Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 23

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 23

–**–**–

“اماں جان اسے بولیں میر موبائل واپس کرے مجھے جاثیہ سے بات کرنی ہے۔”
ثمامہ جس کے ہاتھ میں ہانم کا موبائل تھا۔ وہ ہنستے ہوئے آگے آگے بھاگ رہا تھا جبکہ ہانم اس کے پیچھے اسے گھورتے ہوئے بھاگ رہی تھی۔ یسرا بیگم صوفے پر بیٹھی تسبیح پڑھتے ہوئے دونوں ماں بیٹے کو دیکھ رہی تھیں۔ ہانم کی آواز پر وہ مسکراتے ہوئے ہانم کو دیکھنے لگیں۔ ان کی نظر میں ہانم ابھی بھی بچی ہی تھی کیونکہ کبھی کبھار اس کی حرکتیں ثمامہ کی ہی طرح کی ہوتی تھیں۔
“ثمامہ بیٹا اپنی ماں کا تنگ نہیں کرو اور اس کو موبائل دے دو۔۔ تمہاری خالہ سے ضروری بات کرنی ہوگی اسے۔”
یسرا بیگم کی آواز پر ثمامہ نے ہانم کو دیکھا جو اسے دیکھ کم گھور ذیادہ رہی تھی۔
“پہلے موم کو بولیں مجھ سے پرامس کریں کہ مجھے رافع کی برتھ ڈے میں جانے دیں گی اور کوئی اعتراض نہیں کریں گی؟”
ثمامہ کی شرائط پر یسرا بیگم کی مسکراہٹ گہری ہوگئی تھی۔
“تمہاری پٹائی کر دوں گی اگر جانے کا نام بھی لیا تو۔ جانتے ہو کتنی دور ہے ان کا گھر دو گھنٹے شہر جانے میں لگیں گے اور دو گھنٹے ہی واپس آنے میں ۔۔ ایک گھنٹہ تم وہاں سٹے کرو گے تو پورے پانچ گھنٹے میں تمہیں اپنی نظروں سے دور نہیں کروں گی وہ بھی ایک فالتو کام کے لئے۔”
ہانم نے سنجیدگی سے ثمامہ کو دیکھ کر کہا۔
“موم پلیز نا۔۔ ویسے بھی آپ کہیں جانے کب دیتی ہیں؟”
“ثمامہ خان میں ایسی کوئی اجازت نہیں دے رہی۔”
ہانم کی بات پر ثمامہ نے منہ بسورا تھا۔
“موم پلیز۔۔۔ “
“بس کرو ثم۔۔۔”
ہانم ثمامہ کی بات درمیان میں ہی کاٹ کر بولنے لگی مگر جیسے ہی اس کی نظروں نے دروازے پر کھڑے اکثم کو دیکھا اس کے لفظوں نے اس کی آواز کا ساتھ چھوڑ دیا تھا۔ ہانم نے پلک جھپکے بغیر اسے دیکھا تھا۔ ویسا ہی تو تھا وہ۔ ہاں تھوڑا بہت بدلائو آیا تھا اس میں۔ بھوری آنکھوں پر چشمہ تھا، فرنچ کٹ داڑھی اس کی شخصیت کو سنوار رہی تھی، لیمن کلر کی شرٹ اور بلیو جینز پہنے، بالوں کو اچھے سے جیل سے سیٹ کئے وہ ہانم کے دل کو دھڑکنے پر مجبور کر رہا تھا۔ اکثم کا حال بھی مختلف نہ تھا۔
وہ پتلی سی ہانم اب تھوڑی ہیلدی ہو چکی تھی، دودھیا رنگت مزید نکھر گئی تھی، یہ اتفاق ہی تھا کہ وہ بھی لیمن کلر کی شلوار قمیض پہنے، سر پر ڈوپٹہ اوڑھے اپنی شخصیت سے مقابل کو دل و جان سے اپنی طرف متوجہ کر گئی تھی۔ دس سال بعد وہ ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے۔ حواسوں نے گویا کام کرنا چھوڑ دیا تھا۔ بے خودی اتنی تھی کہ اردگرد کون ہے۔ ہوش کی دنیا میں قدم ارتسام کی آواز پر رکھے گئے تھے۔ ہانم نے گڑبڑا کر نظروں کا زاویہ بدلا تھا۔
“اماں جان دیکھیں کون آیا ہے؟”
یسرا بیگم نے نم آنکھوں سے اکثم کو دیکھا تھا۔
“اسلام علیکم اماں جان کیسی ہیں آپ؟”
اکثم آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے وہ ان کے قدموں میں بیٹھ گیا تھا۔یسرا بیگم نے لرزتے ہاتھوں سے اکثم کے چہرے پر ہاتھ رکھے تھے۔ وہ رونا نہیں چاہ رہی تھیں لیکن وہ ضبط کھو رہی تھیں۔
“ا۔۔۔اک۔۔اکثم۔ میرا بچہ۔”
اکثم کے آنسو ان کے ہاتھوں کی ہتھلیوں کر بھگو گئے تھے۔ وہ بچہ بن چکا تھا اپنی ماں کو دیکھ کر بے ساختہ اس نے یسرا بیگم کو اپنی آغوش میں لیا تھا۔ دس سالوں کا غبار تھا جو نکل رہا تھا۔
“اماں جان بس کر دیں ۔۔ اب آگیا ہوں نا کبھی نہیں جائوں گا آپ کو چھوڑ کر۔”
اکثم اپنے ہاتھوں میں ان کا چہرے تھام کر بولا اور پھر جھک کر ان کی پیشانی پر بوسہ دیا۔ جواب میں وہی عمل یسرا بیگم نے دہرایا تھا۔
ان کے عمل میں شدت تھی، ممتا کی پیاس تھی محبت تھی، انہوں نے چار پانچ بار اکثم کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔ ثمامہ کو یسرا بیگم کے پیار کرنے کا انداز اکثم کے ساتھ پسند نہیں آیا تھا۔ اس نے بھی ہانم کی طرح اکثم کو آج تک نہیں دیکھا تھا اور یہ ہانم کی ہی ضد تھی کہ اس کا اور اس کے بیٹے کا اکثم سے کوئی واسطہ نہیں اس لئے وہ دونوں اس سے بات نہیں کریں گے۔ اکثم کی تمام تصاویر کو خان حویلی سے ہٹا کر ایک صندوق میں بند کر کے سٹور روم میں رکھوا دیا تھا ہانم نے وہ سخت دل نہیں بہت ذیادہ سخت دل ثابت ہوئی تھی اکثم کے معاملے میں۔ لیکن اس کی ایک جھلک ہی اس کے پتھر دل کو موم کر گئی تھی۔
“آپ کون ہیں ہٹیں یہاں سے یہ میری دادی جان ہیں۔”
ثمامہ نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اکثم کے ہاتھ جو یسرا بیگم کے چہرے کو تھامے ہوئے تھے ہٹائے اور اسے گھورنے لگا۔ اکثم نے حیرانگی سے اسے دیکھا تھا۔
“اماں جان یہ ۔۔”
اکثم نے ثمامہ کی طرف اشارہ کر کے جیسے یقین چاہا تھا یسرا بیگم سے۔
“یہ ثمامہ خان ہے”
یار بیگم نے ثمامہ کے سر پر بوسہ دے کر اسے اپنی گود میں بٹھا لیا تھا۔
اکثم نے مسکرا کر ثمامہ کو دیکھا اور نرمی سے اس کے بال بکھیر کر بولا۔
“مجھ سے نہیں ملو گے چیمپ؟”
“آپ کون ہیں؟”
“یہ تمہارے پاپا ہیں ثمامہ۔”
یار بیگم نے ثمامہ کو دیکھ کر جواب دیا۔
“نہیں یہ صرف موسی کے پاپا ہیں۔”
موسی جو کب سے اکثم کو دیکھ رہا تھا ثمامہ کو پیارے سے دیکھتے کر بول پڑا۔ زیب جس کی موجودگی کو سب افراد ہی تقریبا نظر انداز کر چکے تھے۔ اس پر توجہ اس کے بیٹے نے دلوائی تھی۔ ہانم نے چونک کر موسی کو دیکھا تھا۔ جو حق سے اکثم کو پاپا بول رہا تھا۔
“ہاہاہا میرے شہر ادھر آئو تمہیں تمہاری دادی جان سے ملوائوں۔ زیب تم بھی آیا ادھر۔”
اکثم کے لہجے میں موجود محبت ہانم کو جلتے انگاروں پر لٹا گئی تھی۔ یقین کا محل چھن کر کے ٹوٹا تھا۔ ہانم کو اس ماحول میں سانس لینے میں جیسے دشواری محسوس ہونے لگی تھی۔ کسی اور کے لئے وہ خان کی آنکھوں محبت کیسے دیکھ سکتی تھی۔
“اسلام علیکم اماں جان کیسی ہیں آپ؟”
“وعلیکم اسلام بیٹا۔۔ الحمداللہ میں بالکل ٹھیک تم سنائو اور سفر کیسا رہا؟
زیب کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے یسرا بیگم نے مسکرا کر پوچھا۔
“میں بالکل ٹھیک ہوں اماں جان اور سفر بھی بہت اچھا گزرا بس آپ کا بیٹا مجھے کافی تنگ کر رہا تھا “
“زیب میں نے کب تنگ کیا تمہیں؟”
اکثم نے اسے مصنوعی گھورا تھا۔
“ماں جائو اکثم تم نے تنگ کیا تھا مجھے اور میں بابا جان سے بھی تمہاری شکایت لگانے والی ہوں۔”
زیب نے مسکرا کر اکثم کو دھمکی دی۔ ہانم کو اندازہ لگانا مشکل نہیں ہوا تھا کہ سب آگاہ تھے اس لڑکی کی حثیت سے۔ وہ نظر انداز نہیں بالکل اس کے وجود کو ثانوی کر دیا گیا تھا۔ مختلف سوچوں میں گری وہ آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے وہاں سے کمرے میں چلی گئی تھی۔
اکثم نے جب مڑ کر اسے دیکھا تو وہ کہیں نہیں تھی۔ مطلب وہ ناراضگی کا اظہار کر چکی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتسام اپنی میٹنگ کے لئے جا چکا تھا موسی اور ثمامہ دونوں اکثم کی گود میں بیٹھے تھے دلاور خان بھی اکثم کے پاس ہی بیٹھے اس سے باتیں کر رہے تھے اور اسامہ کے بارے میں پوچھ رہے تھے۔ زیب اماں جان کے پاس بیٹھی باتیں کر رہی تھی۔ اگر کوئی خود کو تنہا محسوس کر رہا تھا وہ تھی ہانم۔ صبح سے شام ہو چکی تھی مگر وہ کمرے سے باہر نہ آئی۔ اکثم کی منتظر نظریں ہر آہٹ پر اپنے کمرے کے دروازے کی طرف اٹھتی لیکن مایوسی کا سامنا کرتے ہوئے وہ دوبارہ دلاور خان کی طرف متوجہ ہو جاتا۔ وہ جب سے کمرے میں آئی تھی بیڈ پر اوندھے منہ لیٹی روئے جا رہی تھی۔ محبت کی یہی تو برائی ہے کہ جب شدت پسند ہوتی ہے تو شراکت کا خیال بھی سانسیں روک دیتا ہے۔
“کیوں کیا آپ نے ایسا؟ کیوں کسی اور کو مجھ پر فوقیت دی؟ میں تو محبت کرتی تھی آپ سے؟ لیکن آپ نے تو مجھ سے میرے تمام حقوق کو ہی چھین لیا۔ کیسے میں برداشت کروں آپ کی تقسیم؟ آپ کی توجہ صرف ہانم کے لئے تھی خان۔ آپکی محبت پر صرف میرا حق تھا پھر کیسے وہ شریک بن گئی؟ اسی لئے چھوڑ کر گئے تھے مجھے تاکہ کسی اور کو اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو ٹھیک ہے میں بھی اب آپ کو اپنی زندگی میں شامل ہونے نہیں دوں گی۔ نہیں ٹوٹ سکتی میں روز روز۔ میرے لئے میرا بیٹا کافی ہے خان۔۔ کافی ہے۔”
اکثم کے تصور سے مخاطب ہوتے ہوئے وہ خود اذیتی کی انتہا پر تھی۔ آدھے گھنٹے بعد کمرے کا دروازہ کسی کھٹکھٹایا تو ہانم نے جلدی سے اپنے آنسو صاف کئے اور اپنی آواز کو نارمل کرتے ہوئے بولی۔
“کون”
“ہانم بیٹا کھانا لگ گیا ہے آ کر کھالو۔”
رشیدہ بی کی آواز پر وہ زخمی سا مسکرائی تھی۔ ابھی تو مضبوط بننا کا سوچا تھا تو کیا اتنی جلدی وہ سب مان لے۔ وہ کیسے دیکھ سکے گی خان کے پہلو میں اس لڑکی کو؟
“نہیں میں نہیں جا سکتی”
ہانم خود سے بڑبڑائی۔
“چچی میرے سر میں درد ہے میں دوائی کھا کر سونے لگی ہوں اور ویسے بھی مجھے بھوک نہیں ہے اماں جان سے معذرت کر لیجئے گا۔”
ہانم یہ بول کر واش روم کی طرف چلی گئی تھی جبکہ رشیدہ بی وہاں سے کیچن میں چلی گئی تھیں۔
“کیا ہوا رشیدہ بی ہانم کہاں ہے؟”
دلاور خان نے ہانم کا انتظار کرتے ہوئے پوچھا۔ اکثم نے بھی جواب کے لئے رشیدہ بی کو دیکھا تھا۔
“وہ خان صاحب چھوٹی بی بی بول رہی ہیں ان کے سر میں درد ہے اور انہیں بھوک بھی نہیں ہے وہ دوائی کھاکر سونے لگی ہیں۔”
“پاگل ہے کیا وہ صبح سے کچھ نہیں کھایا اور اب ایسے ہی دوائی کھا کر سوئے گی۔ آپ اسے بلا کر لائیں اور بولیں میں بلا رہا ہوں۔”
اکثم پریشانی سے رشیدہ بی کو دیکھ کر سخت لہجے میں بولا۔ سب گھر والوں نے حیرانگی سے اس کا غصہ دیکھا تھا۔
“بڑے خان وہ نہیں آئے گی اس کی طبعیت ٹھیک نہیں ہے اس لئے اسے پریشان نہ ہی کیا جائے تو اچھا ہوگا۔”
دلاور خان کی بات پر اکثم نے اپنے لب بھینچ لئے تھے جبکہ ارتسام نے بمشکل مسکراہٹ کا گلا گھونٹا تھا۔
“ایک تو وہ بھوکی ہے اور بجائے اسے سمجھانے کے سب اس کی بے جا ضد مان رہے ہیں۔”
اکثم خود سے بڑبڑایا تو ارتسام نے اپنے قہقے کو بمشکل لب بھینچ کر ضبط کیا۔
“بھائی یقینا آج رات آپ میرے کمرے میں رکنے والے ہیں۔”
ارتسام کی بات پر اکثم نے اسے گھورا تھا جبکہ پاس بیٹھی زیب اس کی بات پر مسکرا دی تھی۔ موسی اور ثمامہ دونوں ایک دوسرے کو کھانا کھلانے میں مصروف تھے۔ جب سے ثمامہ کو معلوم ہوا تھا وہ اکثم کے دوست کا بیٹا ہے وہ کچھ زیادہ ہی موسی پر مہربان ہو رہا تھا۔ ثمامہ جانتا تھا آج رات اسے بھی کمرے میں جگہ نہیں ملنی کیونکہ اس کی ماں اپنی ضد میں اسے بھی پیچھے چھوڑ دیتی تھی۔ کھانا کھا کر زیب موسی کو لے کر اقصی والے کمرے میں چلی گئی جبکہ اکثم اور ثمامہ ارتسام کے کمرے میں چلے گئے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دو دن سے وہ تقریبا کمرے میں بند تھی کھانا بھی ادھر ہی کھا رہی تھی۔ آج اکثم حویلی سے باہر رہے گا یہ خبر سن کر ہی وہ تھوڑی دیر کے لئے چھت پر گئی تھی مگر وہاں بھی دس منٹ بیٹھ کر ہی واپس آگئی تھی۔وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوئی سامنے اکثم کو دیکھ کر ٹھٹک گئی۔لیکن جلد ہی خود کو کمپوز کرتے ہوئے اندر آئی اور اکثم کو مک۔ل نظر انداز کرتے ہوئے سیدھے الماری کی طرف بڑھی۔ اکثم خاموشی سے صوفے پر بیٹھا متبسم سے انداز میں مسکراتے ہوئے اس پری پیکر کا چہرہ دیکھ رہا تھا جو اب الماری سے کپڑے لے کر واش روم کی طرف چلی گئی تھی۔ تھوڑی دیر بعد وہ واش روم سے کپڑے چینج کر کے نکلی تو اکثم وہیں موجود تھا۔ ہانم کو غصہ آ رہا تھا اسے کمرے میں دیکھ کر لیکن لبوں کو بھینچ کر وہ خود کو کچھ بھی کہنے سے باز رکھ رہی تھی۔
“کیا اتنا برا ہوں میں ایک نظر دیکھنا بھی گوارہ نہیں کر رہی تم؟”
اکثم آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آیا جو ڈوپٹے کو سر پر سجائے ڈریسنگ ٹیبل سے چیزیں اٹھا کر ادھر ادھر کر رہی تھی۔
ہانم نے اکثم کی بات پر اسے دیکھنے کی زحمت تک نہیں کی تھی۔
“مانتا ہوں غلطی ہوئی ہے مجھ سے لیکن۔۔۔”
“غلطی؟”
اکثم کی بات کو درمیان میں سے کاٹ کر وہ پلٹ کر غصے سے بولی تھی۔ اکثم نے لب بھینچ کر اس کے سرخ چہرے کو دیکھا تھا۔
“غلطی نہیں خان۔۔ بھلا آپ غلط ہو سکتے ہیں؟ غلطی تو میری تھی جس نے آپ جیسے دھوکے باز شخص پر اعتبار کیا؟ آپ سے محبت کی؟ آپ کی امانت میں خیانت نہیں کی؟لیکن آپ نے جو کیا وہ غلطی نہیں تھی خان ۔۔ آپ کا تو حق ہے چار شادیوں کا تو میری طرف سے آپ کو کوئی روک ٹوک نہیں ہے۔ دوسری بیوی لے آئے ہیں نا بچے سمیت اب تیسری یا چوتھی بھی لے آئیں لیکن میری جان چھوڑ دیں۔”
ہانم تو گویا پھٹ پڑی تھی اکثم پر آخری بات پر اس کی آواز ناچاہتے ہوئے بھی رندھ گئی تھی۔ اکثم نے بے بسی سے اسے دیکھا تھا۔ اس نے ہاتھ بڑھایا تھا تاکہ اس کے آنسوؤں کو سمیٹ کے مگر ہانم اس سے دور ہو گئی تھی۔
“چلے جائیں یہاں سے۔۔ اور میرے سامنے مت آیا کریں آپ۔ جب جب آپ میرے سامنے آتے ہیں مجھے شدت سے اپنے خسارے کا احساس ہوتا ہے۔”
بلآخر وہ اپنی خاموشی کو توڑتے ہوئے آج خود کو اس پر عیاں کر گئی تھی۔ اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ نے جھلک دکھائی تھی جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا تھا کیونکہ ہانم کے سامنے مسکرا کر وہ اس کے غصے میں مزید اضافہ نہیں کر سکتا تھا۔
“پہلی بیوی ہو تم میری؟ ایسے کیسے چھوڑ دوں تمہیں۔۔ دس سال کا وقفہ کم تو نہیں تھا جو اب مزید تمہاری دوری برداشت کروں۔”
اکثم سنجیدگی سے بولتے ہوئے اس کی جانب بڑھا تو ہانم آہستہ قدموں کو پیچھے کی سمت اٹھانے لگی۔
“خان میں بول رہی ہوں میرے پاس مت آئیں آپ ورنہ اچھا نہیں ہوگا۔”
ہانم کمرے میں ارد گرد نگاہیں دوڑاتی اپنے دفاع کے لئے کچھ تلاش کر رہی تھی۔ اکثم نے مسکرا کر اس کی آنکھوں کی ہیر پھیر دیکھی تھی۔
“بیوی ہو میری تم کیسے دور رہوں تم سے؟ اور ۔۔”
“آآآآ۔۔”
ابھی اکثم کے الفاظ منہ میں تھے جب ہانم نے ڈریسنگ ٹیبل سے پرفیوم اٹھا کر اکثم کی طرف پھینکا جو اکثم کے کندھے پر لگا تھا۔
“جنگلی بن چکی ہو تم ان دس سالوں میں۔”
اکثم اپنے کندھے کو سہلاتے ہوئے بولا تو ہانم نے اسے گھورا اور خاموشی سے وہاں سے جانے لگی۔
جب اکثم نے اس کا ہاتھ پکڑ لیا۔
وہ رکی تھی اور اکثم کو دیکھنے لگی۔ جو مسکرا کر اس کے قریب ہوا تھا۔
“تم سے دور رہ کر میں بھی تڑپا ہوں۔ سزا اتنی سنائوں جس کے لئے بعد میں تمہیں پچھتانا نہیں پڑے۔”
یہ بول کر وہ جھکا تھا اور اسکی پیشانی کو اپنی محبت اور عقیدت کا شرف بخشتے ہوئے پیچھے ہوا تھا۔ ہانم تو اس کی ذرا سی قربت پر حواس باختہ ہو چکی تھی۔ دل کی دھڑکنیں منتشر ہوئی تو سانسوں نے بھی روانگی سے چلنا چھوڑ دیا۔ رخسار تپنے لگے تو لبوں نے کپکپانا شروع کر دیا۔ پلکوں پر حیا کا بوجھ اتنا گرا کہ وہ اٹھنے سے انکار ہو گئیں۔ اکثم نے مسکرا کر اس دلفریب منظر کو نظروں کو قید کیا تھا اور پھر اس کے دائیں کان کی جانب جھکا تھا۔
“آئی وانٹ آ بےبی گرل ہانم۔”
اس کی سرگوشیانہ انداز میں کہی گئی ذو معنی بات پر اس کے جسم میں جیسے کرنٹ سا دوڑ گیا تھا۔ وہ سانس روکے زمین کو گھورنے لگی تھی۔ اکثم نے اس کی جان مزید ہلکان نہ کرتے ہوئے اسے چھوڑا تو وہ تقریبا بھاگنے والے انداز میں دوبارہ واش روم کے اندر جا کر گھس گئی تھی۔ اکثم نے بمشکل اپنے قہقے کا گلاگھونٹا اور کمرے سے باہر چلا گیا۔ حویلی سے باہر جا کر وہ کھل کر ہنسا تھا۔ وہ جانتا تھا کہ ہانم اس سے ناراض ہے مگر وہ تو کسی اور بات پر ہی ناراض تھی جس کا نہ سر تھا نہ پیر ۔ وہ پرسکون ہو چکا تھا۔ وہ اسے تنگ نہیں کرنا چاہتا تھا وہ تو اسے منانے گیا تھا مگر اس کی جلن اسے مزید تنگ کرنے پر اکسا رہی تھی ویسے بھی کل اسامہ نے واپس آ جانا تھا اور تب ہانم کی کیا حالت ہونے والی تھی یہ سوچ ہی اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ لانے کے لئے کافی تھی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: