Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 18

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 18

–**–**–

اکثم کمرے میں آیا تو وہ بیڈ پر لیٹی شاید سونے کی ناکام کوشش کر رہی تھی۔ اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا۔ وہ آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کے پاس بیڈ پر پہنچا۔
“ناراض ہو؟”
محبت بھرے لہجے میں پوچھتے ہوئے وہ اس کے پاس ہی بیڈ پر بیٹھ گیا۔ ہانم نے کوئی جواب نہیں دیا۔
اکثم نے اس کا بازو آنکھوں سے ہٹایا تو اس کی مسکراہٹ نے لمحے کی تاخیر کئے بنا اس کے لبوں کا ساتھ چھوڑا تھا۔ نیلی آنکھیں اس وقت سرخ اور نمکین پانی سے بھری ہوئی تھیں۔ اکثم کا دل بے چین ہو گیا تھا ہانم کو اس حال میں دیکھ کر۔
“ہانم ایم سوری میں مذاق کر رہا تھا تمہاری ڈرائنگ بہت اچھی بنی تھی۔”
اکثم اس کے دودھیا نرم ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لے کر یقین کروانے والے انداز میں بولا۔
ہانم نے اکثم کو آنکھیں سکیڑ کر دیکھا۔
“آپ مجھ سے زیادہ سامی سے پیار کرتے ہیں۔ میں نہیں بات کر رہی آپ سے جائیں یہاں سے آپ۔”
ہانم کے شکوے پر اس نے گہری سانس فضا میں خارج کی تھی۔
“ارتسام کی جگہ تم نہیں لے سکتی ہانم وہ بھائی ہے میرا۔۔ بہت محبت کرتا ہوں اس سے۔ لیکن یہ بھی سچ ہے کہ تم اس جگہ قابض ہو چکی ہو جہاں سے اگر تم اب ذرا سا بھی پیچھے ہٹتی ہو تو سانسیں اٹک جاتی ہیں میری۔”
بالواسطہ طور پر اپنے جذبات کو آج وہ اس کے سامنے عیاں کر گیا تھا جو ہونقوں کی طرح منہ کھولے اکثم کی بات کا مطلب سمجھنے کی کوشش کر رہی تھی۔
“اچھا چلو منہ ہاتھ دھو کر آئو۔۔ ایسے بالکل چڑیل لگ رہی ہو۔”
اکثم اس کی چمکتی نیلی آنکھوں کی پلکوں پر ٹھہرے موتیوں سے نظریں چراتے ہوئے بیڈ سے اٹھ گیا تھا جو ناچاہتے ہوئے بھی اس کی جذبات کو بے لگام کر رہے تھے۔
“آئندہ آپ سامی کی طرف داری نہیں کریں گے۔ اور اسے یہ بھی بتائیں گے کہ اس سے زیادہ آپ مجھ سے محبت کرتے ہیں۔”
ہانم کی معصوم شرط پر اکثم جو واش روم کی طرف جا رہا تھا ٹھٹھکا اور سرعت سے ہانم کو دیکھنے لگا۔ جن احساسات کی وہ نفی کر رہا تھا وہ ہانم کے لبوں سے انکشافات بن کر باہر نکلے تھے۔ اکثم بنا کچھ کہے واش روم کے اندر چلا گیا۔
منہ دھوتے ہوئے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر وہ بہت ساری سوچوں میں خود کو گرا چکا تھا۔
اسامہ کی شرارت بھری باتیں، ہانم کی معصومیت، وہ اس سے محبت کر بیٹھا تھا۔
“کیا میں واقعی اس سے محبت کرتا ہوں؟”
آئینے میں خود کو دیکھ کر وہ دھیمی آواز میں خود سے سوال کرنے لگا۔
“نہیں یہ صرف جذباتی کیفیت ہے میری اور کچھ نہیں۔”
خود کو سرزنش کرتے ہوئے وہ اپنے تمام احساسات کی نفی کر گیا تھا جو بہت جلد اس پر سختی سے غالب آنے والے تھے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینے کے اندر اندر اقصی کی شادی اس کے چچا زاد عزیر سے طے پا گئی تھی۔ اقصی اپنے ماں باپ کی ناراضگی ختم کرنے کے لئے ماں گئی تھی۔ عزیر ایک پڑھا لکھا لڑکا تھا۔ جو بچپن سے ہی اقصی کو پسند کرتا تھا۔ اقصی کی شادی کے بعد وہ کافی مایوس ہو گیا تھا۔ پھر اقصی کو خوش دیکھ کر اس نے گویا خود کو دنیا کے سامنے مضبوط کر لیا تھا۔ عزیر کا شمار پاکستان کے بہترین کاروباری آدمیوں میں ہوتا تھا۔ اقصی نے بھی بابا جان اور اماں جان کے فیصلے کی حامی بھرتے ہوئے اپنے ماں باپ کی ناراضگی دور کرتے ہوئے اس رشتے کے لئے حامی بھر لی تھی۔ کل اقصی کا نکاح تھا اسی سلسلے میں گائوں کی ایک لڑکی اقصی کو مہندی لگانے آئی تھی۔ جسے اقصی نے انکار کرتے ہوئے کمرے سے نکال دیا تھا۔ یسرا بیگم نے نم آنکھوں سے اس کی بے بسی اور اذیت کو دیکھا تھا جسے وہ چاہ کر بھی کسی سے بیاں کرنے سے قاصر تھی۔ ہانم جو پانی پینے کی غرض سے کیچن کی طرف جا رہی تھی اس لڑکی سے ٹکرا گئی۔
“اف اللہ۔۔۔ ہلا دیا میرے دماغ کو۔۔ دیکھ کر نہیں چل سکتی تھیں آپ۔ اتنی ذور سے اپنا سر میرے سر پر مارا ہے کہ میں نے جو سکول کا سبق یاد کیا تھا سارا اپنی جگہ سے ہل کر ادھر ادھر ہو گیا ہے۔”
ہانم اپنا سر دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے اس نوجوان لڑکی کو گھور رہی تھی جس نے خود اپنا ایک ہاتھ اپنے سر پر رکھا تھا۔
“معافی چاہتی ہوں۔ دھیان نہیں دیا تھا میں نے۔”
وہ لڑکی نرمی سے معذرت کرتے ہوئے ہانم کو مسکرانے پر مجبور کر گئی تھی۔
“کوئی بات نہیں۔ آپ یہ بتائیں آپ کون ہیں؟ اور یہاں کیا کر رہی ہیں؟”
“وہ مجھے خان بیگم نے بلایا تھا چھوٹی بی بی کو مہندی لگانی تھی نا اس لئے۔ انہوں نے منع کر دیا لگوانے سے اس لئے واپس گھر جا رہی ہوں۔”
وہ بائیں سالہ لڑکی مسکراتے ہوئے ہانم کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولی۔
“آپ کو مہندی لگانی آتی ہے؟”
ہانم کی پرجوش سی آواز پر اس لڑکی نے حیرانی سے اسے دیکھا تھا۔
“ہاں ۔۔ بالکل آتی ہے؟”
“اچھا ۔۔ آپ میرے ساتھ آئیں۔ میں لگواتی ہوں مہندی۔۔ مجھے تو اتنی پسند ہے مہندی ۔۔ میری امی کہتی ہیں کہ میرے ہاتھوں پر مہندی بہت پیاری لگتی ہے۔ میں ہر عید پر لگواتی تھی۔ ہاں دو تین دفعہ ایسے بھی لگوائی تھی اپنی سہیلی کی بہن سے۔”
ہانم کی پرجوش اور کبھی نا ختم ہونے والی باتوں کا سلسلہ شروع ہو چکا تھا جبکہ وہ لڑکی حیرانی سے ہانم کی باتونی خاصیت کو دیکھ رہی تھی۔ اسی دوران وہ دونوں حال میں موجود صوفے پر بیٹھ چکی تھیں۔
“یہاں سے نہیں یہاں سے لگائو۔”
اس لڑکی نے مہندی کا ڈیزائن ہانم کے ہاتھ سے شروع کرنا چاہا تو ہانم نے اس کے آگے اپنا باذو کر دیا۔ اس کے دودھیا بازو پر مہندی بہت پیاری لگ رہی تھی جب اکثم اسے ڈھونڈتے ہوئے حال میں آیا جہاں وہ مہندی سے اپنے ایک ہاتھ کو سجائے دوسرے پر لگواتے ہوئے نیند میں جھول رہی تھی۔ اکثم نے مسکرا کر اپنا سر نفی میں ہلایا تھا۔
“ہانم۔”
ان دونوں سے کافی فاصلے پر کھٹے ہو کر اکثم نے ہانم کو پکارا تھا۔ ہانم جو اپنی آنکھوں کو کھولنے کی کوشش کر رہی تھی اکثم کی آواز پر اپنی پوری آنکھیں وا کر کے اسے دیکھنے لگی۔ جبکہ وہ لڑکی جس کی اکثم کی طرف پشت تھی اپنی چادر ٹھیک کرنے لگی۔
“جی۔”
“یہ کوئی وقت ہے مہندی لگوانے کا؟ اب باقی کل لگوا لینا ابھی چلو اور جا کر سو جائو۔”
اکثم اس کی سرخ ہوتی آنکھوں کو دیکھ کر بولا جو بمشکل ہی وہ کھول کر اسے دیکھ رہی تھی۔
“نہیں خان۔۔ میں مہندی لگوا کر آئوں گی۔ آپ دیکھیں کتنی پیاری لگ رہی ہے مہندی۔”
اس سے پہلے اکثم کوئی جواب دیتا اس لڑکی کی آواز پر وہ دونوں متوجہ ہوئے۔
“آپ کی مہندی مکمل ہو چکی ہے۔ آپ کے بھائی ٹھیک کہہ رہے ہیں آپکو اب سونا چاہیے۔”
“یہ اکثم خان یعنی میری بیوی ہے۔”
اکثم کی سخت آواز پر اس لڑکی نے شاک کی کیفیت میں ہانم کو دیکھا تھا جو آدھ کھلی آنکھوں سے مسکراتے ہوئے اپنے مہندی بھرے ہاتھوں پر پھونکیں مار رہی تھی۔ کمال کی بے نیازی برت رہی تھی وہ۔
سارا گائوں یہ بات جانتا تھا کہ ہانم کو ونی کیا گیا ہے۔ لیکن ونی کی گئی لڑکی اتنی پرسکون اور مطمئن تھی کہ وہ لڑکی اندازہ ہی نہ کر سکی کہ وہ ہانم بخت ہے خوش بخت کی بیٹی۔
“معافی چاہتی ہوں چھوٹے خان مجھے معلوم نہیں تھا۔”
“رشیدہ بی ۔۔۔ رشیدہ بی۔”
اکثم کو خود نہیں معلوم کہ اسے غصہ کیوں آ رہا تھا۔ رشیدہ بی جلدی سے اکثم کی آواز پر کہطن سے باہر آئی تھیں۔
“شہزاد کو ساتھ لے جائیں اور اس لڑکی کو اس کا معاوضہ دیتے ہوئے اس کے گھر باحفاظت پہنچا کر آئیں۔”
اکثم کی بات پر وہ لڑکی اچھے سے اپنی چادر کو اپنے گرد لپیٹتے ہوئے صوفے سے اٹھی اور بنا اکثم کی طرف دیکھے رشیدہ بی کے ساتھ چل پڑی۔
اکثم نے گہری سانس فضا میں خارج کرتے ہوئے ہانم کو دیکھا تھا جس کا سر اب صوفے کی پشت پر تھا جبکہ نیند میں جھولتے ہوئے بھی وہ اپنی مہندی کو مکمل احتیاط کے ساتھ خشک کر رہی تھی۔ اکثم آگے بڑھا اور اسے کندھوں سے تھام کر کھڑا کیا۔
“ہانم”
ہانم نے نیند میں جھٹکے کھاتے ہوئے اپنا سر اس کے سینے سے ٹکا دیا۔
“مجھے نیند آئی ہے۔ لیکن اگر سو گئی تو مہندی خراب ہو جائے گی۔”
دھیمی آواز میں بڑبڑاتے ہوئے وہ اکثم کو اپنے جگہ ساکت کر گئی تھی۔ وہ بہت کم اس کے نزدیک جاتا تھا۔ کیونکہ اس کی دھڑکنیں اس قدر شور مچاتی تھیں کہ اس ڈر تھا وہ باآسانی ان کا پیغام نہ سن لے۔ اکثم نے جلدی سے خود کو کمپوز کرتے ہوئے اسے کندھوں سے تھاما اور اسے دو تین جھٹکے دئیے۔
“ہانم کمرے میں چلو۔”
ہانم کے آنکھیں کھولنے پر اس نے دھیمی آواز میں کہا۔ لیکن اسے پھر سے آنکھیں بند کرتے دیکھ کر اکثم نے اس کے کندھوں کے گرد بازو پھیلائے اور اپنے ساتھ آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے وہ کمرے کی طرف گیا تھا۔ اماں جان جو اقصی کے کمرے سے نکلی تھیں۔ سامنے ان دونوں کو ایک ساتھ دیکھ کر مسکراتے ہوئے ان دونوں کے لئے دعا کرنے لگیں۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان حویلی کے مکین، اقصی کے ماں باپ اور عزیر کے ماں باپ کے علاوہ چند ایک لوگ تھے جو اس نکاح میں شرکت کر رہے تھے۔اقصی بغیر میک اپ کے بس سفید جوڑا پہنے، سر پر سرخ ڈوپٹہ اوڑھے،ثمامہ کو گود میں لئے رو رہی تھی۔ آج اس کا رشتہ اس گھر سے ختم ہو گیا تھا۔ عزیر سے نکاح نامے پر دستخط گویا اب اسے دنیا کے نئے رنگوں سے آشنا کروانے والے تھے۔ وہ جانتی تھی کہ ثمامہ کی پرورش اس گھر میں اچھی ہوگی کیونکہ اگر وہ اسے ساتھ لے جاتی تو یقینا وہ اپنے باپ کو بھول جاتا جو کہ اقصی کسی صورت نہیں ہونے دے سکتی تھی۔
وہ اپنی سوچوں میں اس قدر گری ہوئی تھی کہ دلاور خان اور یسرا بیگم کی کمرے میں آمد بھی اس کا ارتکاز نہ توڑ سکی۔
“اقصی۔”
یسرا بیگم نے بیڈ پر بیٹھی اقصی کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔ اقصی کی سوچوں کا تسلسل ایک دم سے ٹوٹا تھا۔ ویران آنکھوں میں نمی لئے اس نے یسرا بیگم کو دیکھا تھا۔ دلاور خان پر نظر اٹھتے ہی اس نے بھیگتے گالوں کو صاف کیا۔ مسکرانے کی کوشش میں آنسو ایک بار پھر اس کا گال بھگو گئے تھے۔ وہ ضبط کے تمام حدوں کو توڑ کر ان کے گلے لگی تھی۔
اس قدر وہ شدت سے اپنے دکھ کو آنسوئوں کے ذریعے ان تک پہنچا گئی تھی کہ دلاور خان کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں۔ آگے بڑھ کر انہوں نے اقصی کے سر پر دستک شفقت رکھا تھا۔
“اللہ تمہارے نصیب اچھے کرے اور تمہیں دنیا جہاں کی تمام خوشیوں اور نعمتوں سے نوازے۔ آمین”
دلاور خان یہ بول کر کمرے سے چلے گئے تھے جب یسرا بیگم نے اقصی کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔
“ہمیں سرخرو کرنے کے لئے شکریہ۔ احمر کے سامنے ہمیں معتبر کرنے پر میں نہیں جانتی میں تمہارا شکریہ کیسے ادا کروں؟ تم جب چاہو یہاں آ سکتی ہو۔۔ یہ تمہارا آج سے میکہ ہے۔ ثمامہ کی فکر مت کرنا اپنی جان سے زیادہ اس کا خیال رکھوں گی۔”
یسرا بیگم کی بات پر اس نے اپنی کالی سرخ آنکھوں کو ان کے چہرے پر گاڑا۔ اور لرزتے لبوں کو حرکت دیتے ہوئے بولی۔
“میں نہیں جانتی اماں جان کہ میں اس رشتے کو کیسے اور کب تک نبھا سکوں گی؟ میں مجبور تھی آپ کے فیصلے کے آگے کیونکہ میں آپ لوگوں کو احمر کے سامنے مجرم بنا نہیں دیکھ سکتی تھی۔ اور رہی ثمامہ کی بات تو میں جانتی ہوں آپ اس کو اتنی محبت دیں گی کہ وہ مجھے بھول جائے گا۔ میں کوشش کروں گی میری وجہ سے آپکو کسی شکایت کا سامنا نہ کرنا پڑے۔ اور۔۔۔”
ابھی اقصی کے باقی کے الفاظ منہ میں تھے جب ہانم اندر آئی۔ وائیٹ کلر کی فراک پہنے، جس پر سرخ اور سفید نگوں سے کام کیا گیا تھا، سر پر ڈوپٹہ اوڑھے، میک اپ کے نام پر صرف کاجل اور لبوں کو سرخ لپ اسٹک سے سجائے وہ مسکراتے ہوئے ان دونوں کے پاس آئی تھی۔
“اماں جان وہ بابا جان آپ کو بلا رہے ہیں۔”
ہانم نے اقصی کے روئے ہوئے چہرے کو دیکھ کر یسرا بیگم سے کہا۔
“اقصی تم نے اب رونا نہیں اور خدا کا شکر ادا کرو جس نے تمہارا نصیب اتنے اچھے انسان سے جوڑا ہے۔ تم چادر لے لو میں تب تک تمہارے بابا جان کی بات سن لوں۔”
یسرا بیگم یہ بول کر کمرے سے باہر چلی گئیں جبکہ ہانم جو تذبذب میں کھڑی تھی ۔ وہ اقصی سے پوچھنا چاہتی تھی کہ وہ رو کیوں رہی ہے؟ لیکن اس کے رویے کو یاد کرتے ہوئے وہ کمرے سے جانے لگی جب اقصی نے اس کا پکارا۔
“ہانم۔”

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: