Larkiyon Ka Jazeera by Ibn-E-Safi – Last Episode 2

0
لڑکیوں کا جزیرہ ​از ابن صفی – آخری قسط نمبر 2

–**–**–

(2)
جولیانا فٹر واٹر نے سرہانے رکھا ہوا لیمپ بجھا دیا!۔۔۔

اور لیٹے ہی لیٹے ایک طویل انگڑآئی لی پھر اس نے سونے کے لئےکروٹ لی ہی تھی کہ فون کی گھنٹی

بچی! اس نے لیٹے ہی لیٹے اندھیرے میں ہاتھ بڑھا کر فون کا ریسیور اٹھا لیا۔
دوسرے ہی لمحہ میں

اسے اپنے پراسرار آفیسر ایکس ٹو کی بھرائی ہوئی آواز سنائی دی۔
“جولیا۔۔۔ ہیلو۔۔۔ جولیا۔۔۔”
“یس

سر!”
“دانش منزل کے کمپاؤنڈ میں کچھ مشتبہ آدمی موجود ہیں۔ اپنے تین آدمیوں کو فون کرو کہ وہ

وہاں فوراً پہنچ جائیں۔ بات بڑھانے کی ضرورت نہیں ہے! انہیں صرف یہ معلوم کرنا ہے کہ وہ لوگ کون

ہیں! میرا خیال ہے کہ وہ لوگ عمارت کے اندر داخل ہونے کی کوشش کر رہے ہیں!”
“بہت بہتر جناب!۔۔۔

ابھی!۔۔۔”
دوسری طرف سے سلسلہ منقطع ہو گیا!۔۔۔ جولیانا فٹز واٹر نے سیکرٹ سروس کے ساتوں اراکان

کے نمبر یکے بعد دیگرے ڈائیل کرنا شروع کر دیئے۔۔۔! تیسرے آدمی کو ایکس ٹو کا پیغام دے کر اس نے

ریسیور رکھ دیا اور ایکس ٹو کے خواب دیکھنے لگی! اسے اس پراسرار شخصیت سے عشق سا ہوتا جا رہا

تھا!۔۔۔ وہ اسے دیکھنا چاہتی تھی۔ اس سے ملنا چاہتی تھی! اسے خوشی تھی کہ ایکس ٹو جیسا ذہین

ترین آدمی اس کی ذہانت کا مداح ہے۔۔۔ اس کی قدر کرتا ہے! اسے اپنے ماتحتوں میں سب سے اونچا درجہ

دیتا ہے!
وہ اس کے محیر العقول کارناموں کے متعلق سوچتی رہی! وہ کیسا دلیر۔۔۔ کیسا پھرتیلا اور

ہمہ داں ہے ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ہر وقت اس کی روح شہر پر منڈلاتی رہتی ہو!۔۔۔ محکمہ خارجہ کی

سیکرٹ سروس کا عملہ محض اسی کی وجہ سے نیک نام تھا!۔۔۔
جولیانا فٹز واٹر اس کی نئی نئی ذہنی

تصویریں بناتی۔۔۔ وہ ایسا ہوگا!۔۔۔ وہ ایسا ہوگا!۔۔۔ لیکن آواز سے کوئی بوڑھا خرانٹ معلوم ہوتا

تھا!۔۔۔ مگر آواز۔۔۔! وہ اپنے دل کو سمجھاتی۔۔۔ آواز تو یقیناً بناوٹی ہوگی۔۔ ورنہ کوئی بوڑھا

آدمی اتنا پھرتیلا ہرگز نہیں ہوسکتا۔
جولیا نے سونے کی کوشش کی! مگر نیند کہاں!… دفعتاً وہ اٹھ بیٹھی!… یہ بات تو اس نے ابھی تک سوچی ہی نہیں تھی کہ آخر اس وقت دانش منزل میں کیا ہو رہا ہے!… وہ لوگ کون ہیں جن کی طرف ایکس ٹو نے اشارہ کیا تھا! اس نے کہا تھا کہ انہیں چھیڑا نہ جائے… بات بڑھانے کی کوشش نہ کی جائے… صرف یہ دیکھا جائے کہ وہ کون آدمی ہیں! کیا ایکس ٹو اس وقت دانش منزل میں ہی موجود ہے! جولیا جانتی تھی کہ اس عمارت میں ایک کمرہ ایسا بھی ہے جس کے در و دیوار ساؤنڈ پروف ہیں! اور اسی کمرے میں خطرے کی روشنیاں اور گھنٹیاں بھی موجود ہیں!… وہ کمرہ ایسا ہے کہ باہر سے اس میں داخل ہونا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن بھی ہے! جولیا نے کیپٹن خاور، کیپٹن جعفری اور تنویر کو وہاں بھیجا تھا! وہ ان کی طرف سے مطمئن نہیں تھی. ان کی دلیری میں شبہ نہیں تھا مگر وہ زیادہ چالاک نہیں تھے! اکثر دلیری کے جوش میں ان سے حماقتیں بھی سرزد ہو جاتی تھیں! اسے حقیقتاً وہ تین آدمی نہیں مل سکے تھے جنہیں وہ بھیجنا چاہتی تھی!… یہ ساجد، پرویز اور سلطان تھے! سارجنٹ ناشاد کو تو وہ قطعی نا پسند کرتی تھی!… پتہ نہیں ایکس ٹو نے اسے اپنے سٹاف میں کیوں رکھا تھا!… جولیا اس کی شاعری سے تنگ آ گئی تھی! جب بھی وہ کوئی نئی غزل کہتا! انگریزی میں اس کا ترجمہ اسے ضرور سناتا اگر روبرو نہ سنا سکتا تو فون پر بور کرتا… اسے عورت، شعر اور شراب کے علاوہ دنیا کی کسی چوتھی چیز کی پروا نہیں تھی! ویسے وہ ڈرپوک بھی نہیں تھا!… ایک اچھا نشانہ باز بھی تھا! مگر جولیا کا خیال تھا کہ وہ دو کوڑی کا آدمی ہے!

جولیا نے گھڑی کی طرف دیکھا! ایک بج چکا تھا! اس نے بڑی تیزی سے جیکٹ اور پتلون پہنی! اعشاریہ دو پانچ کا پستول جیب میں ڈالا اور فلیٹ سے نکل کر دانش منزل کی طرف روانہ ہوگئی! خنکی زیادہ نہیں تھی. سڑکیں قریب قریب سنسان ہو چکی تھیں. اس لئے وہ بے خطر اپنی چھوٹی سی آسٹن دوڑائے لئے جا رہی تھی.

دانش منزل سے کچھ ادھر ہی اس نے کار روک دی اور پیدل ہی دانش منزل کی طرف روانہ ہو گئی!… اسے پھاٹک بند نہیںملا. کمپاؤنڈ میں اندھیرا تھا! اچانک کسی نے پیچھے سے اس کے شانے پکڑ لئے…!

“حرکت نہ کرنا اپنی جگہ سے!” کسی نے آہستہ سے کہا. لیکن وہ اس کی آواز صاف پہچان گئی! یہ کیپٹن خاور تھا!

“میں ہوں!” جولیا نے جواب دیا!

“اوہو!” اس کے شانے چھوڑ دیئے گئے!

“کیا رہا!” جولیا نے پوچھا!

“نکل گئے! وہ چار تھے! اندھیرے کی وجہ سے ہم ان کی شکلیں بھی نہیں دیکھ سکے!”

“تب پھر کیا کیا تم نے!” جولیا نے جھنجھلا کر کہا!

“کیا تم نے یہ نہیں کہا تھا کہ بات نہ بڑھائی جائے. صرف یہ دیکھنا تھا کہ وہ کون ہیں!”

“کہا تھا!… لیکن…! تم انہیں نہیں دیکھ سکے!”

“تم تو بعض اوقات حکومت ہی چلانے لگتی ہو!” کیپٹن خاور بھی جھنجھلا گیا.

جولیا نے جواب میں کچھ نہیںکہا!… اتنے میں تنویر اور جعفری بھی وہاں پہنچ گئے.

“آہا!… کون ہے!” تنویر نے کہا جو شاید جولیا کی آواز سن چکا تھا!

جولیا خاموش رہی! تنویر نے کہا! “میرا خیال ہے کہ ایکس ٹو اندر موجود ہے! کیوں جولیا کیا خیال ہے! اسے دیکھو گی!… تمہیں بڑی خواہش ہے!…”

“ارے میں تو بیچاری عورت ہوں!” جولیا نے جلے بھنے لہجے میں کہا “تم مرد ہو! ذرا برآمدے ہی میں قدم رکھ کر دیکھو!”

“مگر اب ہمیں کیا کرنا چاہیئے!” جعفری نے پوچھا!…

“کیا کرو گے؟” جولیا بولی “وہ تو نکل ہی گئے! کیا تم میں سے کوئی ان کا تعاقب بھی نہیں کر سکتا تھا!…”

“ہم نے انہیں پھاٹک سے نکلتے ضرور دیکھا تھا! لیکن! پھر پتہ نہیں وہ کہاں غائب ہو گئے!”

“کسی جاسوسی ناول کے مجرم رہے ہوں گے!” جولیا نے طنزیہ انداز میں کہا”زمین پھٹی ہوگی اور وہ سما گئے! یا منہ میں جادو کا بٹن رکھا اور غائب…”

“یہ بات نہیں ہے!” جعفری نے غصیلی آواز میں کہا “تم خود کو نہ جانے کیا سمجھتی ہو! کیا تمہیں نہیں معلوم کہ یہاں سے ڈیڑھ فرلانگ کے فاصلے پر ایک سنیما ہال ہے! سیکنڈ شو کے تماشائی غول در غول ادھر سے گذر رہے تھے! وہ چاروں یقنی طور پر ان میں مل گئے ہوں گے.”

“ختم کرو! مجھے کیا!” جولیا نے بیزاری سے کہا!”مجھے جو حکم ملا تھا تم تک پہنچا دیا! اس کے بعد میرا کام ختم ہو جاتا ہے!…”

“کیا عمارت میں داخل ہونے کے لئے نہیں کہا گیا تھا!” تنویر نے پوچھا!

“نہیں! اب تم لوگ جو کچھ بھی کرو گے اپنی ذمہ داری پر!” جولیا نے کہااور پھاٹک سے نکل آئی.

(3)

عمران نے شیلا کی طرف دیکھا جو بڑے اطمینان سے سیگرٹ کے ہلکے ہلکے کش لے رہی تھی!… اس کے انداز سے معلوم ہو رہا تھا جیسے وہ اپنے ہی مکان کے کسی کمرے میں بیٹھی ہو!

“تم مطمئن رہو! وہ تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتے!” عمران نے اس سے کہا! “خصوصاً اس کمرے میں!”

“تم اپنا وقت برباد کر رہے ہو!” شیلا لاپرواہی سے بولی!

“کیوں؟”

“تم مجھے مرنے سے نہیں روک سکتے! میں خود مرنا چاہتی ہوں

میں تمہارے خیالات کی قدر کرتا ہوں! لیکن تمہارے مرنے سے کسی کا کوئی فائدہ نہ ہوگا! کیونکہ تم مجھے ان لوگوں کے متعلق بہت کچھ بتا چکی ہو! ویسے تمہاری زندگی ملک و قوم کو ضرور فائدہ پہنچا سکتی ہے!”

“مجھے ملک و قوم سے بھی کوئی دلچسپی نہیں ہے! کیونکہ اسی ملک و قوم نے مجھے نقصان ُُپہنچایا ہے …”

عمران مایوسانہ انداز میں سر ہلا کر خاموش ہو گیا… تھوڑی دیر تک سوچتا رہا! پھر بولا “خیر… تم یہ رات تو اسی کمرے میں گزارو گی! تم نے وعدہ کیا تھا!…”

“وہ دوسری صورت تھی!… اب بات کہیں اور جا پڑی ہے، پہلے میرا خیال تھا کہ میں تم سے کم از کم دو ہفتوں کی رقم ضرور اینٹھ لوں گی!”

“میں تمہیں چار ہفتوں کی رقم سے سکتا ہوں! لیکن تمہیں میرے کہنے پر عمل کرنا پڑے گا!”

“میرا پیچھا چھوڑو!” شیلا جھنجھلا گئی… پھر تھوڑی دیر بعد نرم لہجے میں پوچھا!”کیا تم یہاں شراب نہیں رکھتے!”

“یہاں شراب کا نام لینا بھی جرم ہے!”

Read More:  Dastan Iman Faroshon Ki by Inayatullah Altamash – Episode 18

“تمہارا نام کیا ہے…!”

“خچر!”

“خچر ہی معلوم ہوتے ہو! کوئی سمجھدار آدمی شراب کے متعلق ایسی سخت بات نہیں کہہ سکتا!… اگر تم میرے لئے شراب مہیا کر سکو تو میں رات یہیں گزار دوں گی!”

“شراب اس عمارت میں ممنوع ہے!”

“تب پھر تم مجھے یہاں روک بھی نہیں سکتے!”

“اچھا تو چلی جاؤ!” عمران ہاتھ پھیلا کر بولا!

“ان خودکار دروازوں پر تمہیں گھمنڈ ہے!” شیلا ہنسنے لگی! مگر یہ ہنسی بڑی کھوکھلی تھی! ایسا معلوم ہوا تھا جیسے کسی مشین سے نکلی ہو!…

عمران کچھ نہ بولا! وہ کمرے میں ٹہل رہا تھا… ایک بار وہ ایک دروازے کے قریب گیا اور اسے کھول کر باہر نکل آیا اور دروازہ پھر بند ہو گیا!… اس نے گھوم پھر کر پوری عمارت کا جائزہ لیا پھر بیرونی برآمدے میں نکل آیا. کمپاؤنڈ سنسان پڑی تھی اور جھینگروں کی جھائیں جھائیں کے علاوہ اور کوئی آواز نہیں سنائی دے رہی تھی!

وہ تقریباً دس منٹ تک وہاںکھڑا رہا! پھر نیچے اتر کر عمارت کے عقبی حصے کی طرف چل پڑا تھوڑی دیر یہاں بھی ٹھہر کر وہ دوبارہ صدر دروازے پر پہنچ گیا.

اسے کہیں بھی کسی آدمی کی موجودگی کا احساس نہیں ہوا تھا!… اس نے ساؤنڈ پروف کمرے کا دروازہ کھولا لیکن دوسرے ہی لمحہ میں بری طرح بوکھلا گیا کیونکہ شیلا وہاں نہیں تھی!… وہ وہاں سے نکل کر تیر کی طرح کمپاؤنڈ کے پھاٹک پر آیا… مگر وہاں تو اب قدموں کی آہٹیں بھی نہیں تھیں! سامنے والی سڑک بالکل ویران ہو چکی تھی!

“شامت!” وہ آہستہ سے بڑبڑا کر رہ گیا.
(4)

دوسری صبح عمران دیر سے اٹھا! دھوپ پھیل چکی تھی اور اس کے فلیٹ پر الو بول رہے تھے! اس کا نوکر سلیمان تین دن سے غیر حاضر تھا… پلنگ پر پڑے ہی پڑے اس نے ہاتھ پیر پھیلا کر ایک طویل انگڑائی لی اور گذشتہ رات کے سارے واقعات ایک ایک کرکے اسے یاد آنے لگے. اس نے ایک زبردست غلطی کی تھی! ایک نہیں بلکہ دو غلطیاں! پہلی غلطی تو یہ کہ اس نے شیلا سے ایک اہم ترین بات نہیں پوچھی تھی! ظاہر ہے کہ مجرم خود کو پس منظر میں رکھ کر بڑی رقمیں بنا رہے تھے! لہٰذا ان سے کسی ایسی غلطی کا ارتکاب ممکن نہیں تھا. جس سے ان کی گردن پھنس جاتی! پھر آخر ناہید نے انہیں کن ذرائع سے شیلا کے متعلق اطلاع دی ہوگی!…اسے اس کے متعلق شیلا سے ضرور پوچھنا چاہئے تھا! پھر! دوسری غلطی اس کی بے احتیاطی تھی! اس نے خود کار دروازوں کا استعمال اس طرح کیا تھا کہ شیلا اس سے واقف ہو گئی تھی! ویسے وہ یہی سمجھتا رہا تھا کہ شیلا اس سے لاعلم ہے! اب اس کے ہاتھ میں صرف دو کارڈ رہ گئے تھے! ایک تو پوسٹ بکس نمبر دو سو تیرہ اور دوسرا کارڈ… ناہید. اس کا پتہ اسے معلوم تھا!… مگر یہ پوسٹ بکس نمبر والا معاملہ بھی اس کی سمجھ سے باہر تھا. یہ بھی گردن ہی پھنسا لینے والی بات تھی!

بہرحال اس نے اسی دن سے تفتیش کا سلسلہ شروع کر دیا!… پوسٹ بکس نمبر شہر کے سب سے زیادہ چھپنے والے ایک ماہنامے کا نکلا.

ماہنامہ “کمر لچکدار” جس کی دھوم سارے ملک میں تھی!… وہ ادب اور ثقافت کا علمبردار تھا! ادب کا علمبردار یوں تھا کہ اس میں فلم ایکٹرسوں کی کمزوریاں اچھالی جاتی تھیں! اور ثقافت کا علمبردار اس لئے کہا جا سکتا تھا کہ سرورق پر کسی لنگوٹی بند امریکن چھپکلی کی تصویر ہوتی تھی…!

عمران نے اپنا فائل نکالا جس میں اس کی کئی اوٹ پٹانگ کہانیاں تھیں! کسی زمانے میں اسے کہانیاں لکھنے کا خبط بھی تھا!… اس نے لیکاک کے Nonsense novels کے طرز پر کئی کہانیاں لکھ ڈالی تھیں!…

اس نے ایک کہانی نکالی اور ماہنامہ “کمر لچکدار” کے دفتر کی طرف روانہ ہو گیا!

دفتر کافی شاندار تھا! تقریباً ڈیڑھ درجن آدمی مختلف قسم کے کاموں میں مشغول نظر آ رہے تھے!

“فرمائیے!” ایک نے عمران کو ٹوکا!

“میں ایڈیٹر صاحب سے ملنا چاہتا ہوں!” عمران نے جواب دیا!

“کیا کام ہے!”

“کم کچھ بھی نہیں ہے! زیادہ ہی نکلے گا!” عمران نے سنجیدگی سے کہا!

“کم نہیں کام!” اس نے تصحیح کی!…

“اوہ… کام… ان سے جا کر کہہ دیجئے کہ ایک بہت بڑا افسانہ نگار ملنا چاہتا ہے!”

“جب!” وہ آدمی اس کی حماقت آمیز شکل دیکھ کر مسکرایا اور پھر اسے نیچے سے اوپر تک دیکھتا ہوا بولا “نام کیا بتاؤں!”

“ابن ہدہد!”

وہ ہنستا ہوا… ایڈیٹر کے کمرے کی طرف چلا گیا! عمران کی سنجیدگی میں ذرہ برابر بھی فرق نہیں آیا تھا! تھوڑی دیر بعد اس نے واپس آ کر کہا”جائیے.”

عمران اکڑتا ہوا کمرے کے دروازہ پر آیا چق ہٹائی اور اندر چلا گیا! ایڈیٹر دونوں ہاتھوں کو میز پر رکھے قہر آلود نظروں سے دروازے کی طرف گھور رہا تھا!

“تشریف رکھیئے!” وہ غرایا!”

یہ ایک لمبا تڑنگا اور صحت مند آدمی تھا! عمر چالیس اور پچاس کے درمیان رہی ہوگی!

“آپ بھی ابنا ہیں!” اس نے عمران کو کینہ توز نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا!

“جی ہاں! بندے کو ابن ہدہد کہتے ہیں!”

“کیا یہ ابن کوئی بیماری ہے! جسے دیکھئے نام کے ساتھ ابن لگائے چلا آ رہا ہے! بیٹھئے نا! بہت سی باتیں کروں گا آپ سے!”

عمران بیٹھ گیا
“اپنی ایک کہانی لایا ہوں”

“مگر! آپ کو اپنا نام بدلنا پڑے گا! میرے پرچے میں جاسوسی کہانیاں نہیں شائع کی جاتیں!”

“اجی یہ رومانی افسانہ ہے!”

“پھر تو آپ کو نام بدلنا پڑے گا…!”

“اچھا تو پھر ہدہد کر دیجئے گا! جی ہاں!… چلے گا یا نہیں ویسے ابن ہدہد بھی چل جاتا!”

“نہیں! آپ نہیں جانتے! ہماری دشواریوں سے واقف نہیں ہیں! ابھی حال ہی میں میرے ایک دوسرے نے اپنے رسالے میں اردو کے ایک بہت اچھے شاعر کی نظم چھاپی تھی! اتفاق سے ان کے نام میں بھی “ابن” موجود ہے! آپ جانتے ہیں کہ اس بیچارے کو اس سلسلے میں کس طرح کے قسم کے خطوط موصول ہوئے ہیں!”

عمران نے نفی میں سر ہلا دیا!”ٹھہریئے!” ایڈیٹر نے میز کی دراز کھینچ کر اس میں رکھے ہوئے کاغذات الٹتا پلٹتا ہوا بولا “میں آپ کو ایک خط سناؤں گا! سنئے اور عبرت پکڑئیے!”

اس نے ایک پوسٹ کارڈ نکال کر پڑھنا شروع کیا!

“جاناب ایڈیٹر صاحب!”

شالا تم کیا چار شو بیش ریشالہ نکالتا ہے! اوپر لکھتا ہے… لکھنے والے ابن عبدل یہی نام تھا! یا دوسرا تھا… یاد نہیں!… ابن ضرور تھا!…. اوپر ابن لکھتا ہے اور اند رمیں گجل ٹھونس دیتا ہے… ہمارا پیشہ واپش کرو! ہم جاشوشی افشانہ سمجھ کر کھریدا تھا! یہ چار شو بیشی کا دھندا کب تک چلے گا! تم شالا پبلک کو دھوکا دیتا ہے.

ہم ہے تمہارا باپ

اللہ رکھا

“ارے توبہ! توبہ!” عمران اپنا منہ پیٹنے لگا! لاحول ولا!… میرا افسانہ… جاسوسی ہرگز نہیں ہے! میں نام بھی بدل دوں گا! آپ مطمئن رہیئے! افسانے کا نام ہے! حاتم طائی!”

“نہیں چلے گا! بہت پرانی چیز ہے!”
آپ دیکھئے تو سہی اسی میں جدت ہے… یہ فینٹسی بھی نہیں ہے بس دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے! بالکل نئی جدت دیکھئے گا… غور سے سنیئے! ہاں!”

عمران صفحات کو اپنے چہرے کے برابر رکھ کر پڑھنے لگا”صبح کا سہانا وقت تھا!…”

“ٹھہرئیے”… ٹھہرئیے!…” ایڈیٹر ہاتھ اٹھا کر بولا “یہ نہیں چلے گا!… صبح کا سہانا وقت تھا تو پڑھنے والوںکو اس سے کیا سروکار… نہیں یہ بہت پرانا اسٹائل ہے!”

“اچھا… اچھا… میں پورا منظر نکالے دیتا ہوں!… خیر جانے دیجئے! آگے سنیئے… حاتم اپنے خیمے سے نکل کر ایک تمباکو فروش کی دوکان پر آیا!… اور وہاں سے سوئیٹ کراپ کا تمباکو خرید کر طائی کے خیمے کی طرف چل پڑا…”

“کس خیمے کی طرف…” ایڈیٹر حیرت سے آنکھیں پھاڑ کر بولا!

“طائی کے خیمے کی طرف! ط سے طائی… تائی نہیں… حاتم کی کوئی تائی نہیں تھی!… طائی اس کی محبوبہ کا نام تھا…!”

“یہ کیا کہہ رہے ہیں آپ!” ایڈیٹر نےکچھ ایسے انداز میں کہا جیسے عمران نے اسے کوئی بہت بری خبر سنائی ہو!

“کیا میں نے آپ کو کوئی صدمہ پہنچایا ہے!” عمران بوکھلا کر بولا!

“آپ تاریخ کے گلے پر چھری چلا رہے ہیں…”

“کیوں جناب…!”

“آپ طائی کو حاتم کی محبوبہ بتاتے ہیں! حالانکہ حاتم قبیلہ بنی طے کا ایک فرد ہونے کی بناء پر طائی کہلاتا تھا!”

“کیا بات کہی ہے آپ نے!” عمران نے قہقہہ لگایا! دیر تک ہنستا رہا پھر بولا.

Read More:  Ar-Raheeq Al-Makhtum by Safiur Rahman Mubarakpuri – Last Episode 10

“آپ کے فارمولے سے تو پھر مجنوں لیلٰی کا باپ تھا!… یا لیلٰی بنی مجنوں سے تعلق رکھتی تھی!… وامق قبیلہ بنی عذرا سے تعلق رکھتا تھا. ہیر رانجھا کی چچی تھی… مہینوال سوہنی کا ابا تھا!… کیا فضول باتیں کر رہے ہیں آپ… میں اپنا سر پیٹ لوں گا!”

عمران کے چہرے پر یک بیک شدید ترین غصے کے آثار نظر آنے لگے.

“کہیں آپ نشے میں تو نہیں ہیں” ایڈیٹر اسے گھورتا ہوا بولا.

“نشے میں ہوں گے آپ!… اتنے بڑے ایڈیٹر ہو کر جہالت کی باتیں کرتے ہیں!” عمران اچھل کر کھڑآ ہو گیا!

“آپ بدتمیز ہیں!” ایڈیٹر بھی کھڑا ہو گیا! عمران کی زبان پر جو کچھ بھی آ رہا تھا. بے تکان بکتا جا رہا تھا!… کمرے میں کئی لوگ گھس گئے! ان میں ایک لڑکی بھی تھی! جس نے مردانہ لباس پہن رکھا تھا… نیلے رنگ کا جیکٹ اور سرخ پتلون!…

“آپ دنیا کے سب سے بڑے کریک ہیں!” ایڈیٹر نے ان لوگوں کی طرف دیکھتے ہوئے عمران پر نظر ڈال کر کہا!

“کیا بات ہے!” کسی نے پوچھا!

“آپ ایک کہانی لائے ہیں! حاتم طائی… جس میں طائی حاتم کی محبوبہ ہے.” ایڈیٹر نے کہا. لوگ ہنس پڑے مگر لڑکی عمران کو بڑی سنجیدگی سے گھورتی رہی. اس کے ہونٹوں پر خفیف سے مسکراہٹ بھی نمودار ہوئی تھی!.

“اور اب آپ لڑنے مرنے پر آمادہ ہیں!” ایڈیٹر مسکرا کر بولا. پھر عمران کو اپنی طرف متوجہ کرکے کہا “آپ اپنے پیروں پر چل کر جانا پسند کریں گے یا… میں اپنے آدمیوں کو آپ کی خدمت پر آمادہ کروں! میرا خیال ہے کہ آپ کافی سمجھدار آدمی ہیں!”

“جی ہاں… جی ہاں!” عمران نے غصیلے انداز میں دانت نکال کر کہا “میں جا رہا ہوں. آپ کی قابلیت کا بھانڈا بھی عنقریب پھوٹ جائے گا!… مجھ سے غلطی ہوئی جو یہاں چلا آیا… ماہنامہ “ترچھی نجریا” والے مجھے پوجتے ہیں…!”

“گیٹ آؤٹ!” ایڈیٹر حلق پھاڑ کر چیخا!

جی ہاں!… میں جا رہا ہوں!” عمران جانے کے لئے مڑا… لیکن ابھی دو ہی چار قدم چلا تھا کہ مردانہ لباس والی لڑکی نے اس کی ٹانگوں میں ٹانگ ماری اور عمران دھڑام سے فرش پر گر گیا! ایک بار پھر قہقہوں کا طوفان امنڈا… اور لڑکی بڑی سنجیدگی سے چھت کی طرف دیکھنے لگی. اس بار بھی اس کے ہونٹوں پر مسکراہٹ تک نہیں تھی!

عمران اٹھا اور مڑ کر دیکھے بغیر چھپٹتا ہوا باہر نکل آیا… سڑک پر پہنچ کر اس نے ادھر ادھر دیکھا اور سامنے والے ریستوران میں گھس گیا! اس نے ایک ایسی میز منتخب کی جہاں سے ماہنامہ “کمر لچکدار” کے دفتر کے زینے صاف نظر آتے تھے!

وہ تقریباً دو گھنٹے تک اسی میز پر جا رہا… پھر دفتر کے بند ہونے کا وقت آ گیا اور وہاں کام کرنے والے باہر آنے لگے! چار آدمی اس ریستوران کی طرف بھی آ رہے تھے! ان میں وہ لڑکی بھی تھی جس نے عمران کو گرایا تھا جیسے ہی ان کی نظر عمران پر پڑی وہ رک گئے! عمران پہلے ہی سے اپنی کہانی کے صفحات سامنے رکھے ان میں فاؤنٹین پن سے کاٹ چھانٹ کر رہا تھا! وہ چاروں آپس میں سرگوشیاں کرنے لگے! ادھر عمران کے انداز سے ایسا معلوم ہو رہا تھا جیسے اسے ان کی آمد کی خبر ہی نہ ہو! وہ چاروں اس کی میز کے اطراف میں کرسیاں کھینچ کر بیٹھ گئے! اور عمران چونک کر احمقوں کی طرحایک ایک کی شکل دیکھنے لگا!

لڑکی عمران کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر بولی “بولو دوست کا کیا رنگ ہیں!”

“اوہو!” عمران جھینپی ہوئی سی ہنسی کے ساتھ بولا “مجھے یاد پڑتا ہے کہ میں نے آپ کو کہیں دیکھا ہے!”

“ضرور دیکھا ہوگا!” لڑکی بڑے پیار سے بولی “کیا چائے نہیں پلواؤ گے!”

“اوہ…ضرور ضرور… اے بھائی صاحب… ارے بھائی صاحب!” اس نے ویٹر کو آواز دی!

وہ حد سے زیادہ بے ڈھنگے پن کا مظاہرہ کر رہا تھا! ویٹر کو سب کے لئے چائے اور سموسوں کا آرڈر دے کر وہ پھر انہیں احمقوں کی طرح دیکھنے لگا!

“کیا لکھ رہے تھے…!” لڑکی نے پوچھا!

“مم… میں افسانہ نگار ہوں!” عمران نے سر جھکا کر بڑے شرمیلے انداز میں جواب دیا!

“کہیے!… آپ کو یاد آیا کہ آپ نے ہمیںکہاں دیکھا تھا!” ایک آدمی نے پوچھا!

“نہیں یاد نہیں آیا! مگر میں دعوٰی سے کہہ سکتا ہوں کہ کہیں دیکھا ضرور ہے!”

“آپ کا نام کیا ہے…!” لڑکی نے پوچھا!

“ابن ہدہد! آپ کو میرے نام پر ہنسی آئے گی!… مگر میں بڑا جدت پسند آدمی ہوں! شاعر لوگ مختلف قسم کے پرندوں کا تذکرہ کرتے رہتے ہیں! لیکن بیچارے ہدہد کا کوئی نام بھی نہیں لیتا! حالانکہ ہدہد کا ذکر آسمانی کتابوں میں بھی آیا ہے… ہدہد سلیمان اور ملکہ صبا کا قاصد تھا!”

“تو آپ کو صرف ہدہد ہونا چاہیئے تھا اس میں ابن کیوں لگا دیا!”

“آج کل ابن ہی چالو ہے!” عمران نے دانشوروں کے انداز میں کہا.

“نہیں صرف ہدہد…” لڑکی نے سنجیدگی سے کہا “تم سو فیصدی ہدہد معلوم ہوتے ہو.”

“ہوتا ہوں نا!… ہاہا… اچھا اب اجازت دیجئے!” عمران اٹھتا ہوا بولا!

“ارے… چائے تو منگوائی تھی”…! لڑکی نے کہا.

“کیا کروں! شاید وہ کہیں دور نکل گیا ہے.”

“کون؟”

“وہی جس سے چائے کے لئے کہا تھا! میں سمجھا تھا شاید یہیں سے لائے گا!”

عمران پھر بیٹھ گیا!… اچانک اس نے محسوس کیا کہ لڑکی اب کچھ گھبرائی ہوئی سی ہے! وہ بار بار ایک کھڑکی کی طرف دیکھ رہی تھی! یہ کھڑکی سڑک کی طرف تھی. دفعتاً لڑکی کچھ کہے سنے بغیر اٹھی اور باہر نکل گئی! انداز کچھ ایاس تھا جیسے وہ اتنی سی دیر میں یہ بھی بھول گئی ہو کہ وہ وہاں تنہا نہیں آئی تھی بلکہ اس کے ساتھ تین آدمی اور بھی تھے دوسری حیرت انگیز بات یہ تھی اس کے اس طرح چلے جانے پر اس کے ساتھیوں پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا! وہ بدستور اطمینان سے بیٹھے ہوئے عمران کو چھیڑتے رہے…

“میں جا رہا ہو!” عمران اٹھتا ہوا بولا!

“اور چائے کا بل کون ادا کرے گا!” ایک آدمی نے کہا!

“میں کیا جانوں!”

“تم نے آرڈر دیا تھا…”

“آہا…!” عمران دیدے نچا کر بولا ” تو کیا تمہارے لئے آرڈر دیا تھا! وہ چلی گئیں!… اب میں بھی جا رہا ہوں. واہ یار ذرا اپنی شکل تو دیکھو! میں تمہیں چائے پلاؤں گا! ہاہا… ہپ!”

“شرافت کے دائرے سے باہر نہ نکلو!…”اسی آدمی نے غصیلے لہجے میں کہا!

“میں ازلی کمینہ ہوں!” عمران نے سنجیدگی سے کہا!”افسانہ نگار ہونے کا یہ مطلب تو نہیں کہ میری اصلیت بدل جائے!… اگر لڑنے بھڑنے کا ارادہ ہو تو اس کیلئے بھی تیار ہوں!”

“اچھا نکلو باہر…! ہم دیکھتے ہیں تمہیں!”

اتنے میں بیرے نے چائے لا کر میز پر رکھ دی! جانے کے لئے مڑا ہی تھا کہ عمران نے اسے روک کر کہا!”میرا بل لاؤ اس چائے کے دام یہی لوگ ادا کریں گے!”

وہ تینوں پیچ و تاب کھا کر رہ گئے! لیکن کچھ بولے نہیں!… ویٹر چلا گیا!…

“اچھا پھر کبھی سمجھیں گے تم سے!” ان میں سے ایک آنکھیں نکال کر بولا!

“الجبرا اور جومیٹری سمجھا سکتا ہوں! ارتھمیٹک کمزور ہے!… وہ کسی اور سے سمجھ لینا! ہاں!” عمران بالکل اسی طرح بولا جیسے کوئی استاد اپنے شاگردوں سے ہمکلام ہو!

ویٹر بل لایا اور عمران نے اس کی قیمت ادا کی پھر تینوں کی طرف ایک چڑا دینے والی مسکراہٹ اچھالتا ہوا اٹھ گیا!.

وہ سمجھا تھا کہ شاید وہ لڑکی فٹ پاتھ ہی پر مل جائے گی… مگر اسے مایوسی ہوئی!… وہ دراصل اس لڑکی کے متعلق الجھن میں پڑ گیا تھا!… حالانکہ بظاہر کوئی ایسی خاص بات نہیں تھی جس کی بناء پر اسے اس لڑکی کی طرف سے کوئی تشویش ہوتی!… ویسے اس نے “کمر لچکدار” کے دفتر میں اس سے بڑا مضحکہ خیز برتاؤ کیا تھا!

الجھن اس کی بھی نہیں تھی!… فی الوقت وہ خود بھی اس الجھن کو نہیں سمجھ سکا!… کبھی کبھی اس کے ساتھ ایسا بھی ہوتا تھا! وہ چند لمحے رک کر ایک طرف چل پڑا.

ابھی اسے پوسٹ بکس نمبر دو سو تیرہ کے متعلق مکمل معلومات نہیں حاصل ہوئی تھیں!… اسے یقین تھا کہ وہ کوئی کلیو نہیں ہو سکتا… مگر اس کے متعلق اسے ایک ایسی عورت نے بتایا تھا جس کے سر پر شاید موت ہی سوار تھی! اس لئے وہ اسے نظر انداز بھی نہیں کر سکتا تھا!… عمران خیالات میں اس طرح کھویا ہوا تھا کہ پیدل ہی چلتا رہا!… دن بھر کی تھکی ہوئی بھیڑ کارخانوں اور دفتروں سے نکل آئی تھی!… اور فٹ پاتھ پر گذرتے وقت لوگ ایک دوسرے سے ٹکرا رہے تھے. عمران کو اس بھیڑ کا احساس بھی نہیں تھا!… وہ شانوں سے شانے رگڑتا… رکتا… رکاتا چلتا رہا! وہ سوچ رہا تھا کہ اسے محکمہ سراغرسانی کے سپرنٹنڈنٹ کیپٹن فیاض سے اس لڑکی کے متعلق کچھ اور معلومات بھی فراہم کرنی چاہیئے جس کی لاش ڈیڑھ ہفتہ پہلے شارع عام پر پائی گئی تھی. وہ ایک پبلک کال بوتھ میں گھس کر فیاض کے نمبر ڈائیل کرنے لگا. مگر یہاں بھی اسے ناکامی ہوئی. فیاض گھر پر موجود نہیں تھا اور اس وقت آفس میں اس کی موجودگی ممکن تھی!… عمران بوتھ سے باہر آ گیا! فی الحال اس کی سمجھ میں نہیں آ رہا تھا کہ اسے تفتیش کا آغاز کہاں سے کرنا چاہئے اسے شیلا یاد آئی. مگر وہ اسے کہاں تلاش کرتا! ویسے وہ بری طرح ذہن سے چپک گئی تھی!

Read More:  Ishk Ka Qaaf Novel by Sarfraz Ahmed Rahi – Last Episode 11

عمران پھر چلنے لگا!… ماہنامہ “کمر لچکدار” کے آفس میں یا اس کے سامنے والے ریستوران میں اس نے وقت نہیں برباد کیا تھا!… کم از کم وہاں کے ماحول سے اس نے یہی

اندازہ لگایا تھا کہ اگر وہ پوسٹ بکس نمبر وہیں کا ہے تو اسے کچھ نہ کچھ اہمیت ضرور دی جا سکتی ہے!

کیا وہ ایک بار پھر اس جزیرے کا رخ کرے؟`اس نے سوچا! ساتھ ہی اسے یہ بات بھی یاد آئی کہ وہ وہاں گیا ہی کیوں تھا؟… اسے مقتولہ کے باپ سے ملنا تھا! لیکن اس سے ملاقات نہیں ہوئی تھی! اس کے پاس اس کی شہری جائے رہائش کا پتہ بھی موجود تھا!…

وہ چلتے چلتے ایک گلی میں مڑ گیا! دراصل وہ ایک ٹیکسی چاہتا تھا اور خالی ٹیکسی اسے دوسری سڑک پر مل سکتی تھی!.

ٹیکسی کے لئے اسے بہت زیادہ انتظار نہیں کرنا پڑا. تھوڑی دیر بعد وہ مقتولہ کے باپ کا پتہ ٹیکسی والے کو بتا رہا تھا.

لیکن تھوڑی ہی دور چلنے کے بعد اسے ٹیکسی رکوا دینی پڑی کیونکہ ایک دوکان میں اسے وہی لڑکی نظر آئی تھی جس نے ماہنامے کے دفتر میں اسے گرا دیا تھا! وہ بڑی جلدی میں ٹیکسی ڈرائیور کے ہاتھ میں کچھ رقم دیتا ہوا نیچے اتر گیا.

مگر وہ کہیں رکا نہیں سیدھا اسی دوکان میں گھستا چلا گیا! یہ ایک جنرل سٹور تھا! عمران لڑکی کے پیچھے کھڑا ہو کر شوکیسوں پر نظر ڈالنے لگا! پھر کچھ ہی دیر بعد آہستہ سے بولا “آپ کی چائے ٹھنڈی ہو رہی ہے!”

لڑکی یکلخت اس کی طرف مڑی اس کی آنکھوں سے حیرت جھانک رہی تھی اس نے دوکان دار سے کہا. “میں پھر آؤں گی.” اور باہر نکل گئی! لیکن عمران نےا س کا پیچھا نہیں چھوڑا. فٹ پاتھ پر پہنچ کر وہ رک گئی.

“کیا ارادے ہیں!” اس نے عمران کو گھورتے ہوئے کہا!

“تمہیں چائے پلاؤں گا!”

“تم مجھے وہ نہیں معلوم ہوتے جو نظر آتے ہو!”

“میں حقیقتاً چمگادڑ ہوں! مگر عام طور پر لوگ مجھے طوطا کہتے ہیں!”

“کس چکر میں ہو!”

“تمہارے چکر میں! اب میں اتنا گاؤدی بھی نہیں ہوںکہ حاتم طائی کو لیلٰی مجنوں کی طرح جوڑا بنا دوں!”

“پھر؟” لڑکی کے ہونٹ بھنچ گئے! اس کی آنکھوں میں ایک خونخوار سی چمک لہرا رہی تھی!

“میں دراصل تم تک پہنچنا چاہتا تھا!” عمران نے سر جھکا کر شرمیلے لہجے میں کہا.

“کیوں؟”

“پتہ نہیں کیوں؟ جب سے تمہیں دیکھا ہے!”

“شٹ اپ… کیا شامت آئی ہے!”

“مجھے یہی توقع تھی!” عمران نے ٹھنڈی سانس لے کر کہا اور مغموم انداز میں سر ہلانے لگا! پھر بولا “تم اس نابکار ایڈیٹر کومجھ سے قابل سمجھتی ہو.”

“ہوش میں ہو یا نہیں! ہم پہلی بار ملے ہیں!”

“نہیں ہم میں تو بہت پرانی بے تکلفی ہے! اگر یہ بات نہ ہوتی تو تم ٹانگ مار کر گراتی کیوں!”

“میں یہاں اس جگہ بھی تمہارے ساتھ یہی سلوک کر سکتی ہوں!”

“ارے جاؤ. جاؤ! میں کیا تم سے کمزور ہوں. اب کے گرا کر دیکھو چٹنی بنا کر رکھ دوں گا! یہ تو تمہیں شادی کے بعد ہی معلوم ہوگا کہ میں کیسا آدمی ہوں!”

“تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے! اگر اب میرے پیچھے آئے تو خیریت نہیں.”

“خیریت کی ایسی کی تیسی! وہ انگوٹھی کہاںہے؟”

“کیسی انگوٹھی؟”

“منگنی کی انگوٹھی! جو پچھلے سال میں نے تمہاری انگلی میں ڈالی تھی! اس کے بعد تم غائب ہو گئی تھیں. آج ملی ہو! میں کہتا ہوں کہ یہ رشتہ ضرور ہوگا. تمہارے والدین کو اب بھی منظور ہے!”

“میں کہتی ہوں دفع ہو جاؤ یہاں سے ورنہ بہت برا ہوگا.!”

“کیا برا ہوگا؟ ذرا ٹھہرو! میں اس ڈیوٹی کانسٹیبل کو بھی اطلاع دے دوںکہ تم میری منگیتر ہو. دیکھو بڑا بکھیڑا ہو جائے گا! بھیڑ لگ جائے گی یہاں! میں بڑا بے حیا آدمی ہوں. میرا کچھ نہ بگڑے گا. میں انسلٹ پروف ہوں.”

“تم کیا چاہتے ہو!” لڑکی نے اکتائے ہوئے لہجے میں پوچھا.

“وہ تمہارے گھر کا پتہ تاک مجھے بار بار دفتر کے چکر نہ لگانے پڑیں!”

لڑکی چند لمحے کچھ سوچتی رہی. پھر اپنے پرس سے ایک وزیٹنگ کارڈ نکال کر اس کی طرف بڑھا دیا.

“میں کل ضرور آؤں گا… شکریہ!”

“ٹھہرو!…” لڑکی ہاتھ اٹھا کر بولی!”مقصد کیا ہے!”

“جب تک تم پتلون پہننا نہ چھوڑو گی! میں تمہارا پیچھا نہ چھوڑوں گا. جس دن میں نے تمہیں غرارے، شلوار یا سکرٹ میں دیکھ لیا اسی دن سے تم میری شکل بھی نہ دیکھو گی!”

“تم سے مطلب میں جو چاہے پہنوں! تم کون ہوتے ہو!”… لڑکی پھر جھنجھلا گئی.

“میں تمہارا منگیتر ہوتا ہوں! اور اس وقت تک رہوں گا جب تک پتلون!… تم مجھے نہیں جانتیں! مجھے ایک عورت کے چلنے کا انداز ناپسند تھا!… لہٰذا میں نے اس کے شوہر سے اسے طلاق دلوا دی!… حالانکہ میرے پانچ ہزار روپے ضرور خرچ ہو گئے!… لیکن!… شہر میں وہ چیز تو نہ رہی جو مجھے ناپسند تھی! تم پر بھی دو چار ہزار خرچ کروں گا. پھر تمہیں یا تو شہر چھوڑنا پڑے گا یا پتلون!”

“ارے تم خدائی فوجدار ہو!” لڑکی دانت پیس کر بولی!

“خدائی فوج کا حوالدار میجر!…” عمران نے سنجیدگی سے سر ہلا کر کہا!

لڑکی چند لمحے کچھ سوچتی رہی پھر بولی “اگر میں شور مچا دوں کہ تم مجھ سے بدتمیزی کر رہے ہو تو؟”

“ارے خدا کے لئے شور مچاؤ بھی! میں یہی چاہتا ہوں کہ تم شور مچاؤ! اتنی دیر سے جھک کیوں مار رہا ہوں! مقصد یہی ہے. کہ تم شور مچاؤ!…”

“کیا کرو گے تم…!”

“دنوں کا کام گھنٹوں میں ہو جائے گا! تم کل ہی پتلون پہننا چھوڑ دو گی!… کہو تو پوری اسکیم بتا دوں!… تم شور مچاؤ گی تو لوگ اکٹھا ہوں گے! میں کہوں گا کہ یہ میری بیوی ہے. دو سال گزرے اپنے دادا زاد بھائی کے ساتھ بھاگ گئی تھی. کارڈ پر تمہارا نام زیبا تحریر ہے. میں جنت بی بی بتاؤں گا! کہوں گا کہ یہ اسی لئے پتلون ڈالے پھرتی ہے کہ اسے کوئی پہنچان نہ سکے… چلو شور مچاؤ… ہاہا!”
وہ کلکلا کر زیر لب کچھ بڑبڑائی.!

“میں صرف دو منٹ تک اور تمہارے شور مچانے کا انتظار کروں گا!”

لڑکی یکلخت دوسری طرف مڑ کر چل پڑی. عمران نے بھی وہی حرکت کی. وہ مخالف سمت میں مڑا تھا… پھر چلتے چلتے دونوں نے ایک ساتھ مڑ کر ایک دوسرے کی طرف دیکھا اور پھر چل پڑے.

بظاہر عمران کی یہ حرکت احمقانہ تھی!… لیکن حقیقتاً اس کی تہہ میں بہت کچھ تھا… زیبا کی بجائے اگر کوئی اور لڑکی ہوتی تو عمران کی اس حرکت پر ہلڑ مچائے بغیر ہرگز نہ مانتی… مگر وہ صرف جھنجھلا کر رہ گئی تھی! ایسا معلوم ہوتا تھا جیسے وہ بڑی مشکل سے ضبط کر رہی ہے. عمران نے اس سے ایک ہی نتیجہ نکالا کہ اس کے ہاتھ ضرور ملوث ہیں اسی لئے وہ اپنی تشہیر سے ڈرتی ہے. اس وقت اس کا کسی قسم کا اقدام بھی پولیس کیس بن سکتا تھا. لیکن وہ پولیس کی نظر میں آنے سے کتراتی ہے. کیونکہ خود اس کا ضمیر بھی احساسِ جرم کا شکار ہے.

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

%d bloggers like this: