Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 6

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 6

–**–**–

ملک عمیر تو لمحے کی دیر کئے بغیر۔۔ اپنے پوری توجہ اس کی طرف مبذول کر گیا۔۔۔
عمیر کا یہ انداز۔۔ تقی کو بھڑکانے کے لیے کافی تھا!!
اسے نداحل پر غصہ آیا کہ ابھی وہ اس کو اتنی کھری کھری سنا کر آیا تھا اور اب وہ ڈھیٹ بن کر پھر سے سامنے آگئی۔۔!!
اس نے قہر آلود نظروں سے نداحل کو گھورا۔۔ اور لپک کر اس کے ہاتھ سے ٹرالی کا ہینڈل چھڑا کر خود پکڑا اور جانے کا اشارہ کیا۔۔
تقی کی یہ حرکتیں عمیر کو اور بھی محظوظ کررہی تھیں۔۔
نداحل بری طرح سہمی ہوئی ، واپس جانے کے لیے مڑی۔۔
“تقی صاحب۔۔ غالبًا یہ لڑکی آپ کے اہل خانہ میں سے ہے۔۔کم سے کم تعارف تو کرا دیجیئے۔۔” عمیر نے مسکراتے ہوئے ڈھٹائی سے کہا۔
تقی بل کھا کر رہ گیا۔۔
“ملک صاحب!! یہ نداحل ہے ۔۔ میری چچا زاد” تقی نے اپنا غصہ دباتے ہوئے بڑے تحمل سے کہا۔۔
نداحل اس کی آواز سے لہجہ بھانپ چکی تھی۔۔ اس لیے بغیر رکے۔۔ وہ جلدی سے وہاں سے غائب ہوئی۔
اسے سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ عمیر کو لے کر اس کی موجودگی پر اتنا عجیب کیوں ری ایکٹ کر رہا ہے۔۔!!
تقی کی بدکلامی کا دکھ۔۔
علیحدہ ہی اسے گھائل کر رہا تھا۔۔
پر وہ کیا کر سکتی تھی!
سو اس لیے خاموشی سے چل دی۔۔!!
تقی نے اس کے جانے کے بعد۔۔
اپنی پوری کوشش سے۔۔ جلد از جلد، اس ملک عمیر نما کیڑے کو، رخصت کیا اور اس سے جان چھڑائی۔۔
اس کا وجود ۔۔۔ تقی سے برداشت نہیں ہورہا تھا۔۔
اور شاید اس کی وجہ نداحل تھی۔۔!!
نداحل اپنے روم میں بیٹھی۔۔ اپنی کوئی اسائنمنٹ تیار کر رہی تھی کہ اس کے کمرے کا دروازہ knock ہوا۔۔
دروازہ کھلا ہی تھا ، اس لیے اس نے اٹھنے کی زحمت نہیں کی۔۔ اور شاید knock کرنے والے کا مقصد۔۔ اس کی توجہ حاصل کرنا تھا۔۔
نداحل تھوڑی حیرانی سے دروازے پر کھڑے تقی کو دیکھ رہی تھی۔۔!!
اصل میں اسے امید نہیں تھی کہ اب تقی اس کے پاس آئے گا۔۔
پر اسے وہ آج کی شام والی بات یاد آئی کہ وہ تقی کے منع کرنے پر بھی، وہاں ، اس کے سامنے چلی گئی تھی،
اسے تقی کے چہرے کے سخت تاثرات سے تھوڑی دہشت محسوس ہوئی۔۔ پر اپنا ڈر چھپاتی۔۔ وہ احتراماً کھڑی ہوئی۔۔
“تقی بھائی۔۔ آپ۔۔یہاں۔۔!! آئیں ۔۔ بیٹھیں۔۔!!” اس نے نظریں جھکائے دھیمی آواز میں کہا۔۔ پر لہجے سے۔۔ اس کے شام والے القابات کے رد عمل کے طور پر۔۔ ناراضگی صاف ظاہر تھی۔۔
یعنی تقی اس سے ناراض اور یہ تقی سے ناراض تھی!!
“وجہ پوچھ سکتا ہوں۔۔؟؟ کہ میرے منع کرنے پر بھی تم اس عمیر کے سامنے کیوں آئیں۔۔؟؟
زیادہ شوق ہے تمہیں اپنے جلوے بکھیرنے کا۔۔؟؟
پتہ نہیں تمہیں کہ ایسے غنڈوں جیسے لوگ عورت کو کس نظر سے دیکھتے ہیں۔۔؟؟ ” تقی لہجے میں اخیر کڑواہٹ بھرتے۔۔ سراپا سوال بنا ہوا تھا۔۔
اور نداحل کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ آخر وہ ایسے کیوں behave کر رہا ہے۔۔!!
آج سے پہلے تو اس نے ایسا کبھی کچھ نہیں کہا۔۔!!
پر اس وقت اس نے اپنا سمجھنے سمجھانے والا مشغلہ چھوڑا اور تقی کی بات کا جواب دینے لگی۔۔
” میں جان بوجھ کر نہیں آئی تھی۔۔ تائی امی نے بھیجا تھا۔۔ میں نے منع کیا تھا۔۔ پر انہوں نے اصرار کیا تو میں لے آئی۔۔ اب اس میں اتنی بڑی۔۔ کونسی قیامت آئی ہے۔۔ جو آپ ایسے بھڑک رہے ہیں۔۔؟؟”
نداحل بھی اس کے اس فضول غصے سے جل کر رہ گئی تھی ۔۔ آخر کتنا برداشت کرتی۔۔
اس لیے اس نے بھی ساری تمیز اور ادب بالائے طاق رکھ کر درشتی سے جواب دیا۔
“جو بھی ہے۔۔ تمہیں وہاں نہیں آنا چاہیے تھا۔۔!! وہ ملک عمیر۔۔۔” تقی نے ابھی اپنا جملہ مکمل نہیں کیا تھا کہ نداحل نے اس کی بات کاٹی۔۔
“آپ کو کیا مسئلہ ہے۔۔!!
کیا ملک عمیر۔۔ملک عمیر کی رٹ لگائی ہوئی ہے۔۔؟؟
ہاں۔۔ ؟؟ میں نے بھی اس کی طرف دیکھا تھا۔۔ مجھے تو اس کی نظروں میں اپنے لیے کوئی غلاظت نہیں نظر آئی۔۔
بلکہ وہ جس انداز میں دیکھ رہا تھا۔۔
محبت کرنے والے دیکھتے ہیں ایسے۔۔
اس میں اتنی بڑی تو کوئی بات نہیں، جو آپ ب نے ایشو ہی بنا کر رکھ دیا۔۔!!” نداحل کا دماغ بھی الٹ کر رہ گیا تھا۔۔
اسے خود کوبھی پتہ نہیں چلا کہ وہ کیا کچھ اور کیسے بول گئی۔۔
اپنے لفظوں پر غور کرنے پر، اس نے دانتوں میں زبان دبائی۔۔ “اف۔۔ کیا اول فول بول دیا میں نے” اس نے دل میں سوچا۔۔!!
اور تقی آنکھیں پھاڑے ۔۔ اس کے کہے ہر جملے پر حیرت زدہ تھا۔۔
اس کے پاس کہنے کو کچھ بچا نہیں تھا۔۔!!
سو وہ چپ چاپ اپنا سا منہ لیے وہاں سے رفو چکر ہوا،
نداحل کو شاید گزرے دنوں کے واقعات کا ڈیپریشن تھا۔۔ اور تقی کی بے رخی۔۔ پھر اس کے کہے برے الفاظ۔۔ شاید اسی وجہ سے وہ بے دھیانی میں سب بول گئی۔۔
پر اب وہ اچھی خاصی خجل ہو رہی تھی۔
ان دونوں کو ہی اپنی ہی حرکتوں کی سمجھ نہیں آ رہی تھی۔۔!!
نداحل نے صحیح آئینہ دکھایا تھا کہ آخر وہ اتنا سیریس کیوں ہورہا ہے۔۔!!
عمیر کا ایسے دیکھنا۔۔ اس سے کیوں برداشت نہیں ہوا۔۔!!
اور ایک اور بات۔۔ تقی کے دماغ کو الجھانے لگی تھی!! کہ وہ نداحل کی معافی۔۔ اس کی apology ایکسیپٹ نہیں کر پا رہا تھا۔۔!!
اس نے تو بولا تھا کہ وہ اسے اپنی بہن سمجھتا ہے۔۔
امامہ کی طرح ٹریٹ کرتا ہے۔۔!!
پر یہ کیا۔۔؟؟
نداحل کے لیے اس کے اپنے جذبات بدلنے لگے تھے۔۔!!
اس نے لان میں ٹہلتے ہوئے سوچا۔
عجیب انکشاف ہوا تھا اس پر۔۔
اس کو اب پریشانی ہونے لگی تھی۔۔
اس کے ٹہلنے کی رفتار میں تیزی آ رہی تھی۔۔!!
وہ مضطرب سا ہوکر رہ گیا تھا۔۔
اس نے اپنی پینٹ کی پاکٹ سے سگریٹ، لائٹر نکال کر، عجیب جنونی انداز میں سگریٹ سلگائی۔۔ اور اس کے کش لینے لگا۔۔
وہ لمحوں میں ہی آدھی سگریٹ ختم کر چکا تھا۔۔ کہ اسے اندر سے آمنہ اور امامہ آتی دکھائی دیں۔۔ اس نے جلدی سے سگریٹ بجھا کر کیاری میں پھینکی اور ان دونوں کی طرف بڑھ گیا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: