Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 17

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 17

–**–**–

دو ماہ ہوگئے تھے ہانم کو سکول جاتے ہوئے اور ان دو ماہ میں اکثم کے جذبات اس پر اس قدر غالب آ چکے تھے کہ اسامہ اب اسے کالج میں جب بھی ہانم کی بات کرتا ایک مسکراہٹ اس کی لبوں پر چپک کر رہ جاتی۔
آج بھی وہ کالج کی کینٹین میں بیٹھے تھے جب اسامہ کو شرارت سوجی اور وہ خود پر سنجیدگی کا لبادہ اوڑھ کر بولا۔
“اکثم ایک بات پوچھوں؟”
اسامہ کی بات پر اکثم جو برگر کھانے میں مصروف تھا نے اپنا دایاں بھنوا اچکایا اور سوالیہ انداز لئے اسے دیکھا۔
“ہارون یا انفال؟”
اسامہ کی سنجیدگی پر اکثم نے ناسمجھی سے اس کی جانب دیکھا۔
“کیا ہم کوئی گیم کھیل رہے ہیں؟”
اکثم نے اسے گھورا تھا۔
“ایسا ہی سمجھ لو؟”
اسامہ نے کندھے اچکائے تھے۔
“لیکن یہ دونوں ہیں کون میں تو آن کو جانتا بھی نہیں؟”
اکثم کی بات پر اسامہ نے بمشکل اپنی مسکراہٹ کو لبوں میں دبا کر روکا تھا۔
“یار بتاتا ہوں نا پہلے ایک سیلیکٹ کر۔”
“انفال”
“ایک سال یا دو سال؟”
اسامہ کے بے تکے سوال اکثم کی سمجھ سے باہر تھے اکثم اب اپنا کھانا بھول کر اس کی طرف متوجہ ہوا تھا۔
“ایک سال۔ اب بتائے گا تیرے دماغ میں چل کیا رہا ہے؟”
اکثم نے سنجیدگی سے پوچھا۔ اسامہ اپنی جگہ سے اٹھا اور سنجیدہ تاثرات چہرے پر سجائے وہ اکثم کو دیکھنے لگا جو الجھن لئے اسے دیکھ رہا تھا۔
“تیری بیٹی کا نام ہے جو ایک سال بعد اس دنیا میں آئی گی۔”
یہ بول کر اسامہ وہاں سے بھاگا تھا جبکہ اکثم اسے ہزاروں گالیوں سے دل میں نوازتے ہوئے اس کے پیچھے گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“اقصی مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے؟”
یسرا بیگم اقصی کے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے بولیں۔ اقصی جو ثمامہ کو سلا کر اب اس کے کپڑے تہہ کر رہی تھی یسرا بیگم کی طرف مڑی اور مسکراتے ہوئے بولی۔
“جی اماں جان بولیں۔”
یسرا بیگم اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گئیں اور اپنے لفظوں سے تمہید باندھنے لگیں۔
“زندگی اور موت کے درمیان فقط ایک سانس کہ بات ہوتی ہے اقصی۔ یہی سانس بند ہوجائے تو انسان موت کی آغوش میں چلا جاتا ہے لیکن اگر یہی سانس مل جائے تو زندگی کو ناچاہتے ہوئے بھی گزرانا پڑتا ہے۔ احمر کے جانے کے بعد ہم سب کی زندگی میں ایسا خلا آ چکا ہے جسے ہم چاہ کر بھی پر نہیں کر سکتے۔بیٹا ہماری زندگی اس کی یادوں اور سہارے سے گزر جائے گی۔لیکن۔۔۔”
اقصی نے ناسمجھی سے انہیں دیکھا اور نرمی سے بولی۔
“اماں جان ایسی کیا بات ہے جس کے لئے آپ اتنی لمبی تمہید باندھ رہی ہیں؟”
“اقصی تم ابھی جوان ہو پڑھی لکھی ہو۔ ہم تمہیں احمر کی وجہ سے یا اپنے اصولوں کی وجہ سے اس گھر سے باندھنا نہیں چاہتے۔ اس لئے میں نے اور تمہارے بابا جان نے فیصلہ کیا ہے کہ اگر تم راضی ہو تو تمہاری دوسری شادی۔۔۔۔”
“خداراہ بس کر دیں اماں جان۔۔۔ آپ نے یہ سوچ بھی کیسے لیا؟ کیا میں آپ لوگوں پر بوجھ بن گئی ہوں یا احمر کے جانے سے میرے لئے محبت بھی آپ کے دل میں دفن ہو گئی ہے؟”
اقصی نم آنکھوں سے انہیں ٹوک کر اپنے لفظوں سے ان کے لبوں پر قفل لگا گئی تھی۔
“میں جانتی ہوں اماں جان آپ سب میری بھلائی ہی چاہتے ہیں لیکن میں نہیں کر سکتی احمر سے بے وفائی۔ مجھے موت منظور ہے لیکن دوسری شادی نہیں۔ اور ویسے بھی ثمامہ ہے میرے پاس جس کے سہارے میں زندگی گزار سکتی ہوں۔”
قدرے توقف کے بعد وہ لرزتے لبوں سے بمشکل بولی تھی یسرا بیگم نے آتی بڑھ کر اسے اپنی آغوش میں لیا تھا۔
“یہ تمہارے بابا جان کا فیصلہ ہے اس میں رد و بدل کی گنجائش نہیں ہوگی اقصی۔”
یسرا بیگم کسی بھی طرح اسے منانا چاہتی تھیں۔
“اماں جان میں مر جائوں گی؟ میں کیسے رہوں گی ثمامہ کے بغیر؟”
اقصی سسکتے ہوئے بولی تھی۔ کیونکہ وہ جانتی تھی کہ دلاور خان اپنے فیصلوں سے پیچھے ہٹنے والے نہیں ہیں۔
“ہمیں احمر کے سامنے کل کو جوابدہ ہونا ہے اقصی ۔۔ میدان حشر جب وہ ہم سے سوال کرے گا کہ ہم نے اقصی کو اپنے نام نہاد اصولوں کی وجہ سے اپنے پاس کیوں رکھا تو ہم کیا جواب دیں گے اسے؟ میں جانتی ہوں کہ احمر کی روح کو اس فیصلے سے مطمئن ہوگی۔”
اقصی بے بسی سے لب بھینچ گئی تھی۔ لیکن آنسو آنکھوں کو سے اس کے سارے دکھوں کو بہا کر اسے پرسکون کرتے جا رہے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“تم جھوٹ بول رہے ہو سامی۔ میری ڈرائنگ زیادہ پیاری بنی ہے۔”
اکثم جیسے ہی حال میں داخل ہوا اس کی سماعتوں سے ہانم کی آواز ٹکرائی تھی۔ وہ دلاور خان کے کہنے پر زمینوں سے ہو کر اب رات کو واپس آیا تھا جہاں اس کے سارے تھکن اس دشمن جان کی آواز سن کر ہی دور ہو گئی تھی۔ وہ مسکراتے ہوئے ان دونوں کی جانب بڑھا جو حال میں موجود صوفے پر براجمان ایک دوسرے کو گھور رہے تھے۔
“اسلام و علیکم۔”
اکثم کی آواز پر وہ دونوں متوجہ ہوئے۔
“وعلیکم اسلام ۔۔ خان آپ کہاں گئے تھے؟”
ہانم نے جواب کے ساتھ ہی سوال کیا تھا۔
ارتسام نے اس کے سوال پر مسکرا کر اکثم کو دیکھا تھا۔
“بابا جان کے ایک کام سے گیا تھا۔ تم بتائو تم دونوں جھگڑ کیوں رہے تھے؟”
اکثم نے ان دونوں کو گھورا تھا۔
“بھائی آپ بتائیں کس کی ڈرائنگ پیاری ہے؟”
“مجھے معلوم ہے خان کو میری ڈرائنگ زیادہ اچھی لگے گی۔”
جیسے ہی ارتسام نے اکثم کے آگے اپنی ڈرائنگ کی ہانم نے اسے زبان چڑھا کر اکثم کی طرف دیکھا جیسے یقین دہانی چاہ رہی ہو۔
اکثم نے دونوں کی ڈرائنگ دیکھی اور بولا۔
“دونوں کی اچھی ہے۔”
حالانکہ اسے ارتسام کی زیادہ اچھی لگ رہی تھی جس نے ابھرتے سورج کا منظر بنایا تھا جبکہ ہانم نے پتہ نہیں کس شہر کا نقشہ کھینچا تھا۔ لیکن وہ سچ بول کر اس کے مان کو
توڑنا نہیں چاہتا تھا۔
“خان ایک بتائیں نا؟”
ہانم نے اس بار اس کا بایاں ہاتھ پکڑ کر التجائیہ انداز اپنایا تھا۔ جبکہ اکثم اس کے اس قدر پاس آنے سے اپنے جذبات پر سخت پہرا لگانے کی ناکام کوشش کر رہا تھا۔
“بھائی جھوٹ نہیں بولنا بتائیں میری ڈرائنگ زیادہ اچھی ہے یا بھابھی کی؟”
ارتسام کی آواز پر وہ جیسے حواس میں لوٹا تھا۔
“تمہاری زیادہ اچھی ہے۔”
اکثم نے جلدی سے سچ بولا۔ ارتسام نے چڑانے والی مسکراہٹ سے ہانم کو دیکھا تھا۔
“دیکھا بھابھی ۔۔۔ بھائی کو بھی میری ہی ڈرائنگ پسند آئی ہے۔”
ارتسام کی بات پر ہانم نے شکوہ کناں نظروں سے اکثم کو دیکھا۔
“آپ دونوں بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔”
ہانم بھرائی آواز میں بول کر وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔ جبکہ دونوں بھائی اس کی نم آنکھوں کو دیکھ کر شرمندہ ہو گئے تھے۔
“سوری بھائی۔ مجھے نہیں معلوم تھا بھابھی اس بات کو دل رہ لے جائیں گی۔”
ارتسام کی بات پر وہ مسکرایا تھا۔
“تمہاری بھابھی کے دماغ کا کوئی نہیں بلکہ سارے سکرو ڈھیلے ہیں جو وقت کے ساتھ ساتھ ہی سیٹ ہوں گے۔”
“بھائی وہ بہت اچھی ہیں آپ میرے سامنے ان کی برائی نہیں کر سکتے۔”
ارتسام نے اکثم کو گھور کر کہا تو اکثم نے حیرت سے اسے دیکھا۔
“اوو بھابھی کے چمچے بس کرو ڈرامے اور جا کر رشیدہ بی سے کہو میرے لئے کھانا لگائیں تب تک میں تمہاری بھابھی سے دو دو ہاتھ کر کے آتا ہوں۔”
اکثم کی بات پر ارتسام مسکراتے ہوئے کیچن کی طرف چلا گیا جبکہ اکثم اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا جہاں اسے سچ بولنے پر اپنی بیوی کو منانا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: