Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 11

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 11

–**–**–

تین گھنٹے کی تگ و دو کے بعد اسے ایک سکول ملا تھا جہاں ہانم کا داخلہ وہ کروا سکتا تھا۔۔۔ جو سکول اس نے ہانم کے لئے منتخب کیا تھا اس کا ماحول، پڑھانے کا طریقہ، اس کی کینٹین یہاں تک کہ یہ بھی اپنے ذہن میں رکھا تھا وہاں صرف لڑکیاں ہوں۔۔۔۔
شام کو وہ تھک ہار کر واپس آیا تو ہانم اسے کمرے میں کہیں نظر نہیں آئی ۔۔۔ اس نے بے ساختہ خدا کا شکر ادا کیا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا اگر وہ کمرے میں ہوئی تو سوالات کی دوکان کھول کر بیٹھ جائے گی۔۔۔
وہ جلدی سے واش روم سے نکل کر صوفے پر لیٹ گیا اور جلد ہی نیند کی وادی میں گم ہوگیا۔۔۔
ہانم کمرے میں آئی تو اکثم کو دیکھ کر الجھن لئے خود سے بولی۔۔۔۔
یہ کب آئے؟؟ اور مجھے بتایا بھی نہیں کہ ہانم میں آگیا ہوں۔۔۔۔
ہانم خود سے بڑبڑائی اور پھر سر جھٹک کر بیڈ پر جا کر سو گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب سب ناشتے کے ٹیبل پر بیٹھے تھے سوائے اقصی کا تب اکثم نے بابا جان کو مخاطب کیا۔۔۔
بابا جان ۔۔۔ کل ایک سکول دیکھا ہے میں نے ہانم کے لئے ایک دو دن میں وہاں اس کا داخلہ بھی کروا دوں گا۔۔۔ وہ سکول میرے کالج سے قریب ہی ہے ۔۔۔
ٹھیک ہے ۔۔۔ جیسا تمہیں مناسب لگے۔۔۔۔
دلاور نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
بابا جان آپ خان سے کچھ بات کرنے والے تھے نا؟؟؟
ہانم نے معصومیت سے آنکھیں مٹکاتے ہوئے دلاور خان سے کہا۔۔۔
وہ متبسم سا مسکرائے تھے جبکہ اکثم نے ہانم کو دیکھا ۔۔۔
کیا بات کرنی یے بابا جان نے مجھ سے؟؟
اکثم نے ہانم کو دیکھ کر نامسجھی سے پوچھا۔۔۔
کچھ نہیں بڑے خان آج واپسی پر بات ہوگی۔۔۔۔
دلاور خان کی بات پر ہانم نے منہ بسورا تھا۔۔۔ جبکہ باقی سب ناسمجھی سے دونوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔۔۔۔
اکثم کالج چلا گیا تھا ۔۔ ارتسام سکول اور بابا جان زمینوں پر چلے گئے تھے ۔۔۔ ہانم اپنے کمرے میں تھی جب یسرا بیگم اس کے پاس آئیں ۔۔۔
ہانم بیٹا۔۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے؟؟
یسرا بیگم نے مسکرا کر اس کے پاس بیڈ پر بیٹھتے ہوئے پوچھا۔۔۔۔
جی اماں جان ۔۔۔
تم یہاں خوش ہو نا؟؟؟
یسرا بیگم نے سوالیہ نظروں سے اس کے چہرے کو دیکھتے ہوئے ہوچھا۔۔۔؟؟
اماں جان ۔۔۔ میں خوش ہوں ۔۔۔
ہانم مسکرا کر بولی۔۔۔
تمہیں اپنے امی ابا کی یاد تو نہیں آتی۔۔۔ ؟؟؟
یسرا بیگم کے سوال پر وہ سرجھکا گئی تھی ۔۔۔ شاید آنسوئوں کو چھپانے کی ناکام کوشش کی گئی تھی۔۔۔
اماں جان مجھے وہ بہت یاد آتے ہیں لیکن خان نے کہا تھا وہ مر گئے ہیں۔۔ اور جو مر جاتا ہے وہ تو اللہ کے پاس چلا جاتا ہے۔۔۔ اس لئے میں ان کے لئے دعا کرتی ہوں وہ اللہ کے پاس خوش رہیں ۔۔۔
ہانم کے لئے میں دکھ تھا ۔۔ یسرا بیگم نے آگے بڑھ کر اسے اپنی آغوش میں لیا تھا۔۔۔۔
تسلی نہیں دے سکتی تھی وہ اسے کیونکہ ونی میں آئی ہوئی لڑکی کی واپسی کے تمام دروازے بند ہو جاتے ہیں۔۔۔ دلاور خان اس معاملے میں کسی کی بھی نہیں سننے والے تھے کہ ہانم کبھی اپنے ماں باپ سے ملے ۔۔۔
اچھا یہ بتائو ہانم کو اس گھر کے لوگ کیسے لگے؟؟؟
یسرا بیگم کے بات بدلنے پر ہانم مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔
سب بہت اچھے ہیں ۔۔ بابا جان بھی بہت اچھے ہیں ۔۔۔ آپ بھی مجھے اچھی لگتی ہیں۔۔ چاچی رشیدہ بھی بہت اچھی ہے کیونکہ وہ مجھے کھانا دیتی ہے۔۔چھوٹے خان بھی اچھے ہیں ۔۔۔ مجھے بس اقصی آپی اچھی نہیں لگتی وہ مجھے مارتی ہیں۔۔۔۔
آخری بات پر ہانم نے منہ بسورا۔۔۔۔
اچھا تو بڑے خان کے بارے میں تو بتایا ہی نہیں آپ نے ؟؟
یسرا بیگم نرمی مسکراتے سے بولی تھیں۔۔
اکثم کے ذکر پر ہی اس کے لبوں پر مسکراہٹ اور آنکھوں میں چمک آگئی تھی جیسے یسرا بیگم نے باخوبی دیکھا تھا۔۔۔
وہ تو اس گھر میں سب سے اچھے تھے ۔۔۔ کبھی کبھی غصہ کرتے ہیں ۔۔ میری ہر بات مانتے تھے ۔۔۔ لیکن اب میری بات نہیں مانتے۔۔ نہ ہی اب وہ اچھے ہیں؟؟
ہانم منہ بسور کر بولی تو یسرا بیگم نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
اچھے تھے سے کیا مطلب؟؟ کچھ کہا ہے اس نے تمہیں؟؟
نہیں کہا تو کچھ نہیں۔۔۔ لیکن مجھے بےبی نہیں لا کر دے رہے۔۔۔
ہانم کے شکایتی انداز پر یسرا بیگم کا قہقہ نکل گیا۔۔۔
ہانم ناسمجھی سے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔
اچھا تم نہا کر کپڑے بدل لو تب تک بڑے خان بھی آ جائیں گے پھر ان سے بےبی کے متعلق بات کریں گے۔۔۔
یسرا بیگم نے بمشکل اپنا قہقہ ضبط کرتے ہوئے ہانم سے کہا تو ہانم خوش ہوتے یسرا بیگم کے گلے لگ گئی۔۔۔۔
آپ بہت اچھی ہیں اماں جان۔۔۔
اچھا اب پیچھے ہٹو ۔۔۔ مجھے اقصی کے پاس جانا ہے ثمامہ خان کو دیکھنے۔۔۔
ان کی بات پر وہ پیچھے ہوئی اور مسکراتے ہوئے الماری کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ جبکہ یسرا بیگم اس کے لئے خوشیوں کے دعا مانگتے ہوئے کمرے سے چلی گئی تھیں۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم ابھی گھر آیا تھا جب اسے حال میں بابا جان نظر آئے جو یسرا بیگم کے ساتھ بیٹھے تھے۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھا۔۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔۔۔
دونوں نے جواب دیا۔۔۔
کیسا گزرا تمہارا دن؟؟
یسرا بیگم نے مسکرا کر اکثم سے پوچھا جو صوفے پر گرنے والے انداز میں بیٹھا تھا۔۔۔
بہت تھکا دینے والا۔۔۔۔ کل ہانم کو ساتھ لے کر جائوں گا ۔۔۔ اس کا ایک ٹیسٹ ہوگا ۔۔۔ اور اس ٹیسٹ کے بعد سکول انتظامیہ کا فیصلہ ہوگا کہ اسے کس جماعت میں بٹھانا ہے۔۔۔
اکثم کے تفصیلی جواب پر دونوں کے چہروں پر مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔
ہے کہاں وہ؟؟؟
اکثم نے اردگرد دیکھ کر یسرا بیگم سے پوچھا۔۔۔۔
اپنے کمرے میں ہے۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے۔۔ میرا کھانا لگوائیں میں ہاتھ منہ دھو کر آتا ہوں۔۔۔
بڑے خان مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔
اکثم اپنی جگہ سے اٹھنے ہی لگا تھا جب دلاور خان کی سنجیدہ آواز اسے دوباہ وہیں بیٹھنے پر مجبور کر گئی۔۔۔۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتے ارتسام بھی اکثم کے ساتھ آ کر بیٹھ گیا ۔۔۔
بڑے خان ہمیں اس گھر کے لئے ایک اور وارث چاہیے ۔۔۔
دلاور خان کی بات پر اکثم نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا تھا۔۔۔
میں سمجھا نہیں آپ کی بات؟؟؟
اس میں نا سمجھنے والی تو کوئی بات نہیں۔۔۔ میں بس اتنا چاہتا ہوں کہ تم جلدی سے ہمیں پھر سے دادا بنا دو۔۔۔
اکثم ان کی بات سمجھتے ہی غصے سے اپنی جگہ سے اٹھ گیا۔۔۔۔
میں ایسا کچھ نہیں کرنے والا۔۔۔
دلاور خان بھی غصے سے اٹھ کر اس کے مقابل آئے تھے۔۔ جبکہ یسرا بیگم اور ارتسام خاموش تماشائی بنے ہوئے تھے۔۔۔
میں کوئی ناجائز مطالبہ نہیں کر رہا جو تم اس طرح غصہ کر رہے ہو ۔۔۔ ہمیں پوتا چاہیے تو مطلب چاہیے۔۔۔
اور ویسے بھی جب ہم تمہاری بات مان سکتے ہیں تو تمہیں ہمارا حکم ماننا ہوگا۔۔۔
دلاور خان نے سنجیدگی سے گویا بات ختم کرنے کی کوشش کی تھی ۔۔
بابا جان پلیز میں یہ نہیں کر سکتا ؟؟؟
کتنی بے بسی تھی اکثم کے لہجے میں جو پاس کھڑی اس کی ماں نے واضح محسوس کی تھی لیکن وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر سکتی تھی۔۔۔۔
تو ٹھیک ہے برخوردار تم ابھی اسی وقت اس کو اپنے نکاح سے آزاد کرو میں ارتسام کو بول دیتا ہوں مجھے یقین ہے وہ ضرور میرا حکم مانے گا۔۔۔۔
دلاور خان کے لہجے میں کوئی نرمی نہیں تھی۔۔۔
ان کی بات پر اکثم نے بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھا تھا۔۔۔۔
بابا جان۔۔۔۔
کیوں ارتسام تم کرو گے نہ اس لڑکی سے نکاح؟؟؟
دلاور خان نے تھوڑے فاصلے پر کھڑے اپنے چھوٹے بیٹے کو کہا تھا۔۔جبکہ دس سالہ ارتسام کبھی اپنے باپ کو دیکھ رہا تھا اور کبھی سترہ سالہ بھائی کو جس کی سفید رنگت میں سرخی گھل گئی تھی۔۔۔
لیکن بابا جان آپ نے تو کہا تھا ہانم میری بھابھی ہے۔۔۔
ارتسام معصومیت سے بولا تھا ۔۔ اکثم نے بمشکل خود کو کنٹرول کرتے ہوئے اپنے باپ کو دیکھا اور ارتسام سے بولا۔۔۔۔
اپنے کمرے میں جائو چھوٹے خان۔۔۔ اور اب واپس باہر مت آنا۔۔۔۔
ارتسام ایک لمحہ ضائع کئے بنا اپنے کمرے کی طرف بھاگا تھا کیونکہ باپ سے ذیادہ وہ اپنے بھائی کے غصے سے ڈرتا تھا۔۔۔۔
دلاور خان نے غصے سے اکثم کو دیکھا تھا۔۔۔۔
آپ جیسا چاہتے ہیں ویسا ہی ہوگا بس مجھے کچھ وقت چاہیے ۔۔۔۔
اکثم کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے بولا تھا جبکہ پاس کھڑی اس کی ماں کی آنکھوں سے ایک آنسو ٹوٹ کر دائیں گال سے نیچے ہوا میں منتشر ہو گیا تھا۔۔۔۔
صرف دو ماہ خان اس کے بعد ہمیں خوشخبری ہی چاہیے۔۔۔۔۔
دلاور خان یہ بول کر وہاں سے چلے گئے تھے جبکہ اکثم نے غصے سے پاس پڑے ٹیبل کو ٹھوکر ماری تھی۔۔۔
میں کیسے اس کی معصومیت کو چھین لوں اماں جان ۔؟؟؟ صرف بارہ سال کی ہے وہ۔۔۔ اس کا کیا قصور ہے؟؟؟ قتل اس کے باپ نے کیا تھا تو اسے سزا دے دیتے ۔۔۔۔
میں تو اسے بچی سمجھتا ہوں اور بابا جان اس سے بچہ چاہتے ہیں ۔۔ یہ کیسی آزمائش ہے؟؟؟
وہ سر تھام کر وہاں موجود صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔اس کی ماں آگے بڑھی اور اس کے پاس بیٹھ گئی۔۔۔۔
تم جانتے ہو اکثم تمہارے بابا جان احمر کی موت کے بعد ایسے ہوگئے ہیں ۔۔۔ وہ اگر ضد کر رہے ہیں تو اسے پورا ہر حال میں کریں گے ۔۔۔ تھوڑے دن گزرنے دو پھر ان کو تحمل سے سمجھائو مجھے یقین ہے وہ سمجھ جائیں گے۔۔۔۔
اس سے پہلے اکثم کچھ کہتا ہانم کی آواز کو دونوں نے متوجہ کیا۔۔۔۔
خان بےبی لے آئے آپ۔۔۔۔۔
اس کی بات پر اکثم نے اسے گھورا جبکہ پاس بیٹھی یسرا خان نے سر جھکا کر مسکراہٹ کو روکا تھا۔۔۔
لیں دیکھیں اس کو ۔۔۔۔ بابا جان کے سامنے بھی ایسے ہی ضد کی ہوگی ۔۔۔۔
اکثم جو پہلے ہی تپا بیٹھا تھا اسے گھور کر یسرا خان سے بولا۔۔۔۔
نہیں خان میں نے بابا جان سے نہیں کہا۔۔۔ وہ تو کل اقصی آپی کے بےبی کو میں نے اٹھایا تھا تو انہوں نے مارا مجھے ۔۔۔ بس بابا جان وہیں تھے وہی ان کو ڈانٹا اور مجھے کہا کہ آپ بےبی لائیں گے اس لئے میں آپ کے پاس آگئی ۔۔۔ کہاں ہے بےبی؟؟؟
میری جیب میں ہے لے لو آ کر۔۔۔۔
ہانم بھاگ کر اس کے پاس آئی اور معصومیت سے بولی۔۔۔
خان کس جیب میں ہے۔۔۔ جلدی سے بتائیں ۔۔۔
اکثم نے باقاعدہ اپنا سر پیٹ لیا تھا جبکہ پاس بیٹھی یسرا خان کی مسکراہٹ اب قہقے میں بدل گئی تھی۔۔۔۔۔
اکثم نے اس کا باذو پکڑا اور کسی بھی طرف دیکھے بغیر اپنے کمرے میں لے گیا۔۔۔۔ جبکہ یسرا خان نے دل ہی دل میں اللہ سے ان دونوں کی خوشیوں کی دعا کی تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: