ اس سے اتنا بدگمان ہوگیا تھا!!” نداحل نے افسوس سے سوچا۔
پر تقی کو دراصل۔۔غصہ عمیر پر تھا۔۔ اس کا بے باکی سے نداحل پر نظریں جمانا۔۔ تقی کو بہت ناگوار گزرا تھا۔۔
خیر وہ خود کو نارمل کئے ، اب اچھے سے عمیر کا خیر مقدم کررہا تھا۔
عام عزت دار اور شریف لوگوں ویسے بھی ملک عمیر جیسے سیاسی اور ڈون نما بندوں سے ذرا دب کر رہنا پڑتا ہے!!
عمیر اور تقی آمنے سامنے بیٹھے تھے۔۔
عمیر کے بات شروع کرنے سے پہلے ہی تقی بول پڑا کہ۔۔
“دیکھیں ملک صاحب۔۔ اگر آپ کا بھائی اس لائق ہوا کہ میرٹ پر پاس ہوسکے تو میں کبھی اسے فیل نہیں کروں گا۔۔ پر اگر وہ اس کا اہل نہیں ہے تو معاف کیجئے گا۔۔ مگر میں اسے ناحق پاس نہیں کرسکتا۔۔!!”
تقی نے چہرے پر سختی اور سنجیدگی لاتے دو ٹوک انداز میں بات کی۔۔
ملک عمیر کو بھی بھلا اب کہاں فکر تھی کسی بات کی۔۔
وہ تو کسی اور دنیا میں پہنچ چکا تھا۔۔
“ارے نہیں نہیں جناب۔۔!! آپ غلط سمجھ رہے ہیں۔۔!!
میں ایسی کوئی بات نہیں کرنے آیا۔۔!!
میں تو بس اس کی رپورٹ لینے آیا تھا۔۔ کہ کیسا جارہا ہے پڑھائی میں۔۔!!” عمیر نے تو بات ہی بدل دی تھی۔۔
اب۔۔ جیسا کہ وہ جان چکا تھا کہ نداحل ، تقی کی کچھ نہ کچھ لگتی ہے۔۔ اور اس کے حصول کا راستہ۔۔وہ تقی سے بگاڑ کر۔۔ ناہموار نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔
تبھی اس نے بات ہی بدل دی تھی۔۔
تقی کو عمیر کی بات پر حیرانی ہوئی تھی۔۔
پر وہ معمولی سے انداز میں اسے، اس کے بھائی کی رپورٹ کے متعلق آگاہ کرنے لگا۔
اتنے میں سامنے سے نداحل ، لوازمات سے سجی ٹرالی گھسیٹتی ہوئ آتی دکھائی دی۔۔۔
ان دونوں کی گفتگو کا تسلسل ٹوٹا۔۔
ملک عمیر تو لمحے کی دیر کئے بغیر۔۔ اپنے پوری توجہ اس کی طرف مبذول کر گیا۔۔۔
عمیر کا یہ انداز۔۔ تقی کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Aab e Hayat Novel by Umera Ahmed Read Online – Episode 17

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: