Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 22

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 22

–**–**–

“ڈاکٹر روم نمبر 317 والے پیشنٹ کی حالت کافی سریس ہے ۔۔۔ ان کا ہارٹ رسپونس بہت کم کر رہا ہے آپ پلیز جلدی چلیں۔”
سفید یونیفارم میں ملبوس ایک نرس نے ہانپتے ہوئے بنا ناک کئے اس کی کیبن میں داخل ہوتے ہوئے کہا تھا۔ ڈاکٹر جو اپنے کیبن میں بیٹھا کوئی کیس فائل ریڈ کر رہا تھا نرس کی بات پر اسے دیکھنے لگا۔ پیشانی پر تین لکیریں بروقت نمودار ہوئی تھیں۔ بھوری آنکھوں میں غصے کی رمق ابھری تو نرس کو اپنی غلطی کا شدت سے احساس ہوا تھا۔
“آپ کو یقینا یہاں مینرز سیکھنے کی ضرورت ہے مس نینا۔”
سرد انداز میں بولتے ہوئے وہ اپنی جگہ سے اٹھا اور بنا اس کی طرف دیکھے روم نمبر 317 کی طرف بڑھ گیا۔ نرس بھی اس کی تقلید کرتے ہوئے روم میں داخل ہوئی جہاں پیشنٹ بڑے مزے سے جوس پینے میں مصروف تھا۔ نرس نے شاکڈ نظروں سے پیشنٹ کو دیکھا تھا جو دل جلا دینے والی مسکراہٹ سے ڈاکٹر کو دیکھ رہا تھا۔
“روم نمبر 216 میں جو پیشنٹ ہیں مجھے ان کی فائل چاہیے مس نینا۔”
ڈاکٹر کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں واپس آئی تھی۔ تقریبا بھاگنے والے انداز میں وہ وہاں سے گئی تھی۔
“اس طرح کے مذاق پر آپ کو یہاں جیل بھی ہو سکتی ہے مسٹر اسامہ۔”
ڈاکٹر نے گھور کر دیکھا تو اسامہ کا قہقہ نکل گیا۔
“چلو کوئی نہیں دونوں ساتھ ساتھ جائیں گے کیونکہ مریض اپنے ڈاکٹر کے بغیر تو کہیں جائے گا نہیں؟”
“جسٹ شٹ اپ۔۔۔ مذاق ہے تمہارے لئے کسی کی احساسات سے کھیلنا؟”
مقابل کی دھاڑ نما آواز پر بھی وہ سنجیدگی کو لہجے میں سمو نہیں سکا تھا۔
“اوئے بس کر تیرا پٹھانوں والا خون ابل رہا ہے لگ گئی سمجھ مجھے۔ ویسے اگر میں مر جاتا تو یقینا تیری جان چھوٹ جاتی۔”
“تم یقینا چاہتے ہو میں تمہاری گردن کو اپنے ہاتھوں سے دبائوں۔”
“ہاہاہاہا۔۔۔ ضرور پھر کل کے اخبار میں آئے گا اکثم خان دا گریٹ ہرٹ سپیشلسٹ نے اپنے ایک مریض کو گردن دبوچ کر جان سے مار دیا۔”
اسامہ ہنستے ہوئے جیسے اس کے فیوچر کا نقشہ کھینچ گیا تھا۔
اکثم کے عنابی لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔ اور گردن کو نفی میں ہلاتے ہوئے اس نے آگے بڑھ کر اسامہ کے کندھے پر ہلکی سی چپت لگائی تھی۔
“تو سدھر جائے یہ نہیں ہوسکتا۔”
“سدھر کر کیا کرنا یار۔۔ زندگی کا کیا بھروسہ کہ کب ختم ہو جائے اب پانچ سال پہلے جو ہوا اس کا خمیازہ میں نے کم تم نے زیادہ بھگتا ہے۔ مجھے معاف کر دے میری وجہ سے تم نے اتنی مصیبتوں کو فیس کیا۔”
اسامہ نم آنکھوں سے مسکرایا تھا اکثم نے اسے گھورا تھا۔
“دنیا میں تو واحد کمینہ انسان ہے جو اکثم خان کی جان ہے۔”
“آہ۔۔ مطلب بھابھی سے ابھی تک صلح نہیں ہوئی؟”
اسامہ نے اس کے چہرے کی طرف دیکھا جہاں اب کوئی بھی تاثر نہیں تھا۔
“وہ جان نہیں ہے خان کی وہ سانسیں اور روح ہے اکثم خان کی۔ دور رہا ہوں اس سے لیکن مجھے امید ہے وہ مجھے سمجھ جائے گی۔”
اکثم نے نظریں چراتے ہوئے جواب دیا۔
“پاکستان کب جا رہے ہیں ہم؟”
اسامہ اس کے چہرے کی سنجیدگی دیکھ کر بات بدل گیا تھا۔
“ایک ہفتہ ہوا ہے تجھے ہوش میں آئے اور تو پاکستان جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ ایک مہینے سے پہلے تو کہیں سفر نہیں کر سکتا سمجھا یا لگائوں کان کے نیچے ایک؟”
اکثم نے اسے گھورا تھا۔
“زیب کیسی ہے؟”
اسامہ نے کافی دیر خاموشی کے بعد اپنا سوال پوچھا تھا۔
“وہ بالکل ٹھیک ہے۔ گھر پر تمہارا انتظار کر رہی ہے انفیکٹ انتظار کر رہے ہیں تمہارا۔”
اکثم کی مسکراہٹ پر اسامہ نے اسے ناسمجھی سے دیکھا تھا۔
“تمہارے ایکسیڈنٹ کے دس دن بعد جب تو کوما میں جا چکا تھا تب مجھے معلوم ہوا تھا کہ تم باپ بننے والا ہے۔ بس اسی وقت سے زیب کو اپنی بہن بنا لیا۔ حالانکہ تم جانتے ہو یونیورسٹی میں ہماری بالکل نہیں لگتی تھی۔ اور اللہ نے تمہیں ایک بیٹے سے نوازہ ہے جسکا نام اس نے موسی رکھا ہے۔ بہت پیارا ہے ماشاءاللہ سے۔ بہت شرارتی ہے۔ تجھ سے ملنے بھی آتا تھا۔ جب تو دنیا سے بیگانہ ہو گیا تھا۔ تجھے وہ ڈیڈ بولتا ہے اور مجھے پاپا۔۔ حالانکہ زیب نے کافی دفعہ اسے کہا کہ ماموں بولا کرو لیکن ڈھیٹ پن میں وہ تم سے چار نہیں آٹھ قدم آگے ہے۔”
اکثم کے تفصیلی جواب پر اسامہ کے گال آنسوئوں سے بھیگ گئے تھے۔ وہ خوش تھا بہت خوش لیکن اس کی خوشی کی انتہا اس کے آنسوئوں پر ختم ہو رہی تھی۔
“مجھ پر خدا اس قدر مہربان ہو سکتا ہے میں نے کبھی نہیں سوچا تھا۔”
اسامہ کی آواز میں لرزش تھی۔ اکثم نے مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔
“جب تجھے ہوش آیا تھا میں تب ہی بتانا چاہتا تھا لیکن تمہاری کنڈیشن ایسی تھی کہ کوئی بھی شاک تمہیں واپس کوما میں لے جاسکتا تھا۔ اس لئے آج بتا رہا ہوں کیونکہ تمہارے ڈاکٹر سے بات ہو چکی ہے میری دو دن میں تمہیں ڈسچارج کر دیا جائے گا۔ اور یہ جو تم نے ابھی نرس کو میرا پتہ دے کر بھیجا تھا مجھے غصہ بہت آیا تھا اور اس کی سزا تمہیں گھر جا کر دوں گا۔ اور آخری بات کہ خدا پر اس قدر اپنا یقین پختہ کر لو اسامہ کہ جو دوسروں کی نظر میں ناممکن ہو وہ تم ممکن کر دو لیکن اس ذات کے سامنے عاجزی اور انکساری دکھانا کبھی نہ چھوڑنا۔”
اکثم کی بات پر اس نے اپنا سر اثبات میں ہلایا تھا۔ اکثم نے مسکرا کر اسے دیکھا اور نرمی سے بولا۔
“مجھے ایک پیشنٹ کو دیکھنا ہے میں ابھی آتا ہوں اور پلیز اب یہ اوچھی حرکت مت کرنا ورنہ تمہارے دل کہ دھڑکن کو سچ میں روک دوں گا۔”
اکثم اسے مصنوعی دھمکاتے ہوئے باہر چلا گیا جبکہ اسامہ ماضی کے اوراق کو پلٹنا شروع ہو چکا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ماضی:
اکثم کو اسامہ کی دوستی زیب سے یونیورسٹی میں ہوئی تھی۔ زیب ایک یتیم لڑکی تھی بو سکالرشپ پر پڑھنے پاکستان سے کینیڈا آئی تھی۔ اسامہ کی محبت جلد ہی دوستی میں بدل گئی تو اس نے اپنے والدین سے اجازت لے کر زیب سے شادی کر لی تھی۔ تعلیم مکمل ہونے سے تقریبا ایک ہفتہ پہلے ان کی نکاح ہوا تھا جس میں اکثم نے بطور گواہ اپنا فریضہ سر انجام دیا تھا۔ اکثم نے اپنے بابا جان سے مشورہ کر کے وہاں ایک فلیٹ خریدا تھا۔ جہاں اب وہ تینوں رہ رہے تھے۔ اسامہ ایک دن ہاسپٹل سے واپس آ رہا تھا جب اس کا ایک گاڑی سے بری طرح ایکسیڈنٹ ہوا۔ اتفاق تھا یا کچھ اور کہ اکثم نے اسی دن پاکستان واپس جانا تھا۔ پانچ سال اس نے ہانم کی آواز اور اسے دیکھے بغیر گزارے تھے۔ لیکن اسامہ کے ایکسیڈنٹ کی خبر ملتے ہی وہ اپنا ارادہ بدل چکا تھا۔ پھر جب ڈاکٹر نے اس کے کوما میں جانے کا بتایا تو اس نے بابا جان اور اماں جان کو سب بتا کر ان سے معذرت کرتے ہوئے اپنا پاکستان نہ جانے کا فیصلہ بھی سنا دیا۔ یسرا بیگم جانتی تھیں کہ اکثم کبھی بھی اسامہ کو تنہا چھوڑ کر واپس نہیں آئے گا اس لئے انہوں نے دل پر پتھر رکھ کر اسے اجازت دے دی تھی۔ ارتسام نے کافی واویلا مچایا تھا لیکن دلاور خان کی ڈانٹ نے اسے بھی خاموش کروا دیا تھا۔ ہانم ان سب سے لاعلم تھی۔ وہ نہیں جانتی تھی کہ اکثم کو وہاں کیوں اتنے سال رکنا پڑا۔ وہ کافی حد تک اس سے بدگمان ہو چکی تھی۔ بدگمانی اب کیا رنگ والی تھی یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن اتنا ضرور تھا کہ اب ہانم نے وقت پر سب چھوڑ دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
“چاچو میں موم کو دیکھ رہا ہوں کافی دنوں سے ۔۔ مجھے لگتا ہے کہ موم موٹی ہوگئی ہیں؟”
ارتسام اور ثمامہ حال میں بیٹھے آئسکریم کھا رہے تھے جو کہ ثمامہ کی فرمائش پر ارتسام لے کر آیا تھا۔ تب ثمامہ نے ہانم کی طرف دیکھ کر کہا جو کسی ملازمہ کو کچھ سمجھا رہی تھی۔ ارتسام نے ہانم کو دیکھ کر ثمامہ کو گھورا اور دانت پیستے ہوئے بولا۔
“ایسا کچھ نہیں ہے وہ تو بالکل نارمل ہیں۔ تمہاری آنکھیں موٹی ہو گئی ہیں۔”
ارتسام کی بات پر ثمامہ نے اپنی گرین کلر کی آنکھوں کو چھوٹا کیا اور چھوٹی سی ناک کو پھلاتے ہوئے بولا۔
“چاچو ۔۔ کبھی کبھی مجھے ایسا لگتا ہے جیسے میں آپکا سوتیلا بھتیجا ہوں اور موم آپکی سگی بہن۔”
ثمامہ کے شکوے پر ارتسام نے قہقہ لگایا تو ثمامہ نے اسے گھورا۔
“بات مت کیجئے گا اب مجھ سے۔”
ثمامہ کی بلیک میلنگ پر ارتسام نے اپنا سر نفی میں ہلا دیا مطلب وہ اب پکا ناراض ہونے والا تھا۔ ارتسام نے ایک نظر ہانم کو دیکھا جس کے خلاف وہ مذاق میں کچھ برداشت نہیں کرتا تھا اور ایک نظر ارتسام کو جو اپنی ہی ماں کو موٹا نہ کہنے پر اسے بلیک میل کر رہا تھا۔
“اب ناراضگی کیسے ختم ہوگی؟”
ارتسام کی بات پر ثمامہ کی آنکھیں چمکی تھیں۔
“اب موم کو آپ بتائیں کہ وہ کتنی موٹی ہو گئی ہیں۔”
ثمامہ کی بات پر ارتسام کی پوری آنکھیں کھلی تھیں۔ اچھا خاصہ وہ اس کی شامت کو دعوت دے رہا تھا۔ ایک طرف کھائی تھی تو دوسری طرف کنواں ۔ ثمامہ نے اسے اچھا خاصہ بے بس کیا تھا۔ ارتسام اسے گھور رہا تھا جب ہانم بھی وہاں آ گئی۔
“کیا ہو رہا ہے یہاں؟”
ہانم مسکراتے ہوئے صوفے پر بیٹھ گئی تو ثمامہ نے آنکھوں سے ارتسام کو اشارہ کیا۔ وہ اپنا گلا کھنکار کر ہانم کی طرف متوجہ ہوا۔
“بھابھی آپ کو اب ڈائٹنگ کرنی چاہیے کیونکہ آپ موٹی ہو گئی ہیں۔”
ارتسام کی بات پر ہانم کو صدمہ ہوا تھا۔ اس نے ارتسام کو گھورا اور دھیمی آواز میں بولی۔
“سامی پٹو گے تم مجھ سے اب؟”
ہانم نے ارتسام کو گھورا تھا جو ثمامہ کے ساتھ مل کر اسے تنگ کر رہا تھا۔
“موم ریلکیس کریں۔چاچو کے دماغ کا کوئی سکرو ڈھیلا ہے بس۔”
دس سالہ ثمامہ نے ہانم سے کہا تو ہانم پیارے سے اس کی پیشانی کے بال بکھیرے۔
“میری جان۔”
ہانم نے اس کے دونوں گالوں پر بیک وقت بوسہ دیا تھا۔
“اوئے موم کے چمچے ۔۔۔ تھوڑی دیر پہلے کون کہہ رہا تھا کہ ہانم بھابھی موٹی ہوگئی ہیں؟”
ارتسام نے ثمامہ کو گھورا تھا۔ جبکہ ثمامہ معصوم سی شکل بنائے ہانم کی گود میں بیٹھ گیا۔
“موم چاچو رمضان میں بھی جھوٹ بولتے ہیں۔”
ثمامہ نے معصومیت سے ہانم کو دیکھ کر کہا ۔
“آئی نو میری جان تمہارے سامی چاچو جھوٹ بول رہے ہیں۔ میں جانتی ہوں میرا بیٹا میرے بارے میں کبھی ایسے الفاظ نہیں بولے گا۔”
ہانم نے ارتسام کو گھورا تھا جبکہ ثمامہ نے مسکراتے ہوئے ارتسام کو دیکھا اور اپنی دائیں آنکھوں کا کون دبا گیا۔
“بھابھی یہ جھوٹ بول رہا ہے۔”
ارتسام نے احتجاج کیا حالانکہ جانتا تھا ان دونوں ماں بیٹے کے درمیان بولنا بیوقوفی ہے بس۔
“سامی بس کر دو اور ثمامہ تم یہ بتائو ہوم ورک کیا؟”
ہانم کی آواز پر ارتسام منہ بناتے ہوئے آئسکریم کھانے لگ گیا جبکہ ثمامہ نے معصوم بننے کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے ہانم کو دیکھا اور بولا۔
“موم میں تو کرنے والا تھا لیکن چاچو نے مجھے یہاں بلا کر آئسکریم ہاتھ میں تھما دی اور بولے۔ ثمامہ تم یہ پہلے کھائو ہوم ورک بعد میں کر لینا۔”
اس کی بات پر ارتسام کا آئسکریم کھانے والا ہاتھ رکا تھا اور اس نے گھور کر اس چھوٹے پیکٹ کو دیکھا تھا جو دھماکے کر رہا تھا۔ ہانم نے دایاں آبرو اچکا کر ارتسام کو دیکھا۔
“بیٹا آپ کے چاچو تو ہے ہی نالائق آپ جلدی سے جائو اور ہوم ورک کرو جا کر میں ابھی آ کر چیک کرتی ہوں۔”
ثمامہ دلا جلا دینے والی مسکراہٹ ارتسام کی طرف اچھالتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف گیا تھا جبکہ ارتسام اس کی پشت دیکھ کر مسکرا دیا تھا۔
“آپ جانتی ہیں وہ جھوٹ بول کر گیا ہے؟”
ہانم کو اپنی طرف گھورتے دیکھ کر ارتسام جلدی سے بولا۔
“تم اس کے ہاتھوں جلدی بیوقوف بن جاتے ہو سامی۔۔ کیا ضرورت ہوتی ہے اس کی بلیک میلنگ میں آنے کی۔۔ مجھے تو حیرانگی ہوتی ہے اس بات پر کہ تم بزنس کیسے چلاتے ہو؟”
ہانم کی تاسف زدہ آواز پر ارتسام مسکرایا تھا۔
“بس دیکھ لیں۔”
“تم بیٹھو میں ذرا ثمامہ کو دیکھ لوں یقینا سکول کی ڈائری سے اپنی شکایت کو مٹانے کی ناکام کوشش کر رہا ہوگا۔”
ہانم بولتے ہوئے کمرے کی طرف چلی گئی جبکہ ارتسام پانے موبائل پر آنے والی بیل کی طرف متوجہ ہو گیا۔ بھائی کالنگ دیکھ کر اس کی مسکراہٹ گہری ہوئی تھی۔ اس نے کال ریسیو کی اور اکثم سے باتوں میں مصروف ہو گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک مہینے بعد:
وہ ائیرپورٹ پر کھڑا ان کا منتظر تھا۔ جیسے ہی وہ باہر آئے ارتسام کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوگئی۔ دس سال بعد اکثم خان اس کے روبرو تھا۔ چند قدموں سے فاصلے پر وہ شہزادوں کی آن بان لئے اس کی طرف قدم بڑھا رہا تھا۔ اس سے دو قدم کے فاصلے پر زیب اپنے بیٹے موسی کو اٹھائے اس کی تقلید میں چل رہی تھی۔ اسامہ مزید ایک ہفتہ لیٹ اس لئے تھا کیونکہ اس کے کاغذات کا کچھ ایشو ہو گیا تھا۔ اس کی صحت کی وجہ سے جو ایک ہفتہ اسے مزید وہاں رکنا پڑا تھا۔ اس نے زبردستی اکثم کو واپس بھیجا تھا۔ زیب کو بھی وہ ایک ہفتے بعد ہی اپنے گھر واپس لے جانے والا تھا۔ ارتسام نے زیب کو دیکھا اور مسکرایا۔ سب گھر والوں کو معلوم تھا کہ وہ اسامہ کی بیوی ہے۔ سوائے ہانم خان کو۔
“خوش آمدید بھائی۔ کیسے ہیں آپ؟”
ارتسام اکثم سے بغلگیر ہوتے ہوئے بھرائی آواز میں بولا۔ اکثم نے اسے ذور سے خود میں بھینچ لیا۔ آنکھیں تو اس کی بھی نم ہوئی تھیں لیکن وہ مضبوط رہنا چاہتا تھا۔
“میں بالکل ٹھیک تم سنائو۔ ویسے چھوٹے خان اب تو تم کافی بڑے ہوگئے ہو۔”
اکثم نے مسکرا کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔ ارتسام نے صرف مسکرانے پر اکتفا کیا تھا۔
“اسلام علیکم بھابھی۔۔۔ کیسی ہیں آپ؟ میں اکثم خان کا چھوٹا بھائی ہوں مطلب اسامہ بھائی کا بھی بھائی تو اسی لئے آپ میری بھابھی ہیں۔”
اسامہ کی رشتے کی وضاحت پر زیب اور اکثم دونوں مسکرا دئیے تھے۔
“وعلیکم اسلام بھائی میں ٹھیک ہوں آپ کیسے ہیں؟”
“الحمداللہ ۔۔ اور چھوٹو تم سنائو کیسے ہو؟”
ارتسام نے موسی کو گود میں اٹھاتے ہوئے پوچھا۔
“میں چھوٹا نہیں ہوں انکل دیکھیں اتنا بڑا ہوں میں۔ چھوٹے سکول نہین جاتے جبکہ میں سکول جاتا ہوں۔ ہیں نا پاپا”
موسی کو ارتسام کی بات پسند نہیں آئی تھی۔ اس لئے وہ اکثم سے وضاحت طلب کرنے لگا۔
“ہاں بھئی موسی بالکل چھوٹا نہیں ہے۔ اچھا چھوٹے خان گھر میں کسی کو بتایا تو نہیں نا؟”
اکثم نے کچھ یاد آنے پر پوچھا۔
“بھائی فکر نہ کریں کسی کو نہیں معلوم کہ آپ نے آج پاکستان آنا ہے۔ اچھا اب چلیں گھر ۔ آپ کو گھر چھوڑ کر مجھے ایک میٹنگ میں بھی جانا ہے پھر انشاء اللہ رات کو ملاقات ہوگی۔”
ارتسام موسی کو اٹھائے اپنی گاڑی کی طرف بڑھ گیا جبکہ اکثم نے ایک لمبی سانس اپنے اندر کھینچی تھی گویا اس خوشبو کو محسوس کرنے کی کوشش کی تھی جس سے وہ پچھلے دس سال سے محروم تھا۔ زیب اس کی تقلید میں گاڑی تک پہنچی اور گاڑی پر بیٹھ کر وہ خان حویلی کی طرف روانہ ہوگئے تھے۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: