Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 20

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 20

–**–**–

“سامی۔۔۔ میں بتا رہی ہوں اگر میری چاٹ کی پلیٹ تم نے واپس نہ کی تو میں بابا جان سے تمہاری شکایت لگائوں گی۔”
ہانم نےصوفے پر بیٹھے ارتسام کو دھمکی آمیز لہجے میں کہا۔ ارتسام جو ابھی سو کر اٹھا تھا ہانم کے ہاتھ میں چاٹ کی پلیٹ دیکھ کر اس نے مانگنے کی بجائے اس سے پلیٹ لے کر اپنے قبضے میں کر لی تھی اور اب مزے سے صوفے پر بیٹھا وی چاٹ سے لطف اندوز ہو رہا تھا جبکہ ہانم اسے گھور رہی تھی۔
“بھابھی ایسے تو نہ دیکھیں۔ میں نہیں واپس کرنے والا۔ آپ جا کر کیچن سے اور لے آئیں۔”
ارتسام ہانم کے چہرے کی طرف دیکھ کر مسکراہٹ کو بمشکل لبوں میں دبا گیا تھا۔
“بس یہی ایک پلیٹ بابا جان نے منگوا کر دی تھی اور اب وہ بھی تم کھا رہے ہو۔”
ہانم کی معصومیت سے بھرپور شکایتی انداز پر ارتسام کا منہ میں جاتا چمچ والا ہاتھ رکا تھا۔ اس نے ہانم کو دیکھا۔
“بھابھی آپ ایک اور چمچ لے آئیں اور میرے ساتھ بانٹ لیں کیونکہ چاٹ تو میں آپکو اکیلے بھی نہیں کھانے دے سکتا۔”
ارتسام کے انداز پر ہانم نے کڑوا گھونٹ بھرا تھا اور اسے گھورتے ہوئے کیچن سے دوسرا چمچ لانے چلی گئی۔ تھوڑی دیر بعد وہ کیچن سے واپس آئی اور ارتسام کے ساتھ ہی بیٹھ کر کھانے لگی۔ دونوں اس وقت حال میں موجود ایل سی ڈی پر کارٹونز دیکھ رہے تھے اور ساتھ ساتھ تبصرہ کرتے ہوئے چاٹ سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب اکثم کی آواز پر دونوں متوجہ ہوئے۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
اکثم اپنے انداز میں جلن کی شدت کو چاہتے ہوئے بھی کم نہ کر سکا۔
“اللہ اللہ۔۔۔ خان ڈرا دیا آپ نے تو۔ کچھ نہیں میں اور سامی چاٹ کھا رہے تھے اور ساتھ کارٹونز دیکھ رہے تھے۔ آپ بھی آ جائیں۔”
ہانم اسے جواب دے کر دوبارہ سکرین پر چلتے کارٹونز کی طرف متوجہ ہوگئی جبکہ ارتسام اپنے بھائی کے سرخ ہوتے چہرے کو دیکھ کر سمجھ گیا تھا کہ وہاں سے جانے میں ہی عافیت ہے۔
“بھابھی میں ہوم ورک کر لو ۔۔ آپ دیکھو کارٹونز۔”
وہ جانے لگا جب ہانم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔ اور اکثم جو دونوں کو دیکھ رہا تھا بمشکل اپنا غصہ کنٹرول کرنے لگا۔
“سامی بیٹھو نا بعد میں کر لینا۔ ویسے بھی اتنا مزہ آ رہا تھا۔”
ارتسام نے بے ساختہ اکثم کی طرف دیکھا جو ہانم کی حرکت پر لب بھینچ گیا تھا۔
“بھابھی میں ذرا واش روم سے ہو کر آتا ہوں۔”
ارتسام یہ بول کر وہاں سے بھاگنے والے انداز میں اپنے کمرے کی طرف گیا تھا۔ اکثم خود کو کمپوز کرتے ہوئے اس کے پاس بیٹھا۔ ہانم جو چاٹ کا چمچ منہ کی طرف لے کر جا رہی تھی اکثم نے وہی ہاتھ پکڑ کر اس چمچ کا رخ اپنی طرف کر لیا اور مزے سے ہانم کے تاثرات دیکھنے لگا جو اس کی حرکت پر اب اسے گھور رہی تھی۔
“خان آپ اپنا چمچ لے آئیں میرا چمچ گندہ نہیں کریں۔”
“کیوں کیا میرے ساتھ باٹنے میں مسئلہ ہو رہا ہے؟”
اکثم اپنی جلن کو کسی صورت چھپا نہیں سکا۔
“خان میں نے ایسا تو نہیں کہا۔ اور آپ غصہ کیوں ہو رہے ہیں؟ آپ نے کھانی ہے چاٹ تو یہ لیں۔ ویسے بھی میرا پیٹ بھر گیا ہے۔”
ہانم کا نارمل انداز اکثم کو مزید غصہ دلا گیا تھا۔
“آپ یہ کھا لیں میں بے بی کو دیکھ لوں۔”
اس سے پہلے ہانم صوفے سے اٹھتی اکثم نے اس کا بازو پکڑ لیا۔
“آئندہ تم چھوٹے خان کے ساتھ نہ ہی زیادہ کھیلو گی اور نہ ہی اس کے ساتھ کچھ بانٹ کر کھائو گی۔ اور صرف چھوٹے خان ہی نہیں بلکہ کسی کے ساتھ بھی مجھے تم زیادہ بات کرتی نظر نہ آئے سمجھی تم۔”
اکثم کا آنچ دیتا لہجہ مقابل کی جان جلا گیا تھا۔ ہانم کے چہرے پر ناسمجھی کے تاثر کو بھانپتے ہوئے وہ مزید گویا ہوا۔
“مجھے اچھا نہیں لگتا تمہارا یوں ہر کسی سے ایسے بات کرنا اور چیزیں شئیر کرنا۔”
اکثم نے بولتے ہوئے اس کے چہرے پر آئے بالوں کو دائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے ہٹاتے ہوئے ہلکی سے پھونک اس کے چہرے پر ماری تھی۔ جذبوں کے حصار میں اس وقت وہ دونوں ایک دوسرے کو دیکھنے میں مصروف تھے جب ثمامہ کی رونے کی آواز پر ہانم ہڑبڑاتے ہوئے پیچھے ہوئی تھی اور اکثم سے نظریں چراتے ہوئے وہ اپنے کمرے کی طرف گئی تھی جہاں ثمامہ اپنی نیند پوری کر کے اٹھ گیا تھا۔اکثم نے مسکرا کر اس کی پشت کو دیکھا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن سب رات کا کھانا کھا رہے تھے جب اکثم نے دلاور خان سمیت سب کی توجہ اپنی طرف کھینچی تھی۔
“بابا جان ۔۔ مجھے آپ سے کچھ بات کرنی ہے۔”
اکثم کے چہرے سے زیادہ اس وقت اس لہجے میں موجود سنجیدگی پر سب بے ساختہ اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
“کیا ہوا بڑے خان؟ سب ٹھیک ہے نا؟”
اکثم نے سب گھر والوں پر ایک نظر ڈالی اور گہری سانس فضا میں خارج کر کے وہ دلاور خان سے مخاطب ہوا تھا۔
“بابا جان آپ جانتے ہیں ڈاکٹر بننا میرا خواب ہی نہیں میرا جنون بھی ہے۔اور۔۔۔”
“بڑے خان بغیر کسی تمہید کے بات کرو۔”
دلاور خان نے اکثم کو درمیان میں ہی ٹوک کر کہا تھا۔ اکثم نے اپنے خشک لبوں کو تر کیا تھا۔
“بابا جان مجھے کینیڈا یونیورسٹی سے سکالرشپ آفر آئی ہے۔ اور میں اس آفر کو ہاتھ سے جانے نہیں دینا چاہتا اس لئے میں باہر جانا چاہتا ہوں مزید پڑھائی وہاں جا کر کرنا چاہتا ہوں۔ کاغذی کاروائی ساری مکمل ہوچکی ہے۔ پرسوں دوپہر تین بجے کی فلائٹ ہے۔ مجھے بس آپکی اجازت درکار ہے۔”
اکثم نظریں جھکائے اپنا مدعا بیان کر چکا تھا۔ جبکہ سب کھانے سے ہاتھ روکے اکثم کو دیکھ رہے تھے۔
“بڑے خان تم ہم سب کو چھوڑ کر جانا چاہتے ہو؟”
یسرا بیگم کی لرزتی آواز نے اسے سر اٹھانے پر مجبور کیا تھا۔ وہ بے ساختہ اپنی جگہ سے اٹھا اور یسرا بیگم کے قدموں میں گھٹنوں کے بل بیٹھا تھا۔
“اماں جان میں آپ کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتا بس اپنا کرئیر بنانا چاہتا ہوں پلیز اس طرح جذباتی ہو کر آپ مجھے کمزور مت کریں۔”
اکثم کے لفظوں میں التجا تھی۔
“کتنا عرصہ ہمیں تم سے دور رہنا ہوگا؟”
دلاور خان نے مسکرا کر اکثم کے چہرے کی طرف دیکھ کر کہا۔
“چند سالوں کی بات ہے بابا جان۔ پھر واپس مجھے یہی آنا ہے۔”
اکثم ان کے لفظوں میں موجود اجازت کو محسوس کرتے ہوئے وہ مطمئن ہوگیا تھا۔ وہ جانتا تھا دلاور خان اس کے کسی فیصلے پر اعتراض نہیں کریں گے۔
“ٹھیک ہے ۔۔ اللہ تمہیں کامیاب کرے آمین۔”
دلاور خان نے یہ بول کر اکثم کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔ جبکہ یسرا بیگم وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھیں۔ ہانم نم آنکھوں سے اپنے کمرے کی طرف چلی گئی تھی۔ جبکہ ارتسام سر جھکائے وہاں ہی کشمکش میں کھڑا شاید نہیں یقینا رو رہا تھا۔
اکثم اس کے قریب آیا اور دونوں ہاتھوں سے اس کا چہرہ اوپر کیا۔ سفید گالوں پر آنسوئوں نے لکیریں کھینچی ہوئی تھیں۔ اکثم نے بے ساختہ اسے خود میں بھینچا تھا۔
“بھائی نہیں جائیں نا۔۔ میں یہاں تنہا ہو جائوں گا۔”
ارتسام اپنے دونوں ہاتھوں سے اس کے گرد حصار باندھتے ہوئے نم لہجے میں التجا کر رہا تھا۔
“چھوٹے خان تم بہت بہادر ہو یار۔ تم اس طرح کرو گے تو باقی گھر والوں کا خیال کون رکھے گا؟ میں تو تمہارے بھروسے یہاں سے جا رہا ہوں کہ میرا شیر سب سنبھال لے گا۔”
اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے اکثم نے اس کے بالوں پر بوسہ دیا تھا۔ جواب میں ارتسام نے خاموشی سے اپنا سر اثبات میں ہلا دیا۔ سوائے اکثم کی بات ماننے کہ وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا۔ اکثم نے گہری سانس فضا کا حصہ بناتے ہوئے اپنی ماں اور بیوی کے کمرے کی طرف دیکھا تھا۔ یقینا دونوں کو راضی کرنا مشکل تھا۔ وہ کسی جذباتی دبائو کے زیر اثر اپنا فیصلہ بدلنا نہیں چاہتا تھا۔ پڑھائی سے زیادہ شاید وہ اپنے بے لگام ہوتے جذبات سے ڈر گیا تھا جو اسے ہر وقت ہانم کے سامنے اسے شرمندگی سے دوچار کر دیتے تھے۔ وہ ہانم کو اس رشتے کو سمجھنے اور سوچنے کے لئے وقت دینا چاہتا تھا۔ اسامہ کے لاکھ سمجھانے پر بھی وہ نہیں مانا تھا۔ اس لئے اسامہ بھی اپنے پیرنٹس سے بات کر کے اس کے ساتھ ہی کینیڈا جا رہا تھا۔ آنے والا کل کیسا ہوگا اس کا انداز کرنا بیوقوفی کے سوا کچھ نہیں ہوتا اور گزرے کل کے اوراق کو پلٹنا اعلی درجے کی حماقت میں شامل ہوتا ہے۔ جو وقت میسر ہے اسے عقلمندی سے خوبصورت بنانا چاہیے۔ خدا کی مصلحت کا راز کوئی نہیں جانتا اس لئے جو میسر ہے اس سے فائدہ اٹھائو، جو ہو چکا اسے بھول جائو اور جو ہونے والا ہے اس کے بارے میں گمان مت پالو۔ بے شک وہ بہتر سے بہترین کی طرف لے جاتا ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم نہیں جانتا تھا کہ دلاور خان نے یسرا بیگم کو کیسے منایا؟ انہیں کیا تسلی دی؟ وہ جانتا تھا تو بس اتنا کہ اب اس کی ماں کو کوئی اعتراض نہیں ہے۔ اور ہانم اس دن سے اقصی کے کمرے میں ثمامہ کو لے کر سو جاتی تھی۔ اس کی ناراضگی کا واضح اظہار بھی اکثم کے دل کو پگھلانے میں ناکام ثابت ہوا تھا۔ آج اس کی فلائٹ تھی۔ وہ اپنی پیکنگ میں مصروف تھا جب ہانم کمرے میں داخل ہوئی۔ اکثم نے اسے ایک نظر دیکھا اور دوبارہ پیکنگ میں مصروف ہو گیا۔
“خان آپ پلیز مت جائیں نا۔۔۔ میں کوئی ضد نہیں کروں گی لیکن آپ مجھے چھوڑ کر مت جائیں ۔۔۔میں آپ سے بےبی بھی نہیں مانگوں گی۔۔۔ پلیز مت جائیں۔”
ہانم روتے ہوئے اس کے سامنے آئی تھی۔جو اسے اگنور کئے اپنی پیکنگ میں مصروف تھا۔ وہ اس کے آنسوئوں سے پگھلنا نہیں چاہتا تھا کیونکہ اگر وہ رک جاتا تو یقینا وہ اپنے جذبوں سے بے بس ہو کر اس کی معصومیت کو ختم کر دیتا۔
“ہانم مجھے پیکنگ کرنی ہے پلیز جائو یہاں سے۔”
اکثم نے اسے دیکھے بغیر کہا۔
“نہیں آپ کہیں نہیں جا رہے۔۔۔ میں بتا رہی ہوں آپکو۔۔۔ اگر آپ گئے تو میں سامی سے بھی بات کروں گی اس کے ساتھ کھانا بھی کھائوں گی۔۔ اور اس کو اپنا پکا والا دوست بھی بنا لوں گی۔”
اکثم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی تھی اس کی دھمکیوں کی وجہ سے جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا تھا۔
“میرا جانا ضروری ہے ہانم۔”
اکثم نے اسے شانوں سے پکڑ کر نرمی سے کہا۔
“میں اپنے ابا کے پاس واپس چلی جائوں گی۔”
ہانم منہ بسور کر بولی تو اکثم کی پیشانی پر لاتعداد شکنیں نمودار ہوئیں۔
“بس کرو۔۔۔ اور آئندہ فضول قسم کی بکواس کی تو مجھ سے برا کوئی نہیں ہوگا۔”
اکثم نے اسے گھورتے ہوئے کہا جبکہ مقابل کے رونے میں شدت آگئی تھی۔
“آپ سے برا کوئی ہے بھی نہیں۔”
نیلی آنکھوں سے نکلتے آنسو اور لرزتے لبوں سے نکلے الفاظ۔ اس نے ہانم کو بے ساختہ اپنے حصار میں لیا تھا۔ ہانم نے اس کی شرٹ کو ذور سے اپنے دونوں ہاتھوں کی مٹھیوں میں دبوچ لیا تھا۔ وہ یقینا اپنے جذبات سے بے خبر ہوتے ہوئے بھی اس کی جدائی کا خوف دل میں لئے ہوئے تھی۔ آنسوئوں میں روانگی آئی تو اکثم نے بے بسی سے لب بھینچ لئے تھے۔ وہ اسے جھوٹی تسلی نہیں دینا چاہتا تھا۔
“ہانم بس بھی کرو یار۔۔ کتنا روتی ہو تم۔”
اکثم اس کے چہرے پر چمکتے موتیوں کی صورت میں بہنے والے اشکوں کو اپنی انگلیوں کی پوروں پر چن کر اسے معتبر کر رہا تھا۔
“خان اگر میں اللہ کے پاس چلی گئی تو۔۔۔”
“ہانم فضول بکواس نہیں کرو۔ ورنہ ایک لگائوں گا۔۔”
اکثم کو اس کے الفاظ تکلیف دے گئے تھے۔ اس کو گھورتے ہوئے وہ دوبارہ سے پیکنگ میں مصروف ہو گیا۔
“میں کیسے رہوں گی آپ کے بغیر؟”
“تمہارا بےبی ہے تمہارے پاس۔”
تھوڑی دیر پہلے والی سختی اب نرمی کا لبادہ اوڑھ چکی تھی۔
“خان میں۔۔”
ہانم کے الفاظ ابھی لبوں پر تھے جب اکثم نے پلٹ کر اس کے لبوں پر اپنا دایاں ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروایا۔
“تم اکثم خان کی جان ہو۔ تم سے دور نہیں جا رہا ہوں۔ ہر روز کال کروں گا۔ کیونکہ تمہاری آواز سنے بغیر اور تمہیں دیکھے بغیر اب خان کی سانسیں رک جاتی ہیں۔ تمہیں اس دل میں قید کر کے لے جا رہا ہوں اور امید کرتا ہوں اس قید سے رہائی تم بھی نہیں چاہو گی۔ “
بھوری آنکھوں کی چمک اور خمار آلود لہجہ ہانم کو لرزنے پر مجبور کر گیا تھا۔ چہرے پر پڑتی سانسوں کی تپش پر ہانم کو اپنے رخسار تپتے ہوئے محسوس ہوئے تھے۔ حیا ایسی غالب آئی کہ وہ پلکوں نے اٹھنے سے انکار کر دیا تھا۔ وہ لفظوں کو سمجھنے سے فلحال قاصر تھی لیکن مقابل کا آنچ دیتا لہجہ اور قربت اس کی فطری حس کو اجاگر کر رہی تھی۔ اکثم نے چند ثانیے تک اس منظر کو نظروں میں قید کیا تھا پھر وہ نہیں جانتا کہ اسے کیا ہوا؟ وہ سب بھلائے جھکا تھا اور اس کے لرزتے لبوں پر رکھے ہاتھ پر اپنے تشنہ آور لب رکھ کر مقابل کی سانسیں روک گیا تھا۔ہانم ایک لمحہ ضائع کئے بغیر پیچھے ہٹی تھی۔ جبکہ اکثم اس کے پیچھے ہٹنے پر جیسے اپنے حواس میں واپس آیا تھا۔ خاموشی نے بسیرا کیا تو مجبورا اکثم کو ہی اسے ختم کرنا پڑا۔
“اپنا خیال رکھنا اور آج جو کچھ ہوا اس کا ذکر کسی سے نہیں کرنا۔ میں روزانہ کال کروں گا۔ اب فلائٹ کا وقت ہو رہا ہے مجھے جانا ہے۔”
اکثم نظریں چراتے ہوئے بولا اور بیگ کی طرف بڑھا تھا جب ہانم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
“آپ بھی میری بات دھیان سے سن لیں میں آپ سے بات نہیں کروں گی کبھی نہیں کروں گی اگر آپ مجھے چھوڑ کر گئے تو۔”
اس کی دھمکی پر وہ مسکرایا تھا۔
“تم ایک دن بھی مجھ سے بات کئے بغیر نہیں رہ سکتی۔”
اکثم نے اس کی دھمکی خو گویا ناک سے مکھی کی طرح اڑایا تھا۔ جبکہ ہانم لب بھینچ کر ایک الوداعی نظر اس پر ڈال کر کمرے سے چلی گئی تھی۔ اکثم نے مسکرا کر اس کی پشت کو دیکھا تھا۔ اسے یقین تھا ہانم کی یہ دھمکی صرف باتوں تک ہی ہوگی لیکن بہت جلد وقت اس کی تمام سوچوں کو غلط ثابت کرنے والا تھا۔
ایک لفظ کی جدائی سے
تین لفظوں کی موت اچھی ہے
محبت وقت مانگتی ہے تاکہ
وہ بتلائے کہ وہ کتنی سچی ہے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: