Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 7

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 7

–**–**–

اس نے جلدی سے سگریٹ بجھا کر کیاری میں پھینکی اور ان دونوں کی طرف بڑھ گیا۔
اس نے فوری طور پر اپنی پریشانی اور بے چینی کے تاثرات چھپائے۔۔
اور مسکراتے ہوئے آگے بڑھ کر امامہ کو گود میں اٹھایا۔۔
“خیر ہے۔۔ آج میری شہزادی اتنا پیارا تیار ہوئی ہے۔” تقی نے پیار سے امامہ کا گال چومتے ہوئے کہا۔
“جی پاپا۔۔!! بس آپ، اور ماما آئسکریم کھانے جارہے ہیں ناں..! اس لیے تیار ہوئی ہوں۔۔” امامہ نے بچوں والی فطری معصومیت سے کہا۔
“ارے یہ پلین کب بنا۔۔؟؟”تقی نے حیران ہونے کی ایکٹنگ کرتے، امامہ کی چھوٹی سی ناک دباتے ہوئے کہا،
“بس ابھی ابھی بنایا ہے میں نے” امامہ ، تقی کی ہلکی ہلکی سی داڑھی کو اپنی چھوٹی سی انگلی سے کھرچتے ہوئے کہنے لگی۔۔
اب وہ کافی ریلیکسڈ فیل کررہا تھا۔
امامہ کے ساتھ ہوتے ہوئے وہ ہمیشہ ایسے ہی اپنی ہر پریشانی بھول جایا کرتا تھا۔۔ اس لیے اس وقت بھی وہ کافی ہلکا پھلکا محسوس کرنے لگا تھا۔
آمنہ کھڑی۔۔ ان دونوں باپ بیٹی کی ڈائیلاگ بازی ، مسکراتے ہوئے سن رہی تھی۔۔
“پاپا۔۔۔!! اب چلیں بھی.. ورنہ لیٹ ہی ہو جائیں گے ہم لوگ۔۔” امامہ اتاولی ہوکر کہ رہ رہی تھی۔۔
اس کی بے صبری پر تقی کو ہنسی آئی۔۔
“اوکے میری گڑیا۔۔ چلو چلتے ہیں!!!” تقی حامی بھرتا ہوا کار کی طرف بڑھا۔
“بلکہ ایک سیکنڈ ۔۔۔ میں کار کی چابی تو لے آؤں” تقی نے کچھ سوچتے ہوئے امامہ کو گود سے اتار کر کہا،
چابی تو یہ رہی پاپا۔۔” امامہ نے جلدی سے اپنی ننھی سی مٹھی کھول کر چابی دکھائی۔
“اوہ۔۔۔ تو مطلب پورا انتظام کیا ہوا ہے۔۔” تقی کو ہنسی آئی۔
“جی پاپا۔۔ پورا انتظام کیا ہوا ہے۔۔بس آپ کار اسٹارٹ کریں میں نداحل پھپھو کو بلا کر لاتی ہوں۔” امامہ نے دانت نکالتے ہوئے چہک کر کار کی چابی تقی کو تھما کر کہا۔۔ اور اندر کی طرف جانے لگی۔
“نہیں بیٹا رکو۔۔ آج ہم لوگ اکیلے چل لیتے ہیں۔۔۔ پھوپھو کو پھر لے جائیں گے۔۔” تقی نے اسے بہلاتے ہوئے کہا۔۔
کیونکہ نداحل کے بغیر تو وہ اب اپنا کوئی کام بھی نہیں کرتی تھی۔
“کیا ہوا تقی۔۔؟؟
لے چلتے ہیں ناں اسے بھی۔۔
اتنے دنوں سے اس کی بھی آؤٹنگ نہیں ہوئی” آمنہ نے امامہ کی رونی شکل دیکھتے ہوئے ، ریکوئسٹ کی،
“یار۔۔ کچھ نہیں۔۔
بس میں آج اپنی فیملی کے ساتھ ٹائم گزارنا چاہتا ہوں۔” تقی نے بات گول کی ۔۔۔
اب وہ کیا بتاتا کہ اس میں ہمت ختم ہوتی جارہی ہے۔۔ نداحل کا سامنا کرنے کی۔۔
وہ نہیں چاہتا تھا کہ وہ نداحل کے بارے میں ایسا سوچے۔۔
کوئی پیار محبت والے جذبات رکھے۔۔
اس کی پہلی اور آخری ترجیح، اس کی فیملی تھی۔۔
صرف اور صرف اس کی فیملی!!
وہ نہیں چاہتا تھا کہ کیسی تیسرے کی وجہ سے وہ اپنی ہنستی بستی زندگی خراب کرے۔۔
پر اس کے دل میں مچلنے والے جذبات۔۔ بہت جلد۔۔ اس کے سارے ارادوں پر پانی پھیرنے والے تھے۔
وہ خاموشی سے کار کی طرف بڑھ گیا۔۔
امامہ، تقی کی کوئی بات خاطر میں نہ لائی اور بھاگتی ہوئی اندر گئی۔۔
آمنہ بھی اس کے پیچھے پیچھے گئی۔
نداحل کا ذرا موڈ نہیں تھا کہیں باہر جانے کا۔۔ اور تقی کے ساتھ جانے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔۔
پر امامہ کی ضد اور آمنہ کے اصرار پر اسے آنا پڑا،
تقی، کار گھر سے باہر نکال کر۔۔ وہیں، اس میں بیٹھا۔۔ اپنی بیوی اور بچی کا ویٹ کررہا تھا۔۔
پر گیٹ سے۔۔ ان دونوں کے ساتھ نکلتی نداحل کو دیکھ کر۔۔ اس کا دل زور سے دھڑکا تھا۔۔
وہ اس لڑکی سے کوئی جذباتی وابستگی نہیں رکھنا چاہتا تھا پر۔۔
اس کے چاہنے نہ چاہنے سے کیا ہونا تھا!!
اس کا دل بغاوت کر بیٹھا تھا۔۔ اب اس کا خمیازہ تقی کو بھگتنا تھا۔۔
اپنے آپ سے لڑ کر۔۔ بے چین ہو کر۔۔ بے قرار ہو کر۔۔
اپنے اس نئے جذبے کے ہاتھوں اس کو اذیت ملنی تھی۔۔۔
ان سب کے گاڑی میں بیٹھنے کے بعد اس نے کار اسٹارٹ کی۔۔
پر وہ کچھ بولا نہیں۔۔
اسے نداحل کی موجودگی بالکل بھی اچھی نہیں لگ رہی تھی۔۔
پر کیا کرتا۔۔ امامہ کی ضد تھی۔۔ سو وہ خاموش ہی رہا۔
تھوڑی دیر پہلے والی ریلیکسیش تو کہیں غائب ہی ہوگئی تھی۔۔
اب اسے بہت بے سکونی محسوس ہورہی تھی۔۔
نظریں بار بار۔۔ کار کے فرنٹ مرر سے ہوتی۔۔ بیک سیٹ پر امامہ کے ساتھ بیٹھی نداحل پر بھٹک رہی تھیں۔
اس کا دل کیا کہ وہ اپنا سر پیٹ لے۔۔
اتنا بے اختیار ہو چکا تھا وہ۔۔
اتنا سا کنٹرول بھی نہیں کر پارہا تھا وہ۔۔۔
نداحل کو بھی عجیب ہچکچاہٹ ہورہی تھی اس سارے ماحول سے۔۔۔
نداحل صبح۔۔ سو کر اٹھی تو نماز وغیرہ پڑھ کر یونیورسٹی کی تیاری کرنے لگی۔۔
کچھ یاد آنے پر اس نے اپنا سر پیٹ لیا تھا۔۔
اف۔۔!! اس نے اپنی اسائنمنٹ کمپلیٹ نہیں کی تھی۔۔
وہ اسائمنٹ ، تقی کو submit کرانی تھی۔۔
اور تقی تو ویسے کام کے معاملے میں کوئی رعایت نہیں برتتا تھا۔۔
“اور اب تو۔۔اسکی کوئی علیحدہ ہی دشمنی نکل آئی ہے میرے ساتھ۔۔” نداحل نے ہاتھ میں موجود اسائمنٹ پیپرز کو دیکھتے ہوئے سوچا۔۔
یعنی اب تو پکی شامت آنی تھی۔۔
پہلے بھی۔۔ بے شک وہ جتنا مرضی خوش گفتار اور سویٹ تھا لیکن اس نے کام کے معاملے میں آج تک کسی اسٹوڈنٹ کو چھوٹ نہیں دی تھی۔
نداحل کو تو ٹینشن ہونے لگی تھی۔۔
اب ساری کلاس کے سامنے ہونے والی آج کی انسلٹ سے اسے کوئی نہیں بچا سکتا تھا!!
ابھی تھوڑا وقت تھا اس کے پاس۔۔
اس نے سوچا کہ تھوڑی بہت ابھی بیٹھ کر بنالی جائے۔۔
یونیورسٹی کے لیے ، اس کی باقی تیاری مکمل تھی۔۔
سو وہ اپنی چیزیں اٹھائے۔۔ لاونج میں ہی آکر بیٹھ گئی۔۔ اور بڑے انہماک سے اسائمنٹ تیار کرنے لگی۔۔
ٹینشن اپنی جگہ پر اس وقت اسے اپنے کام پر دھیان دینا تھا۔۔
کیوں کہ، تقی کے ہاتھوں بےعزت ہونے کا اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔
لیکن شاید آج اس کے ستارے گردش میں تھے۔۔
اس نے لکھے ہوئے آدھے پیپرز ٹیبل پر رکھے ہوئے تھے۔۔ جو۔۔ اس نے بڑی مشکل سے ابھی ہی لکھے تھے۔۔
باقی آدھے پیپرز، وہ اپنی گود میں رکھے پر کرنے میں مصروف تھی۔۔
اس کے بال پین کی انک ختم ہوئی تھی۔۔
اس نے اپنی کتاب پر نظریں جمائے۔۔
ایک ہاتھ سے۔۔ ٹیبل کی طرف دیکھے بغیر۔۔ وہاں پیپرز پر موجود اپنا دوسرا بال پین ٹٹولنا چاہا۔۔
اور یہ کیا!!
ساری محنت تباہ ہوکر رہ گئی تھی۔۔
اس کا ہاتھ، وہاں پڑے چائے کے کپ سے لگا جو ابھی ابھی ، اس کی مما وہاں رکھ کر گئی تھیں۔۔
وہ کپ عین ، اس کے بے ترتیبی سے پڑے اسائمنٹ پیپرز پر جا کر لڑھکا۔۔!!
اس نے صدمے سے بکھری چائے اور ان خراب حالت کاغذوں کو دیکھا!!
اس کا دل کیا کہ وہ گلا پھاڑ کر روئے۔۔
یعنی۔۔ اب واقعی۔۔ آج کی انسلٹ پکی تھی!!!

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Hijaz Ki Aandhi by Inayatullah Altamash – Episode 10

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: