Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 16

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 16

–**–**–

جیسے ہی وہ روم میں واپس آیا ہانم پر اس کی نظریں ٹھہر سی گئی تھیں۔ وہ بے پرواہ سی بیڈ پر باہوں میں تکیے کو سمیٹے سو رہی تھی۔ اس کے سلکی ریشمی بال آدھے تکیے اور آدھے چہرے کو ڈھانپے ہوئے تھے۔ وہ آہستہ سے چلتے ہوئے آگے بڑھا تھا۔ اس کے نزدیک پہنچ کر اس نے اپنے دائیں ہاتھ کی انگلیوں سے بالوں کو اس کے چہرے سے ہٹایا تھا۔ ہانم مسکراتے ہوئے کروٹ بدل گئی تھی۔ اکثم بے ساختہ وہاں سے صوفے پر گیا تھا۔
آنکھوں کے حصار میں اس کے بے خبر وجود کو لئے وہ اپنی آنکھوں کی تشنگی کو مٹا رہا تھا۔ یہ سب وہ بے خودی میں کر رہا تھا۔ وہ نہیں جانتا تھا کہ ہانم کی ذرا سی قربت پر وہ مضبوط اعصاب کا مالک شخص چاروں شانے چت ہو جائے گا۔ اسے دیکھتے ہوئے معلوم نہیں کب وہ نیند کی آغوش میں چلا گیا۔
قربان جائوں میں
اس عشق پر
جو لمحوں میں
حدوں کو چھو گیا
تشنگی ان گستاخ
نظروں کی نہ بجھ سکی
اور میرا انگ انگ
تیرا سودائی ہوگیا
(کرن رفیق )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہانم کو سکول چھوڑنے کے بعد وہ جیسے ہی کالج پہنچا اسامہ کلاس روم کے دروازے کے ساتھ ٹیک لگائے کھڑا اکثم کو مشکوک نظروں سے دیکھنے لگا۔ اکثم کی مسکراہٹ اس کے دیکھنے پر گہری ہو گئی تھی۔
“کیا ہے ایسے کیوں دیکھ رہے ہو؟”
اکثم اپنی ازلی مسکراہٹ سے بولا تھا۔
“اکثم تم آج کچھ زیادہ ہی مسکرا رہے ہو؟ کیا وجہ جان سکتا ہوں میں؟”
اسامہ کا انداز اسے قہقہ لگانے پر مجبور کر گیا تھا۔ اسامہ نے اسے مصنوعی گھورا تھا۔
“بیٹا تیرے ارادے مجھے بالکل بھی ٹھیک نہیں لگ رہے؟ مجھے ایسے لگ رہا ہے کہ آج تم نے بارہ سالہ بھابھی کے ساتھ ڈرائیونگ کو کافی انجوائے کیا ہوگا۔”
اسامہ کی بات پر اس نے بے ساختہ اس کے دائیں کندھے پر پنچ رسید کیا تھا۔ اور اسے گھورتے ہوئے بولا۔
“اپنی فالتو بکواس کا پٹارہ وہاں کھولا کرو جہاں فارغ لوگ اسے سننے کے لئے تیار ہوں۔”
“ہاں بھئی اب بھابھی کی دل چھو لینی والی باتوں کے آگے دوست کی باتیں بکواس ہی لگے گیں۔ ویسے ملنا پڑے گا ایک دفعہ بھابھی سے کہ آخر ایسا بھی کیا جادو کیا انہوں نے تم پر کہ تم اپنے اردگرد منڈلاتے اکلوتے دوست کو بھول گئے ہو۔”
اسامہ نے مصنوعی تاسف کو چہرے پر سجانے کی کوشش کی تو اکثم نے اسے گھورا۔
“تجھے میں کلاس کے بعد اچھے سے ملواتا ہوں۔ تو دیکھ اب۔”
اکثم یہ بول کر کلاس کے اندر چلا گیا جبکہ اسامہ کے قہقے نے اس کا مزید دل جلایا تھا۔
“ہائے بچے کا جلن کے مارے برا حال ہو رہا ہے۔ محبت ہو گئی اس ڈفر انسان کو وہ بھی بارہ سالہ بھابھی سے۔”
اسامہ خود سے بڑبڑاتے ہوئے اس کے پیچھے گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
آج اتوار تھا تو ہانم گھر پر ہی تھی جبکہ اکثم صبح سے ہی حویلی سے نکلا ابھی واپس نہیں آیا تھا۔ اقصی ثمامہ خان کو اٹھائے حال میں آئی تو ہانم کے دل میں ثمامہ کو گود میں لینے کی خواہش شدت سے جاگی تھی۔ مگر وہ یہ بھی جانتی تھی کہ اقصی کسی صورت ثمامہ کو اسے ہاتھ لگانے نہیں دے گی۔ وہ تھوڑی دیر اماں جان سے بات کر کے واپس اپنے کمرے میں آ گئی تھی۔
“خان نے مجھے بےبی نہیں لا کر دیا آج آتے ہیں تو میں پوچھتی ہوں ان سے۔”
ہانم خود سے بولتے ہوئے بیڈ پر لیٹی اور نرم بستر پر جلد ہی نیند کی آغوش میں چلی گئی تھی۔
اکثم شام کو گھر واپس آتے ہی سیدھے اپنے کمرے میں آیا جہاں ہانم اپنی نیند پوری کر رہی تھی۔
“اللہ ہی جانے اس بندی کو اتنی نیند کیوں آتی ہے؟ پتہ نہیں کونسے ہل جوتی ہے جو اس قدر اسے نیند سے پیار ہے۔”
اکثم خود سے بڑبڑاتے ہوئے واش روم کی طرف چلا گیا۔ جیسے ہی اس نے واش روم کا دروازہ بند کیا۔ ہانم کی کھٹکے سے آنکھ کھل گئی۔ ڈریسنگ ٹیبل پر اکثم کا موبائل دیکھ کر وی سمجھ گئی تھی کہ وہ گھر آ چکا ہے۔ جلدی سے ڈوپٹہ اوڑھے وہ اپنی ہلکی ہلکی سرخ آنکھوں کو کھول کر اس کا انتظار کرنے لگی۔اکثم نہا کر واش روم سے باہر آیا تو ہانم کو دیکھا جو سر پر ڈوپٹہ جمائے، اپنی آنکھوں کو بمشکل کھولے، نیند پر جبر کر کے اس کا انتظار کر رہی تھی۔ وہ مسکرا کر ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑا ہوگیا۔ ہانم جلدی سے واش روم کی طرف بڑھی اور منہ دھو کر واپس آئی۔
“خان مجھے آپ سے بات کرنی ہے؟”
ہانم نے اکثم سے کہا جو اپنے بالوں کو کنگھی کر رہا تھا۔
“ہاں بولو۔”
اکثم نے ایک نظر اس کے الجھن بھرے چہرے کو دیکھ کر نرمی سے اجازت دی۔
“خان مجھے اس ڈاکٹر کا فون نمبر چاہیے جس کے پاس بے بی ہوتے ہیں۔”
ہانم کی بات پر وہ سرعت سے پلٹا تھا۔ اسے لگا تھا ہانم بھول گئی ہوگی اس بات کو کیونکہ پچھلے ایک مہینے سے وہ اسے کہتا آ رہا تھا ڈاکٹر نہیں آتا۔ اکثم نے اسے دیکھا جو امید چہرے پر سجائے اسے دیکھ رہی تھی۔
“دیکھو ہانم وہ ڈاکٹر ابھی بزی ہے۔ میں کل جائوں گا ان سے ملنے اور ویسے بھی میرے پاس اس کا نمبر نہیں ہے۔”
اکثم نے پیار سے اسے پچکارا۔
“خان مجھے کچھ نہیں معلوم ۔۔۔ مجھے آج ہی بےبی لا کر دیں۔ آپ مجھے بےبی لا کر دینا ہی نہیں چاہتے؟”
ہانم کے ضدی انداز پر اکثم نے اسے گھورا تھا۔
“پاگلوں کی طرح حرکتیں کرنا بند کرو۔ بول رہا ہوں نا کہ کل جائوں گا ڈاکٹر کے پاس۔اور اگر ایسے ہی ضد کی تو بےبی لا کر نہیں دوں گا سمجھی تم۔”
اکثم نے اس بار اپنے لہجے کو سخت کیا تھا تاکہ ہانم اپنی ضد چھوڑ دے لیکن ہانم کی دھمکی پر اب اس کے چودہ طبق روشن ہو چکے تھے۔
“میں ابھی جا کر اماں جان اور باباجان کو بتاتی ہوں ۔۔ کہ آپ نے مجھے ڈانٹا۔”
ہانم نم آنکھوں سے بول کر باہر کی جانب چلی گئی اور اکثم کو ہوش تب آیا جب کمرے کا دروازے ذور سے بند ہوا تھا۔ وہ حواس میں لوٹتے ہی اس کے پیچھے بھاگا تھا۔
“یااللہ اس چھوٹے دماغ کو بڑا کر دے اور بچا لے مجھے۔”
اکثم بے ساختہ دل میں دعا مانگ کر اس کے پیچھے گیا تھا اور اسے آوازیں دینے لگا۔ جو اب حال میں پہنچ چکی تھی۔ جہاں سب موجود تھے سوائے اقصی کے جو ثمامہ کو لے کر سونے چلی گئی تھی۔
“ہانم ۔۔۔ ہانم۔۔۔ بات سنو”
ہانم روتے ہوئے بھاگ کر حال میں آ رہی تھی جہاں گھر کے سب افراد بیٹھے تھے۔ جبکہ اکثم اس روکتا ہی رہ گیا تھا۔
ہانم سیدھے دلاور خان کے پاس جا کر بیٹھ گئی تھی۔۔اس کی نیلی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر دلاور خان نے ایک نظر اکثم کو دیکھا جس کا بس نہیں چل رہا تھا کہ ہانم کا گلہ دبا دیتا۔
“ہانم۔۔۔۔ بچے رو کیوں رہی ہو؟”
یسرا جو دلاور کے پاس بیٹھی تھیں نے پریشانی سے پوچھا۔
“اماں جان ۔۔۔۔ وہ۔۔۔ وہ۔۔۔ خان نے مجھے ڈانٹا۔”
ہانم ہچکیوں سے روتے ہوئے معصومیت سے بولی تھی جبکہ دلاور خان نے شکنوں بھری پیشانی سے اکثم کو دیکھا تھا جو اس کی عقل پر ماتم کرتے سٹپٹا گیا تھا۔
“تم نے ہانم کو ڈانٹا؟”
دلاور خان نے سخت لہجے میں پوچھا جبکہ وہ بس ہانم کے جھکے سر کو گھور کر رہ گیا۔
“بابا جان ۔۔۔ آپ جانتے تو ہیں اس کو ۔۔۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کا دل پر لگا لیتی ہے۔۔۔۔ کچھ نہیں کہا میں نے۔”
“کیوں کچھ نہیں کہا ۔۔۔ آپکو معلوم ہے بابا جان انہوں نے بےبی لانے سے منع کر دیا۔”
“ہانم چلو کمرے میں چل کر بات کرتے ہیں۔”
اکثم جلدی سے بولا کیونکہ سب کے سامنے اپنی عزت کا فالودہ ہوتے نہیں دیکھ سکتا تھا۔
“کیوں جائوں آپ کے ساتھ؟میں نہیں جا رہی۔۔ اماں جان میں نے خان کو ایک مہینے پہلے کہا تھا بے بی لانے کو لیکن روز نہیں لاتے۔ کہتے ہیں ڈاکٹر نہیں آیا تھا جس نے بے بی دینا تھا۔۔۔ آج میں نے ڈاکٹر کا نمبر مانگا تو مجھے ڈانٹ دیا۔۔ مجھے بےبی چاہیے ۔۔۔ اماں جان ان کو بولیں مجھے بے بی لا کر دیں پھر میں ان سے بات کروں گی۔”
ہانم منہ بسور کر بولی جبکہ باقی گھر والوں نے بے ساختہ قہقہ لگایا تھا۔ اکثم کسی بھی طرف دیکھے بغیر اپنے کمرے کی طرف چلا جبکہ ہانم ہونقوں کی طرح سب کو ہنستے دیکھ رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
کمرے میں چکر اضطرابی کیفیت میں کاٹتے ہوئے اکثم مسلسل ہانم کی بچگانہ حرکتوں کے بارے میں سوچ رہا تھا جب ہانم کمرے میں آئی۔
“دماغ ہے تمہارے پاس ہانم یا بیچ کر آئسکریم کھا آئی ہو؟”
اکثم اس کو دیکھ کر گھورتے ہوئے بولا۔ ہانم نے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کیا اور اکثم کو دیکھنے لگی۔
“خان آپ نے بیچا ہے اپنا دماغ جو آپ مجھے بول رہے ہیں۔”
ہانم کے جواب پر اکثم کو باقاعدہ صدمہ ہوا تھا کیونکہ وہ باقاعدہ اب بیویوں کی طرح تاثرات لئے اسے گھور رہی تھی۔ یا شاید اکثم کے دیکھنے کا انداز بدل چکا تھا۔
“ہانم کیا اپنی تمیز کو تم سکول میں ہی بھول آئی ہو جو تمہیں یہ نہیں معلوم کہ خود سے بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”
اس کی بات پر ہانم واقعی شرمندہ ہو گئی تھی۔اور خاموشی سے بیڈ کی طرف چلی گئی۔ اکثم نے حیرانگی سے اس کی خاموشی کو نوٹ کیا تھا۔
“ہانم تم ٹھیک ہو؟”
وہ متفکر انداز میں چاہ کر بھی اپنے جذبات کو چھپا نہ سکا۔
“مجھے امی اور ابا کی بہت یاد آ رہی ہے۔ کل بھی وہ میرے خواب میں آئے تھے لیکن مجھ سے نہیں ملے۔”
ہانم بیڈ پر بیٹھی شکایتی انداز میں بولی تو اکثم نے متبسم سے انداز میں مسکرا کر لبوں کو آپس میں پیوست کر لیا۔
“کیونکہ تم پڑھتی نہیں ہو اس لئے وہ تم سے ناراض ہیں۔”
“لیکن میں تو ہر روز سکول جاتی ہوں خان۔”
ہانم نے نم آنکھوں سے چہرے پر معصومیت لئے اسے دیکھا تھا۔
“لیکن پڑھتی تو نہیں ہو نا؟ تمہیں تو بس بے بی چاہیے اور کچھ نہیں۔”
اکثم کی بات پر ہانم نے منہ بسورا تھا۔
“اگر میں پڑھ کر ڈاکٹر بنوں گی تو پھر مجھے بےبی مل جائے گا خان؟”
ہانم کی بات پر اکثم کے جذبات اس کی آنکھوں میں چمک بن کر ابھرے تھے۔ وہ اپنی نیلی آنکھوں سے اکثم کا چہرہ دیکھ رہی تھی جو ضبط کے کڑے مراحل میں سے گزر رہا تھا۔
“ہاں ۔۔ لیکن شرط یہ ہے کہ آج کے بعد تم بےبی کا نام تب تک نہیں لو گی جب تک ڈاکٹر نہ بن جائو۔”
اکثم صوفے پر تکیہ سیٹ کرتے ہوئے اس سے نظریں چرا گیا تھا۔
“ٹھیک ہے جب میں خود ڈاکٹر بنوں گی تو تین بے بی لے کر آئوں گی۔”
ہانم کی پرجوش آواز پر مسکراتے ہوئے آنکھوں پر بازو رکھ کر لیٹ گیا تھا۔
“سو جائو ہانم۔ صبح سکول بھی جانا ہے۔”
اکثم کی بھاری آواز پر ہانم خوش ہوتے ہوئے بیڈ پر لیٹ گئی تھی۔ ایک پر نیند مہربان ہوئی تو مقابل کروٹ کروٹ بدل رہا تھا۔ یہ لڑکی اس کے لئے خاص نہیں بہت خاص ہوچکی تھی۔ اکثم کو اس بات کا اندازہ باخوبی ہو رہا تھا۔
معلوم نہیں وہ یار تھا
یا اس سے ملتا کوئی ہو بہو
دھڑکنیں منتشر ہوئیں جب
سمجھ گئے جان ہے ہماری روبرو

 

–**–**–

جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: