Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 19

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 19

–**–**–

ہانم نے اقصی کی آواز پر پلٹ کر اس کے چہرے کو دیکھا تھا جہاں اس وقت ڈھونڈنے سے بھی نہیں مل رہی تھی۔
“جی۔”
ہانم نے وہاں سے قدم اٹھائے بغیر نظریں جھکا کر انگلیاں چٹخاتے ہوئے جواب دیا۔
“ادھر آئو۔”
اقصی کا نرم لہجہ ہانم کے لئے حیرانگی کا باعث تھا۔
ہانم آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اس کے پاس بیٹھتے ہوئے بولی۔
“آپ رو کیوں رہی تھیں آپی؟”
اس کی بھیگی پلکوں کو دیکھ کر ہانم نے معصومانہ انداز میں پوچھا۔
“مجھے معاف کر دو ہانم ۔۔۔ معلوم نہیں کیسے میں نے تم پر ہاتھ اٹھایا؟ احمر سے محبت ہی اتنی تھی کہ اس کی موت نے پاگل کر دیا تھا۔ کچھ سمجھنے کی پوزیشن میں نہیں تھی میں۔۔ خیر یہ سب چھوڑو اور مجھ سے ایک وعدہ کرو گی؟”
اقصی اس کے ہاتھوں کو نرمی سے اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے امید بھری نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔
“میری امی کہتی ہیں کہ وعدہ نہیں کرتے کیونکہ وعدے ٹوٹ جاتے ہیں پھر گناہ ملتا ہے۔”
ہانم کے جواب پر اقصی کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گئی تھی۔
“تمہیں بےبی چاہیے ہانم؟”
اقصی کی بات پر ہانم کی آنکھیں چمکی تھیں۔
“ہاں مجھے دو بےبی لینے ہیں اب۔۔ آپکو معلوم ہے خان نے کہا ہے پہلے میں پڑھ لکھ کر ڈاکٹر بن جائوں پھر وہ میرے لئے بے بی لے کر آئیں گے۔”
ہانم کی نان سٹاپ اور سر تا پیر گفتگو اقصی کے چہرے پر مسکراہٹ گہری کرتی جا رہی تھی۔
“میرا بےبی سنبھالو گی؟”
قدرے توقف کے بعد اقصی کی آواز پر ہانم متوجہ ہوئی تھی۔
“لیکن وہ تو آپکا بےبی ہے۔۔ اور آپ مجھے کیوں دو گی اپنا بےبی؟”
“وہ میرا بےبی تھا لیکن آج سے وہ تمہارا بےبی ہے۔ تم نے اس کا بہت سارا خیال رکھنا ہے اور بہت سارا پیار بھی دینا ہے۔ کیونکہ آج سے وہ تمہارا بےبی ہوگا۔”
“آپ سچ بول رہی ہیں۔۔ مطلب وہ میرا بےبی ہوگا؟”
ہانم کی خوشی کا اندازہ اس کے چہرے سے ہو رہا تھا جو بےبی کے ملنے پر ہی سرخی مائل ہوگیا تھا۔ آنکھوں کی چمک خیرہ کن تھی۔
“ہاں بالکل آج سے وہ تمہارا بےبی ہے۔”
اقصی کے جواب پر ہانم نے اسے خوشی سے گلے لگا لیا۔
“شکریہ آپی ۔۔۔ آپ بہت اچھی ہو۔میں ابھی بےبی کو دیکھتی ہوں۔”
ہانم یہ بول کر اس سے جدا ہوئی اور کمرے سے تقریبا بھاگنے والے انداز میں نکلی تھی۔
اقصی نے بے ساختہ آسمان کی طرف دیکھا تھا۔ شاید نہیں وہ یقینا مطمئن ہو گئی تھی اپنے فیصلے سے۔ زندگی کبھی بھی ایک جگہ رکنے کا نام نہیں ہے۔ گزرتے وقت کے ساتھ بہت سارے زخموں کو دنیا سے چھپا کر خود کو مضبوط ظاہر کرنا بھی ایک عورت کی سب سے منفرد خاصیت ہے۔ وقت کے ساتھ بڑھنے میں عقلمندی جبکہ کچھ غموں کا سوچ زندگی بھر منانا سراسر بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ہوتا۔ خدا کی آزمائشوں پر شکوے نہیں کرنے چاہیے بلکہ صبر و تحمل کا دامن انسان کے بہت سارے دکھوں کو خوشیوں اور تشکر میں بدل دیتا ہے۔ بس یقین کامل شرط اولین ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم تیز تیز چلتے ہوئے حال کی طرف جا رہی تھی جب کمرے کی طرف جاتے اکثم سے بے ساختہ ٹکرائی تھی۔
“اللہ اللہ ۔۔۔۔ میرا سر توڑ دیا۔”
ہانم اپنے سر کو تھامتے ہوئے بولی جبکہ اکثم جو صبح سے نکاح کی تیاریاں دیکھ رہا تھا اور حویلی سے باہر تھا اب ہی حال سے گزرتے ہوئے کمرے کی طرف جا رہا تھا۔ ہانم کو دیکھ کر وہ چند پل کے لئے گویا اپنی تمام ساعتوں سے محروم ہو گیا تھا۔ وہ اسے خوبصورت نہیں بلکہ خوبصورتی کا اصل معنی سمجھا گئی۔
“خان نظر نہیں آتا آپ کو کیا؟”
ہانم اپنی نیلی آنکھوں کو چھوٹا کئے اس کے آگے اپنے سفید ہاتھ لہراتے ہوئے خفگی بھری آواز میں بولی تھی۔ اکثم کا ارتکاز ایک لمحے سے پہلے ختم ہوا تھا۔ اپنی بے اختیاری کو کوستے ہوئے اس نے اردگرد دیکھا تو کوئی متوجہ نہیں تھا۔ اس نے ہانم کا ہاتھ نرمی سے اپنی گرفت میں لیا اور بنا اس کی ہلکی سی مزاحمت کو دیکھے اپنے ساتھ کمرے میں لے آیا۔ اسے دروازے کے ساتھ لگا کر اس نے دروازہ بند کر دیا تھا اور اپنے بازو دائیں بائیں ٹکا کر فرصت سے اس کے چہرے کے نقوش کو دیکھتے ہوئے وہ اپنے جذبات کو بے لگام کر رہا تھا۔
“خان مجھے جانا ہے بےبی کے پاس۔”
ہانم اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر بولی جو شاید نظروں سے اپنی تشنگی بجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔
“تم بہت پیاری لگ رہی ہو ہانم۔ اتنی پیاری کہ مجھے میرا دل بغاوت کرنے پر اکسا رہا ہے۔”
اکثم کی بات پر ہانم کو خوشی ہوئی تھی۔ اور اپنی ناسمجھی کا بھرپور مظاہرہ کرتے ہوئے بولی تھی۔
“آپ سچ بول رہے ہیں نا؟ میں پیاری لگ رہی ہوں نا؟ یہ دیکھیں میری مہندی بھی کتنی پیاری لگ رہی ہے خان۔”
ہانم اس کے آگے اپنے مہندی کے رنگ سے بھرے ہاتھ کرتے ہوئے بولی۔ اکثم نے بمشکل اس کے چہرے سے نظریں ہٹائیں۔ اور اس کے دودھیا ہاتھوں کو دیکھا۔ بے ساختہ ان کو تھامتے ہوئے وہ تمام حدود کو بلائے طاق رکھ کر جھکا تھا اور ان پر اپنے تشنہ آور لبوں سے محبت بھری مہر ثبت کرتے ہوئے پیچھے ہٹا تھا۔ اکثم کی اس حرکت پر ہانم کا دل اپنی روانگی سے ہٹ کر دھڑکا تھا۔ لبوں پر کپکپاہٹ فطری تھی۔ گالوں پر سرخیاں مقابل کو مزید بے لگام ہونے پر اکسا رہی تھیں جب ہانم کی لرزتی آواز پر وہ حواس میں واپس لوٹا تھا۔
“خان میرے ہاتھ چھوڑیں۔”
ہانم کی آواز پر وہ بے ساختہ اس کے ہاتھ چھوڑ کر دو قدم دور ہوا تھا۔ نظریں چراتے ہوئے وہ خود کو ملامت کرنے لگا تھا۔ ہانم نے بے خودی میں اپنا دایاں ہاتھ دل پر رکھا تھا۔ جو اکثم کی ذرا سی قربت پر اپنی رفتار تیز کر گیا تھا۔
اپنی بدلتی کیفیت پر وہ خود حیران ہو رہی تھی۔
“ابھی منہ دھو کر واپس آئو اور تمہارے چہرے پر یہ لپ اسٹک اور آنکھوں میں کاجل بالکل نہیں ہونا چاہیے۔”
کمرے میں گونجتی دھڑکنوں کے شور کو اکثم کی سخت آواز نے توڑا تھا۔ ہانم نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔
“لیکن خان ابھی تو آپ طول رہے تھے کہ میں پیاری لگ رہی ہوں۔اور۔۔۔۔”
“جتنا کہا جائے ہانم اتنا کرو ورنہ تمہیں اس کمرے میں بند کر کے میں یہاں سے چلا جائوں گا اور رات تک واپس نہیں آئوں گا۔”
اکثم نے اسے گھورا تو ہانم منہ بسورتے ہوئے وقت روم کی طرف چلی گئی۔
“یااللہ یہ کیا کرنے جا رہا تھا میں۔۔ مجھے خود پر کنٹرول رکھنا ہوگا ورنہ اس کی معصومیت کو میں کسی دن انہی جذبات کے ریلے میں بہا دوں گا ۔۔ اور پھر سوائے پچھتاوے کے میرے ہاتھ کچھ نہیں آئے گا۔”
اکثم کمرے میں موجود آئینے میں اپنا عکس دیکھتے ہوئے بڑبڑایا۔ اتنی دیر میں ہانم بھی باہر آگئی تھی۔ اکثم نے اس بار اسے دیکھنے سے مکمل اجتناب کیا تھا۔ اور کچھ کہے بغیر کمرے سے نکل گیا تھا۔ جبکہ ہانم منہ بسورتے ہوئے اس کے پیچھے گئی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اقصی کے نکاح کو ایک مہینہ ہو گیا تھا۔ اس دوران خان حویلی کے مکینوں کی زندگی بدل سی گئی تھی۔ اس ایک مہینے میں اقصی ہر ہفتے کو خان حویلی میں ثمامہ سے ملنے آتی تھی اور عزیر بھی اس کے ہمراہ ہوتا تھا۔ وہ خوش نہ سہی لیکن شاید خدا کے فیصلے پر پرسکون اور مطمئن ہو گئی تھی۔ اس کی بے چینی شاید ختم ہو گئی تھی۔ ہانم سکول سے آنے کے بعد ثمامہ کے ساتھ مصروف ہو جاتی تھی۔ رات کو وہ اکثم کے پاس پڑھتی تھی۔ اور ثمامہ تب بھی ہانم کے پاس اس کے کمرے میں موجود ہوتا تھا۔ رات کو وہ یسرا بیگم کے پاس سوتا تھا کیونکہ رات کو ہانم اتنا تھک جاتی تھی کہ اسے اپنی ہوش نہیں رہتی تھی۔ ایک دفعہ ہانم نے ثمامہ کو اپنے پاس سلانے کی ضد کی تھی تو اکثم نے اسے ڈانٹ دیا تھا۔ اور سختی سے ثمامہ کو رات کو یسرا بیگم کے کمرے میں پہنچانے کی ہدایت کی تھی۔ جس پر وہ ناچاہتے ہوئے بھی عمل کر رہی تھی۔ آج وہ ثمامہ کو گود میں لئے اس سے باتوں میں مصروف تھی۔ سب گھر والے اس کی ثمامہ کے لئے بے لوث محبت کو روک بھری نگاہوں سے دیکھ رہے تھے۔ جب اکثم حال با آواز بلند سلام کرتے ہوئے حال میں داخل ہوا۔
“اسلام و علیکم۔”
اکثم کی آواز پر ہانم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے ثمامہ کے ساتھ ایسے باتوں میں مصروف ہوگئی جیسے وہ اس کی زبان کو سمجھ رہا تھا۔ اقصی کے جانے کے بعد اسے مشکل ہوئی تھی ثمامہ کو سنبھالنے میں لیکن یسرا بیگم کی ہدایت پر عمل کرتے ہوئے وہ یہ فریضہ باخوبی انجام دے رہی تھی۔
“بڑے خان تم اس وقت کہاں گئے تھے؟”
اکثم جو صوفے پر عین ہانم کے سامنے بیٹھا تھا۔ دلاور خان کی بات پر ان کی طرف متوجہ ہوا۔
“بابا جان وہ زمینوں سے ہو کر ایک دوست کی طرف گیا تھا۔ وہاں کچھ وقت لگ گیا۔”
اکثم نے مسکرا کر جواب دیا لیکن اس دوران اس نے دلاور خان کی طرف دیکھنے کی زحمت نہیں کی تھی۔ کیونکہ اگر وہ دیکھ لیتا تو یقینا وہ اپنا فیصلہ بدل لیتا جو وہ ایک مہینہ پہلے ہی لے چکا تھا۔
اس سے پہلے دلاور خان مزید کچھ بولتے ہانم کی آواز پر وہ اس کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔
“اماں جان میں بےبی کو اپنے پاس سلانا چاہتی ہوں۔ لیکن خان نہیں مانتے آپ انہیں بولیں نا کہ مجھے بےبی کے ساتھ ہی سونا ہے۔”
ہانم کی بات پر اکثم نے بے بسی سے لب بھینچے تھے کیونکہ دلاور خان کی موجودگی میں وہ ان کی لاڈلی کو گھورنے کی کوشش بھی نہیں کر سکتا تھا۔ یسرا بیگم اور دلاور خان نے بمشکل اپنے مسکراہٹوں کو چھپایا تھا۔
“بھابھی ۔۔ یہ آپ کا بےبی نہیں ہے نا اس لئے بھائی اسے آپکے پاس سونے نہیں دیتے۔”
ارتسام جو اپنا ہوم ورک کر رہا تھا ہانم کی بات پر سر اٹھا کر گویا اسے سمجھانے لگا۔
“میرا بےبی سے کیا مطلب ہے تمہارا سامی ۔۔ یہ اقصی آپی نے خود مجھے دیا تھا اور کہا تھا یہ بےبی میرا ہے۔”
ہانم کے صدمے پر اکثم نے اپنا سر تھام لیا تھا۔
“مجال ہے یہ لڑکی کبھی میری عزت رہنے دے میری فیملی کے سامنے۔”
اکثم خود سے بڑبڑایا تھا۔
“بھابھی میں تو بس آپ کو سمجھا رہا تھا کہ آپ کا بےبی وہ ہوگا جو آپ خود ہاسپٹل سے لے کر آئیں گی۔”
ارتسام نے اپنی وضاحت سے اسے مطمئن کرنا چاہا اور ساتھ ہی اکثم کی طرف مدد طلب نظروں سے دیکھا جو خود اپنا سر نفی میں ہلا کر اپنے دونوں ہاتھوں کو اوپر کر کے گویا ہار مان چکا تھا۔
“چھوٹے خان یہ میرا بےبی ہے سنا تم نے اور اگر آئندہ تم نے کہا نا کہ یہ میرا بےبی نہیں ہے تو میں اس کے ساتھ تمہیں کھیلنے بھی نہیں دوں گی اور تم سے بات بھی نہیں کروں گی۔”
“بھابھی میں تو مذاق کر رہا تھا آپ تو سریس ہی ہو گئی ہیں۔”
ارتسام جلدی سے کان پکڑ کر بولا تو دلاور اور یسرا بیگم کے چہروں پر بے ساختہ مسکراہٹوں نے اپنا مسکن بنایا تھا۔ جبکہ اکثم صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گیا تھا۔
“اماں جان بولیں نا خان کو۔”
ہانم نے پھر سے اپنا یسرا بیگم کے سامنے اپنی بات دہرائی تھی۔
“تم خود بول لو۔۔ مجھے یقین کے وہ منع نہیں کرے گا۔”
یسرا بیگم کا جواب اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ لے آیا تھا۔
“اماں جان آپ کو نہیں معلوم خان بہت عجیب ہو گئے ہیں۔ میری بات نہیں سنتے اب۔ آپ کو معلوم ہے جب یہ مجھے پڑھاتے ہیں تو میری طرف دیکھنا شروع ہو جاتے ہیں اور جب میں ان سے پوچھتی ہوں کہ کیوں دیکھ رہے ہیں تو کہتے ہیں میں پیاری لگ رہی ہوں اس لئے اور اس دن انہوں نے۔۔۔۔”
“بس کرو ہانم۔”
اکثم نے اس کی چلتی زبان کو ٹوک کر اپنے والدین کو دیکھا جو اس کے دیکھنے پر نظریں چرا گئے تھے جبکہ ارتسام نے سر اٹھانے کی غلطی نہیں کی تھی۔
“کیوں بس کر دوں ۔۔۔ میں بتائوں گی اماں جان کو کہ اس دن آپ نے میرے۔۔”
“ہانم بچے ثمامہ کو مجھے دو اور جائو جا کر رشیدہ بی کو بولو کہ اکثم کے لئے دودھ گرم کریں۔”
یسرا بیگم نے اکثم کے سرخ چہرے کو دیکھ کر ہانم کو بے ساختہ ٹوکا تھا۔ ہانم ثمامہ کو یسرا بیگم کو پکڑا کر اکثم کو گھورتے ہوئے کیچن کہ طرف چلی گئی تھی جبکہ اکثم کسی سے نظریں ملائے بغیر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: