Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 14

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 14

–**–**–

ہانم اپنے کلاس روم میں ڈیسک پر بیٹھی تھی جب ایک لڑکی اس کے پاس آئی اور اس کے ساتھ ہی ڈیسک پر بیٹھ گئی ۔۔۔ ہانم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر کاپی پر بورڈ سے لکھے جملے نوٹ کرنے لگی ۔۔۔۔۔ جو اس کی اردو کی کلاس ٹیچر لکھوا کر گئی تھی۔۔۔ ابھی دوسری ٹیچر کے آنے میں چونکہ وقت تھا اس لئے وہ بورڈ پر لکھے جملوں کو کاپی پر لکھ رہی تھی۔۔۔۔
تمہارا نام کیا ہے ؟؟؟
اس لڑکی نے ہانم سے پوچھا تو ہانم نے اسے دیکھا اور مسکرا کر بولی۔۔۔
ہانم خان۔۔۔۔۔
تمہاری آنکھیں بہت پیاری ہیں ۔۔۔
اس لڑکی نے مسکرا کر ہانم کی آنکھوں کی تعریف کی۔۔۔۔
ہاں مجھے معلوم ہے میں بہت پیاری ہوں۔۔۔ میری امی بھی یہی کہتی ہیں۔۔ میری چھوٹی بہن روح تو کبھی کبھی مجھ سے لڑتی بھی تھی کہ میں اس سے زیادہ پیاری ہوں۔۔۔۔
ہانم بول رہی تھی جبکہ وہ لڑکی ہانم کو منہ کھولے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
بس بس۔۔۔ تم واقعی پیاری ہو۔۔۔ یہ بتائو میری سہیلی بنو گی؟؟؟
لیکن مجھے تو تمہارا نام بھی نہیں معلوم ؟؟؟
ہانم نے معصومیت سے آنکھیں مٹکاتے ہوئے اس سے کہا۔۔۔۔
میرا نام جاثیہ ہے۔۔۔ لیکن سب پیار سے جاثی بلاتے ہیں۔۔۔ تم بھی مجھے اسی نام سے بلا سکتی ہو۔۔۔
لیکن مجھے تو تم سے پیار نہیں ہے پھر میں تمہیں اس نام سے کیوں پکاروں؟؟؟
ہانم کے جواب نے جاثیہ کو بہت شرمندہ کر دیا ۔۔۔ وہ بمشکل مسکرا کر اپنی شرمندگی کو چھپانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔۔
کیا تم مجھے اپنی سہیلی نہیں بنانا چاہتی ؟؟؟
جاثیہ کے سوال پر ہانم مسکرائی ۔۔۔
ٹھیک ہے تم میری تیسرے نمبر والی سہیلی ہو۔۔۔
ہانم نے گویا احسان کرنے والے انداز میں جواب دیا ۔۔۔ جاثیہ مسکرائی تھی اسے ہانم بہت معصوم اور پیاری لگ رہی تھی جس کی وجہ سے وہ اس کے پاس آئی تھی۔۔۔
اس سے پہلے وہ مزید کچھ بولتی کلاس میں ایک ٹیچر داخل ہوئیں ۔۔۔۔ تمام طالبات ان کی تعظیم میں کھڑی ہوگئی تو ہانم بھی سب کو دیکھتے ہوئے کھڑی ہوگئی۔۔۔۔
گڈ آفٹر نون ٹیچر ۔۔۔۔
تمام طالبات نے ایک آواز میں کہا ۔۔۔
گڈ آفٹر نون ۔۔۔۔ سٹ ڈائون سٹوڈنٹس ۔۔۔
اس تیس سالہ ٹیچر نے مسکرا کر سب کو بیٹھنے کو کہا۔۔۔ تو سب بیٹھ گئے ۔۔
یہ کونسی استانی ہے۔۔۔کل تو نہیں نظر آئی تھی۔۔۔
ہانم خود سے بڑبڑائی تو پاس بیٹھی جاثیہ نے گردن موڑ کر اسے دیکھا۔۔۔
یہ ہماری ریاضی کی ٹیچر ہیں ۔۔۔ کل چھٹی پر تھیں۔۔۔۔ آج آئی ہیں۔۔۔
جاثیہ نے اسے سرگوشیانہ انداز میں بتایا۔۔۔
اچھا ۔۔۔
ہانم اپنا سر اثبات میں ہلا کر اتنا ہی بولی جب اس ٹیچر نے ہانم کو دیکھ کر اسے پکارا۔۔۔
سبز رنگ کے کپڑوں والی لڑکی آپ کھڑی ہوں۔۔۔۔۔
ہانم نے ایک نظر ٹیچر کو دیکھا اور ایک نظر ساری کلاس کو دیکھا تمام لڑکیوں کی توجہ ہانم پر ہی تھی۔۔ ہانم کھڑی ہوگئی اور نرمی سے بولی ۔۔۔
جی استانی جی۔۔۔۔
اس کے استانی کہنے پر کلاس میں دبی دبی ہسی کی آوازیں گونجی تھیں۔۔۔۔
نئی آئی ہو کیا؟؟؟
ٹیچر نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
جی کل آئی تھی ۔۔۔
نام کیا ہے تمہارا؟؟؟
ہانم خان۔۔۔۔
ہانم ٹیچر کی طرف دیکھ کر اعتماد سے بولی۔۔۔۔۔
پہلے کونسے سکول پڑھتی تھی؟؟؟
ٹیچر کی سنجیدگی ہنوز برقرار تھی۔۔۔
اپنے گائوں کے سکول میں۔۔۔
ہانم کے جواب پر ٹیچر نے ضبط سے مٹھیاں بند کیں۔۔۔۔
اس سکول کا نام کیا تھا ؟؟؟
نام تو نہیں یاد ۔۔۔ لیکن ہاں راستے میں ایک نہر آتی تھی جہاں سے گزر کر میرے ابا سائیکل پر مجھے سکول چھوڑنے جاتے تھے۔۔۔ میں ہمیشہ سائیکل کے اگلے ڈنڈے پر بیٹھتی تھی کیونکہ پیچھے بیٹھنے سے مجھے ڈر لگتا تھا ۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔
شٹ اپ۔۔۔۔ بس کرو ۔۔۔ جاہل۔۔۔ جتنا پوچھا جائے اتنا جواب دو۔۔۔
ٹیچر نے غصے سے کہا تو ساری کلاس میں خاموشی چھا گئی جبکہ ہانم تو ان کا غصے والا چہرہ دیکھ کر ہی ڈر گئی تھی۔۔۔۔
بیٹھو نیچے اور کل سے مجھے سکول کے یونیفارم میں نظر آئو۔۔ ورنہ کلاس سے باہر دھوپ میں کھڑا کر دوں گی۔۔۔۔
ٹیچر کی آواز پر ہانم نے بمشکل اپنا سر اثبات میں ہلایا اور نیچے بیٹھ گئی۔۔۔ نیلی آنکھوں سے موتی ٹوٹ کر کاپی پر لکھے لفظوں کو مٹا رہے تھے۔۔۔ وہ کم عقل ضرور تھی لیکن رویوں کو سمجھ جاتی تھی۔ اسے اپنی ٹیچر کا رویہ اپنے ساتھ بالکل اچھا نہیں لگا تھا۔۔۔۔ کلاس ختم ہونے کے بعد جاثیہ اس کے ساتھ ہی رہی اسے کافی بہلاتی رہی ادھر ادھر کی باتوں سے لیکن وہ خاموش ہی رہی۔۔۔۔ اڑھائی بجے وہ سکول سے باہر نکلی تو سامنے ہی اکثم بلیو جینز پر وائیٹ شرٹ پہنے اور آنکھوں پر گلاسز لگائے گاڑی کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑا تھا۔۔۔ وہ آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے قریب آئی تو اکثم نے دروازہ کھول دیا۔۔۔
ہانم خاموشی سے سرجھکا کر بیٹھ گئی اکثم کو کچھ عجیب لگا ۔۔ اکثم دروازہ بند کرکے دوسری طرف آیا اور خود ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ گیا۔۔۔۔ ایک بار پھر اس نے ہانم کو دیکھا تھا جو سر جھکائے اپنے ہاتھوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔ اکثم کو لگا وہ اس سے صبح والی بات پر ناراض ہے۔۔۔ اس لئے خاموش ہے۔۔۔
ہانم دن کیسا گزرا آج کا؟؟؟
اکثم نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے نرمی سے پوچھا۔۔۔
ٹھیک۔۔۔۔۔
ہانم کے لفظی جواب پر اکثم نے اسے ایک نظر دیکھا اور پھر ایک بیکری کے آگے گاڑی کھڑی کی اور بنا اس کی طرف دیکھے وہ بیکری کے اندر گیا ۔۔۔ تقریبا پندرہ منٹ بعد وہ باہر آیا تو اس کے ہاتھ میں دو پیزے اور ایک کیک کا شاپر تھا۔۔۔ اس نے وہ شاپر پچھلی سیٹ پر رکھے اور خود دوبارہ ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھ کر گاڑی چلانے لگا۔۔۔۔ اسے ہانم کی خاموشی سے عجیب سی بے چینی ہو رہی تھی۔۔۔
ہانم ناراض ہو مجھ سے کیا؟؟؟
اکثم نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔
نہیں۔۔۔۔
ہانم کے لہجے میں اس بار نمی تھی جس سے اکثم کی بے چینی میں مزید اضافہ ہوا تھا۔۔۔۔
ہانم سکول میں کچھ ہوا ہے کیا؟؟؟
نہیں۔۔۔۔
اس بار نمی رخساروں پر نکل کر مقابل کے دل کو جھنجھوڑ گئی تھی ۔۔ وہ تکلیف میں تھی تو دل اس کا بھی بے سکون ہوا تھا۔۔۔
ہانم اپنے ہاتھ کی پشت سے آنسو صاف کرتے ہوئے بولی۔۔۔
تو رو کیوں رہی ہو۔؟؟؟؟
مجھے میری امی اور ابا کے پاس جانا ہے ۔۔۔ وہ اللہ کے پاس ہیں نا خان تو مجھے بھی وہیں جانا ہے ۔۔۔۔
ہانم یہ بول کر ہاتھوں میں منہ کو چھپائے رونا شروع ہو چکی تھی جبکہ اکثم نے بروقت بریک لگا کر اسے دیکھا تھا۔۔۔۔
ہانم ۔۔۔ ہانم۔۔۔ میری بات سنو۔۔۔۔
اکثم بے بسی کا مطلب آج سمجھ رہا تھا۔۔۔
نہیں مجھے ان کے پاس جانا ہے۔۔۔
میری بات سنو ہانم ۔۔۔
اس بار اکثم نے اس کے دونوں ہاتھوں کو پکڑ کر سختی سے کہا تھا۔۔۔۔
تمہاری امی ابا گائوں میں ہی ہیں لیکن وہ تم سے تب ملیں گے جب تم پڑھ لکھ کر ان کا نام روشن کرو گی۔۔۔ ابھی وہ تم سے نہیں مل سکتے کیونکہ وہ چاہتے ہیں ہانم بہت سارا پڑھے۔۔۔ اور پڑھ لکھ کر اچھی سی ڈاکٹر بنے۔۔۔۔
اکثم کی باتوں پر اس نے اکثم کی طرف دیکھا ۔۔۔
مجھے نہیں بننا ڈاکٹر۔۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بولی۔۔۔
اچھا مت بننا اب یہ بتائو سکول میں کچھ ہوا ہے کیا؟؟؟
اکثم نے نرمی سے اس کے آنسوئوں کو اپنی انگلیوں سے صاف کیا تھا۔۔۔
خان۔۔۔ جاہل کسے کہتے ہیں؟؟؟
اس کی بات پر اکثم نے حیرت سے اسے دیکھا ۔۔۔ اور نرمی سے بولا ۔۔۔
تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟؟؟ کیا تمہیں کسی نے جاہل کہا ہے ؟؟
اکثم کی پیشانی پر لاتعداد شکنوں نے اپنی جگہ بنائی تھی ۔۔۔
نہیں پہلے آپ مطلب بتائیں ۔۔۔
ہانم کی ضد پر اس نے گہری سانس لی اور اس کے ہاتھوں کو اپنی گرفت سے آزاد کرتے ہوئے بولا۔۔۔
جاہل اس شخص کو کہتے ہیں جسے یہ نہیں معلوم ہوتا کہ کب کیا بات کرنی ہے۔۔۔ جو بلاوجہ بات کا بتنگڑ بنادے۔۔ چھوٹی سی بات پر لڑنا شروع ہو جائے۔۔۔۔ جو اپنے بڑوں سے بدتمیزی کرے۔۔۔ جو پڑھا لکھا نہ ہو۔۔۔ جسے علم اور عقل کا معنی نہ پتہ ہو۔۔۔ اب تم بتائو تم کیوں پوچھ رہی ہو۔۔۔۔ ؟؟؟؟
مجھے آج ایک ٹیچر نے جاہل کہا۔۔۔ خان میں تو بدتمیزی نہیں کرتی اور میں تو سب کی بات مانتی ہوں ۔۔۔ آپ جانتے ہیں انہوں نے مجھ پر ساری جماعت کے سامنے غصہ کیا۔۔۔ مجھے بہت برا لگا۔۔۔ اتنا برا لگا کہ میرے آنسو خود ہی نکلنا شروع ہوگئے۔۔۔۔۔
ہانم کی بات پر وہ اکثم نے سختی سے سٹئیرنگ کو تھاما تھا۔۔۔۔ آنکھوں میں سرخی سمندر کے پانی کی طرح بڑھنے لگی تھی۔۔۔
کونسی ٹیچر تھی؟؟؟
ریاضی کی ٹیچر تھی۔۔۔۔ مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔۔۔۔
ہانم نے معصومیت سے جواب دیا ۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے کل میں تمہارے ساتھ تمہارے سکول جائوں گا ۔۔۔ اور ان سے بات کروں گا۔۔۔ اب تم نے رونا نہیں ۔۔ سمجھی اور کوئی بھی بات ہو مجھے بتانی ہے۔۔۔
اکثم نے بمشکل اپنا لہجہ نارمل کیا تھا ۔۔۔۔۔۔۔اور گاڑی سٹارٹ کر دی۔۔۔۔ ہانم اب کافی حد تک پرسکون ہوگئی تھی۔۔۔۔
باقی سفر خاموشی کی نظر ہوا تھا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کے کھانے پر بریانی بنی تھی جو ہانم بنا کسی کی طرف دیکھے کھائے جا رہی تھی۔۔ دو پلیٹ بریانی کھانے کے بعد کھیر کی ایک پیالی کھا کر اٹھ گئی تھی۔۔۔۔ اور سیدھا کمرے میں چلی گئی تھی۔۔۔ سب نے دو پہر کا کھانا کھایا اور اپنے اپنے کمروں کی طرف چلے گئے ۔۔۔ اس گھر کا اصول تھا جب بھی دلاور خان دوپہر کے وقت گھر پر ہوتے تھے سب اکھٹے بیٹھ کر دوپہر کا کھانا کھاتے تھے۔۔۔۔
ہانم اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اسے ثمامہ خان کے رونے کی آواز آئی پہلے تو وہ اقصی کے کمرے کی طرف جانے لگی۔۔۔ لیکن پھر اس دن والے تھپڑ کو یاد کرکے واپس اپنے کمرے میں چلی گئی۔۔۔ جیسے ہی وہ کمرے میں داخل ہوئی اس سے کمرے میں موجود صوفے کے قریب رکھے ٹیبل پر ایک بڑا سا شاپر نظر آیا۔۔۔ وہ جلدی سے ٹیبل کے قریب آئی تو شاپر کو کھول کر دیکھا۔۔۔ شاپر کے اندر پیزا تھا۔۔۔ ہانم کی آنکھیں ایک دم سے چمکی تھیں۔۔ بنا کسی تاخیر کے اس نے پیزا نکالا اور ٹیبل پر رکھ کر خود صوفے پر بیٹھ کر کھانے لگی۔۔۔ اکثم کمرے میں داخل ہوا تو ٹھٹھک گیا۔۔۔ لیکن پھر یہ سوچ کر بیڈ پر بیٹھ گیا کہ وہ ایک دو پیس ہی کھائے گی۔۔۔۔
وہ کب سے بیٹھا اسے گھور رہا تھا جسے دنیا جہاں کی شاہد بھوک لگی تھی ۔۔۔ جب اس کے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا تو وہ اٹھ کر ہانم کے پاس صوفے پر بیٹھا۔۔۔
تم روز ہی اتنا کھاتی ہو یا آج میں تمہیں اتنا کھاتے دیکھ رہا ہوں۔۔۔
اکثم جب سے کالج سے گھر آیا تھا ہانم کو کچھ نہ کچھ کھاتے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ وہ حیران تھا کہ وہ پھر بھی پتلی سی تھی۔۔۔۔
آپ کے باپ کا کھاتی ہوں جو میرے نوالے گن رہے ہیں۔۔۔
ہانم اپنے کھانے کے بارے میں توہین برداشت نہیں کرسکی اس لئے غصے سے اکثم کو گھور کر بولی لیکن جیسے ہی اکثم کی طرف دیکھا اسے سمجھ آگئی تھی ہمیشہ کی طرح کوئی غلط بات کر گئی ہے ۔۔۔۔
اوکے۔۔۔ اوکے۔۔۔ گھوریں نہیں۔۔۔ آپ کے باپ کا ہی کھاتی ہوں ۔۔۔ وہ بھوک مجھ سے برداشت ہی نہیں ہوتی ۔۔۔ اگر میرے بس میں ہو تو میں ہو تو ان کو بھی کھا۔۔۔۔
ہانم نے بات ادھوری چھوڑ دی تھی کیونکہ اکثم کے تیور سخت ہوگئے تھے۔۔۔
تم بہت زیادہ بولنے لگی ہو ۔۔۔
اکثم نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
اگر یہ غصہ آپ پیزا کھانے کے لئے کر رہے ہیں تو میں پہلے ہی بتا دوں میں صرف زیادہ سے ذیادہ ایک پیس کا ایک چھوٹا سا حصہ ہی دے سکتی ہوں وہ بھی اس شرط پر کہ آپ مجھے کل بے بی لا کر دیں گے۔۔۔
اکثم اسے گھور کر اٹھ گیا تھا کیونکہ اقصی کی ڈیلوری کے بعد اس کی ہر بات کا اختتام بےبی لا کر دیں پر ہوتا تھا ۔۔۔۔
اکثم واش روم چلا گیا جبکہ وہ آرام سے پیزے سے انصاف کرنے لگی۔۔۔ اکثم کو لگا تھا وہ سکول جا کر بےبی والی بات بھول جائے گی لیکن یہ اس بیچارے کو یہ نہیں معلوم تھا یہ اس کی صرف خوش فہمی ہی ثابت ہوگی۔۔۔۔۔۔
محبت کی سر حدوں کو توڑ کر
تمام قسموں وعدوں کو جوڑ کر
دیوانے عشق کی محفل سجاتے ہیں
سارے بے وفائوں کو موڑ کر
جذبے جب انتہائوں کو پہنچتے ہیں
سودائی جھومتے ہیں خودی کو چھوڑ کر
۔۔۔۔۔۔۔( کرن رفیق )۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: