Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 13

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 13

–**–**–

خان حویلی میں سب رات کا کھانا کھا رہے تھے جب دلاور خان نے ہانم کو مخاطب کیا۔۔۔۔
ہانم ۔۔۔۔ سکول کیسا تھا ؟؟؟ اور امتحان کیسا رہا تمہارا؟؟؟
دلاور خان کی بات پر ہانم نے سر اٹھایا اور بولی ۔۔۔۔۔
سکول تو اچھا تھا۔۔ اور امتحان بھی میں نے پاس کر لیا اس لئے تو استانی نے مجھے آٹھویں جماعت میں بٹھا دیا۔۔۔۔
ہانم کے جواب پر پانی پیتے ارتسام کو اچھو لگ گیا۔۔۔ پاس بیٹھی اماں جان نے اس کی پیٹھ سہلائی۔۔۔ جبکہ اکثم نے اپنا پورا رخ ہانم کی طرف کیا تھا ۔۔۔۔
ایسا کونسا تیر مارا تم نے جو استانی نے تمہیں آٹھویں جماعت میں بٹھا دیا ۔۔۔۔
تیر تو نہیں مارا تھا۔۔۔ اور ویسے بھی وہ کہاں بٹھا رہی تھیں ۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بولی تو اکثم سمیت سب کی توجہ وہ اپنی جانب کھینچ چکی تھی۔۔۔۔
مجھے ساری بات بتائو ہانم وہاں سکول میں کیا ہوا تھا ؟؟؟ تم نے استانی سے کیا کہا تھا؟؟؟
اکثم نے سنجیدگی سے سوال کیا۔۔۔
میں نے استانی سے بس اتنا ہی کہا تھا کہ انہوں نے اگر مجھے آٹھویں جماعت میں نہ بٹھایا تو میں اپنے بابا جان کو بتائوں گی۔۔۔۔ پھر وہ آپ کو ڈانٹیں گے۔۔۔
ہانم نے معصومیت سے جواب دیا جبکہ دلاور خان نے اونچی آواز میں قہقہ لگایا۔۔۔۔
اکثم اور ارتسام کا پورا منہ کھل گیا تھا جبکہ اماں جان نے بمشکل مسکراہٹ کو لبوں میں دبایا تھا۔۔۔
تم نے پرنسپل کو بلیک میل کیا تھا؟؟؟؟؟
اکثم کی صدمے بھری آواز پر ہانم نے اسے دیکھا۔۔۔۔
میں نے کسی کو کچھ نہیں کیا۔۔۔ آپ استانی سے پوچھ لیجئے گا ۔۔ میں نے تو ان کو ہاتھ تک نہیں لگایا ۔۔۔
ہانم کی ذہانت پر سب لوگ غش کھا کر رہ گئے تھے۔۔۔
میں تمہارے ساتھ کل سکول جائوں گا اور تم چھٹی جماعت میں بیٹھو گی۔۔۔ اور استانی سے اپنے آج کے رویے کی معافی بھی مانگو گی ۔۔۔۔سمجھی تم ۔۔۔۔۔
اکثم کی بات پر ہانم نے منہ پھلایا اور دلاور خان کی طرف دیکھ کر بولی۔۔۔
بابا جان۔۔۔ میں آٹھویں جماعت میں ہی بیٹھوں گی۔۔۔ آپ بولیں نا خان کو۔۔۔۔
بڑے خان ہماری بیٹی جس جماعت میں چاہے گی ہم اسے اسی میں بٹھائیں گے۔۔۔ اب اس موضوع کو یہیں ختم کریں۔۔۔ ویسے بھی ہانم کسی سے معافی نہیں مانگےگی ۔۔۔
دلاور خان کی بات پر اکثم نے تاسف سے دلاور خان اور پھر ہانم کو دیکھا تھا جو خوش ہوتے ہوئے مسکرا رہی تھی۔۔۔۔۔
مجھے تو لگتا ہے یہ قبضہ مافیہ کی لیڈر بنے گی۔۔۔
اکثم خود سے بڑبڑایا اور کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا۔۔۔۔
انسان کی خواہش کو پورا کرنا چاہیے مگر تب جب وہ جائز ہو لیکن جب یہی خواہش بے جا ضد کی شکل اختیار کر لے تو یہ انسان کے اخلاق کو قطرہ قطرہ کر کے ختم کر دیتی ہے ۔۔۔ خودسری پروان چڑھتی ہے۔۔۔ اور خاتمہ عبرتناک ہوتا ہے۔۔۔ اگر پہلی ضد پر بچے کو بہلا کر روک لیا جائے تو آنے والے وقت میں بڑے بڑے نقصانات سے بچا جا سکتا ہے۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتسام رات کو چھت پر بیٹھا تھا جب اکثم اسے ڈھونڈتے ہوئے چھت پر آیا۔۔۔ وہ چھت کی چھوٹی سی دیواروں پر دونوں بازئوں کی کہنی رکھے اور ہاتھوں کے پیالے میں چہرے کو لئے وہ نم آنکھوں سے آسمان کو دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ وہ اتنا محو تھا کہ اپنے کام میں کہ اکثم کے آنے کو محسوس ہی نہ کر سکا ۔۔۔
اکثم اس کے پاس کھڑا ہوا اور اس کے چہرے پر رات کے روشنی میں چمکتے آنسو اکثم کو تکلیف میں مبتلا کر گئے تھے۔۔۔۔
چھوٹے خان کیا ہوا ہے؟؟؟؟
اکثم کی نرم آواز پر اس کی محویت ٹوٹی تھی۔۔۔ اس نے جلدی سے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کئے تھے اور اکثم کے سامنے سر جھکا کر کھڑا ہوگیا۔۔۔۔
کک۔۔۔کچھ نہیں ہوا بھائی۔۔۔۔۔
بھاری لہجے میں جواب دیتے ہوئے وہ ایک بار پھر اپنا ضبط کھو رہا تھا۔۔۔
اکثم نے تھوڑا سا جھک کر اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں لیا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے گلے لگا گیا۔۔۔۔۔
ارتسام کا ضبط جواب دے گیا تھا وہ اکثم کے گلے لگے زاروقطار رو رہا تھا۔۔۔ اکثم جانتا تھا وہ احمر کے لئے رو رہا ہے کیونکہ کل احمر کی سالگرہ تھی اور ارتسام اسے سب سے پہلے وش کرتا تھا۔۔۔
بھائی مجھے احمر بھائی بہت یاد آ رہے ہیں ؟؟؟ وہ کیوں ہمیں چھوڑ کر چلے گئے۔۔۔ ہم نے تو کبھی کسی کے ساتھ برا نہیں کیا ؟ پھر اللہ نے کیوں انہیں اتنی جلدی اپنے پاس بلا لیا؟؟؟ ابھی تو انہوں نے مجھے باہر کے ملک بھی بھیجنا تھا۔۔۔ میں نے انہیں خوب تنگ کرنا تھا۔۔۔ وہ کیوں نہیں سمجھے کہ ان کے سامی کو ان کی ضرورت ہے؟؟؟
احمر کی موت کے بعد وہ آج کھل کر رویا تھا اور اپنے اندر کا غبار نکال رہا تھا۔۔۔ اکثم کی آنکھوں میں بھی نمی چمکی تھی جسے کمال ضبط کا مظاہرہ کرتے ہوئے وہ سختی سے آنکھوں کو بند کر کے چھپا گیا تھا۔۔۔ ارتسام تو بچہ تھا وہ اپنے جذبات کو رو کر دکھا سکتا تھا۔۔ لیکن وہ تو دنیا کی نظر میں سمجھدار تھا جسے رونا نہیں تھا ۔۔۔ بلکہ خود پر ضبط کر کے اپنے گھر والوں کو سنبھالنا تھا۔۔۔ درد تکلیف تو اسے بھی ہوتی تھی ۔۔۔۔ لیکن خود کو مضبوط بھی تو ثابت کرنا تھا۔۔۔۔۔
چھوٹے خان۔۔۔ ادھر دیکھو میری طرف؟؟
اکثم نے اس کا چہرہ ہاتھوں میں بھر کر اپنی طرف کیا۔۔۔
بھائی تم سے بہت محبت کرتے تھے چھوٹے خان۔۔۔ وہ تمہارے لئے بہت حساس تھے ۔۔۔ خود تو تمہیں سامی کہتے تھے لیکن دوسروں کے لبوں سے انہیں تمہارا نام سننا پسند نہیں آتا تھا۔۔۔ تمہیں یاد ہے بھائی کی شادی سے پہلے ایک دفعہ میں نے بھی جان بوجھ کر تمہیں سامی پکارا تھا۔۔۔۔ کتنے خفا ہوئے تھے وہ مجھ سے اس بات پر کیونکہ وہ کہتے تھے سامی صرف وہ پکار سکتے ہیں اور کوئی نہیں۔۔۔ یہاں تک کہ اماں جان اور بابا جان بھی نہیں ۔۔۔۔ تمہیں روتا ہوا تو وہ بالکل بھی نہیں دیکھ سکتے تھے۔۔چھوٹے خان۔۔۔ اب وہ اللہ کے پاس ہیں تمہیں اس طرح روتے دیکھ کر ان کی روح کو تکلیف ہو رہی ہوگی ۔۔۔ کیا تم چاہتے ہو ان کو تکلیف ہو؟؟؟؟
اکثم نے اسے پیار سے سمجھایا تھا اور وہ کامیاب بھی ٹھہرا تھا۔۔۔ ارتسام نے جلدی سے اپنا سر نفی میں ہلایا۔۔۔۔ اور اپنے آنسو صاف کئے۔۔۔
اب میں بالکل بھی اپنے آنسوئوں سے ان کو تکلیف نہیں دوں گا۔۔۔۔
یہ ہوئی نا احمر بھائی کے سامی والی بات۔۔۔
اکثم اس کی ناک کو ہلکا سا دبا کر مسکرایا تھا۔۔۔
بھائی مجھے آپ سے ایک بات کرنی تھی ۔۔۔
ہاں بتائو میرے شیر کو کیا بات کرنی تھی؟؟؟
بھائی مجھے بھی شہر سکول میں پڑھنا ہے۔۔۔
ارتسام جلدی سے بول کر آنکھیں بند کر گیا جبکہ اکثم نے غور سے اسے دیکھا ۔۔۔
کیوں؟؟؟
اکثم کے لفظی سوال پر اس نے آنکھیں کھولیں۔۔۔۔
وہ میرا دل کرتا ہے شہر کے سکول میں پڑھنے کو۔۔۔۔
ارتسام معصومیت سے بولا۔۔۔ جبکہ اکثم نے گہری سانس لی۔۔۔۔
میں بابا جان سے بات کروں گا۔۔۔ اگر انہیں مناسب لگا تو ٹھیک ورنہ تم ضد نہیں کرو گے ۔۔۔۔
بھائی آپ انہیں منا لیں نا۔۔۔۔ جیسے بھابھی کے لئے منایا تھا۔۔۔
ارتسام کی بات پر اکثم نے اسے دیکھا۔۔۔۔۔
انہیں قائل کر کے ہی تو پچھتا رہا ہوں میں۔۔۔۔۔
اکثم خود سے بڑبڑایا تو ارتسام نے ناسمجھی سے اکثم کو دیکھا۔۔۔
بھائی آپ نے کچھ کہا ؟؟
ہاں۔۔۔نہیں ۔۔ رات بہت ہوگئی ہے تم جا کر سو جائو میں کل کالج سے واپس آ کر بابا جان سے بات کروں گا۔۔ اور ہاں اب میں کبھی تمہاری آنکھوں میں آنسو نہ دیکھوں ۔۔۔۔ سمجھے تم۔۔۔
اکثم کی بات پر وہ خوش ہوتے ہوئے اس کے گلے لگا تھا۔۔۔
شکریہ بھائی۔۔۔۔
اچھا بس بس۔۔۔۔ اب جائو نیچے۔۔۔
اکثم نے اسے مصنوعی رعب سے کہا تو وہ پیچھے ہوا۔۔۔
بھائی ویسے ایک بات ہے جب سے بھابھی آئی ہیں آپ کا غصہ کم ہوگیا ہے۔۔۔
یہ بول کر ارتسام تیزی سے نیچے کی طرف بھاگا تھا جبکہ اکثم مسکرا کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
یااللہ تیرا شکر ہے تو نے مجھے حرام رشتے کی بجائے حلال رشتہ عطا کیا۔۔۔ نکاح میں واقعی بہت طاقت کے ۔۔۔ میں نہیں جانتا کہ کب کیوں کیسے؟؟؟ لیکن وہ اپنی معصومیت سے اس گھر اور میری زندگی میں جگہ بنا چکی ہے۔۔۔۔ یا رب تیرا شکر ہے کہ تو نے ہمیں ظالم بننے نہیں دیا۔۔۔ اگر ہم ایک معصوم کی معصومیت کو قتل کر دیتے تو ہمارا یہ بھی ایمان ہے کہ مکافات عمل سے سب کو گزرنا پڑتا ہے۔۔۔ شاید اسی ڈر کی وجہ سے وہ لڑکی آج یہاں سب کی زندگی کا اہم حصہ بنتی جا رہی ہے۔۔۔۔ یارب مجھے اتنی ہمت اور برداشت ضرور دینا کہ میں اس کی معصومیت کو برقرار رکھ سکوں اور زمانے کی دھوپ سے بچا سکوں۔۔۔۔۔ آمین
اکثم آسمان پر جگمگاتے ستاروں کی روشنی کو دیکھ کر دل میں اللہ سے دعا مانگ رہا تھا۔۔۔۔اور پھر خود ہی آمین بول کر نیچے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم جلدی سے آ جائو ورنہ ہمیں دیر ہو جائے گی شہر پہنچنے میں۔۔۔۔
اکثم نے حال میں کھڑے ہو کر ہانم کو آواز دی جو اپنے کمرے میں سکول کے لئے تیار ہو رہی تھی۔۔۔۔۔
ہانم سی گرین کلر کی فراک پہنے سر پر حجاب لئے، کندھوں پر بیگ پہنے تقریبا بھاگتے ہوئے حال میں پہنچی تھی۔۔۔۔
چلیں خان۔۔۔۔۔
اکثم نے ایک نظر اسے دیکھا اور آہستہ سے سر کو جنبش دیتے ہوئے آگے بڑھ گیا۔۔۔۔
جیسے ہی ہانم گاڑی کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھی اکثم نے گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔
خان آپ سے ایک بات پوچھوں؟؟؟
گاڑی میں موجود خاموشی کو ہانم کی آواز نے توڑا تھا۔۔۔
اکثم نے بنا اس کی طرف دیکھے اسے اجازت دی تھی۔۔۔
میرے نہ کہنے سے تم کونسا پوچھو گی نہیں اس لئے پوچھ لو۔۔۔۔
خان آپ کے جسم میں کتنی ہڈیاں ہیں؟؟؟
ہانم نے معصومیت سے اکثم کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔ اکثم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر ونڈ سکرین سے باہر دیکھتے ہوئے بولا۔۔۔
جتنی تمہارے جسم میں ہیں۔۔۔ مطلب 206۔۔۔۔
خان لیکن میں تو آپ سے چھوٹی ہوں پھر میرے جسم میں اتنی ہڈیاں کیسے آ گئی ؟؟؟
ہانم کی صدمے بھری آواز پر اکثم نے اسے دیکھا اور بمشکل اپنا قہقہ روکا تھا۔۔۔۔
دیکھو ہانم انسان بڑا ہو یا چھوٹا اس میں 206 ہڈیاں ہی ہوتی ہیں۔۔۔۔
اکثم کی بات پر اس کا صدمہ کچھ کم ہوا تھا۔۔۔
خان میں آپ سے کتنی چھوٹی ہوں نا؟؟؟
ہاں تو؟؟؟
اکثم کی نظریں ابھی بجی ونڈ سکرین کی طرف تھیں۔۔۔۔
تو سب کہتے ہیں آپ میرے شوہر ہیں۔۔۔ لیکن آپ تو مجھ سے اتنے بڑے ہیں۔۔۔ ابا تو امی سے بڑے نہیں تھے۔۔۔ اور اماں جان بھی تو بابا جان جتنی ہیں۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔
ہانم چپ کر جائو۔۔۔۔ بے تکے سوالوں کو لاتی کہاں سے ہو تم؟؟؟ اب مجھے تمہاری آواز بالکل نہیں آنی چاہیے ۔۔۔سمجھی تم۔۔۔
اکثم نے اسے گھور کر سختی سے کہا تھا۔۔۔ ہانم منہ بسور کر دوسری طرف سڑک پر چلنے والی گاڑیوں کو دیکھنے لگی۔۔۔۔۔
یااللہ اس لڑکی کے دماغ کے جتنے بھی پرزے ڈھیلے ہیں ۔۔۔ انہیں سختی سے جوڑ دے۔۔۔ ورنہ مجھے لگتا ہے عنقریب میں پاگل خانے کی دیواروں سے ٹکریں مارتا پھروں گا ۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم نے دل میں سوچا اور گاڑی اس کے سکول کے آگے روکی۔۔۔
ہانم بنا اس کی طرف دیکھے گاڑی سے اتری اور سکول کے اندر چلی گئی۔۔۔
لگتا ہے بیوی ناراض ہوگئی پھر سے۔۔۔ چلو اکثم خان ابھی کالج واپسی پر بیوی کو منانے کا سوچتے ہیں۔۔۔۔۔
اکثم خود شٹ بڑبڑایا اور گاڑی کو سٹارٹ کر دیا۔۔۔۔۔
عقل کا عمر کے ساتھ کوئی تعلق نہیں ہوتا بعض دفعہ ایسا ہوتا کہ سات سالہ بچہ آپکو وہ سکھا دیتا ہے جو پچاس سالہ شخص نہ سکھا سکا ہو۔۔۔ علم والے اور جاہل کبھی برابر نہیں ہو سکتے ۔۔۔۔ علم آپ کو عقل دیتا ہے زندگی کے تلخ تجربات سے گزرنے کی ہمت دیتا ہے ۔۔۔ لیکن جاہلیت آپکو سب سے پہلے مایوسی کی راہ دکھاتی ہے جو کہ کفر ہے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: