Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Episode 8

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – قسط نمبر 8

–**–**–

اس کا دل کیا کہ وہ گلا پھاڑ کر روئے۔۔
یعنی۔۔ اب واقعی۔۔ آج کی انسلٹ پکی تھی!!!
وہ سر پکڑے، بڑی دل گرفتہ سی ہو کر، ان چائے کی زد میں آئے اوراق کو دیکھ رہی تھی۔۔
پریشانی اور شامت آنے کے خوف سے۔۔ باقائدہ اس کے آنسو بہنے لگے تھے۔۔
اتنے میں ،اسے،تقی اپنی ڈریس شرٹ کے کف کے بٹن بند کرتے ہوئے، سامنے سے آتا دکھائی دیا۔۔
اسے حیرت ہوئی۔۔
وہ اسی کی طرف آرہا تھا۔
“کیا ہوا ۔۔؟؟؟ کوئی مسئلہ ہے۔۔؟؟ رو کیوں رہی ہو؟؟” تقی کے اتنے پیار سے پوچھنے پر۔۔ وہ حیرت سے مرنے والی ہورہی تھی۔۔
ابھی کل تک تو وہ اس سے اتنی نفرت اور کڑواہٹ سے پیش آرہا تھا۔۔
اب وہ دوبارہ پہلے جیسے تقی کی طرح بات کیوں کر رہا تھا۔۔
وہ بے حد ششدر تھی۔۔
اپنی حیرت کے مارے وہ تقی کی کے سوال کا جواب بھی نہیں دے پائی،
اس لیے اس نے دوبارا سوال کیا۔۔
“نداحل۔۔ جواب دو۔۔ کیا پریشانی ہے۔۔” وہی پہلے جیسا ٹھنڈا۔۔ میٹھا۔۔ ہموار لہجہ۔۔
نداحل کو یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایک دم سے۔۔ اتنا پولائیٹ کیسے ہوا۔۔!!
لیکن فی الحال۔۔ اس نے اپنی بے یقینی ایک طرف رکھ کر۔۔ اپنا مسئلہ بتایا۔۔
“وہ۔۔وہ میں نے پوری وہ والی اسائمنٹ ریڈی کر لی تھی۔۔جو آج آپ کو submit کرانی تھی۔۔لیکن۔۔ دیکھیں۔۔”
“لیکن اس پر چائے گرگئی.. ہیں ناں؟؟ اتنی سی بات ہے۔۔ اس پر اتنی ٹینشن کیوں لے رہی ہو..؟؟” نداحل سے تقی کی انسلٹ کے خوف کے مارے بولا نہیں جا رہا تھا۔۔
اس لیے تقی نے اس کی بات کاٹ کر خود ہی جملہ مکمل کرکے۔۔ اس کی مشکل آسان کی۔۔
“کیا مطلب۔۔ پریشانی کی کوئی بات نہیں۔۔؟؟
اب آپ ساری کلاس کے سامنے میری انسلٹ کریں گے۔۔ اور آپ کہ رہے کہ پریشان نہ ہوں۔۔!!” نداحل نے ناسمجھی سے پوچھا۔
“نہیں کرتا انسلٹ۔۔ ریلیکس ہو جاؤ۔۔ ایک ہفتہ مزید دے رہا ہوں تمہیں۔۔ آرام سے دوبارہ تیار کرلینا۔۔بس!!
اب اپنی یہ رونی صورت ٹھیک کرو۔۔” تقی نے خوش مزاجی سے کہا۔
نداحل کی تو عقل دنگ تھی کہ ایک رات گزری ہے بس۔۔ اور تقی کے لب و لہجہ میں گزرے دنوں کے ناگوار واقعات۔۔ اس کی ناراضگی۔۔ اس کی بے رخی کی کوئی جھلک ہی نہیں۔۔
نداحل بہت متحیر تھی۔۔
تقی اس کی حیرت نوٹ کر چکا تھا پر ابھی وہ اپنی اس اچانک تبدیلی کے حوالے سے کچھ نہیں کہنا چاہتا تھا۔
“ناشتہ کیا تم نے۔۔؟؟” اس نے بالکل عام لہجے میں پوچھا۔
نداحل نے نفی میں سر ہلایا۔
“چلو آؤ میرے ساتھ کرلو۔۔ پھر اکھٹے چلیں گے یونیورسٹی۔۔!!” تقی نے مسکراتے ہوئے آفر کی۔۔
نداحل کو۔۔ اس کی یہ اچانک تبدیلی بالکل ہضم نہیں ہورہی تھی۔
پر پھر بھی وہ چپ چاپ۔۔ اس کی پیروی کرتی ناشتے کی ٹیبل تک گئی،
ناشتے کے کے کے کے کے دوران نداحل کا سارا دھیان تقی کی طرف رہا۔۔ وہ بہت پزل ہو چکی تھی۔۔
آخر کیوں وہ پھر ایک دم سے اتنا اچھا بن گیا تھا۔۔!!
یہ ساری باتیں ایک طرف پر اسے تقی کی طبیعت بھی کچھ بوجھل بوجھل سی لگ رہی تھی۔۔جیسے وہ رات بھر سو نہ سکا ہو۔۔ جیسے اس نے کافی وقت کی ذہنی الجھن سے لڑتے لڑتے گزارا ہو۔۔!!
آخر کیا تھا یہ سب۔۔؟؟ نداحل بالکل نہیں سمجھ پائی۔
نداحل کا اندازہ بالکل درست تھا۔
تقی واقعی گزشتہ رات سو نہیں پایا تھا۔
اس نے پوری رات الجھن میں ہی تو ہی گزاری تھی۔۔
اسے بےچینی تھی کہ آخر وہ کس راستے کی طرف بڑھ رہا ہے۔۔
اسے نداحل کی کنڈیشن کا بھی اچھے سے اندازہ ہوا کہ وہ بےچاری دل کے ہاتھوں بہت مجبور ہوکر۔۔ اپنی محبت کا اظہار کر بیٹھی تھی۔۔
پر تقی کو ایسا نہیں کرنا تھا۔۔
نداحل تو چھوٹی تھی۔۔immature تھی۔۔ اس لیے اس نے بے وقوفی کرلی۔۔
لیکن تقی بچہ نہیں تھا۔۔
بلکہ وہ تو بچوں والا تھا۔۔
وہ یہ بات سمجھتا تھا کہ اس کی فیملی۔۔
اس کی نئی نویلی محبت سے بڑھ کر ہے۔۔ اس لیے اسے خود کو سنبھالنا تھا۔۔
اسے اپنے جذبات قابو کرنے تھے۔۔
اسے اب گلٹ بھی محسوس ہورہا تھا۔۔ کہ اس نے نداحل کو تھپڑ مار کر زیادتی کی تھی۔۔
اور پھر اپنے کل کے کہے فضول الفاظ۔۔ جو تقریباً نداحل کی کردار شکنی کرنے کا کام کر گئے تھے۔۔
تقی بہت ندامت محسوس کرنے لگا تھا۔۔
اس نے سوچا کہ اگر وہ اتنی بدتمیزی کی بجائے اسے آرام اور تحمل سے منع کردیتا۔۔ اور اچھا برا اس پر واضح کردیتا تو۔۔ نداحل کو بھی اتنی شرمندگی کا سامنا نہیں ہوتا۔۔
پر سمجھانا تو دور کی بات۔۔ تقی نے تو اس کی معافی تک بھی ایکسیپٹ نہیں کی تھی۔۔
اور اس کے جس اظہار محبت پر۔۔وہ اتنی گری ہوئی باتیں سناتا رہا تھا۔۔۔ اب وہی محبت اس کے حواسوں پر غالب آ رہی تھی۔۔۔
یا شاید یہ نداحل کی محبت کی طاقت تھی۔۔ جس نے تقی کو اپنی طرف مائل کرلیا۔۔
پر اب اسے کوئی تدارک کرنا تھا۔۔
کوئی تجویز سوچنی تھی۔۔
کوئی تدبیر کرنی تھی۔۔
تاکہ وہ خود کو اس محبت کے غلبے سے بچا سکے۔۔ تاکہ اس کی اور نداحل کی زندگی کا امن اور سکون قائم رہے۔۔
ایک ایک کر کے۔۔وہ رات کے سارے پہر ۔۔ اپنی ان سوچوں کی نظر کرتا رہا۔۔اس نے سونے کی کوشش تک نہیں کی۔۔۔ اور نہ ہی وہ سو سکا تھا۔
ناشتے کے بعد۔۔نداحل اپنی چیزیں اٹھا کر۔۔
تقی کی ہدایت کے مطابق اس کی کار میں آکر بیٹھی تھی۔۔
دو منٹ بعد وہ بھی آ کر بیٹھا۔۔اور کار اسٹارٹ کی۔۔
اسے ڈرائیونگ کرتے پانچ منٹ ہوچکے تھے۔۔ پر ابھی تک وہ کچھ بولا نہیں۔۔
سو نداحل نے ہی بات شروع کی۔۔
“تقی بھائی۔۔ آپ کو کیا ہوا ہے اچانک۔۔؟؟
آئی مین۔۔ آپ پھر سے پہلے جیسا کیوں ری ایکٹ کررہے ہیں۔۔؟؟
میرا مطلب تھا کہ آپ نے تو میری apology قبول ہی نہیں کی تھی۔۔
تو پھر۔۔۔ آپ کا ایسا behavior مجھے کچھ خاص سمجھ نہیں آ رہا۔۔”
نداحل اپنی گود میں رکھے بیگ کو گھورتی۔۔ بہت کنفیوزڈ سی حالت میں تقی سے پوچھ رہی تھی۔
تقی اس کے سوال پر مسکرایا اور تھوڑا خجل بھی ہوا۔۔
“وہ ایکچولی۔۔ نداحل میں نے realize کیا ہے کہ میں کچھ زیادہ ہی برا پیش آیا تھا تم سے۔۔ apology کی ضرورت تمہیں نہیں مجھے ہے۔۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Qissa Aik ishq Ka Novel by Aish Khan – Episode 5

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: