Blogs Mir Afsar Aman

کتاب : طالبان کی قید میں، یوآنے رڈلے سے مریم تک از میر افسر امان ( مشرقی اُفق )

Written by Peerzada M Mohin
کتاب : طالبان کی قید میں،یوآنے رڈلے سے مریم تک از میر افسر امان ( مشرقی اُفق )

–**–**–

یو آنے رڈلے ایک برطانوی صحافی خاتون ہیں۔اسے اپنے پیشے سے بے پناہ لگائو ہے۔ شاید اسی وجہ سے تین خاندوں سے طلاق لینی پڑی۔11؍ ستمبر 2001ء کے امریکی خود ساختہ دہشت گردی کے واقعہ کے سنڈے ایکپریس لندن میں ملازم تھی۔اخبار نے اسے افغانستان پرمتوقع امریکی حملے کے واقعات کی رپورٹنگ کے لیے اسلام آباد بھیجا ۔ یہ صحافی خاتون قانونی طور پر کوشش میں ناکامی کے بعد بھیس بدل کر ،برقعہ پہن کر غیری قانونی طور مقامی اور افغانی گائید کی مدد سے طالبان کے افغانستان میں تور خم کے راستے داخل ہوئی۔افغانستان کے شہر جلال آباد پہنچی۔ واپسی پر گدھے پر سوار ہوکر واپس آ رہی تھی کہ طالبان نے اسے گرفتار کر لیا۔ قید کے دوران طالبان کے اسلامی کردار سے متاثر ہوئی۔ طالبان سے وعدہ کیا کہ اسلام کا مطالعہ کرے گی۔ رہائی کے اڑھائی سال بعد عمران خان (اب وزیر اعظم پاکستان) کے ہاتھوں اسلام قبول کیا، یوآنے رڈلے سے مریم بنی۔ اپنی کتاب میںلکھتی ہیں، اسلام قبول کرنے بعد مجھے افسوس محسوس ہوتا ہے کہ میں نے اسلام قبول کرنے میں اتنی دیر کیوں کی!

افغانستان میں داخل ہونے سے پہلے پاکستان میں جلوزئی مہاجو کیمپ کئیں۔ وہاں کی مشکلات کی رپورٹ تیار کی۔ جامعہ حقانیہ کا دورہ کیا۔ درّہ آدم خیل میں مقامی اسلحہ سازی دیکھی۔اسلام آباد میں افغان جہاد کے ہیرو جنرل حمید گل سے ملاقات کی۔ اس سب ملاقتوں کی رپورٹ تیار کی۔برطانوی صحافی کرسٹینا لیمپ جسے پاکستان مخالف رپورٹنگ پر پاکستان سے بے دخل کیا گیا۔جو پاکستان کو بدنام کرنے کے لیے اسامہ بن لادن کے نام سے جعلی ٹکٹ پر سفر کرنے میں ملوث تھی ۔ جس نے اسلام کو بدنام کرنے کے لیے مغرب کی ڈمی ملالہ کی زندگی پر ’’ آئی ایم ملالہ‘‘ کتاب لکھی سے بھی ملاقات کی۔ تورخم کراس کرنے کے بعد اپنی گائیڈ کے ساتھ جلال آباد پہنچی۔ جلال آباد سے باہرمضافات میں ایک گائوں’’کاما‘‘ گئیں ۔خواتین سے ملاقاتیں کیں۔ افغانانی کلچر اور رسم و رواج معلوم کیں۔ ایک افغان عورت جو سو سال سے زاہد عمر کی تھی سے بات چیت ہوئی توپتہ چلا کہ اس نے کئی جنگیں دیکھی ہیں۔ ایک افغان عورت نے معلوم کیاتمھارے کتنے بچے ہیں ۔جواب دیا ایک بچی ہے۔ کہنی لگی میں توپندرہ بچے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہوں۔افغان عورتیں مغربی عورتوں کو طعنہ دیتی ہوئی محسوس ہوئیں۔یوآنے رڈلے نے افغان عورتوں سے کہا کہ لگتا ہے کہ نائین الیون کے بعد امریکا افغانستان پر حملہ کر دے گا۔ افغان عورتوں سے جواب ملا کہ کوئی بھی افغانستان پر حملہ کرے گا تو ہم مقابلہ کریں گے۔ کوئی بھی افغانوں کو فتح نہیں کر سکتا۔رڈلے کہتی ہیں کہ اس پر مجھے ایک کہاوت یا د آئی کہ افغان کو ہر کوئی کرائے پر لے سکتا ہے مگر کوئی اس کا مالک نہیں بن سکتا؟ا ایک افغان عورت نے کہا کہ ہم نے نائین الیون کے بارے سنا ہے ۔مگر امریکا ہم پر بم پھینکنے سے پہلے دو سو بار سوچے گا۔ ہم اس سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔ رڈلے لکھتی ہیں کہ مجھے یقین ہے کہ جو کچھ ان عورتوں نے کہا وہ ان کے جذبات کی ترجمانی ہے۔
ملا عمر کا حکم تھا کہ عورتوں کی تصویر نہیں بنائی جاسکتی۔ مگر میں نے گائیڈ کی مدد سے ان تمام ملاقاتوں کی تصاویر بنا لیں۔مجھے جہاں بھی موقعہ ملا خواتین سے افغانستان کے حالات معلوم کیے اور کافی مواد جمع کر لیا۔لکھتی ہیںہم افغانستان جانے کے لیے ٹیکسی میں سوار ہوئے۔طویل سفر کے بعد ہم تورخم باڈر تک پہنچ گئے۔سورج غروب ہو چکا تھا ۔میں کوئی بھی قیمتی چیز ساتھ نہیں لی گئی تھی۔نہ رقم،نہ بندے نہ جیولری اور نہ ہی پاسپورٹ۔میں نے سوچا اگر طالبان نے مجھے پکڑ لیا تو پھانسی دے دیں گے۔ مگر میں کہہ سکتی ہوں کہ میرا پاسپورٹ میری افغان ویزا کی درخواست کے ساتھ منسلک ہے۔اچانک میرے گائیڈ نے سڑک کی ایک طرف ہونے کی ہدایت کی۔ دونوں طرف عورتیں قطار میں انتظار میں بیٹھی تھیں۔میں اپنی ساتھی عورت جس کے ساتھ دو بچیاں تھیں کے ساتھ ایک طرف بیٹھ گئی۔ کوئی آدھے گھنٹے بعد دونوں گائیڈ واپس آئے اور پریشان تھے۔لوگ آ جا رہے تھے۔گائیڈ سے میں کہا کہا بات ہے۔ اس نے کہا کہ پاکستان نے سرحد بند کر دی ہے پتہ نہیں کب کھلے گی۔چناچہ ہم نے متبادل رہ اختیار کی۔کیاگائوں کے کسی فرد نے مخبری کر دی ہے۔میرے ساتھ جوعورت تھی اس کے ساتھ دو بچے تھے وہ بھی پریشان تھی۔ میں افغانی برقع پہنے پریشان ہو رہی تھی۔مجھے لندن سنڈے ایکپریس اخبار سے جو آخری ٹیکسٹ میسج کیتھ کی طرف سے ملا تھا وہ’’جم کہتا ہے کہ تمہیں محتاط رہنا چاہیے ہم تم سے محروم نہیں ہوناچاہیے‘‘ کہ ہماری پارٹی ٹیکسی میں سوار کوہ ہندو کش رینج میں واپس پشاور جانے کے لیے دوڑ رہی تھی۔ہم ایک پہاڑی درے کا پاس پہنچے۔جب دونوں گائیڈ نماز پڑھنے گئے تو لکھتی ہیں کہ میں کئی دنوں سے رفاحاجت روکے ہوئے تھی۔ میں ایک نوکیلے پہاڑ کی ڈلھان پر رفاحاجت سے فارغ ہوئی۔ اور اوپر سیٹلائیٹ نظر آیا۔شاید اس نے میری تصویر بنائی۔پھر ہم پیدل تنگ درے کی چڑھائی چڑھ رہے تھے۔جب ہم دور بابا پہنچے تو بہت سے لوگ کھومتے پھرتے نظر آئے۔ مجھے کہا گیا کہ برقع اُتارلوں۔ مگر چہرہ سامنے نہیں آنا چاہیے۔میرے گائیڈ نے مجھے گدھے پر بیٹھایا۔ گدھے نے جست لگائی میرے منہ سے انگلش میں گالی نکلی۔میرا کیمرہ سامنے نظر آیا تو افغان سپاہی فوراً شور مچایا اور مجھے گدھے سے اترنے کا حکم دیا۔ میرے گائیڈ کو سپاہی نے اتنے تھپڑ مارے کہ اس کی ناک سے خون کا فوارہ چھوٹ گیا۔ایک سرخ بالوں والے سپاہی نے مجھے اور میرے افغان گائیڈ پکڑ کر کار میں بٹھایا۔میری تلاشی کے لیے ایک عورت بلائی گئی۔ مگر پاکستان کیمرے اور قلم کے سوا کچھہ ملا ۔مجھے واپس جلال آبادلایاگیا۔مجھے ایک ایئر کنڈیسنڈ کمرے میں ہاتھ باندھ کرقید کر لیا گیا۔ایک نفیس طبع شخص جو ڈاریکٹر انٹلی جنس تھا اندر آیا۔اس نے کہا میں اپنے ذاتی کوائف لکھوں۔میں نے بتایا کہ میں برطانوی صحافی ہوں۔لکھتی ہیں کہ جیلر کچھ کھانے کی چیزیں لایا۔ میں نے کہا جب تک اپنی مان سے بات نہیں کر لیتی اس وقت تک کچھ نہیں کھائوں گی۔ ڈاریکٹر انٹلی جنس اندر آیا تو میں بھوک ہڑتال پر تھی۔ اس سے بھی ماں سے بات کرنے کی بات دھرائی ۔ تفتیش کرنے والوں نے کہ میں امریکی خفیہ ایجنٹ ہوں۔ مجھ سے معلوم کیا گیا کون کون سی تصوریں بنائی ہیں۔ پتہ لگاکہ انہوں نے ساری تصویرین تباہ کر دیں ہیں۔میرا قصور ہیں کہ میں افغانستان میں غیر قانونی طور پر داخل ہوئی۔لکھتی ہیںمجھے رہائی کے چھوٹے وعدہ پرجلال آباد سے کابل پہنچا دیا گیا۔ کابل میں بھی جیل کی سختیاں برداشست کرنی پڑیں۔اس دوران کابل پر بمباری ہو رہی تھی۔ کہا گیا کہ ملا عمر کے حکم پر انسانی ہمدردی کے تحت مجھے رہا کیا جارہا ہے۔ مجھے گورنر جیل نے ایک خوبصورت موٹی مخمل کا ڈریس اور سرخ اور سنہرا برقع پیش کیا۔ اور اصرار کیا کی روانگی سے پہلے اس دریس کو پہن لوں ۔پاک افغان ہم باڈر پر پہنچے تو شام ہو گئی تھی۔مجھے شک پڑا کہ رہائی کہین دھوکہ تو نہیں۔ سرحد پرڈبل گیٹ کھلا اور گاڑی پانچ فٹ آگے سرک آئی۔ پھر اٖفغانستان کا نوجوان سفارت کار مسکرایا اور آگے بڑھا اور کہا کہ جا سکتی ہیں اور میں سن ہو کر رہ گئی۔جب میں نے قدم زمین پر رکھے تو ٹیلی ویژن کیمرے کی لائیٹ میرے چہرے پر پڑنے لگی۔اب میں کیمروں کے سامنے تھی اور کہا جارہا تھا طالبان نے آپ سے کیسا سلوک کیا۔پچھلے دن دنوں کے سارے واقعات میرے ذہن میں تازہ ہو گئے۔ اخبارات اورالیکٹرونک میڈیا مجھ سے کچھ معلوم کرنا چاہتا جو میں نے اپنے اخبار کے لیے سنبھال رکھا تھا۔لکھتی ہیں کہ مجھے پوچھا گیا کہ سچ سچ بتائو کی طالبان کے بارے میں تمھاری کیا رائے ہے۔’’یہ ایک حقیت تھی کہ طالبان اپنی شہرت وحشی اور جنگلی کے برعکس مجھ سے نہایت اخلاق اور احترا م سے پیش آئے۔اگر وہ میرے ناخن کھینچ ڈالتے، مجھے ٹھنڈے پانی میں ڈبکیاں دیتے، گرم سلاخوں سے میرا جسم داغتے تو میڈیا کو مواد مل جاتا۔بربریت کی صلاحیت رکھنے کے بوجود مجھ سے بے حد شرافت اور وضعداری کا سلوک کیا۔ مغرب میںہمارے لوگ شاید یہ سننا گووار نہ کریں، مگرمجھے سچ بولنا ہے‘‘ بلکہ اس سے کہیں زیادہ اچھا برتائو کیا جو نام نہاد ساتھ صحافیوںکی طرف سے میرے ساتھ عنقریب روارکھا جاتا تھا اور بعض اوقات وحشیانہ مطہر بننے والا تھا۔ڈیلی ایکپرس کے ڈیوڈ سمتھ نے میری رہائی خبر اپنے ہیڈ کواٹربھیجی ۔ لوگ میری رہائی پر خوش ہوئے۔ڈیوڈ نے مجھ سے سیکرٹ ڈائری مانگی میں نے کہا یہ سنڈے ایکسپریس کی امانت ہے اسے آپ کو نہیں دے سکتی۔ پھر میں لندن پہنچ گئی۔لندن میں میری توقع سے زیادہ میڈیا کے لوگ آئے۔ میری گرفتاری کے دوران میرے دشمن مجھے اسپیل فورسس کا جاسوس ظاہر کرتے رہے جبکہ میں صرف ایک صحافی ہوں۔میں نے اپنی فیملی سے مل کر بہت خوش ہوئی۔ لکھتی کہ دو تہذیبوں کا فرق یہ ہے کہ میں لندن میں ایک سیاہ کیب میں سوارہوئی تو اس کے ڈرائیور جو’’ ایسٹ اینڈ کا رہنے والا تھا، اخبارات میں چھپنے والی تصویر سے مجھے پہچان لیا اور بولا’’ کیا تم وہی چڑیا ہو جسے طالبان نے اپنے پنجرے میں بند کر دیا تھایاطالبان نے تم سے جنسی فعل کیا‘‘میں نے نفی میں سر ہلایا۔اگر میں ہوتا تو تجھے بھنبھور کر رکھ دیتا۔ اس کے ان گندے الفاظ پر میں سوچامہذب دنیا میں واپسی خوش آمدید یوآنے‘‘میں سوچتی رہ گئی یہ تھا فرق دونوں تہذیبوں میں۔جب مجھ سے طالبان نے مذہبی شخص کی ملاقات کرائی اور اس نے مجھے اسلام کی دعوت دی تو میں نے اس سے وعدہ کیا تھا کہ اسلام کا مطالعہ کروں گی۔میں اپنے وعدہ پر عمل کرتے ہوئے لندن میں مسلم کالج کے سربراہ ڈاکٹر بداوی مل چکی تھی۔میں نے لندن میں برطانوی صحافی خواتین کے سالانہ اجلاس مین روداد قفس سنائی۔میں نے اجلاس میں کہا کہ طالبان نے میرے ساتھ نیایت شریفانہ سلوک کیا۔ میں پھر افغانستان جا کر گائوں’’کاما‘‘ ان لوگوں سے ملانا چاہتی ہوں میں اس عورت سے بھی ملنا چاہتی ہوں نے ڈینگ مارتے ہوئے کہ تھا کہ وہ پندرہ بچوں کو جنم دے سکتی ہے۔افغانستان کی طرف خواہ مجھے کوئی بھی کھنچ رہا ہے میں وہاں دوبارہ جائوں گی اور اپنے ایڈیٹر مارٹن ٹائونسڈ اور ماں سے اجازت مانگو گی کہ وہ مجھے ایک بار پھر وہاں جانے دیں میں اس کو سمجھ سکوں آزاد ضمیر کے ساتھ واپس آئوں۔امریکا نے سنڈے ٹیلیگراف لندن کی کرسٹینالمب کو اینٹی طالبان پروپیگنڈے کے لیے بھیجا تھا۔کرسٹینا لمب کے غلط پروپیگڈے کو یو آنے رڈلے نے رد کیا اور طالبان کی صحیح تصویر کشی کی۔یو آنے رڈلے اب اسلام کے دامن میں رہ کر مغرب کو اسلام کے بارے غلط پروپیگنڈے کا جو اب دے رہی ہے۔ اللہ اُس کے حفاظت فرمائے آمین۔

–**–**–
——
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

About the author

Peerzada M Mohin

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: