Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 21

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 21

–**–**–

“خان۔”
ایک چیخ نما آواز کے ساتھ وہ آج پھر جاگ گئی تھی۔ بیڈ پر لیٹی رشیدہ بی بھی اس کی چیخ پر اٹھ گئی تھیں۔ جبکہ ثمامہ سویا ہوا تھا۔ پسینے شرابور ہوتے ہوئے وہ اپنے تنفس کو بحال کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔ رشیدہ بی نے جلدی سے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی تھی۔ پچھلے ایک ہفتے سے اس کا یہ معمول بن چکا تھا۔ سائیڈ ٹیبل سے پانی کا گلاس بھرتے ہوئے وہ ہانم کے پاس بیٹھی تھیں۔ نیلی آنکھوں میں ویرانی لئے وہ رشیدہ بی کو دیکھنے لگی۔ رشیدہ بی نے اس کے لرزتے لبوں کے ساتھ پانی کا گلاس لگایا تو اس نے ایک دو گھونٹ بھرا اور بائیں ہاتھ سے گلاس کو پیچھے کر دیا۔ رشیدہ بی نے گلاس کو دوبارہ سائیڈ ٹیبل پر رکھا اور ہانم کو دیکھنے لگیں۔ جو آنسوئوں کو روکنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے گھٹنوں کو سمیٹ کر ان میں سر دئیے اپنے ضبط کی تمام حدود کو توڑ گئی تھی۔ ایک ہفتہ ہوگیا تھا اکثم کو کینیڈا گئے ہوئے۔ اور اس ایک ہفتے میں وہ سر تا پیز بدل چکی تھی۔ جس کی باتوں پر سب گھر والے مسکراتے تھے وہ اب خاموش ہو چکی تھی۔ مسکراہٹ نے گویا اس کے لبوں سے تعلق توڑ دیا تھا۔رشیدہ بی نے آگے بڑھ کر اسے اپنی آغوش میں لیا تھا۔
“ہانم بیٹا بس کرو نا ۔۔ اس طرح کرنے سے بڑے خان واپس تو نہیں آ جائیں گے نا؟ اور خود کو تکلیف دے کر تم کیوں سب گھر والوں کو دکھ دے رہی ہو؟”
رشیدہ بی نے اس کے بالوں کو دائیں ہاتھ سے سہلاتے ہوئے نرمی سے سمجھایا۔
“چچی ۔۔۔۔ وہ ۔۔ مجھے۔۔ کیسے۔۔ چھوڑ۔۔ کر۔۔۔ جا۔۔ سکتے۔۔۔ ہیں؟ انہیں۔۔ معلوم۔۔ تھا۔۔ کہ۔۔ ہانم۔۔ نہیں۔۔۔ رہ ۔۔۔ سکتی۔۔ ان۔۔ کے۔۔ بغیر۔۔ اس۔۔ لئے۔۔ وہ۔۔ جان۔۔ بوجھ۔۔ کر ۔۔ مجھے۔۔ چھوڑ ۔۔ گئے۔”
ہچکیوں میں بمشکل لفظوں کو لبوں سے آزاد کرتے ہوئے وہ رشیدہ بیگم کی آنکھیں بھی نم کر گئی تھی۔
“ہانم بڑے خان نے کہا تو ہے کو وہ جلدی آ جائیں گے۔”
“میں ان سے ناراض ہوں چچی وہ اپنی بیوی کو چھوڑ کر چلے گئے کون جاتا ہے ایسے چھوڑ کر؟”
ہانم اپنے آنسوئوں کو صاف کرتے ہوئے بولی تو رشیدہ بیگم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی۔ جسے وہ بروقت چھپاتے ہوئے ہانم سے گویا ہوئی تھیں۔
“کیا وہ تمہارے لئے اتنے اہم ہیں جس کی وجہ سے تم سب گھر والوں کو نظر انداز کر رہی ہو؟ چھوٹے خان، بڑی بیگم اور خان صاحب اتنے پریشان ہیں تمہاری وجہ سے۔۔۔ ان کا ہی سوچ لو بیٹا اور بس کردو۔ ویسے بھی اتنی مشکلوں سے تمہارا بخار کل اترا ہے اب پھر سے بیمار نہ ہو جانا۔”
رشیدہ بی نے ہانم کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے کہا تو ہانم خاموشی سے انہیں دیکھنے لگی۔
“میرا کسی سے بات کرنے کو دل نہیں کرتا چچی ۔۔۔ مجھے ایسے لگتا ہے جیسے کوئی میری گردن دبا رہا ہو۔ میرا سانس رک جاتا ہے جب میں اس کمرے سے باہر نکلتی ہوں۔”
معصومیت سے بولتے ہوئے وہ رشیدہ بیگم کو حیرانگی سے دوچار کر گئی تھی۔ اس عمر میں وہ اس حد تک اکثم کی دیوانی ہو چکی تھی۔
کہ سانس لینے میں بھی دشواری ہو رہی تھی اسے۔ رشیدہ بی کو بے ساختہ اکثم کی قسمت پر رشک آیا تھا۔
“اچھا یہ بتائو آج بڑے خان سے بات کیوں نہیں کی تم نے؟ ایک ہفتہ سے وہ تم سے بات کرنا چاہتے ہیں تو پھر بات کیوں نہیں کر رہی تم ان سے؟”
رشیدہ بی نے اپنے ذہن میں ابھرتے سوال کو لبوں سے آزاد کیا تھا۔
“جب وہ مجھے چھوڑ کر جا چکے ہیں تو میں بھی ان سے بات نہیں کروں گی۔ انہوں نے میری بات نہیں مانی تو میں بھی ان کی بات نہیں مانوں گی۔ میں ان سے کبھی بات نہیں کروں گی۔”
ہانم کے لہجے میں سختی نے رشیدہ بی کو ٹھٹھکنے پر مجبور کر دیا تھا۔
“ہانم بیٹا۔۔۔”
“مجھے نیند آ رہی ہے چچی اور آپ بھی سو جائیں۔”
ہانم رشیدہ بی کو درمیان میں ہی ٹوک کر لیٹ گئی تھی۔ اس وقت وہ ایک بچی نہیں بلکہ ایک سمجھدار لڑکی لگ رہی تھی۔ جو اپنے ارادوں میں پختگی ظاہر کر چکی تھی۔
رشیدہ بی نے گہری سانس فضا میں خارج کی اور مسکرا کر ہانم کی پشت کو دیکھا ۔ ان کا خیال تھا کہ ہانم زیادہ دن اپنی بات پر قائم نہیں رہ سکے گی۔ لیکن ان کی یہ سوچ صرف ان کی خام خیالی ہی ثابت ہونے والی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہاسٹل کے ٹیرس پر وہ کھڑا دور چاند کو دیکھ رہا تھا جو اپنی آب و تاب سے اسے اپنی طرف متوجہ کئے ہوئے تھا۔ ٹھنڈی ہوائوں میں اس کا جسم سن ہو چکا تھا۔ لبوں پر مسکراہٹ غائب تھی۔ ایک عجیب بے چینی کے زمرے میں کھڑا وہ خود کو بے بس محسوس کر رہا تھا۔ بہت ساری سوچوں نے اس کے گرد گھیرا تنگ کیا ہوا تھا۔ وہ اسے سوچنا نہیں چاہتا تھا پر سوچنے پر مجبور تھا کیونکہ وہ دل میں بس چکی تھی۔ روح پر لگے زخموں کو اپنی معصومیت سے پیوند لگا چکی تھی۔
“اکثم یار تم یہاں ہو اور میں کب سے تمہیں نیچے ڈھونڈ رہا ہوں؟”
اسامہ کی خفگی بھری آواز پر وہ پلٹ کر مسکرایا تھا لیکن اس کی مسکراہٹ اجنبی لگی تھی اسامہ کو اس کے چہرے پر۔ اسامہ جانتا تھا یہ مسکراہٹ صرف ایک شخص کی عنایت کردہ ہے جو اکثم خان کی دنیا ہے۔
“بات ہوئی بھابھی سے؟”
اسامہ نے بنا تمہید کے اس کے چہرے کی طرف دیکھ کر نرمی سے پوچھا۔
جواب میں اکثم رخ موڑ گیا تھا۔ وہ شاید نہیں یقینا رونے والا ہو چکا تھا۔ آنکھوں میں چمکتی نمی کو دیکھ کر اسامہ نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔
“وہ مجھ سے بات نہیں کرنا چاہتی اسامہ۔”
اکثم کے لہجے میں نمی اسامہ کو حیران کر گئی تھی۔ صرف ایک ہفتہ ہی تو ہوا تھا اسے یہاں آئے ہوئے۔
“پریشان نہیں ہو اکثم وہ کر لیں گی بات۔۔ ویسے بھی ان کی ناراضگی زیادہ دیر نہیں رہے گی۔”
“وہ دن بھر کی ساری روداد مجھے رات کو سناتی تھی اور کوئی لمحہ ایسا نہیں ہوتا تھا جب وہ مجھ سے اتنا ناراض ہوئی ہو۔ وہ کبھی ایسا نہیں کرتی یار۔۔ اس دفعہ وہ بیویوں والا ناراض ہو گئی ہے۔”
آخر بات پر اس کے لب مسکرائے تھے لیکن دل کا درد بڑھ چکا تھا۔ بھوری آنکھوں میں چمکتے آنسو اب گالوں پر زینت بنے تھے۔ وہ عشق کے الگ مقام پر تھا۔ اس مقام پر جہاں مقابل کی ذرا سی بے اعتنائی اسے بے موت مار رہی تھی۔
“یار اکثم سب ٹھیک ہو جائے گا خدا پر یقین رکھو۔”
اسامہ نے اپنا دایاں ہاتھ اس کے کندھے پر رکھا تھا۔ وہ چمکتی آنکھوں سے اسامہ کے ہاتھ کو دیکھنے لگا۔
“اسی یقین پر تو سانسیں لے رہا ہوں۔”
یہ بول کر وہ رخ موڑ گیا تھا جبکہ اسامہ لاجواب ہو چکا تھا اکثم کے آگے۔۔ وہ تسلی کے االفاظ کیا ڈھونڈتا کیونکہ وہ تو خود بے بسی کی انتہا پر تھا۔
یقین کامل کر تو سہی
عشق تاثیر رکھے گا
وہ لفظ جدائی بولے گا جب
تو دل پر ہاتھ رکھے گا
ڈھونڈ نہ زمانے میں
اس جیسا ثانی کوئی
فقط وہی دشمن جان
تیرے عشق کی نگری میں
وفائوں کو ساتھ رکھے گا
زخموں کو اس قدر تو ادھیڑ
کہ وہ جاتے ہوئے بھی
مرہم ساتھ رکھے گا
( کرن رفیق )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وقت کبھی کسی کے لئے نہ رکا ہے نہ رکے گا۔ اس کی یہی عادت سب سے اچھی ہوتی ہے کہ لوگ اپنے درد کے ساتھ جینا سیکھ جاتے ہیں۔ دس سال کا عرصہ گزر چکا اور ان دس سالوں میں بہت کچھ بدل چکا تھا۔ ہانم کی اکثم سے بات نہ کرنے کی ویسے ہی قائم و دائم تھی۔ ہانم شروع شروع میں ایک دو مہینہ کافی روئی تھی لیکن پھر گھر والوں اور ثمامہ کے لئے وہ بدل گئی تھی۔ اسے اب رات کی تنہائی اچھی لگنے لگتی تھی۔ وہ اندھیرے میں اپنے آنسوئوں کو سب سے چھپا لیتی تھی۔ اس کی عدم توجہ کی وجہ سے ڈاکٹر تو نہیں البتہ باٹنی میں ماسٹرز کر چکی تھی۔اس کی زندگی اب صرف ثمامہ کے گرد گھومتی تھی۔ پہلے پہل سب نے اسے اکثم سے بات کرنے پر بہت سمجھایا لیکن اس کی نہ کو ہاں میں کوئی نہیں بدل پایا۔ ظاہری طور پر بھی وہ پہلے سے زیادہ خوبصورت ہوگئی تھی۔ ارتسام سے اس کی نوک جھونک جا رہی تھی۔ اقصی کا ایک سات سال اور تین سال کی بیٹی تھی۔ وہ خان حویلی میں پندرہ دن بعد آتی تھی اور دو دن رک کر جاتی تھی۔ ثمامہ اس سے زیادہ ہانم کے پاس ہوتا تھا وہ جانتا تھا کہ اس کی سگی ماں اقصی ہے لیکن ہانم سے محبت اس کی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں تھی۔ ارتسام بزنس ایڈمنسٹریشن کی ڈگری لے کر اب اپنے باپ کی زمینوں کو دیکھتا تھا اور ساتھ ہی شہر میں اپنا امپورٹ ایکسپورٹ کا بزنس شروع کر چکا تھا۔ آج رات کے کھانے کے بعد سب گھر والے سو چکے تھے جب ارتسام سگنل ایشو کی وجہ سے ایک کال سننے چھت پر آیا تو سامنے منڈیر کے ساتھ کھڑی ہانم کو دیکھ کر ٹھٹھک گیا۔ ہانم کی ارتسام کی طرف پشت تھی وہ ارتسام کی موجودگی کو محسوس ہی نہ کر سکی شاید وہ اپنی زندگی کی اتار چڑھائو میں کھو کر جیسے خود سے ہی بیگانہ ہو چکی تھی۔ ارتسام نے ایک گہری سانس فضا کا حصہ بناتے ہوئے اس کی طرف پیش قدمی کی تھی۔
“بھابھی۔”
ارتسام نے نرمی سے ہانم سے چار قدم کے فاصلے پر رک کر اسے پکارا۔ ہانم جو یقینا رو رہی تھی جلدی سے اپنی آنکھوں کو صاف کرتے ہوئے پلٹ کر مسکرائی تھی۔ وہ سیکھ چکی تھی اپنے درد کو ہنسی میں چھپانے والی عادت کو لیکن ارتسام سے وہ شاید چاہ کر بھی کچھ چھپا نہیں پاتی تھی۔
“تم اتنی رات کو یہاں کیا کر رہے ہو؟”
ہانم نے مسکرا کر ارتسام سے پوچھا تو ارتسام نے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے گھورا تھا۔
“آپ رو کیوں رہی تھیں مجھے یہ بتائیں۔”
ارتسام نے بنا تمہید اس سے پوچھا تھا۔
“میں کب رو رہی تھی سامی۔۔ تمہیں غلط فہمی ہوئی ہے۔”
ہانم اپنی نظروں کا زاویہ بدل چکی تھی کیونکہ میں واضح تحریر کردہ دکھ مقابل سے پوشیدہ نہیں تھا۔
” بھابھی کل سے رمضان مبارک شروع ہو رہا ہے اور آپ مجھ سے جھوٹ بول رہی ہیں۔ اس مہینے میں تو کم ازکم انسان کو جھوٹ نہیں بولنا چاہیے؟”
” سامی تم جانتے ہو میں پچھلے سات سالوں سے ہر رمضان میں دعا کرتی تھی کہ خان واپس آ جائیں لیکن پچھلے تین سالوں سے یہ دعا کرنا چھوڑ چکی ہوں کیونکہ میں جانتی ہوں پڑھائی کو بہانہ بنا کر وہ مجھ سے اپنی جان چھڑا کر گئے ہیں۔زندگی کو سمجھنا آسان نہیں ہے چھوٹے خان یہ ایسے آپکو گھما دیتی ہے کہ قسمت حیرانگی سے دور کھڑے ہو کر آپکا تماشہ دیکھتی ہے۔”
وہ مضبوط لہجے میں بول کر وہاں سے جانے لگی جب ارتسام نے اسے روک لیا۔
“بھابھی نہیں کیا کریں نا ایسا۔۔ اگر آپ روتی ہیں تو مجھے تکلیف ہوتی ہے اور پھر میں آپ کے لاڈلے کو مزید تنگ کرنے لگتا ہوں۔”
ارتسام کی بات پر ہانم نے اسے گھورا تھا۔
“خبردار اگر میرے بیٹے کو ذرا سا تنگ بھی کیا تو۔۔ میں تمہاری پٹائی سرعام بھی کر سکتی ہوں یاد رکھنا۔ پٹائی سے یاد آیا ڈھیٹ انسان کل شام کو کہاں گئے تھے تم مجھے بتائے بغیر ؟ کہیں اسی لڑکی سے ملنے تو نہیں گئے تھے جو آپ جناب کو پسند آگئی ہیں؟”
ہانم شائستگی سے بات بدل کر اب کمر پر ہاتھ ٹکائے، دایاں آبرو اچکا کر اسے گھورنے کی کوشش کر رہی تھی جو سر کجھاتے ہوئے مسکراہٹ کو لبوں میں دبا گیا۔
“بھابھی آہستہ بولو بچے کو مروائو گی کیا؟”
ارتسام اس کا موڈ ٹھیک کرنے کے لئے بولا۔ ایک سال پہلے ہی ارتسام نے اسے بتایا تھا کہ اسے گائوں کی ایک لڑکی پسند آ گئی ہے۔ جسے ایک دن وہ معجزاتی طور پر اپنی زمینوں پر دیکھ چکا تھا۔ پہلی نگاہ میں ہی وہ دل ہار چکا تھا۔ ہانم نے مسکرا کر اس کے دائیں گال پر ہلکا سا تھپڑ رسید کیا۔
“یہ بچہ بڑا ہوچکا ہے۔ یہاں تک کے گدھے بھی اس کے سامنے اب چھوٹے لگتے ہیں۔”
ہانم کی بات پر ارتسام نے مصنوعی خفگی سے اسے دیکھا تھا۔
“بھابھی اب آپ کے لاڈلے کو مجھ سے بچا لے کوئی؟”
ارتسام نے اسے دھمکی دی جسے ہانم مسکرا کر سنتے ہوئے اس سے گویا ہوئی تھی۔
“تمہاری ہڈیوں کا سرمہ پیس کر تمہاری ہی آنکھوں میں ڈال دوں گی اگر میرے بچے کے ساتھ کوئی الٹی سیدھی شرارت کرنے کا سوچا بھی تو؟”
اس کے لہجے میں ثمامہ کے لئے ممتا اور محبت تھی ارتسام نے مصنوعی ناراضگی جتاتے ہوئے اس سے رخ موڑ لیا تھا۔
“ہاں میں تو انڈے بیچنے والا ہوں نا جیسے۔۔ میری تو کوئی قدر ہی نہیں ہے اور اس دس سال کے پٹاکے کے لئے آپ کے پاس محبت کا دریا ہے لیکن میرے لئے تو اس دریا کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے۔”
بچوں کی طرح منہ بسورتے ہوئے وہ ہانم کو ہنسنے پر مجبور کرگیا تھا۔ وہ قہقہ لگاتے ہوئے آنکھوں میں ابھرتی چمک کو چھپانے کی کوشش کر رہی تھی۔
“جو انسان خود خالی دامن ہو اس کے سائے سے بھی دور رہو کیونکہ اس کے پاس محبت تو دور کی بات شاید کوئی احساس ہی نہیں ہوتا۔”
ہانم کی بات پر وہ اس کے چہرے سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی اور ایک دم سنجیدگی نے اپنی جگہ بنائی تھی۔
“ارتسام خان کی بہن ہیں آپ۔۔۔ اس طرح مایوسی بھری باتیں مت کیا کریں میں آپ کو آخری بار سمجھا رہا ہوں ورنہ میں سریس والا ناراض ہو جائوں گا۔”
“ہاہاہاہاہا۔۔۔۔ اچھے میرے بھائی نہیں کرتی ایسی باتیں اب۔۔ خیر رات ہوگئی ہے اور صبح مجھے سحری کے لئے بھی اٹھنا ہے اس لئے میں جا رہی ہوں سونے۔۔ شب بخیر۔”
ہانم اس کے بال بکھیر کر نیچے کی طرف چلی گئی تھی جبکہ ارتسام دور خلا میں اپنی سوچوں میں غرق ہوتے ہوگیا تھا۔ اس دوران اس کے لبوں پر ایک مسکراہٹ تھی۔ وہ آن والے وقت کا شاید سوچ کر پرسکون ہو چکا تھا۔
وہ مجھ سے محبت
بے مثال کرتے ہیں
واللہ یہ گمان بھی
کمال کرتے ہیں
(کرن رفیق )
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“یااللہ روزہ کب کھلے گا؟”
ہانم عصر کی نماز پڑھ کر حال میں آئی تھی اور با آواز بلند آسمان کی طرف دیکھ کر دعا مانگی اور پھر پیٹ پکڑ کر وہی صوفے پر بیٹھ گئی تھی۔ اکثم جو نماز پڑھ کر حال میں داخل ہوا تو ہانم کی دعا سن کر مسکرا دیا۔
“ہانم ۔۔۔ کیا ہوا بھوک لگی ہے؟”
اکثم اس کے سامنے دوسرے صوفے پر بیٹھتے ہوئے بولا تو ہانم نے معصومیت سے نچلا لب باہر نکالا اور مدھم آواز میں بولی۔
“خان مجھے بہت بھوک لگ رہی ہے۔ صبح آپ کی وجہ سے میں نے صرف دو روٹیاں کھائی تھیں۔ آپ نے مجھے تیسری روٹی نہیں کھانے دی تھی اور اذان ہو گئی۔”
ہانم کے الزام پر اکثم نے حیرانگی سے اسے دیکھا۔
“میں نے کب کہا کہ تم نہ کھائو؟”
“خان آپ نے کہا تھا اگر میں نے تیسری روٹی کھائی تو میں موٹی ہو جائوں گی اور پھر مجھے سکول میں سب چڑائیں گے۔”
ہانم نے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے گھورا تھا۔
“ہاں تو مجھے کیا معلوم تھا تمہیں بھوک لگ جائے گی۔”
“خان اماں جان کہتی ہیں جھوٹ بولنے سے روزہ ٹوٹ جاتا ہے اور اب آپ جھوٹ بول رہے ہیں وہ بھی بہت بڑا کیونکہ آپکو معلوم تھا مجھے بہت زیادہ بھوک لگتی ہے۔”
ہانم رو دینے کو تھی جبکہ اکثم نے اسے گھورا۔
“مجھے الہام نہیں ہونا تھا کہ تمہیں بھوک لگی ہوئی ہے اور ویسے بھی میں نے صرف مذاق میں کہا تھا کہ موٹی ہو جائو گی حالانکہ جتنا تم کھاتی ہو مجھے لگتا تھا تم دو ماہ میں ہاتھی بن جائو گی لیکن تم تو ماچس کی تیلی ہی رہی۔”
“خان آپ نے مجھے ہاتھی کہا؟”
ہانم اپنی سمجھ کے مطابق اسے گھور کر بولی تھی۔ اکثم نے گڑبڑا کر اسے دیکھا تھا۔
رمضان کی وجہ سے جھوٹ بھی نہیں بول سکتا تھا اور سچ بولتا تو اماں جان اور بابا جان سے ڈانٹ پڑ جانی تھی۔
“دیکھو ہانم وہ تو میں نے مثال دی تھی۔”
“خان آپ نے مجھے ہاتھی کہا ہے اور اب آپ پھر سے جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں بتاتی ہوں اماں جان کو۔”
ہانم اپنی جگہ سے اٹھ کر کھڑی ہوئی اور وہاں سے یسرا بیگم کے کمرے کی طرف جانے لگی جب اکثم نے اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنی جانب کھینچا تو وہ لڑکھڑاتے ہوئے اکثم سے ٹکرائی تھی۔
دونوں ہاتھ اس کے سینے پر رکھے وہ اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالنے کی بمشکل کوشش کر رہی تھی۔ اکثم کی قربت پر پچھلے کچھ دنوں سے اس کے ساتھ یہی ہو رہا تھا۔ چہرے کی تپش پر وہ چاہتے ہوئے بھی اپنی سانسوں کو ہموار نہیں رکھ سکی تھی۔ اکثم نے مہبوت ہو کر یہ منظر دیکھا تھا۔ وہ بے خود نہیں ہونا چاہتا تھا لیکن مقابل اپنی نیلی آنکھوں پر موجود پلکوں کی جھالر کو سرسراتے ہوئے وہ اسے بے خود ہونے پر مجبور کر رہا تھی۔ بائیں ہاتھ کی انگلیوں کی پوروں سے اس نے ہانم کے گال کو چھوا تھا ۔ ہانم کے سارے جسم میں سنسنی سی دوڑ گئی تھی ۔ وہ بے ساختہ بولی تھی۔
“خان مجھے چھوڑ دیں۔”
ہانم کی آواز کی لرزش پر وہ اپنے حواسوں میں لوٹا تھا۔ بے ساختہ اس نے ہانم کو چھوڑا تھا جو لڑکھڑاتے ہوئے صوفے پٹ تقریبا گری تھی۔
“ایم سوری پتہ نہیں کیسے؟ ایم سو سوری ہانم۔”
اکثم شرمندگی سے بول کر بنا اس کی طرف دیکھے وہاں سے باہر کی جانب چلا گیا تھا۔
“خان۔”
ایک چیخ نما آواز سے وہ اپنی منتشر ہوتی دھڑکنوں کو سنبھالتے ہوئے اٹھی تھی۔ پسینے سے شرابور وہ اندھیرے میں اس ظالم ہرجائی کے عکس کو تلاش کرنے لگی جو دس سال پہلے ہی اسے چھوڑ کر جا چکا تھا۔ ہانم نے اٹھ کر کمرے کی لائٹ آن کی اور گھڑی پر وقت دیکھا تھا جو تین بجا رہی تھی۔ دس سال سے وہ اس کی یادوں کے سہارے زندگی گزار رہی تھی۔
“خان کاش آپ مجھے زندہ درگور کر دیتے لیکن یوں تنہا چھوڑ کر نہیں جاتے۔ وقت نے مجھے آپ کے بغیر جینا سکھا دیا ہے۔ خدا راہ اب تب آئیے گا جب میری آخری سانسیں چل رہی ہوں۔”
ہانم اس کے تصور سے مخاطب ہو کر واش روم کی طرف چلی گئی اور پھر وضو کر کے اس نے تہجد کی نماز ادا کی اور کمرے سے باہر چلی گئی جہاں اس نے رشیدہ بی کے ساتھ مل کر سحری کی تیاری کرنی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: