Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 12

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 12

–**–**–

دماغ خراب ہے تمہارا ؟ یا جان بوجھ کر مجھے سب کے سامنے شرمندہ کرنے کے طریقے ڈھونڈتی ہو؟؟؟
اکثم اسے کمرے میں لا کر بیڈ پر پٹخا اور دھاڑتے ہوئے بولا۔۔۔۔ ہانم ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگی ۔۔۔
میں نے کیا کیا ہے خان ؟ جو آپ اس طرح مجھے مار رہے ہیں۔۔۔۔
نیلی آنکھوں میں آنسو رخساروں کو بھگو کر اکثم کے غصے کو پل میں ہوا کر گئے تھے۔۔۔ اکثم خود کو کوستے ہوئے آگے بڑھا۔۔۔
دیکھو ہانم ایسے بےبی کی بات سب سے نہیں کرتے ۔۔۔۔
اکثم کی بات پر ہانم نے اسے گھورا۔۔۔
تو آپ مجھے بےبی لا دیں میں نہیں کروں گی سب کے سامنے بےبی کی بات۔۔۔۔ لیکن جب آپ لائیں گے تو سب دیکھ لیں گے ۔۔۔۔
ہانم کے خود ہی سوال جواب پر اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ آگئی۔۔۔
اچھا میری بات سنو ۔۔۔ تم کل میرے ساتھ جائو گی تمہیں ایک سکول میں داخل کروانا ہے۔۔ جہاں تم پڑھو گی۔۔۔۔
میں نہیں جائوں گی سکول ۔۔۔ استانی مارے گی۔۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بولی تو اکثم نے اسے گھورا۔۔۔
نہیں مارے گی ۔۔۔۔ اور تم سکول جا رہی ہو سمجھی۔۔۔۔
خان میں اگر سکول جائوں گی تو آپ مجھے بےبی لا کر دیں گے نا؟؟
ہانم نے معصومیت سے پوچھا۔۔
اکثم نے اپنا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑ لیا تھا۔۔۔۔ وہ اس وقت خود کو دنیا کا سب سے بے بس اور لاچار شوہر تصور کر رہا تھا۔۔۔۔
خان کیا ہوا سر میں درد ہے ؟؟؟
ہانم اس کے سر پکڑنے پر پریشانی سے بولی۔۔۔۔
ہانم دیکھو جس ڈاکٹر سے ہم پہلے بےبی لائیں ہیں ابھی اس کے پاس اور بےبی نہیں ہے جب اس کے پاس ایک اور بےبی آ جائے گا ہم تب لے آئیں گے۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔۔
اکثم نے اس کی ذہنیت کے مطابق جواب دیا۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ لیکن ڈاکٹر کے پاس کب تک آئے گا بےبی ؟؟؟
یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم لیکن میں اس سے کہوں گا کہ ہمیں جلدی بےبی لا دے۔۔۔ اب تم دوبارہ بےبی کا ذکر نہیں کرو گی۔۔۔
اکثم کی بات پر ہانم نے اپنا سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔ تو اکثم نے شکر کا سانس لیا۔۔۔۔
اچھا جائو میرے لئے کھانا لے کر آئو۔۔۔ میں تب تک فریش ہو جائوں۔۔۔۔
اکثم مسکرا کر اس کا دایاں گال تھپتھپا لڑ بیڈ سے اٹھ گیا تھا جبکہ ہانم کا ہاتھ بے ساختہ اپنے گال پر گیا تھا۔۔۔۔
اتنی ذور سے مارا ہے سارا سرخ ہو گیا ہے۔۔۔۔ لیکن درد تو نہیں ہوا مارنے پر۔۔۔
خود کو آئینے میں دیکھ کر وہ خود سے بڑبڑائی اور پھر سرجھٹک کر باہر کی جانب اس کے لئے کھانا لینے چلی گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم ناشتے کے لئے ہانم کو بلانے آیا تو اسے آئینے کے سامنے دیکھ مر ٹھٹھک گیا۔۔۔ کالے رنگ کی فراک پر چوڑی پاجامہ زیب تن کئے۔۔ سر پر ڈوپٹے کو حجاب کی شکل میں لپیٹے اور میک اپ کے نام پر صرف آنکھوں میں سرمہ لگائے وہ اکثم دلاور خان کے دل کے آگے کھڑی دیوار کو پاش پاش کر گئی تھی۔۔۔ چند لمحے تو وہ کچھ بول ہی نہ سکا۔۔۔ لیکن جلد ہی خود کو کمپوز کرتے ہوئے اندر آیا اور چہرے پر سختی کے تاثرات سجائے اس نے ہانم کو اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
یہ کیا پہنا ہوا ہے تم نے ؟؟ ابھی اسی وقت کپڑے بدلو۔۔۔
اکثم کہ آواز پر ہانم جو حجاب کو سیفٹی پن لگا رہی تھی ۔۔مڑی اور نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔
لیکن خان یہ کپڑے تو اماں جان نے دئیے ہیں آج کے دن پہننے کے لئے۔۔۔ پھر تو وردی پہن کر ہی جانا ہے سکول ۔۔۔۔۔ اور ویسے بھی دیکھیں کتنی پیاری لگ رہی ہوں میں۔۔۔۔
نیلی آنکھوں کی چمک اور گلابی لبوں کی مسکراہٹ مقابل کے دل کو جھنجوڑ رہی تھی۔۔۔
ہانم میں نے کہا ابھی اسی وقت کپڑے بدلو ورنہ دوسری صورت میں تم گھر ہی رہو گی۔۔۔ اور اب اگر مجھ سے بحث کرنے کی کوشش کی تو یقین مانو تمہیں کوئی بےبی لا کر نہیں دوں گا۔۔۔۔
اکثم کے لہجے میں سختی تھی ۔۔ ہانم نے خفگی سے اسے دیکھا اور الماری سے ایک سفید رنگ کی شلوار قمیض نکال کر بغیر اکثم کی طرف دیکھے واش روم کی طرف بڑھ گئی۔۔۔ جبکہ اکثم اس کی حرکت پر مسکرا دیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم کو پرنسپل آفس میں چھوڑنے اور کچھ ہدایات کرنے کے بعد وہ اپنے کالج کے لئے روانہ ہوگیا تھا ۔۔۔
ہانم پرنسپل آفس میں بیٹھی ہر چیز کو غور سے دیکھ رہی تھی جب ایک درمیانی عمر کی عورت اندر آئی ۔۔
وہ شاید اس سکول کی پرنسپل تھی۔۔ وہ عورت مسکرا کر ہانم کے سامنے والی کرسی پر بیٹھی اور نہایت نرمی سے بولی۔۔۔
اسلام وعلیکم بیٹا۔۔۔ کیا نام ہے آپکا ؟؟؟
وعلیکم اسلام ۔۔۔ میرا نام ہانم بخت۔۔ نہیں ہانم خان ہے۔۔۔
ہانم نے جلدی سے بولا کیونکہ اکثم نے اسے ہدایت کی تھی کہ اب وہ سب کو اپنا نام ہانم خان بتائے گی۔۔۔ پرنسپل اس کے جواب پر مسکرا دی۔۔
اچھا تو آپ کا ایک چھوٹا سا امتحان ہوگا ۔۔ جس کی بنیاد پر ہم فیصلہ کریں گے کہ آپ کو کونسی کلاس میں بٹھانا ہے۔۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔؟؟؟
لیکن ابھی تو میں نے کچھ پڑھا ہی نہیں تو امتحان کیوں دوں ؟؟ اور ویسے بھی میں پانچویں تک پڑھی ہوئی ہوں ۔۔۔۔
ہانم معصومیت سے آنکھیں مٹکاتے ہوئے بولی ۔۔۔۔ پرنسپل نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔۔
بیٹا یہ بس جو آپ نے پانچویں تک پڑھا ہے اس میں سے کچھ سوال پوچھوں گی۔۔۔۔تاکہ ہم آپ کے علم کی بنیاد پر پرکھ سکیں ۔۔۔۔۔
پرنسپل نے مسکرا کر اسے سمجھایا۔۔
پوچھیں سوال لیکن ایک شرط پر۔۔۔
ہانم جلدی سے بولی ۔۔۔ پرنسپل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
کیسی شرط؟؟
یہی کہ اگر میں ٹیسٹ میں پاس ہوگئی تو آپ مجھے آٹھویں کلاس میں بٹھائیں گی۔۔۔ وعدہ کریں۔۔۔۔
ہانم نے پرنسپل کے آگے اپنا چھوٹا سا گلابی ہاتھ پھیلایا تو پرنسپل نے شاک کی کیفیت میں اسے دیکھا۔۔۔
لیکن اکثم خان نے کہا تھا آپ کو ششم کلاس میں ہی بٹھایا جائے۔۔۔
خان کی تو بات ہی مت کریں۔۔۔ وہ تو مجھے آگے بڑھتا دیکھ ہی نہیں سکتے۔۔۔ میں نے بابا جان سے پوچھا تھا انہوں نے کہا تھا میں جس کلاس میں چاہے بیٹھ سکتی ہوں۔۔۔
ہانم کے بات پر پرنسپل نے اسے گھورا ۔۔۔
یہ سب ہمارے سکول کے قواعد وضوابط کے خلاف ہے۔۔۔ میں آپ کو آٹھویں کلاس میں نہیں بٹھا سکتی۔۔۔۔
پرنسپل نے بمشکل اپنا غصہ ضبط کر کے ہانم سے کہا تھا۔۔۔
میں بابا جان کو بتائوں گی کہ آپ نے میری بات نہیں مانی ۔۔۔ دیکھنا اقصی آپی کی طرح وہ آپ کو بھی ڈانٹیں گے۔۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بولی تو پرنسپل اپنے سامنے بیٹھی بارہ سالہ بلیک میلر کو دیکھ کر رہ گئی۔۔۔۔
تم دلاور خان سے شکایت کیوں کرو گی۔۔۔ میں نے تو تمہیں کچھ نہیں کہا؟؟؟
پرنسپل جانتی تھی کہ دلاور خان اپنے گائوں کا بہت بڑا زمیندار ہے اور شہر میں بھی اس کے مشہور لوگوں سے تعلقات ہیں۔۔۔ وہ ناچاہتے ہوئے بھی ہانم کی بات ماننے پر مجبور ہوگئی تھی۔۔۔۔
جھوٹ بولنا بری بات ہے استانی جی ۔۔۔ ابھی تو آپ نے مجھے غصے سے دیکھا اور اب آپ بول رہی ہیں کہ میں نے کیا کیا؟؟؟ اچھا چھوڑیں یہ باتیں مجھے یہ بتائیں کہ امتحان کے بعد مجھے آٹھویں کلاس میں ہی بٹھائیں گی نا؟؟؟؟
ہانم ٹیبل پر ذرا سا جھک کر آگے ہوتے ہوئے بولی تو پرنسپل نا چاہتے ہوئے اپنا سر اثبات میں ہلا گئی۔۔۔
میں تم سے کچھ سوالات کروں گی تم نے ان کے جوابات دینے ہیں ۔۔ اگر جواب صحیح ہوا تو ہی تم امتحان میں کامیاب ہوگی ورنہ دوسری صورت میں تم فیل ہو جائو گی اور پھر تم دوبارہ پانچویں جماعت میں بیٹھو گی۔۔۔ منظور ہے۔۔۔
پرنسپل نے سنجیدگی سے ہانم کا چہرہ دیکھ کر کہا تو ہانم نے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔۔۔۔
پہلا سوال #
بہرے انسان کو انگلش میں کیا کہتے ہیں؟؟؟
ہانم نے ایک نظر پرنسپل کو دیکھا اور معصومیت سے بولی۔۔۔۔
بہرے انسان کو تو سنائی ہی نہیں دیتا استانی جی تو پھر اسے جو مرضی کہہ لیں اسے کونسا سنائی دے گا۔۔۔۔۔
پرنسپل نے اسے گھورا اور دانت پیستے ہوئے بولی۔۔۔۔
اسے ڈیف کہتے ہیں ۔۔۔۔
یہ کیسا نام ہوا ؟؟؟؟
ہانم کی نیلی آنکھوں میں ناسمجھی کے تاثرات ابھرے تھے۔۔۔۔
پرنسپل نے لمبا سانس لے کر خود کو نارمل کیا تھا۔۔۔۔
اچھا یہ بتائو ۔۔۔۔ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل کون ہیں؟؟
قائداعظم ۔۔۔۔
ہانم کے جواب پر پرنسپل نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔
اچھا یہ بتائو ۔۔۔ رمضان کے مہینے میں کتنے عشرے ہوتے ہیں ؟؟؟
تین عشرے ہوتے ہیں ۔۔۔ امی نے بتایا تھا ۔۔۔ پہلا رحمت کا ،دوسرا مغفرت کا اور تیسرا بخشش کا۔۔۔۔
ہانم انگلیوں پر گن کر معصومیت سے بتانے لگی تو پرنسپل کے لبوں پر تبسم نے اپنی جھپ دکھائی۔۔۔۔
اچھا اب ایک سوال سائنس کا؟؟
یہ بتائو ۔۔۔۔ انسانی جسم میں کتنی ہڈیاں ہوتی ہیں؟؟؟
ان کے سوال پر ہانم نے انہیں دیکھا اور ناسمجھی سے بولی۔۔۔۔
یہ تو مجھے نہیں معلوم ۔۔۔ میں نے کون سا ان کی گنتی کی ہوئی ہے۔۔۔۔ ہاں آج گھر جا کر خان کی ہڈیوں کی گنتی کروں گی۔۔۔۔۔
ہانم خان انسانی جسم میں 206 ہڈیاں ہوتی ہیں۔۔۔۔
پرنسپل نے اسے گھورا ۔۔۔۔
آپ کو کیسے معلوم ہے کہ انسانی جسم میں 206 ہڈیاں ہوتی ہیں ؟؟؟ کیا آپ نے ان کی گنتی کی ہے؟؟؟
ہانم نے الٹا سوال کیا تو پرنسپل کا دل شدت سے چاہا تھا دیوار پر مارنے کو۔۔۔۔
نہیں میں نے نہیں گنتی کی۔۔۔۔
جب گنتی نہیں کی تو پھر آپ کو کیسے معلوم کی 206 ہڈیاں ہوتی ہیں ۔۔۔ آج میں گھر جا کر گنتی کروں گی پھر آپ کو بتائوں گی کتنی ہڈیاں ہوتی ہیں انسان کے جسم میں۔۔۔۔
ہانم نے تسلی دینے والی انداز میں پرنسپل کو دیکھ کر کہا۔۔۔۔۔
پرنسپل ناچاہتے ہوئے بھی مسکرا دیں۔۔۔۔ پھر گھنٹی بجائی تو ایک ادھیڑ عمر آدمی اندر آیا۔۔۔۔
شفیق صاحب انہیں مس شائستہ کی کلاس میں چھوڑ آئیں۔۔۔۔
ہانم آپ کو میں آٹھویں جماعت میں بٹھا رہی ہوں۔۔۔ لیکن آپ کو وعدہ کرنا ہوگا آپ بہت زیادہ پڑھو گی۔۔۔ اب آپ جائو ان کے ساتھ ۔۔ یہ آپ کو کلاس میں چھوڑ دیں گے۔۔۔
پرنسپل کی بات پر ہانم خوش ہوتے ہوئے اٹھی اور جوش سے بولی۔۔۔
میں بہت اچھا پڑھو گی استانی جی۔۔۔
ہانم یہ بول کر اس آدمی کے پیچھے چلی گئی ۔۔جبکہ پرنسپل مسکرا دی تھیں۔۔۔ ایسا نہیں تھا کہ اس کی دھمکی کی وجہ سے اسے آٹھویں کلاس میں بھیجا تھا پرنسپل نے بلکہ اس کے دماغ کو ذرا سا علم کا پانی دینے سے وہ گلدستے کی شکل اختیار کر سکتا تھا۔۔۔۔۔۔۔
کہتے ہیں اصلی ہیرے کی پرکھ جوہری کو ہوتی ہے اس طرح ایک استاد کو بچوں کی ذہنیت بتا دیتی ہے وہ کس مقام تک جائے گا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم جیسے ہی کالج میں داخل ہوا اسامہ اس کے بالکل سامنے آگیا ۔۔۔
اکثم نے بروقت اپنے قدموں کو روکا تھا ورنہ ممکن تھا دونوں کے سر آپس میں ٹکرا جاتے۔۔۔۔ اکثم نے اسے گھورا تو وہ بتیس دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے بولا۔۔۔۔
اسلام وعلیکم ۔۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔ اور یہ کونسا طریقہ ہے سلام کرنے کا؟؟؟
اکثم اسے دائیں ہاتھ سے ایک طرف کرتے ہوئے سنجیدگی سے بولا۔۔۔
وہ آج تم بارہ سالہ بھابھی کے ساتھ آئے ہو گے تو مجھے خوشی میں کچھ معلوم نہیں رہا کہ سلام کیسے کی جاتی ہے؟؟ ویسے سفر تو کافی خوشگوار بلکہ رومینٹک گزرا ہوگا۔۔۔۔
اسامہ اس کے ساتھ قدم سے قدم ملاتے ہوئے مسلسل شرارت سے بول رہا تھا۔۔۔ جب اکثم رکا اور اسے سخت نظروں سے گھورنے لگا۔۔۔۔
واللہ تمہاری زبان بھی تمہاری بھابھی کی طرح فضول چلتی ہے۔۔۔
اس کی بات پر اسامہ نے قہقہ لگایا۔۔۔
مجھے ایسا کیوں لگ رہا ہے کہ بھابھی کو نہیں بلکہ تمہیں ونی کیا گیا ہے؟؟؟
اسامہ کی بات پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی مسکرا دیا۔۔۔
سچ میں مجھے بھی کبھی کبھی یہی لگتا ہے ۔۔۔ اپنی الٹی سیدھی باتوں سے خوامخواہ مجھے سب کے سامنے شرمندہ کرواتی ہے۔۔۔
اکثم کے لبوں پر موجود مسکراہٹ کو دیکھ کر اسامہ کو شرارت سوجھی۔۔۔
ویسے ایسی کونسی باتیں بول دی بارہ سالہ بھابھی نے جو اکثم دلاور خان کو شرمندہ کر گئی ہیں؟؟؟
یہ تمہاری بھول ہے کہ میں تمہیں اپنی پرسنل باتیں بتائوں گا۔۔۔
اکثم نے دانت پیسے اور اسے گھورا۔۔۔۔ وہ ڈھیٹ بن کر مسکرا دیا۔۔۔۔
ہاں یہ بھی ہے۔۔۔۔ ویسے کیا تمہارے اور بارہ سالہ بھابھی کے درمیان کچھ پرسنل ۔۔۔۔۔۔۔
اسامہ کی بات ابھی منہ میں تھی جب اکثم نے ایک پنچ اس کے بائیں کندھے پر رسید کیا۔۔۔۔
خبیث انسان سدھر جائو۔۔۔ ورنہ بہت طریقے ہیں میرے پاس تم جیسے بگڑے ہوئے رئیس زادے کو سدھارنے کے۔۔۔۔
میرے بچوں کی شادیاں جب تک نہ دیکھ لوں سدھرنے کا کوئی چانس نہیں۔۔۔۔
ڈھٹائی کی تمام حدیں تو اسامہ پر ختم ہوں جیسے۔۔۔۔
کمینے انسان تو واقعی کسی دن ضائع ہو جائے گا میرے ہاتھوں۔۔۔اب چل کلاس کا وقت ہو رہا ہے ۔۔۔ اور اپنی زبان کو ایلفی لگا کر میرے پیچھے آنا۔۔۔ ورنہ آج تیری وہ دھلائی کروں گا کہ صرف ایکسل بھی شرمندہ ہو جائے۔۔۔۔
اکثم یہ بول کر کلاس کے اندر چلا گیا جبکہ اسامہ منہ بسورتے ہوئے اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ٹھیک اڑھائی بجے اکثم نے ہانم کو سکول سے پک کیا تھا۔۔۔ ہانم گاڑی میں فرنٹ سیٹ پر بیٹھی تو اکثم نے مسکرا کر گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔
کیسا گزرا آج کا دن ہانم خان؟؟
اکثم نے گاڑی میں موجود خاموشی کو توڑنے کے لئے بات کا آغاز کیا۔۔۔۔
ہانم نے ایک نظر اکثم کو دیکھا اور اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا۔۔۔ اکثم جو گاڑی چلا رہا تھا خواس باختہ ہوگیا ۔۔۔ اس نے جلدی سے سڑک کے کنارے گاڑی کو بریک لگائی تھی۔۔۔۔
ہانم کیا ہوا ہے؟؟؟ کسی نے کچھ کہا ہے کیا؟؟ یا ٹیچر نے مارا ہے؟؟ مجھے بتائو میں ابھی جا کر پوچھتا ہوں۔۔۔۔
اکثم اس کی طرف چہرہ کر کے پریشانی سے بولا۔۔۔۔ تو ہانم نے نیلی آنکھوں میں آنسوئوں کی آمیزش لئے اسے دیکھا۔۔۔۔
میں نہیں جائوں گی سکول۔۔۔۔
اس کی چھوٹی سی سفید ناک سرخ ہوگئی تھی ۔۔۔
لیکن ہوا کیا ہے؟؟؟
اکثم کی پریشانی ہنوز برقرار تھی۔۔۔
وہاں ایک لڑکی تھی میری جماعت کی اس نے مجھے گالی دی۔۔۔۔۔
ہانم بازئوں سے اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے ہچکیاں لے کر بولی۔۔۔۔
کونسی لڑکی اور کیا کہا اس نے تم سے ؟؟؟
اس کا نام مشا ہے اور اس نے مجھے پاگل کہا۔۔۔۔۔
ہانم کی بات پر اکثم نے اپنا سر اسٹیئرنگ پر رکھ دیا۔۔۔۔ یہ لڑکی پاگل ہی تھی ۔۔۔۔۔
اچھا اب چپ کرو۔۔۔ میں کل تمہاری استانی سے بات کروں گا۔۔۔۔ اب رو مت ۔۔۔۔
اکثم اس کی طرف دیکھ کر نرمی سے بولا۔۔۔۔
آپ کریں گے نا بات استانی سے ؟؟؟
ہانم نے بھیگی پلکوں کی جھالر کو اٹھا کر پوچھا تو اکثم تو جیسے سانس لینا بھول گیا۔۔۔ نیلی آنکھوں پر ان آنسوئوں کا نظارہ اسے پھولوں پر موجود شبنم کا احساس دلا رہے تھے۔۔۔ جسے وہ اپنی انگلیوں کی پوروں سے چننا چاہتا تھا ۔۔۔ دل کی خواہش پر دماغ نے پرزور مذمت کی تھی۔۔۔ دل باغی ہو رہا تھا تو دماغ اسی دل کے آگے سنگ مرمر کی دیواریں کھڑی کر رہا تھا۔۔۔ وہ کئی لمحے اس کے معصوم اور پاکیزہ چہرے کو تکتا رہا ۔۔۔۔ ہوش میں تو تب آیا جب اسے کے کانوں میں ہانم کی آواز گونجی۔۔۔۔
خان۔۔۔ خان۔۔۔۔
ہا۔۔ہاں۔۔۔ کیا ہوا؟؟؟
اکثم ہڑبڑاتے ہوئے بولا۔۔۔
گھر چلیں ۔۔۔۔ مجھے بھوک لگ رہی ہے۔۔۔
ہانم کی بات پر وہ مسکرایا اور جلدی سے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔ دوبارہ اس نے ہانم کی طرف دیکھنے کی غلطی نہیں کی تھی۔۔۔ اتنا تو وہ جان گیا تھا اس کی معصومیت جان لیوا ہے۔۔۔۔ وہ اپنی معصومیت سے قتل کرنے کا ہنر رکھتی تھی تو مقابل بھی جگر کو بڑا کر کے قتل ہونے کو تیار تھا۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: