Kisi Aur Ka Hun Filhal Novel By Suhaira Awais – Last Episode 19

0
کسی اور کا ہوں فی الحال از سہیرا اویس – آخری قسط نمبر 19

–**–**–

“کیوں نہیں کرا سکتے۔۔؟؟۔ کیا کیا ہے میں نے۔۔؟؟؟” وہ اور بھی بگڑ کر بولا۔
“تم نے اپنی اصلیت چھپا کر رشتہ جوڑنا چاہا۔۔
اپنے متعلق مکمل معلومات نہیں دیں۔۔
پر خیر اب تو ہم تمہارا حقیقی چہرہ پہچان چکے ہیں۔۔
اس لیے، اپنی بچی تمہیں نہیں سونپ سکتے۔۔” تایاجان نے اس مرتبہ تحمل کا مظاہرہ کیا۔
پر ان کا لہجہ کڑوا ہی تھا۔
“بکواس۔۔! سب بکواس ہے یہ۔۔!!
کس نے کہا کہ میں نے اپنی اصلیت چھپائی۔۔؟؟
یہ آپ کا بیٹا تقی۔۔!! مجھے بہت اچھے سے جانتا ہے۔۔ اور جانتا تھا۔۔!! اس لیے اصلیت چھپانے والا الزام۔۔ بالکل بے بنیاد ہے۔۔ سمجھے۔۔۔؟؟؟”
عمیر کا غصہ بڑھتا ہی گیا۔۔
اس سے ان لوگوں کی دھوکہ دہی برداشت نہیں ہوپا رہی تھی۔۔
اب وہ لوگ نداحل کی شادی اس سے فکس کر کے۔۔ منیب سے نکاح کروانے لگے تھے۔۔
یہ، عمیر کے لیے۔۔ ان کی طرف سے ایک دھوکہ ہی تھا۔۔
پر وہ حقدار تھا اس دھوکے کا۔۔!!
“جو بھی ہو۔۔!!
میں اپنی بچی کا نکاح۔۔ تمہارے ساتھ نہیں ہونے دوں گی۔۔” اس بار، چلّاہٹ۔۔ نداحل کی امی کی طرف سے تھی۔۔۔
عمیر اس بار بار کی گردان سے اکتا گیا تھا۔۔
“تو۔۔ آنٹی جی۔۔ آپ کس سے نکاح کروائیں گی اس کا؟؟
اس چھچھوندر سے۔۔ جو ایک دفع “قبول ہے” بولنے کے باوجود آپ کی بیٹی کے حق میں ایک لفظ نہیں بولا۔۔؟؟
یار پھر اس نکاح یافتہ، شاہ میر سے۔۔ جو شاید آپ کی بیٹی کو کچھ کچھ پسند کرتا ہے۔۔!!
ارے۔۔ نہیں میں بتاتا ہوں۔۔ آپ کی بیٹی کے لیے بہترین شوہر کون ہوسکتا ہے۔۔!!
یہ شادی شدہ۔۔ تقی۔۔!! جو شاید خاموش عاشق ہے نداحل کا۔۔
لیکن پتہ نہیں کیسا عاشق ہے۔۔!! اس نے میرے بارے میں سب جانتے بوجھتے۔۔ آپ لوگوں کو اندھیرے میں رکھا۔۔ صرف اس لیے کہ اسے اپنی خاموش محبت سے زیادہ اپنی فیملی عزیز تھی۔۔!!”
وہ بہت آرام سے۔۔ ایک زہرخند مسکراہٹ۔۔ اپنے ہونٹوں پر سجائے۔۔ سچائی کا زہر اگل رہا تھا۔۔
کیا کیا نہیں تھا اس کے لہجے میں۔۔!!
وہ اپنے لفظوں۔۔ اپنے انداز سے۔۔ خود ہی اپنی اکتاہٹ۔۔ اپنی سچائی کو پرکھنے کی صلاحیت۔۔ اپنی بےخوفی۔۔ اور اپنی کمینگی۔۔۔۔اپنی ڈھٹائی۔۔۔ سب کچھ ایک ساتھ ہی۔۔ سب کو باور کرا گیا۔۔
سب ہکا بکا اسے ہی دیکھ رہے تھے۔۔
اس کی بات۔۔ گھر کے بڑوں کے سر کے اوپر سے گزری تھی۔۔
اور باقی۔۔ جن کے متعلق کی تھی۔۔ وہ تو بہت ہی متذبذب ہو کر رہ گئے۔۔
نداحل کے پاپا نے کچھ کہنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ عمیر نے ان کے کچھ بولنے سے پہلے ہی انہیں چپ کرا دیا۔۔
“اب پلیز انکل۔۔ یہ مت پوچھنا کہ میں یہ ساری بکواس کیسے اور کس بنیاد پر کر رہا ہوں۔۔!!
میں مرد ہوں۔۔ اور دوسرے مرد کے ہر اشارے۔۔ ہر تاثر۔۔ ہر نظر کے پیچھے چھپی منطق کا ادراک ہے مجھے۔۔!!
اب پلیز مجھ سے کوئی بھی ، کوئی اور سوال نہ کرے۔۔
سکون سے نکاح کرلوں۔۔ پھر اپنی اپنی بھڑاس نکالنا سب لوگ۔۔!!” وہ ماتھے پر تیوریاں چڑھاتے۔۔ بڑی بدتمیزی سے کہتا۔۔ نداحل کے ساتھ آ کر بیٹھا۔
“مولوی صاحب نکاح شروع کریں۔۔” لہجے میں جلد بازی صاف ظاہر تھی۔
اس کا انداز ایسا تھا کہ پھر دوبارا۔۔ کسی کی ۔۔ کچھ کہنے کی ہمت نہ ہوئی۔۔۔
سب غصے۔۔ بے بسی۔۔ اور خوف کی ملی جلی کیفیت میں تھے۔
ایک تقی تھا۔۔ جس کا بری طرح خون کھول رہا تھا۔۔
اور مولوی صاحب۔۔ وہ بے چارے شریف انسان۔۔ وہ تو ویسے ہی کانپ گئے تھے۔۔ سو۔۔ عمیر کے کہنے پر فوراً نکاح شروع کیا۔۔
نداحل، وہیں بیٹھی۔۔ ان سب کی باتوں اور ڈائلاگ بازی سے بہت تپ چکی تھی۔۔ ایک تو وہ پہلے سے اتنی ڈیپریسڈ تھی۔۔ اوپر سے ان سب مکالمے۔۔ اس کا دماغ پھٹنے کو ہو رہا تھا۔۔
منیب کا ایسے پیچھے ہٹنا۔۔!! اس کے اندر آگ لگا گیا۔۔
عمیر کا دھونس جمانا۔۔ اس کا زبردستی کرنا۔۔ یہ بھی اس کے لیے ناقابل برداشت تھا۔۔۔
بس اب اس کا صبر جواب دے گیا۔۔ وہ جھٹکے سے اپنی جگہ سے اٹھی۔۔ اور خاموشی سے وہاں سے اٹھ کر جانے لگی۔۔
عمیر اس کی۔۔ اس اچانک حرکت پر حیران ہوا۔۔ اور اگلے ہی لمحے اپنی حیرت کو ختم کرتا۔۔ سختی سے اس کی کلائی تھام چکا تھا۔۔
“کہاں جارہی ہو۔۔!! میرے خیال سے نکاح ابھی مکمل نہیں ہوا۔۔!!” اس نے چھبتی ہوئی نظر۔۔ نداحل پر ڈالتے ہوئے کہا۔۔
“میری مرضی جہاں بھی جاؤں۔۔!!
آپ میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔!!
اور سن لیں۔۔ میں آپ سے کوئی نکاح نہیں کرنے والی۔۔!!
آپ سے تو کیا۔۔ مجھے کسی سے بھی شادی یا نکاح نہیں کرنا۔۔ یہاں سب جھوٹے۔۔ دھوکے باز۔۔ بزدل اور مطلبی ہیں۔۔!! اس لیے مجھے کسی سے شادی نہیں کرنی۔۔!! اس لیے میرا ہاتھ چھوڑیں۔۔ مجھے جانے دیں۔۔” اس نے بہت روکھے سے لہجے میں کہا۔
“لو جی۔۔!!
اب دلہن صاحبہ کے منہ میں بھی زبان آ گئی۔۔!!” عمیر نے اس کا ہاتھ چھوڑ کر ، طنزیہ تالی بجائی۔
“یہ تم اور تمہارا خاندان۔۔!! لگتا ہے ۔۔ دماغ خراب ہے تم سب کا۔۔ ایک بات سمجھ نہیں آتی کیا۔۔؟؟
جب میں نے کہہ دیا کہ میں تم سے نکاح کر رہا ہوں۔۔
تو پھر ان فضول چونچلوں کا مقصد کیا ہے۔۔ ہاں۔۔!!”
وہ اپنے جملے پر زور دیتا۔۔ بری طرح دھاڑا۔۔۔
“اور مسٹر عمیر۔۔!! میں بھی کہہ چکی ہوں کہ میں کسی سے نکاح نہیں کر رہی۔۔ اب آپ یہاں سے جا سکتے ہیں۔۔!!” وہ ڈھٹائی سے کہتی مڑ کر جانے لگی۔۔
سب گھر والے۔۔ اس کی۔۔ اس دلیری پر حیران تھے۔۔
“بس۔۔!! اب میں نے بھی بہت برداشت کرلیں یہ ڈرامے بازیاں۔۔ سیدھی طرح ہاں کرو۔۔!! ورنہ اس بندوق کی ساری گولیاں تمہارے سر میں اتریں گی۔۔!!!” اس نے اپنے کرتے کی سائیڈ پاکٹ میں سے۔۔ ریوالور نکال کر نداحل کے ماتھے پر رکھی۔۔ اپنے ایک ہاتھ سے اس کا بازو دبوچ کر۔۔ اسے مضبوطی سے قابو کیا۔۔
اور انتہائی غصے سے۔۔ اسے دھمکایا۔۔
پر انگلی کو تو جیسے کوئی پرواہ ہی نہیں تھی۔۔
وہ بے خوف سی۔۔ اس آنکھوں میں دیکھتے ہوئے چلائی۔۔ “بے شک۔۔ مار ڈالیں۔۔۔ مجھے کوئی مسئلہ نہیں ہے۔۔ بس میں آپ سے نکاح نہیں کرنے والی۔۔”
عمیر کی اس پیش قدمی پر۔۔ نداحل کی امی کا کلیجہ باہر آنے کو ہوگیا۔۔
وہ لپک کر ان دونوں کی طرف گئیں۔۔
“عمیر بیٹا۔۔ یہ گن ہٹاؤ میری بچی پر سے۔۔ دیکھو میں اسے کو سمجھاتی ہوں۔۔ تم ۔۔ تم یہ گن ہٹاؤ۔۔” انہوں نے مچل کر کہا۔۔
اور باقی مجمع پر تو جیسے سناٹا چھایا تھا۔۔
“نہیں ماما۔۔ میں کچھ نہیں سمجھنے والی۔۔ ان کو مجھ پر گولی چلانی ہے تو چلا دیں۔۔” وہ اپنی جگہ ڈھیٹ بنی رہی۔۔
عمیر نے اسے کونسا سچ مچ میں مارنا تھا۔۔
وہ بھی بس دھمکا ہی رہا تھا۔۔ اس کا مقصد اس سے ہاں کروانا تھا۔۔
پر نداحل کی ہٹ دھرمی اسے غصہ دلا رہی تھی۔۔
اس نے ، انیلہ بیگم کے کہنے پر۔۔ گن اس پر سے ہٹا لی تھی۔۔
اور غصے میں ہی۔۔ اس کا بازو چھوڑ کر۔۔ اسے خود سے دور کرنے کے لیے۔۔۔ دھکا سا دیا۔۔
نداحل۔۔ اس جھٹکے کے لیے تیار نہ تھی۔۔
اس لیے اپنا توازن برقرار نہ رکھ سکی اور زور سے نیچے گری۔۔
یہ سب اتنا اچانک ہوا۔۔ کہ فوراً کوئی اسے سنبھالنے کو آگے ہی نہیں بڑھا۔۔
اور جب تک وہ سارے اس کی طرف لپکے۔۔ تب تک وہ زمین پر گر چکی تھی۔۔
اس کا سر پھٹا تھا۔۔
اور بری طرح خون بہنے لگا۔۔
یہ دیکھ کر تو عمیر کے ہاتھ پاؤں بھی پھولے۔۔
نداحل درد کی شدت اور تکلیف سے بری طرح کراہ رہی تھی۔۔
بلکہ اس وقت وہ تڑپ رہی تھی۔۔
تقی نے اس کی حالت دیکھتے ہوئے فوراً ایمبولینس کو کال کی۔۔
پر اس کے کال ختم کرنے سے پہلے۔۔ نداحل اپنی آخری سانس لے کر۔۔ اس دنیا سے جا چکی تھی۔۔
عمیر تو موقع پر ہی وہاں سے فرار ہو گیا۔۔
اور نداحل کے ہاں۔۔ صف ماتم بچھی تھی۔۔
اب شادی والے گھر سے ڈولی کی جگہ جنازہ اٹھنا تھا۔۔!!
سب کا رو رو کر برا حال تھا۔۔
اس کے ماما بابا کا تو کلیجہ باہر آنے کو تھا۔۔
آمنہ اور امامہ تو اس کی موت کا یقین ہی نہیں کرپارہی تھیں۔۔ کیونکہ جو بھی تھا۔۔ اس سب عرصے میں وہ ان دونوں سے بہت مانوس ہو چکی تھی۔۔
ایک شرمندگی تھی۔۔ ایک پچھتاوا تھا۔۔ جس نے سب کو اپنی لپیٹ میں لے لیا۔۔
کوئی اپنی بزدلی کو پچھتا رہا تھا تو کوئی اپنی خودغرضی کو۔۔
کوئی اپنے غلط فیصلے پر پشیمان تھا۔۔ تو کوئی اپنے بے بس ہونے پر۔۔!!
وہ ہر کو اپنا مجرم بنا کر چلی گئی۔۔!! ہر کوئی خود کو اس کا مجرم محسوس کر رہا تھا۔۔
پر اب احساس کرنے کا کیا فائدہ۔۔!!
اب تو وہ جا چکی تھی۔۔!!
کوئی خود کو جتنا بھی اس کا مجرم سمجھے۔۔
لیکن اصلی مجرم تو عمیر تھا ناں۔۔
وہ اصل سزا کا حقدار تھا۔۔
اور یہ سزا اسے قدرت نے دی تھی۔۔
وہ اس دن۔۔ جیسے ہی وہاں سے نکلا تھا۔۔
تو عجیب بوکھلاہٹ کا شکار ہوگیا۔۔ اس کی کیفیت ایسی تھی کہ اس سے۔۔ صحیح سے ڈرائیونگ بھی نہیں ہو پارہی تھی۔۔
اور وہ غیر ارادی طور پر۔۔ بہت بری طرح ڈرائیو کرتے کرتے۔۔ کسی سنسان سڑک پر آ چکا تھا۔۔ سڑک سنسان تھی۔۔ پر اس کے کنارے پر کہیں کہیں بڑے بڑے درخت اور جھاڑیاں سی تھیں۔۔
وہ راستہ اس کے لیے بالکل غیر شناسا تھا۔۔
اسے کچھ سمجھ نہیں آیا کہ کہاں جائے۔۔ اور اوپر سے۔۔ اب وہ اسٹیرنگ پر بھی اپنا کنٹرول کھو چکا تھا۔۔
ایسے میں۔۔ اس کی جیب ۔۔ بالکل بے قابو ہوتی ہوئی سڑک کی دائیں طرف کو جا کر۔۔ ایک بڑے درخت سے ٹکرائی۔۔۔
یہ یقیناً ایک بہت برا ایکسیڈنٹ تھا۔۔
عمیر بہت بری طرح زخمی ہوا۔۔
وہ ہلنے جلنے کے قابل بھی نہیں تھا۔۔
اوپر سے راستہ بھی سنسان تھا۔۔ اس لیے کوئی مدد کے لیے نہیں آیا۔۔ اور وہ دو گھنٹوں تک۔۔ زندگی اور موت کے درمیان معلق رہا۔۔
دو گھنٹوں کی شدید تکلیف برداشت کرنے کے بعد بالآخر وہ اپنے انجام کو پہنچ گیا۔۔ اپنے مقام کو پہنچ گیا۔۔
اس کی روح۔۔ جسم سے آزاد ہو کر۔۔ اب ابدی عذاب جھیلنے کو تیار تھی۔۔ قیامت تک کے لیے تڑپنے کو تیار تھی۔۔!!
وہ مر چکا تھا۔۔!!
اپنے سر بے تحاشہ گناہوں کا بوجھ لیے۔۔ وہ بھی اس دنیا سے جا چکا تھا۔۔!!

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Read More:  Mushaf Novel By Nimra Ahmed – Episode 27

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: