Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 15

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 15

–**–**–

اگلے دن وہ سکول میں پرنسپل آفس میں پرنسپل سے جواب طلب کر رہا تھا کہ کیوں ایک ٹیچر بچوں کو ذہنی ٹارچر کر رہی تھی؟ پرنسپل نے اس ٹیچر کو بلایا تو اس نے شرمندہ ہوتے ہوئے اکثم سے معافی مانگی تھی۔ ہانم اپنے کلاس روم میں بیٹھی پڑھ رہی تھی۔ جب پرنسپل کا بلاواہ آیا اسے۔ وہ آہستہ سے چلتے ہوئے پرنسپل آفس کے اندر اجازت لے کر داخل ہوئی تھی۔ سامنے ہی اکثم کو دیکھ کر اس کے چہرے پر چمک اور لبوں پر مسکراہٹ آ گئی تھی۔
“ایم سوری چھوٹے خان صاحب کہ ہماری ایک ٹیچر کی وجہ سے آپ کی بہن کو۔۔۔۔”
ابھی پرنسپل بول رہی تھی جب اکثم نے بہن کے لفظ پر اسے ٹوکا۔
“شی از مائے وائف میم۔”
وہ تحمل کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے اور اس کے رشتے کو وہاں موجود دونوں عورتوں پر واضح کر گیا تھا۔ پرنسپل اور ٹیچر نے حیرانگی سے دونوں کو دیکھا تھا۔ جبکہ ہانم کے سر کے اوپر سے اکثم کی انگلش گزر گئی تھی۔ جلد ہی پرنسپل نے اپنی حیرت پر قابو پاتے ہوئے اکثم سے ایکسکیوز کیا اور ہانم کو کبھی بے وجہ نہ ڈانٹنے کی یقین دہانی کرائی۔ اکثم نے مسکرا کر ہانم کو دیکھا جو اب اس کے ساتھ پرنسپل آفس کے باہر کھڑی تھی۔
“آج سے تمہیں میں خود پڑھائوں گا۔ٹھیک ہے اور کوئی بھی کچھ کہے تو مجھے بتا دینا۔ اب میں چلتا ہوں۔”
ہانم نے جلدی سے اپنا سر اثبات میں ہلایا تو اکثم مسکرا کر وہاں سے چلا گیا۔ جاثیہ جو پانی پینے کے بہانے باہر آئی تھی ہانم کے ساتھ اکثم کو دیکھ کر وہ حیرت ذدہ رہ گئی تھی۔ وہ جلدی سے ہانم کے پاس آئی۔
“ہانم یہ لڑکا تمہارا بھائی تھا کیا؟ قسم سے بڑا پیارا تھا۔ بالکل تمہاری طرح۔”
جاثیہ کی بات پر ہانم نے آنکھیں چھوٹی کر کے جاثیہ کو دیکھا اور کمر پر دونوں ہاتھ ٹکائے لڑاکا عورتوں کی طرح بولی تھی۔
“خان میرے بھائی نہیں ہیں۔وہ میرے شوہر اور سہیلی ہیں۔”
ہانم کے جواب پر جاثیہ نے اسے سر سے لے کر پائوں تک دیکھا اور صدماتی کیفیت میں بولی۔
“تم اس کی بیوی ہو؟”
“ہاں۔”
ہانم نے معصومیت سے جواب دیا۔ اس وقت اسے خود بھی نہیں معلوم تھا کہ اسے جاثیہ کا اکثم کی تعریف کرنا بالکل پسند نہیں آیا تھا۔
“اللہ تم دونوں کے نصیب اچھے کرے آمین۔ ویسے ہانم سہیلی لڑکی کو کہتے ہیں اور تمہارے شوہر تمہارے دوست ہیں۔”
جاثیہ نے مسکرا کر اسے سمجھایا۔
“لیکن خان نے کہا تھا کہ وہ میری سہیلی ہیں۔”
ہانم نے اپنی آنکھوں کو گھماتے ہوئے جواب دیا تو جاثیہ نے مسکرا کر اس کے معصوم چہرے کو دیکھا تھا۔
“اچھا چلو خان کی چمچی کلاس میں اردو کی ٹیچر پڑھا رہی ہیں۔”
جاثیہ نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اسے کلاس کی طرف لے گئی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے خان؟”
دلاور خان رات کو اپنے کمرے میں بیڈ پر لیٹے تھے جب یسرا بیگم نے نماز پڑھ کر جائے نماز اپنی جگہ پر رکھا اور دلاور خان کے پاس بیٹھ کر جازت طلب لہجے میں کہا۔
“بولیں۔”
دلاور خان نے یسرا بیگم کے چہرے کو دیکھا جہاں کچھ پریشانی بھی تھی۔
“خان میں سوچ رہی تھی ۔۔ مطلب اگر آپ کو مناسب لگے تو کیوں نہ ہم لوگ اقصی کی دوبارہ شادی کر دیں۔ اس کی تنہائی سے ڈرتی ہوں میں۔ کل کو اگر احمر نے ہم سے پوچھ لیا کہ ہم نے اس کی محبت کو تکلیف سے کیوں نہیں نکالا تو ہم کیا جواب دیں گے۔”
دلاور خان نے تحمل سے یسرا بیگم کی بات کو سنا تھا۔
“آپ جانتی ہیں کہ اس فیصلے کا اختیار پہلے بھی اقصی کے پاس تھا اور آج بھی اسی کے پاس ہے۔ آپ بات کرلیں اس سے پھر کوئی مناسب رشتہ دیکھ کر اس کی شادی کر دیں تاکہ میرے لاڈلے خان کی روح بے چین نہ رہے۔”
دلاور کی بولتے ہوئے آنکھیں نم ہو گئی تھیں۔ یسرا بیگم نے ان کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
“آپ دعا کیا کریں اس کے لئے کیونکہ جب میرے دل کی تڑپ بڑھ جاتی ہے تو میں بھی اپنا سکون اسی سے مانگتی ہوں۔”
احمر کی یاد تو یسرا بیگم کو بھی آتی تھی۔ دل تو ان کا بھی دکھ سے بھر جاتا تھا۔ لیکن وہ قرآن پاک اور نماز سے سکون حاصل کرتی تھیں۔
“ہانم کا سکول کیسا جا رہا ہے یسرا؟”
دلاور خان کے لبوں پر ہانم کے نام سے ہی مسکراہٹ پھیل گئی تھی۔
“اچھا جا رہا ہے۔ آج تو اکثم بول رہا تھا کہ اسے خود بھی پڑھائے گا گھر پر ۔ تاکہ وہ اچھے سے امتحان دے سکے۔اور ہمارا نام روشن کر سکے۔”
یسرا بیگم کی بات پر دلاور خان مسکرائے تھے۔
“اکثم کی برداشت واقعی بہت زیادہ ہے یسرا کیونکہ اگر ایسی نالائق اور کند ذہن بیوی میری ہوتی تو میری تو بس ہو جاتی۔”
دلاور خان کی بات پر یسرا بیگم نے انہیں مصنوعی سا گھورا تھا۔جس پر دلاور خان کا قہقہ کمرے میں گونجا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تمہیں سمجھ کیوں نہیں آ رہا؟ دھیان کہاں ہے تمہارا؟ مجھے یہ تو سمجھ نہیں آرہی تمہیں آٹھویں کلاس میں بٹھا کس نے لیا؟”
اکثم کافی دیر سے اسے ریاضی کا ایک سوال سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا ۔ اور اسے سمجھاتے ہوئے انداز باخوبی ہوگیا تھا کہ وہ ریاضی میں ایک نالائق سٹوڈنٹ ہے۔ جب کافی دیر سمجھانے پر بھی ہانم کو سمجھ نہیں آیا تو دانت پیس کر بمشکل اپنے غصے کو ضبط کئے اسے دیکھ کر بولا۔
“خان میں کیا کروں مجھے سمجھ ہی نہیں آ رہی۔”
ہانم نچلے لب کو باہر نکالے معصومیت سے روہانسی ہو کر بولی۔
“اچھا ٹھیک ہے ایک دفعہ اور کوشش کرتے ہیں۔”
اکثم اس کے معصومیت سے نظریں چرا کر گیا۔
“اچھا فرض کرو تمہارے پاس پانچ ہزار روپے ہیں ۔۔۔ اور مجھے دوہزار روپوں کی ضرورت ہے تو دو ہزار تم مجھے دے دئیے۔۔۔ اب بتائو تمہارے پاس کتنے پیسے باقی ہیں؟”
“لیکن خان میرے پاس تو پیسے ہے ہی نہیں۔”
ہانم اپنا دایاں ہاتھ دائیں گال پر رکھے آنکھیں گھما کر بولی۔
اکثم اس وقت کو کوس رہا تھا جب اس نے بابا جان کے سامنے اسے پڑھانے کی ذمے داری لی تھی۔
“ہانم میں نے کہا فرض کرو۔”
اکثم نے اسے گھورا کر کہا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ کر لیا فرض۔۔۔ لیکن میں آپکو اپنے پیسے کیوں دوں گی؟ آپکو ضرورت ہے تو بابا جان سے یا اماں جان سے لے لیں نا۔”
ہانم نے اپنی طرف سے عقل مندی کی بات کی جبکہ اکثم نے لمبی سانس لے کر خود پر ضبط کیا تھا۔
“جو میں نے کہا ہے ہانم اسے فرض کرو۔”
اکثم نے دانت پیسے اور اسے تیز نظروں سے گھورا۔
“اچھا ٹھیک ہے۔۔۔ دے دوں گے پیسے لیکن اس طرح گھوریں تو مت۔۔۔ مگر واپس تو کر دیں گے نا؟”
اکثم اس دفعہ اٹھ کر بیڈ پر چلا گیا تھا کیونکہ اسے یقین تھا وہاں رہتا تو ہانم کو ایک لگا دیتا جو پتہ نہیں کونسے سکول سے پڑھ کر آئی تھی۔
سائیڈ ٹیبل پر موجود گلاس سے پانی پی کر اس نے ہانم کو دیکھا جو اپنی نیلی آنکھوں سے ناسمجھی سے اکثم کو دیکھ رہی تھی۔
اکثم دوبارہ صوفے پر واپس آیا اور نرمی سے بولا۔
“ہاں دے دوں گا واپس تمہارے پیسے۔۔۔ اب بتائو تمہارے پاس کتنے پیسے باقی ہوں گے؟”
“چار ہزار۔”
ہانم خوش ہوتے ہوئے بولی جبکہ اکثم نے اس بار غصے سے اس کا بازو پکڑ کر کھینچا جو سیدھے اس کے سینے سے آ کر ٹکرائی۔دونوں ایک دوسرے سے صرف چند انچ کے فاصلے پر تھے۔ اکثم کا دل اس اچانک افتاد پر تیز رفتار سےدھڑکنا شروع ہوگیا جبکہ ہانم کے سفید رنگ میں سرخی نمایاں ہونے لگی۔ اور ساتھ ہی دھڑکنوں کا شور کمرے میں گونجنے لگا تھا۔اکثم کی سانسیں ہانم کے چہرے پر تپش لے آئیں تھیں۔ اکثم نے لمحہ ضائع کئے بغیر اسے خود سے دور کیا اور اس کی طرف دیکھے بغیر کمرے سے نکل گیا۔جبکہ ہانم کا دایاں ہاتھ بے ساختہ اپنے دل پر گیا تھا۔ ایک انوکھا سا احساس اس کے دل ودماغ پر حاوی ہوا تھا۔ جسے وہ سمجھنے سے فلحال قاصر تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دھڑکتے دل کو سنبھالتے ہوئے چھت پر آ گیا تھا۔ وہ کیسے اس کے اتنے قریب جا سکتا ہے؟ یہ سوچ ہی اس کے دماغ مفلوج کر رہی تھی۔
جیسے ہی اس نے اپنے ہاتھ کو دیکھا ایک بار پر اس پر ہانم کا لمس جاگ گیا تھا۔ اس نے ہاتھ کو اپنی آنکھوں کے سامنے کیا تو اس کے لب بے ساختہ مسکراہٹ میں ڈھلے تھے۔ وہ نہیں جانتا تھا یہ مسکراہٹ کیوں تھی؟ اس نے ہاتھ کو لبوں کو نزدیک کر کے اس پر تشنہ لب رکھے اور پھر اردگرد دیکھ کر جلدی سے ہاتھ نیچے کیا تھا۔ وہ اپنی حرکت پر خود شرمندہ ہوگیا تھا۔
“خود کو کنٹرول کرو اکثم۔ دل پر اختیار نہیں ہے تمہارا لیکن اپنے نفس کو بے لگام مت کرو۔ ورنہ وہ پچھتاوا حصہ آئے گا جس پر تم رو بھی نہیں سکو گے۔”
خود سے باتیں کرتے ہوئے وہ خود کو کمپوز کر رہا تھا۔ رات کی ٹھنڈی ہوائیں اس اپنے دل میں موجود پنپتی حرارت کو کم کرنے میں بھرپور کردار ادا کر رہی تھیں۔ الواہی مسکراہٹ کو لبوں کا مکین بنائے وہ چھت کی دیوار پر دونوں ہاتھ ٹکائے بہت ساری سوچوں میں گر گیا تھا۔

 

–**–**–

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: