Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 10

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 10

–**–**–

کیا ہوا ہے خان ؟؟ کیوں مجھے چیخ کر بلا رہے تھے؟ میں بےبی کے ساتھ کھیل رہی تھی۔۔۔ لیکن نہیں جی ۔۔۔ خان تو مجھے کھیلتے ہوئے دیکھ ہی نہیں سکتے ۔۔۔
ہانم کمرے میں داخل ہوتے ہی غصے سے نان سٹاپ بولنا شروع ہو چکی تھی جبکہ اکثم اسے حیرانگی سے دیکھنے لگا۔۔۔
تم اماں جان کے سامنے ابھی کیا بول رہی تھی؟؟؟
اکثم نے اسے گھورتے ہوئے دانت پیسے تھے۔۔
وہ میں ان کو بےبی کا پوچھ رہی تھی کہ کتنے کا آتا ہے؟
ہانم منہ بسور کر بولی۔۔۔
تم نے کھانا کھایا۔۔۔۔۔؟؟؟
اکثم جان بوجھ کر بات بدل گیا کیونکہ فلحال اس کی ہمت بالکل نہیں تھی ہانم کے سوالوں کے جواب دینے کی۔۔۔۔
ہاں کھا لیا ہے۔۔ آج کریلے گوشت بنا تھا ۔۔۔ بہت مزہ آیا مجھے ۔۔۔ میں نے تین روٹیاں کھائی تھیں ۔۔۔۔
ہانم کے جواب پر اکثم نے اسے سر سے لے کر پائوں تک دیکھا۔۔۔۔
ہانم تم نے سچ میں تین روٹیاں کھائیں؟؟؟
اکثم کے انداز میں بے یقینی تھی۔۔۔ہانم نے اسے دیکھا ۔۔۔۔
کم کھائی ہیں نا؟؟؟ مجھے اسی لئے اب بھوک لگ رہی ہے۔۔۔ ہمارے گھر میں جب بھی گوشت پکتا تھا ۔۔۔ میں چار روٹیاں کھاتی تھی۔۔۔
اور تمہارے گھر گوشت کب بنتا تھا؟؟؟
اکثم نے اب کی بار سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔۔
بڑی عید پر ۔۔ ابا تب ہی لاتے تھے۔۔ آپ کو معلوم ہے میں اور روح بڑی عید کا کتنا انتظار کرتی تھیں۔۔۔۔
ہانم خوش ہوتے ہوئے بتا رہی تھی اور اکثم مسکرا کر رہ گیا۔۔۔
تو ہانم کا تعلق بھی ایک غریب گھرانے سے ہے۔۔۔
اکثم صرف سوچ ہی سکا۔۔۔
میری پوری کوشش ہوگی کہ تمہیں ہر وہ چیز لا کر دوں جس کی تم خواہش کرو۔۔۔۔
اکثم مسکراتے ہوئے بڑبڑایا ۔۔۔ تو ہانم ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
خان ۔۔۔ آپ نے کچھ کہا کیا؟؟
نہیں کچھ نہیں ۔۔۔ تم ایسے کرو ادھر بیٹھو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔۔ پھر دونوں مل کر کھائیں گے۔۔۔۔
اکثم مسکراتے ہوئے باہر نکل گیا۔۔ جبکہ ہانم کمرے میں موجود صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
مجھے بھوک تو نہیں ہے لیکن میں خان کے کہنے پر ایک روٹی کھا لوں گی۔۔۔۔
ہانم خو د سے بڑبڑائی ۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
چھوٹے خان تم کہاں جا رہے ہو؟؟
اگلی صبح ہانم نماز اور اماں جان سے قرآن پاک پڑھ کر کیچن میں آئی تو ارتسام کو تیار دیکھا۔۔۔۔
ہاں سکول جا رہا ہوں۔۔۔۔
ارتسام نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
تمہاری استانی تمہیں مارتی بھی ہے کیا؟؟
ہانم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
ہاں کبھی کبھی جب میں صحیح سبق نہیں سناتا۔۔۔۔
ارتسام کے جواب پر ہانم کے چہرے پر افسوس کا تاثر ابھرا۔۔۔
میری استانی بھی مجھے بڑا مارتی تھی۔۔۔ وہ تو اچھا ہوا امی نے سکول جانے دیا ورنہ میں نے تو استانی کے لئے دعائیں کر کر کے چھوٹا ہو جانا تھا۔۔۔ لیکن کبھی کبھی میری دعا قبول ہوتی تھی ۔۔۔
ہانم کی بات پر ارتسام نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
کیسی دعائیں بھابھی؟؟
ان کے پیٹ میں درد کی۔۔۔۔
ہانم کی آواز کیچن میں داخل ہوتے اکثم کے کانوں میں پڑی تو اس کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔
بھابھی یہ تو اچھی نہیں دعا تھی۔۔۔
ارتسام نے ہانم کو گھورا۔۔۔
ہاں تو ۔۔۔ جب وہ مجھے اور عائشہ کو مارتی تھیں وہ بھی بالوں سے پکڑ کر وہ اچھا ہوتا تھا۔۔۔ بس سبق ہی یاد نہیں کرتے تھے نا؟؟ اتنی سی بات پر بھلا کون مارتا ہے؟؟؟
ہانم نے جواب میں اسے گھورا۔۔۔
اور تم سبق کیوں یاد نہیں کرتی تھی؟؟؟
اکثم اپنی کرسی پر بیٹھتے ہوئے بولا۔۔۔
جب میں سکول سے واپس آتی تھی عائشہ کے گھر چلی جاتی تھی اور وہاں میں اور عائشہ ان کی مرغیوں سے پکڑن پکڑائی کھیلتی تھیں ۔۔۔ پھر شام کو میں واپس آتی تھی۔۔۔ تو ابا کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے سو جاتی تھی۔۔۔ میرے پاس وقت نہیں ہوتا تھا سبق یاد کرنے کے لئے۔۔۔۔۔
ہانم کے تفصیلی جواب پر دونوں بھائیوں نے منہ کھولے اسے دیکھا جو اپنی مصروفیت کے قصے ان کو سنا رہی تھی۔۔۔۔
میں کرتا ہوں بابا جان سے بات ۔۔۔
اکثم اسے گھورتے ہوئے بولا ۔۔۔ اور اس سے پہلے ہانم کچھ بولتی دلاور خان یسرا بیگم کے ہمراہ کیچن میں داخل ہوئے جو غالبا اکثم کی آخری بات سن چکے تھے۔۔۔۔
کس بارے میں بات کرنی ہے خان؟؟؟
دلاور خان کی آواز پر اکثم نے انہیں دیکھا جو اب اپنی نشست سنبھال رہے تھے۔۔۔۔
بابا جان وہ میں سوچ رہا تھا کہ ہانم کو لڑکیوں کے سکول میں داخل کروا دیں۔۔۔۔
اکثم جانتا تھا کہ ان کا ردعمل سخت ہوگا ۔۔۔ اس لئے نظریں جھکا کر مئودب انداز میں بولا۔۔۔۔
بڑے خان اب تم ایک ونی میں آئی لڑکی کو پڑھائو گے؟؟؟
لوگ تھوکیں گے دلاور خان کے نام پر۔۔۔۔
دلاور خان کی دھاڑ نما آواز پر ہانم کانپ گئی تھی جبکہ ارتسام نے سختی سے آنکھیں بند کر لی تھیں۔۔۔ یسرا بیگم نے التجائیہ نظروں سے اکثم کو دیکھا جس کا چہرہ ایک لمحے میں ضبط کی منازل طے کرتے ہوئے سرخ ہوا تھا۔۔۔۔
بابا جان گستاخی معاف لیکن اسے ونی کرنے والے بھی آپ ہی ہیں؟ اور کن لوگوں کی بات کر رہے ہیں آپ؟؟ وہ لوگ جو صرف تماشا دیکھتے ہیں۔۔۔ بابا جان لوگوں کی بجائے نہ خدا سے ڈرنا سیکھیں۔۔۔ جس کو کل آپ جوابدہ ہوں گے۔۔۔ لوگوں سے ڈرنے کی بجائے خدا سے ڈریں بابا جان۔۔۔۔
اکثم نے حتی المقدور اپنے لہجے کو نارمل رکھنے کی کوشش کی تھی۔۔۔۔
تم ہماری رسموں کے خلاف نہیں جا سکتے بڑے خان۔۔۔
دلاور خان کے لہجے میں اب کی بار سختی نہیں تھی لیکن رعب اتنا ہی تھا۔۔۔
اگر بات رسموں کی ہے تو ہانم میری بیوی ہے ۔۔۔ نکاح میں ہے میرے۔۔۔ ذمے داری ہے وہ میری ۔۔۔ اس کی ضرورتوں کو پورا کرنا فرض ہے میرا۔۔۔ اگر وہ اپنی ضرورتوں سے انجان ہے تو میں بھی غافل نہیں ہوسکتا ۔۔۔ اسے پڑھنا ہے اور وہ سکول جائے گی۔۔۔۔۔
اکثم نے نرمی سے دو ٹوک انداز میں بات ختم کی۔۔۔۔ باقی سب کبھی دلاور خان کو دیکھ رہے تھے اور کبھی اکثم کو ۔۔۔۔
تو تم اپنے باپ کے حکم کی نافرمانی کرو گے؟؟؟ تم اتنے بڑے ہوگئے ہو کہ فیصلے لے سکو؟؟؟
دلاور خان کے لہجے میں تکلیف تھی اس بار۔۔۔۔
اکثم نے انہیں دیکھا اور اپنی جگہ سے اٹھا۔۔۔ ان کے دائیں ہاتھ کو پکڑ کر اس پر بوسہ دیا۔۔۔
آپکا حکم سر آنکھوں ۔۔۔ فیصلہ اب بھی ہمیشہ کہ طرح آپ ہی کریں گے ۔۔۔ وہ سکول جائے گی یا نہیں یہ آپ ہی طے کریں گے۔۔۔ میری بیوی ہے وہ اس کی وکالت فرض ہے مجھ پر۔۔۔ باقی آپ کو جو فیصلہ ہوگا مجھے منظور ہے۔۔۔۔۔
اکثم مسکرا کر بولا تو اس کے الفاظ گویا دلاور خان کے چہرے پر سکون بکھیر گئے تھے۔۔۔ وہ مطمئن تھے اپنی بیوی کی تربیت پر ۔۔۔ ان کی بیوی نے واقعی انہیں اس قابل بنایا تھا کہ وہ سر اٹھا کر سچ کا ساتھ دے سکتے تھے۔۔۔۔
ہانم نیلی آنکھوں کو گھما کر دونوں کو دیکھ رہی تھے جو اب مسکرا رہے تھے۔۔۔۔
مجھے اس کے پڑھنے پر کوئی اعتراض نہیں ہے ۔۔۔ لیکن میری ایک شرط ہے۔۔۔
دلاور خان نے سنجیدگی سے کہا تو یسرا بیگم نے بے یقینی سے انہیں دیکھا تھا۔۔۔۔ جبکہ اکثم نے مسکرا سر کو خم دیا تھا جیسے ہر شرط قبول ہو۔۔۔۔
یہ اس گائوں میں نہیں بلکہ تمہارے ساتھ شہر میں پڑھے گی۔۔ اس کا کسی شہر کے سکول میں داخلہ کروا لو۔۔۔۔۔
دلاور خان کی بات پر وہ خوش ہوتے ہوئے ہانم کو دیکھنے لگا جو معصومیت سے دونوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
میں چلتا ہوں ۔۔۔ کالج کے لئے دیر ہو رہی ہے۔۔۔ ناشتہ بھی وہیں کر لوں گا۔۔۔
اکثم یہ بول کر وہاں سے چلا گیا جبکہ یسرا بیگم نے مسکرا کر دلاور خان کو دیکھا تھا۔۔۔
کچھ معاملوں میں وہ اگر سخت تھے تو دلائل انہیں قائل کر سکتے تھے۔۔۔۔ بس لہجے کی نرمی شرط تھی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
یہ تم آج جلدی کیوں جا رہے ہو ؟؟؟ ابھی تو فزکس کا لیکچر بھی رہتا ہے۔۔۔۔
اکثم جو پروفیسر سے طبیعت خرابی کا بہانہ کر کے پارکنگ کی طرف جا رہا تھا ۔۔۔ اسامہ کو گھور کر رہ گیا جو پتہ نہیں کیوں اس کے پیچھے آ گیا تھا۔۔۔۔
تم سے مطلب؟؟
اکثم کے گھورنے کا اثر لئے بغیر وہ دایاں آبرو اچکا کر اکثم کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
تمہاری نظریں بتا رہی ہیں کہ معاملہ بارہ سالہ بھابھی کا ہے۔۔۔۔
اسامہ کی بات پر اکثم نے ایک گہرا سانس لیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کچھ بھی ہوجائے وہ سب جانے بغیر نہ تو خود یہاں سے ہلے گا اور نہ ہی اکثم کو جانے دے گا۔۔۔۔
کسی اچھے سکول کا پتہ کرنے جا رہا ہوں ۔۔۔ کیونکہ تمہاری بھابھی کو داخل کروانا ہے۔۔۔ اب مل گیا جواب تو میں جائوں ؟؟؟
اکثم نے دانت پیس کر جواب دیا ۔۔۔۔
اس کے جواب پر اسامہ نے بمشکل اپنا قہقہ روکا تھا۔۔۔
قسم سے یار کیا قسمت پائی ہے تو نے ۔۔۔ اب دیکھو اتنی جلدی شادی ہوگئی اور وہ بھی ایک کم عمر لڑکی۔۔نہیں نہیں بچی سے۔۔۔ بہت قسمت والا ہے جو بیوی کی خدمت کرنے کا موقع ملا ہے تجھے۔ ویسے اس میں بھی تیرا ہی فائدہ ہے روڈ بیوی کے ساتھ ڈرائیونگ پر جائے گا۔۔۔۔ یار میرے لئے بھی دعا کر دیا کر ۔۔۔
اسامہ شرارت سے بول رہا تھا جب اکثم نے ایک ذور دار پنچ اس کے دائیں باذو پر مارا۔۔۔
آہ۔۔۔ ظالم مار ڈالا ۔۔۔۔
اسامہ اکثم کو گھورتے ہوئے بولا۔۔۔۔
میرا وقت ضائع نہیں کر خبیث انسان۔۔۔
اچھا نہیں کرتا۔۔۔ بیوی کے آتے ہی دوست کھٹکنے لگ گیا ہے بھئی۔۔ اچھا ہے جائو جائو۔۔۔ اور اب مجھ سے بات تب کرنا جب بھابھی کو سکول داخل کروا دو گے۔۔۔
اسامہ شرارت سے بول کر وہاں سے بھاگ گیا تھا۔۔۔ جبکہ اکثم مسکرا کر نفی میں سر ہلانے لگا۔۔۔۔
اتنی چھوٹی بیوی تو اللہ کسی کو نہ دے۔۔۔۔
اکثم مسکرا کر بڑبڑایا اور پارکنگ کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔
۔۔۔ ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم رشیدہ کو بولو کہ ثمامہ کو آ کر لے جائے۔۔۔ اسے شاید بھوک لگی ہے اس لئے رو رہا ہے۔۔۔
ہانم جو ابھی یسرا بیگم کے کمرے میں داخل ہوئی تھی ۔۔ یسرا بیگم نے اس سے کہا تھا۔۔بےبی کو روتے دیکھ کر آگے بڑھی۔۔۔
اماں جان لائیں میں دے آتی ہوں اقصی آپی کو۔۔۔
اس کی بات پر یسرا بیگم مسکرائیں اور ثمامہ خان کو اسے پکڑا دیا۔۔۔۔
تم کتنے پیارے ہو بےبی۔۔۔۔ اچھا تم مجھے یہ بتائو کہ ہسپتال میں اور بےبی ہیں نا؟؟؟ میں وہاں سے ایک اور بےبی لائوں گی۔۔۔۔
ہانم باتیں کرتی ہوئی اقصی کے کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔ اقصی جو رشیدہ کو بھیجنے لگی تھی ثمامہ کو لینے ۔۔ ہانم کو دیکھ کر اس کی پیشانی پر بل پڑے اور بمشکل اپنے غصے کو ضبط کرتے ہوئے بولی۔۔۔۔
ادھر لائو اسے۔۔۔
اقصی اپنے بیڈ کے پاس کھڑی تھی جب ہانم نے ثمامہ خان کو اسے پکڑایا ۔۔۔ اقصی نے اسے بیڈ پر لٹایا اور ہانم کو دیکھنے لگی جو مسکرا کر ثمامہ کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اقصی کو اس کی مسکراہٹ زہر لگی تھی ۔۔۔
وہ آگے بڑھی اور ایک ذور دار تھپڑ اس کے دائیں گال پر رسید کیا۔۔۔
میرے بیٹے سے دور رہنا ورنہ بہت برا پیش آئوں گی۔۔۔۔
ہانم نے نم آنکھوں سے اقصی کو دیکھا ۔۔۔۔ دلاور خان جو ثمامہ سے صبح سے نہیں ملے تھے اب اقصی کے کمرے میں آئے تو سامنے کا نظارہ دیکھ کر انہیں بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟؟
ان کی رعب دار آواز پر اقصی اور ہانم پلٹی تھیں ۔۔۔۔ ہانم نے جلدی سے اپنی آنکھیں صاف کی تھیں ۔۔۔
بابا جان اس سے بول دیں کے میرے بیٹے سے دور رہے۔۔۔۔
اقصی غصے سے اونچی آواز میں بولی تھی۔۔۔
دلاور خان کو اس کا یہ انداز بالکل پسند نہیں آیا تھا۔۔۔
اقصی خان آواز کو اونچا تب کریں جب کرنے کے لئے کہا جائے اور رہی بات اس لڑکی کی لاڈلے خان سے دور رہنے کی تو وہ ہمارا خون ہے اس لئے ہم فیصلہ کریں گے کہ اس کے نزدیک کون رہے گا اور دور کون رہے گا۔۔۔۔؟؟؟ آئندہ ہاتھ اٹھانے کی غلطی مت کیجئیے گا ورنہ مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔۔۔
دلاور خان کے لفظوں میں ہی نہیں بلکہ لہجے میں بھی سختی تھی ۔۔۔
اقصی ان کے لہجے کو پہلی بار اپنے سامنے سخت محسوس کر رہی تھی۔۔ وہ خاموشی سے سر جھکا گئی تھی جبکہ ہانم آہستہ سے چلتے ہوئے ان کے قریب آئی اور معصومیت سے بولی۔۔۔۔
امی کی جب بھی بات نہیں مانتی تھی وہ بھی ایسے ہی مارتی تھیں۔۔۔ آپی نے کہا تھا کہ میں بےبی سے دور رہوں لیکن میں نے ان کی بات نہیں مانی ۔۔۔ میری غلطی ہے ۔۔۔ آپ ان پر غصہ نہیں کریں۔۔۔۔
ہانم کی بات پر اقصی نے سر اٹھایا اور اس بچی کو دیکھنے لگی جو اپنی معصومیت سے اس کا دفاع کر رہی تھی ۔۔۔۔
دلاور خان بے ساختہ مسکرائے تھے۔۔۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے جیسے اکثم خوش قسمت ثابت ہونے والا ہے۔۔۔
یہ بول کر انہوں نے ہانم کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔۔
ہانم نے آج میرا دل خوش کر دیا ہے ۔۔۔ بولو کیا چاہیے۔۔۔؟؟؟
بابا جان ۔۔۔ مجھے بھی بےبی چاہیے ۔۔ بالکل اس بےبی جیسا ۔۔۔
ہانم کی فرمائش پر دلاور نے بمشکل اپنا قہقہ روکا تھا جبکہ اقصی سر جھٹک کر بیڈ پر لیٹے ثمامہ خان کی طرف متوجہ ہوگئی تھی۔۔۔
بڑے خان ۔۔ آتے ہیں تو میں ان سے کہتا ہوں ۔۔۔ وہ آپ کو بےبی لا کر دیں گے ۔۔۔
دلاور خان ہنستے ہوئے بولے تو ہانم خوشی سے ان کے گلے لگ گئی ۔۔۔
بابا جان آپ بہت اچھے ہیں۔۔۔
ہانم کے ردعمل پر دلاور خان مسکرائے تھے۔۔۔
وہ معصوم نہیں تھی وہ بہت زیادہ معصوم تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: