Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 2

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 2

–**–**–

ہانم چالیس سالہ رشیدہ کی راہ نمائی میں کمرے میں داخل ہوئی تو اپنی نیلی آنکھوں کو بڑا کر کے کمرے کی ہر چیز کو دیکھنے لگی۔۔۔ دروازہ کھولتے ہی سامنے ایک جہازی سائز بیڈ تھا جس پر کالے رنگ کی پالش ہوئی تھی اور باریک سا ڈیزائن پھولوں کی صورت میں بنا تھا، کالے رنگ کی ہی بیڈ شیٹ جس کے کناروں پر سرخ رنگ کا کام ہوا تھا نفاست سے بچھائی تھی۔۔ اس کے ساتھ ایک سائیڈ ٹیبل تھا جس پر شیشے کا پرپل رنگ کا پانی سے بھرا جگ تھا اور ایک گلاس تھا، اس سے تھوڑے فاصلے پر ایک دروازہ تھا جو سٹڈی روم کو جاتا تھا۔۔ دروازے کے ساتھ کالے رنگ کے تین صوفے تھے جن کے آگے شیشے کا ٹیبل تھا۔۔۔ دائیں طرف ایک بڑی سے لکڑی کی الماری تھی جس پر کالے اور سرخ رنگ سے ہی پینٹنگ کی گئی تھی ۔۔۔ صوفہ سیٹ کے بالکل سامنے ایک دروازہ تھا جو واش روم کا تھا اور اسی دروازے کے ساتھ دیوار میں بڑا سا آئینہ نصب تھا۔۔۔ ہلکے سرخ رنگ کا دبیز قالین جس پر کالے رنگ کے پھول بنے تھے کمرے میں بچھا ہوا تھا۔۔۔ دیواروں پر سفید رنگ کا پینٹ اور ہر جگہ اکثم کی تصاویر تھیں ۔۔ جو گھر والوں کے ساتھ تھیں۔۔۔ اور کچھ اکیلے کی۔۔۔کمرے کی ہر چیز کالے اور سرخ رنگ سے سجی تھی۔۔۔ ہانم ہونقوں کی طرح منہ کھولے اندر آنے لگی تو رشیدہ نے اسے ٹوک دیا۔۔۔
اے لڑکی ۔۔۔ اپنا جوتا اتارو ۔۔ بڑے خان بہت صفائی پسند ہیں غصہ کر جائیں گے تمہارے جوتے کو اندر دیکھ کر۔۔۔۔
ہانم نے جو چپل پہنی تھی اتاری اور آہستہ سے قدم اٹھاتی غور سے اکثم کی تصاویر کو دیکھنے لگی۔۔۔۔
سفید رنگت، بھوری آنکھیں، کالی گھنی پلکیں، ہلکی سی داڑھی، کھڑی مغرور ناک، عنابی لب، مغرورانہ نین نقش۔۔ غرض کے وہ ہر لحاظ سے ایک خوبصورت لڑکا تھا۔۔۔۔
ہائے یہ تو وہی ہے جو مجھے گاڑی میں یہاں چھوڑ کر گیا ہے۔۔۔ کتنا پیارا لگتا ہے یہ تصویروں میں۔۔۔
ہانم خود سے بولی۔۔۔۔
رشیدہ نے حیرت سے اس لڑکی کو دیکھا جو سوجے ہوئے گال پر ہاتھ رکھ کر اکثم کی تعریف کر رہی تھی۔۔۔
تم ادھر بیٹھو میں تمہارے گال پر یہ ٹیوب لگا دیتی ہوں ۔۔۔
رشیدہ بیڈ کے سائیڈ ٹیبل سے فرسٹ ایڈ باکس نکال کر ہانم کی طرف بڑھتے ہوئے بولی۔۔۔۔
ہانم نے رشیدہ کے ہاتھ میں ٹیوب دیکھی جو اس نے فرسٹ ایڈ باکس سے نکالی تھی۔۔۔ اور معصومیت سے بولی۔۔۔۔۔
اس سے میرا رنگ کالا تو نہیں ہوگا؟؟؟
اس کی بات پر رشیدہ کو پہلے تو شاک لگا پھر ہنستے ہوئے بولی۔۔۔
نہیں ہوگا کالا۔۔۔۔
قسم کھائیں۔۔۔۔
ہانم کی آواز ہی نہیں لہجے میں بھی ڈر تھا شاید رنگ کالا ہونے کا ڈر۔۔
تمہیں کس نے کہا ہے کہ ٹیوب لگانے سے رنگ کالا ہوتا ہے؟؟؟
وہ ایک دفعہ میں نے اپنی سہیلی عائشہ کی بڑی بہن کی کریم چھپ کر لگائی تھی تب امی نے جوتوں سے بڑا مارا تھا اور کہا تھا کہ ہانم کوئی کریم نہیں لگانی کالی ہو جائو گی۔۔۔ اور پھر کوئی تمہیں دیکھے گا بھی نہیں ۔۔۔
ہانم حسب عادت باتیں کرنا شروع ہوگئی تھی جبکہ رشیدہ مسکراتے ہوئے اس کے چہرے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
وہ واقعی معصوم تھی۔۔ رشیدہ کو بے ساختہ اس پر ترس آیا تھا۔۔
لیکن یہ ٹیوب ہے اس سے کچھ نہیں ہوگا۔۔ کریم نہیں ہے یہ۔۔۔
رشیدہ نے اسے سمجھانا چاہا لیکن وہ ہانم ہی کیا جو سمجھ جائے۔۔
ہاں تو اسی کی بہن ہوگی ۔۔۔ جیسے میری بہن ہے ریاح ۔۔یہ ٹیوب بھی اسی کریم کی بہن ہوگی۔۔۔
تم اگر یہ ٹیوب نہیں لگائو گی تو تمہارا گال کالا نہیں لیکن نیلا ضرور ہو جائے گا۔۔۔اس لئے یہ تھوڑی سے لگانے دو تاکہ تمہارا گال نیلا نہ ہو۔۔۔
رشیدہ نے اسے پیار سے پچکارنے کی کوشش کی۔۔ ۔۔
اچھا ۔۔۔۔ چلیں پھر تھوڑی سی لگا دیں۔۔۔ ورنہ ہانم کالی ہوگئی تو اسے وہ اماں جان پیاری بھی نہیں بولیں گی۔۔۔۔
ہانم اس کے سامنے ہوتے ہوئے بولی۔۔۔ رشیدہ نے مسکراتے ہوئے اس کے چہرے پر انگلیوں کے نشانات پر ٹیوب لگانی شروع کی تو ہانم کے منہ سے سسکی نکلی۔۔۔
آہ۔۔۔ چاچی کیا کر رہی ہیں۔۔۔ جلن ہو رہی ہے ۔۔۔ میں نے نہیں لگانی یہ۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بولی ۔۔۔ جبکہ رشیدہ کو اب صحیح معنوں میں سنجیدہ ہونا پڑا۔۔۔ کیونکہ یسرا بیگم کا حکم تھا اسے ٹیوب لگانے کا۔۔۔۔
اگر اب تم نے میری بات نہ مانی تو میں اماں جان سے تمہاری شکایت کروں گی۔۔ پھر وہ تمہیں پیاری بالکل نہیں کہیں گی۔۔۔
اچھا ٹھیک ہے لگا دیں۔۔۔
ہانم اپنے گلابی لبوں کو آپس میں پیوست کر کے شاید ضبط کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
رشیدہ نے ٹیوب لگائی اور مسکراتے ہوئے بولی ۔۔۔
تم نے یہاں سے باہر نہیں نکلنا میں تمہیں کھانا لا دیتی ہوں۔۔۔
ہاں مجھے کافی بھوک لگی ہے۔۔۔
ہانم اپنے پیٹ پر ہاتھ رکھ کر معصومیت سے گویا ہوئی۔۔۔
رشیدہ اپنا سر اثبات میں ہلا کر وہاں سے چلی گئی جبکہ ہانم کو یہ سمجھ نہیں آ رہا تھا وہ بیٹھے کہاں۔؟؟ اپنی نیلی آنکھوں میں الجھن اور پریشانی بیک وقت لے کر وہ ہر چیز کو دیکھ رہی تھی پھر تھک ہار کر قالین پر بیٹھ گئی۔۔۔۔
کتنی گندی تھی وہ موٹی لڑکی ۔۔۔ میں نے تو اماں جان کی تعریف کی تھی ۔۔۔ اور اسے نے مجھے مارنا شروع کر دیا۔۔۔ میں جب واپس اپنے امی ابا کے پاس جائوں گی تو سب کچھ اپنے ابا کو بتائوں گی۔۔۔ پھر وہی پوچھیں گے اس لڑکی سے۔۔۔۔
ہانم خود سے بول رہی تھی جب امی اور ابا کے نام پر اس کی آنکھوں میں پھر سے آنسو آ گئے۔۔۔
ابا آپ مجھے وہاں چھوڑ کر نہ جاتے تو میں یہاں اس گھر میں نہیں آتی ۔ لیکن آپ مجھے چھوڑ کر کیوں گئے ابا۔۔ مجھے تو گھر کا راستہ بھی معلوم نہیں ہے۔۔ پتہ نہیں کن راستوں سے لا کر آپ نے مجھے اس بکری کے پاس چھوڑ دیا۔۔۔ ابا وہ لڑکی بہت گندی ہے۔۔۔ آپ کی ہانم کو مارا اس نے۔۔۔ وہ موٹی بالکل اچھی نہیں ہے۔۔۔۔
آنسو جانے کب اس کا چہرہ تر گئے تھے اور وہ روتے روتے ہی اپنے ماں باپ کو یاد کر کے سو گئی تھی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دلاور خان اپنے ماں باپ کے اکلوتے بیٹے تھے۔۔رویے میں نرمی اور سختی دونوں کا عنصر پایا جاتا تھا۔ شہر جا کر بے ای کیا اور دوبارہ واپس گائوں آ گئے۔۔۔ باپ کا نام ارباز جبکہ ماں کا نام زرتاج گل تھا ۔ ان کی گائوں کافی زمینیں تھیں۔۔ وہ گائوں میں سب سے ذیادہ امیر تھے۔۔ دولت کی کافی ریل پیل تھی ان کے گھر میں۔۔ماں باپ کی مرضی کے آگے سر تسلیم خم کرتے ہوئے اپنی ذات برادری کی ایک لڑکی سے شادی کی جس کا نام یسرا تھا۔۔۔ شادی کے دو ماہ بعد ہی باپ ہارٹ اٹیک کی وجہ سے زندگی سے ناطہ توڑ گئے۔۔۔ صدمہ بڑا تھا لیکن احمر کی آمد نے گھر والوں میں گویا ایک نئی زندگی کی لہر دوڑا دی۔۔۔۔ احمر کی پیدائش کے پانچ سال بعد زرتاج گل دماغ کے کینسر کی وجہ سے اس دنیا سے کوچ کر گئیں۔۔۔ ان کہ وفات کے دو سال بعد اکثم پیدا ہوا ۔۔۔ اور اکثم کی وفات کے سات سال بعد ارتسام پیدا ہوا۔۔۔ خدا نے ان کو بیٹی جیسی نعمت سے محروم رکھا تھا ۔۔
دلاور خان اور یسرا بیگم کی یہ کمی اقصی کی صورت میں پوری ہوئی جب احمر نے اپنی پسند کا اظہار اپنے باپ سے کیا۔۔۔ دونوں کو اعتراض تو تھا ذات سے باہر شادی کرنے پر لیکن بیٹے کی خوشی کے آگے خاموش ہوگئے۔۔۔ اقصی اور احمر یونیورسٹی سے ایک دوسرے کو پسند کرتے تھے۔۔۔ یونیورسٹی ختم ہوتے ہی دلاور خان احمر کی فرمائش پر شہر گئے اور اقصی کے ماں باپ سے اس کا ہاتھ مانگا۔۔ دونوں طرف سے بنا کسی تردد کے رشتہ طے پایا۔۔ اور شادی کے بعد سب خوش تھے کیونکہ اقصی اور احمر ایک دوسرے کے ساتھ خوش تھے۔۔۔ شادی کے دو مہینے بعد اقصی کے امید سے ہونے کی خبر نے گویا اس گھر میں خوشیوں کی بارش کر دی تھی۔۔۔ لیکن وہ کہتے ہیں نا کہ خوشی کے ساتھ غم کی امید بھی لازمی رکھو۔۔۔ ایک رات احمر اپنے کسی دوست کو شہر چھوڑ کر واپس آ رہا تھا جب اس کی گاڑی خراب ہوگئی۔۔۔ اور وہ پیدل حویلی کی طرف چلنے لگا۔۔۔ جب خوش بخت نے ایک ڈاکو سمجھ کر اس پر فائر کر دیا ۔۔ اندھیرے کی وجہ سے وہ دیکھ نہ سکا ۔۔۔ لیکن جب قریب گیا تو حواس باختہ ہوگیا کیونکہ سامنے ہی احمر خون میں لت پت بے سدھا پڑا تھا۔۔۔ گولی دماغ پر لگی تھی جس کی وجہ سے وہ زیادہ دیر سانس نہ لے سکا۔۔۔ اور یہ خبر دلاور خان کو ان کے ایک ملازم نے دی جو احمر کی دیر کی وجہ سے اسے لینے نکلا تھا۔۔۔ دلاور خان اور اس کے گھر والوں کے لئے یہ صدمہ ناقابل برداشت تھا۔۔۔پھر جرگہ بٹھایا گیا اور جیسا ہر بار ہوتا ہے ایک لڑکی کی زندگی کو کٹ پتلیوں کی طرح بدل دیا تھا۔۔۔ ہانم کو بھی ونی لڑ دیا گیا تھا۔۔۔۔ بس اب وقت نے یہ طے کرنا تھا کہ ہانم کو ہر لڑکی طرح سزا دینی جانی تھی یا خان حویلی والوں کے لئے بیٹی کا پیار اسے دیا جانا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم رات کو دیر سے گھر آیا تھا۔۔۔ وہ کسی کا سامنا نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔ خاص طور پر اپنی ماں کا جس کی تربیت نے ہی اسے معاف کرنا سکھایا تھا۔۔۔۔ وہ خان حویلی کے گیٹ سے گاڑی کو اندر لایا اور گاڑی کو چوکیدار کے حوالے کرتے خود حویلی کے لان کو دیکھنے لگا۔۔۔ جہاں ہر طرف ویرانی تھی ۔۔۔ لائیٹس کی روشنی میں گارڈن میں موجود پھول خوبصورتی کی مثال قائم کر رہے تھے۔۔ گارڈن کے ایک سائیڈ پر بڑا سا لکڑی کا جھولا نصب تھا جہاں وہ بچپن میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ جھولتا تھا۔۔۔ اس سے تھوڑے فاصلے پر چار لکڑی کی کرسیاں اور دو صوفے تھے۔۔۔ جن کے درمیان میں مستطیل نما میز تھا۔۔۔ ایک زخمی مسکراہٹ اس کے چہرے پر آئی۔۔۔ قدم باقدم اسے بھاری محسوس ہو رہا تھا۔۔۔ حویلی کے اندر والے دروازے پر پہنچ کر اس نے اردگرد نظر دوڑائی تو حال میں کوئی انسان نہیں تھا۔۔۔ بڑے سے ہال میں دائیں طرف لکڑی کے صوفے پڑے تھے جن کے سامنے ہی بڑی سی ایل سی ڈی دیوار میں نصب تھی۔۔۔ جبکہ بائیں سائیڈ پر چار کمرے تھے۔۔۔ سامنے ہی چھوٹی سی راہداری تھی جس کے آگے بڑا سا کیچن تھا ۔۔۔ جبکہ سڑھیاں درمیان میں سے دونوں اطراف سے ایسے چڑھائی گئی تھیں کہ وہ یو شیپ کو ظاہر کرتی تھیں۔۔۔۔ اکثم بائیں اطراف کے کمروں میں سے دوسرے نمبر والے کمرے کی طرف بڑھا جو اس کا تھا۔۔۔۔ اور جہاں اس کا سامنا ایک بار پھر سے ہانم کے ساتھ ہونے والا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم بغیر لائیٹ آن کئے اپنے بیڈ کی طرف بڑھ رہا تھا جب اچانک سے اس کا پائوں کسی چیز سے ٹکرایا اور وہ دھڑام سے نیچے گرا۔۔۔۔
ہائے اللہ۔۔۔۔
ہانم کی چیخ نما آواز کمرے میں گونجی تھی۔۔ اکثم کو ایک لمحہ لگا تھا یہ آواز اور صورت حال کو سمجھنے میں۔۔ اس نے جلدی سے اٹھ کر سائیڈ ٹیبل کے اوپر لگے بٹنز میں سے ایک بٹن دبایا تو سارا کمرہ روشنی میں نہا گیا ۔۔ لائٹ آن کرکے جیسے ہی وہ مڑا۔۔ ہانم کو چادر میں چھپے بیٹھے دیکھ کر شاک رہ گیا۔۔۔ لیکن جلد ہی شاک کی کیفیت پر غصہ غالب آ گیا۔۔۔
تم میرے کمرے میں کیا کر رہی ہو؟؟؟؟
اکثم کی دھاڑ پر ہانم نیلی آنکھوں کو ذور سے بند کر گئی تھی۔۔۔
وہ۔۔۔ وہ۔۔۔۔
کیا وہ وہ لگا رکھی ہے ؟؟ میں نے پوچھا یہاں کیا کر رہی ہو؟؟؟
ماں جان نے چاچی کے ساتھ بھیجا تھا اس کمرے میں۔۔
ہانم کا سر ابھی بھی جھکا ہوا تھا۔۔۔
اماں جان کے نام پر اس کا غصہ کم ہوا تو چاچی کے نام پر ناسمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
کونسی چاچی؟؟؟
وہ جو آپ کے گھر میں رہتی ہیں۔۔۔ مجھے ٹیوب لگا کر گئی تھیں پتہ نہیں اب میں کالی ہوگئی ہوں یا نہیں ۔۔۔۔
ہانم کی بڑبڑاہٹ پر اکثم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
کونسی ٹیوب؟؟ اور کون کالا ہو رہا ہے؟؟؟
وہ چاچی نے گال پر لگائی تھے۔۔ آپ دیکھیں نا کیا میں کالی تو نہیں ہوگئی۔۔۔
ہانم یہ بول کر دی سے اپنی جگہ سے اٹھی اور اس کے آگے اپنا دایاں گال کیا۔۔۔۔ اکثم کی آنکھیں میں سرخی اترنے لگی تھی۔۔۔ وہ ضبط کر رہا تھا اپنے غصے کو۔۔۔ وہ تو کسی بے زبان پر ظلم برداشت نہیں کر سکتا تھا پھر ایک معصوم لڑکی پر کیسے برداشت کر لیتا؟؟؟
کس نے مارا ہے تمہیں ؟؟؟
اکثم نے نرمی سے پوچھا۔۔۔۔
وہ جو گندی لڑکی تھی نا اس نے مارا۔۔۔ پتہ ہے کیوں ۔۔۔ کیونکہ میں نے اماں جان کو پیاری کہا تھا۔۔۔ اب بھلا اس میں مارنے والی کونسی بات تھی۔۔۔ میں اسے بھی پیاری بول دیتی ۔۔۔۔
ہانم ایک بار پھر نان سٹاپ شروع ہوچکی تھی جبکہ اکثم نے ضبط سے مٹھیاں بھینچی تھی۔۔۔ جب وہ بھائی ہو کر بھائی کا قتل معاف کر سکتا تھا تو اقصی کیوں معاملہ خدا پر نہیں چھوڑ رہی تھی۔۔۔
اگر آئندہ وہ تمہیں کچھ بھی کہیں تو تم نے مجھے ضرور بتانا ہے۔۔۔
اکثم نے اسے ہدایت کی۔۔۔
لیکن وہ موٹی لڑکی مجھے پھر سے کیوں مارے گی؟؟ میں تو اب ماں جان کو پیاری نہیں بولوں گی۔۔۔
ہانم نے اپنی طرف سے سمجھداری کی بات کی لیکن اس کی موٹی لڑکی کی بات پر اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا تھا۔۔۔
دیکھو ہانم۔۔۔ ایسے کسی کو موٹی نہیں کہتے۔۔۔ بلکہ کسی کی بھی برائی نہیں کرتے بڑی بات ہوتی ہے اللہ تعالی گناہ دیتے ہیں۔۔۔
اکثم نے نرمی سے سمجھایا تو ہانم نے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔۔۔
لیکن اگر اس نے دوبارہ مارا تو؟؟؟
تو بولا تو ہے مجھے بتانا؟؟؟
لیکن مجھے تو آپ کا نام ہی نہیں آتا اور آپ نے بھائی بولنے سے بھی منع کر دیا ہے۔۔ پھر میں آپکو کہا بول کر شکایت لگائوں گی؟؟؟
ہانم کی بات پر اکثم نے رخ موڑ مسکراہٹ کو لبوں سے آزاد کیا تھا۔۔۔
تم مجھے خان بولو گی۔۔ اور ہم دوست ہیں۔۔۔ جیسے تمہاری سہیلی ہوتی ہے نا ویسے دوست۔۔۔
اکثم نے اسے سمجھایا۔۔۔
لیکن عائشہ کی تو دو چوٹیاں ہوتی ہیں آپکی تو نہیں ہیں۔۔۔ پھر آپ سہیلی کیسے ہوئے؟؟؟
ہانم کی بات پر اکثم کا دل کیا کہ اسے اٹھا کر کہیں دور پھینک دے۔۔۔
کیونکہ میں ایک لڑکا ہوں۔۔۔ اور وہ ایک لڑکی ہے ۔۔۔
اکثم نے اسے گھورا تھا۔۔۔
اچھا۔۔۔ تو لڑکے بھی سہیلی ہوتے ہیں۔۔۔ چلیں ٹھیک ہے آج سے آپ میری سہیلی ہیں۔۔۔
ہانم دونوں ہاتھوں کی تالی بجاتی خوشی سے بولی۔۔۔
ہاں میری ماں ۔۔ اب جائو بیڈ پر سو جائو میں دوسرے کمرے میں جا رہا ہوں۔۔۔
اکثم یہ بول کر وہاں سے جانے لگا جب ہانم اس کے سامنے آ گئی۔۔۔
مجھے اکیلے ڈر لگتا ہے۔۔ آپ یہی سو جائو میرے پاس۔۔۔
اس کی بات پر اکثم نے اسے گھورا تھا۔۔۔
میں تمہارے ساتھ بیڈ پر نہیں سو سکتا۔۔ ایسا کرو تم بیڈ پر سو جائو میں یہاں صوفے پر سو جاتا ہوں۔۔۔
اکثم نے گویا مسئلہ کا حل نکالا۔۔۔
ہانم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر خاموشی سے بیڈ کی جانب بڑھنے لگی۔۔ لیکن پھر رک کر جیسے ہی اکثم کی طرف پلٹی اکثم نے غصے سے اسے دیکھا۔۔۔
اب اگر ایک لفظ بھی منہ سے نکالا تو باہر کتوں کے پاس چھوڑ آئوں گا۔۔۔
کتوں کی بات پر ہانم بھاگ کر بیڈ پر پہنچی تھی۔۔ جبکہ اکثم اس کی تیز ترین رفتار پر اپنی مسکراہٹ کا گلا گھونٹ گیا تھا۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: