Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 24

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 24

–**–**–

ایک ہفتے سے پہلے ہی اسامہ کے کاغذات کا مسئلہ حل ہو گیا تھا اس لئے وہ تین دن بعد ہی پاکستان واپس آنے والا تھا۔ ہانم آج خلاف معمول ناشتہ کرنے کے لئے کیچن میں آئی تو وہاں سب موجود تھے۔ اکثم کی ساتھ والی کرسی پر زیب کو بیٹھے دیکھ کر وہ جی جان سے کڑی تھی۔ خود پر ضبط کرتے ہوئے وہ اندر آئی اور بمشکل خود کو کمپوز کرتے ہوئے دھیمی آواز میں بولی۔
“اسلام علیکم”
ہانم کی آواز پر سب متوجہ ہوئے تھے۔ ثمامہ تو اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے پاس پہنچا تھا۔
“وعلیکم اسلام اینڈ گڈ مارننگ موم”
ثمامہ خوشی سے اس کے گلے لگ کر بولا۔ سب نے اس کی سلام کا جواب دیا۔ وہ اکثم کو مکمل طور پر نظر انداز کرتے ہوئے ثمامہ اور ارتسام کے درمیان والی کرسی پر بیٹھ گئی تھی۔
“آپ کی طبعیت کیسی ہے اب ہانم؟”
ہانم ثمامہ کے لئے ناشتہ پلیٹ میں نکال رہی تھی جب زیب نے اسے مخاطب کیا۔ہانم نے بنا کوئی جواب دئیے ثمامہ کو ناشتہ دیا اور خود بھی ناشتہ نکال کر کھانے لگی۔ سب گھر والوں نے حیرت سے اس کا زیب کو نظر انداز کرنا دیکھا تھا۔ اکثم زیب کا شرمندہ سا چہرہ دیکھ کر ہانم کو گھورنے لگا جو سب سے بے نیازی برتتے ہوئے ناشتے میں مشغول تھی۔
“ہانم زیب نے تم سے کچھ پوچھا ہے؟”
اکثم کی دھیمی مگر سخت آواز پر ہانم نے اپنا سر اٹھایا۔
“جو بھی کہا میں نے سن لیا اور جواب دینا نہ دینا میری مرضی ہے مسٹر اکثم خان۔ اب آپ خاموشی سے ناشتہ کریں اور مجھے بھی کرنے دیں۔”
ہانم نے اکثم کی طرف دیکھ کر سنجیدگی سے کہا۔ دلاور خان اور یسرا بیگم نے شاکڈ نظروں سے ہانم کو دیکھا تھا جبکہ ثمامہ اور ارتسام کبھی ہانم کو دیکھ رہے تھے تو کبھی اکثم کو۔ اکثم نے غصے سے کچھ کہنے کے لئے منہ کھولا ہی تھا جب زیب نے اس کے بازو پر اپنا ہاتھ رکھ کر اسے خاموش کروا دیا۔ ہانم کو یہ منظر دنیا کا سب سے بدترین منظر لگا تھا۔ وہ سلگتی ہوئی اپنی جگہ سے اٹھی اور کرسی کو پیچھے دھکیلتے ہوئے کیچن سے نکلتے چلی گئی تھی۔ اکثم بنا کسی تاخیر کے اس کے پیچھے گیا تھا۔
“یااللہ خیر۔”
یسرا بیگم بے ساختہ بولتے ہوئے ان کے پیچھے گئی تھیں۔ آہستہ آہستہ سب کیچن سے نکل کر حال میں جانا شروع ہوگئے تھے جہاں ہانم کے چلانے کی آوازیں آ رہی تھیں۔
ہانم اپنے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اکثم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے روکا۔
“کب عقل آئے گی تمہیں ہانم؟ کیا تمہیں معلوم نہیں کہ خود سے بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے؟”
اکثم اسے گھورتے ہوئے بولا۔ ہانم نے اس سے بازو چھڑوانے کی کوشش کی تو مقابل کی گرفت سخت ہوگئی۔
“مجھے تمیز سکھانے سے پہلے اگر آپ اپنے گریبان میں جھانک لیں تو اس طرح سوال کرنے کی ضرورت آپ کو بالکل محسوس نہیں ہوگی۔”
اکثم کو اس کا جواب دینا ایک آنکھ نہیں بھایا تھا۔
“تم حد سے بڑھ رہی ہو ہانم۔”
سب گھر والے خاموشی سے دونوں کو کو دیکھ رہے تھے۔ کسی کی ہمت نہیں تھی ان دونوں کے معاملے میں بولنے کی سوائے دلاور خان کے جو خود خاموشی سے صورتحال کو سمجھنے کی کوشش کر رہے تھے۔
“میں حد سے بڑھ رہی ہوں خان کیا واقعی؟”
ہانم کو اس کی بات اس کی تمام حدوں کو توڑنے پر مجبور کر گئی تھی۔
“دس سال بنا کسی غلطی کے سزا کاٹی ہے میں نے؟ راتوں کو اٹھ اٹھ کر اپنی موت کی دعائیں مانگی ہیں۔ آپ تو چلے گئے تھے نا مجھے تنہا چھوڑ کر۔ مجھ سے پوچھیں کیسے دس سال گزرے میرے؟ کن اذیتوں اور تکلیفوں کو سینے میں دبائے میں مسکراتی رہی ہوں۔ میری حدوں کا تعین آپ تب کریں جب آپ اس قابل ہوں۔ مجھے خود پر حیرت ہوتی ہے اکثم خان کہ میں زندہ کیوں ہوں اب تک؟ ایک ونی کی گئی لڑکی کو عزت اگر مل بھی جائے تو آپ سب اسے سزا دینا نہیں بولتے؟ میں جانتی ہوں ونی کو عزت ظرف والے دیتے ہیں لیکن آپ سب نے تو مجھے آسمان پر پہنچا کر زمین پر پٹخ دیا۔ جو چیز میں سوچ بھی نہیں سکتی تھی آپ نے وہ کر دیا اکثم خان۔ سوتن لا کر مجھے بے مول کر دیا اور مجھے بتا دیا کہ ونی کو عزت تو دی جا سکتی ہے مگر گھر کی بہو بنایا جائے ناممکن ہے یہ بات۔ میں کیسے شکوہ کر سکتی ہوں آپ لوگوں سے آپ نے تو مجھے اپنا مشکور بنا دیا کیونکہ مجھے رہنے کو چھت دی، پیٹ کی بھوک کو مٹانے کے لئے کھانا دیا، جسم کو ڈھانپنے کے لئے کپڑا دیا۔ خیر مجھے تو میرے سگے باپ نے اپنی زندگی کے سودے کے بدلے آپ لوگوں کے حوالے کر دیا تو پھر آپ لوگوں سے شکوہ کیوں کروں؟”
بولتے ہوئے آنسو مسلسل اس کی آنکھوں سے بہتے ہوئے رخساروں پر پھسل کر نیچے فرش پر گر کر بے مول ہو رہے تھے۔ سب گھر والے ہانم کی بدگمانی پر حیران کم شاکڈ ذیادہ تھے۔ اکثم نے لب بھینچ کر اس کے شکوے سنے تھے۔
“ہانم تم غلط سمجھ رہی ہو اکثم صرف میرا۔۔”
زیب بات کو سمجھتے ہوئے آگے بڑھی تھی اور ہانم کو اکثم کی صفائی دینے لگی جب ہانم نے اس کی بات کو درمیان میں کاٹ کر اپنے لفظوں سے وہاں موجود سب لوگوں کو دکھ میں مبتلا کر دیا تھا۔
“آپ سے مخاطب نہیں ہوں میں اس لئے آپ ہمارے معاملے میں مت بولیں۔ اور خان آپ نے کہا سب بھول جائو۔ ماں، باپ، بہن یہاں تک کہ خود کو بھی۔ میں بھول گئی تھی خان۔ اندھا اعتبار کیا آپ پر، لیکن مجھے کیا ملا سوائے آپ کی شراکت سے۔ محبت کرتی تھی آپ سے یہ سوچ ہی میری جان لے رہی کہ آپ کسی اور کے ساتھ میرا حق بانٹ چکے ہیں۔ چھوڑیں دیں اب مجھے میرے حال پر۔ آپکو بیٹا چاہیے تھا وہ رہا آپکا بیٹا اب مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ مجھے آپ سے طلاق۔۔۔”
چٹاخ۔
اس کے الفاظ ابھی منہ میں تھے جب اکثم کا ہاتھ اس پر اٹھا اور اس کے دائیں گال کی زینت بن گیا۔ ہانم لڑکھڑا کر نیچے گری تھی۔
“اکثم خان”
دلاور خان کی دھاڑ نما آواز پر سرخ ہوتی آنکھوں کو میچ گیا تھا۔ ارتسام اور ثمامہ نے آگے بڑھ کر ہانم کو کندھوں سے تھاما تھا۔
دلاور خان آگے بڑھ کر اس کے مقابل آئے اور اسے دیکھتے ہوئے بولے۔
“تمہاری ہمت کیسے ہوئی میری بیٹی پر ہاتھ اٹھانے کی؟”
“بابا جان آپ سب کے سامنے اس نے طلاق کا مطالبہ کیا ہے۔ نہیں رکھ سکا خود پر کنٹرول۔”
اکثم شرمندگی سے بولا ۔ نظریں ملانے کی ہمت اس کی ویسے بھی نہیں تھی۔ ہانم دائیں گال پر ہاتھ رکھے ابھی تک بے یقینی کی کیفیت میں تھی۔ زیب منہ پر ہاتھ رکھے سب کچھ دیکھ رہی تھی۔
“ہماری تربیت نے تمہیں عورت پر ہاتھ اٹھانا نہیں سکھایا بڑے خان اور جہاں تک بات ہے طلاق کی تو اسے ابھی جو غلط فہمی ہے تم اسے دور کرنے کی بجائے الٹا اسے بڑھا رہے ہو۔”
دلاور خان کو تاسف ہوا تھا وہ تو ہانم سے نظریں ملانے کے قابل بھی نہیں رہے تھے۔
“آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری موم پر ہاتھ اٹھانے کی؟ نہیں ہیں آپ میرے پاپا۔ جہاں یہاں سے آپ کے بغیر خوش ہیں ہم لوگ۔”
ثمامہ اکثم کو دیکھ کر غصے سے بولا۔ اکثم کو مزید شرمندگی ہوئی تھی اپنے رویے پر۔ وہ آہستہ سے چلتے ہوئے ہانم کے پاس آیا جو فرش پر نگاہیں جمائے اپنے آنسو پینے کی کوشش کر رہی تھی۔
“ایم سوری ہانم ۔۔ غلطی سے ہاتھ اٹھ گیا۔ میری زندگی تم سے شروع اور تم پر ختم ہے ہانم۔ یہ زیب اور موسی۔۔۔”
“میری فیملی ہیں”
اسامہ کی آواز پر وہ سب گھر والے اس کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔
“اکثم مسکراتے ہوئے اس کی جانب بڑھا اور اسے گلے سے لگا کر ویلکم کیا۔ وہ اکثم سے مل کر ہانم کے پاس آیا۔
“زیب میری بیوی ہے اور موسی میرا بیٹا ہے بھابھی۔ جب ہم پڑھائی کے لئے ۔۔۔۔۔ اور آج یہاں آ کر میں مزید اپنے محو کو شرمندہ ہوتے نہیں دیکھ سکا۔”
اسامہ الف سے لے کر یے تک ساری بات بتاتے ہوئے رو دیا تھا۔ زیب نے آگے بڑھ کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا تھا۔ ہانم شرمندگی سے نظریں اٹھانا بھول گئی تھی۔ زندگی میں پہلی بار وہ اکثم پر غصہ ہوئی تھی اور سارا غصہ اب اس کی شرمندگی میں بدل چکا تھا۔
“بھابھی یہ تو اس قدر محبت کرتا ہے آپ سے کہ مجھے آپ کی قسمت پر رشک محسوس ہوتا ہے۔ محبت کے نام سے بھی جب واقفیت نہیں تھی اس اس نے تب سے چاہا ہے آپ کو۔ اس کے خلوص پر آپ شک نہیں کر سکتی کیونکہ اس کے پاکیزہ عشق کا میں گواہ ہوں۔”
اسامہ رشک سے اکثم کو دیکھ کر بولا جو ہانم کے جھکے سر کو دیکھ رہا تھا۔
“اسامہ ناشتہ کر لو۔ باتیں تو ہوتی رہیں گی۔”
اکثم نے گویا ماحول کہ سوگواریت کو کم کرنا چاہا۔
“نہیں یار ابھی تو گھر جائوں گا موسی اور زیب کو لے کر ماما انتظار کر رہی ہوں گی۔ ہاں اس ویک اینڈ پر تم لوگوں کہ ہماری طرف دعوت ہے تو آپ سب نے لازمی آنا ہے۔”
اسامہ زیب کو محبت سے دیکھتے ہوئے اکثم سے بولا اور پھر دس منٹ وہاں رکنے کے بعد موسی اور زیب کو لے کر چلا گیا۔ اس دوران ہانم اپنے کمرے میں جا چکی تھی۔ اور ثمامہ ابھی بھی غصے سے اکثم کو گھور رہا تھا۔ جو بھی تھا وہ اپنی ماں کے بارے میں کافی حساس تھا۔
“سیم۔۔۔۔بیٹا پاپا سے ابھی بھی ناراض ہو؟”
اکثم حال میں بیٹھے ثمامہ کو دیکھ کر بولا۔
“میرا نام ثمامہ خان کے اور جب تک میری موم کی ناراضگی ختم نہیں ہو جاتی آپ مجھ سے بات نہیں کریں گے۔”
ثمامہ یہ بول کر ارتسام کے کمرے کی طرف چلا گیا جبکہ اکثم نے حیرانگی سے باقی گھر والوں کو دیکھا تھا جو اسے گھور رہے تھے۔
“اچھا جاتا ہوں آپ کی بیٹی کو منانے اس طرح گھوریں تو مت۔ بیٹی نہ ہوگئی کوئی شہزادی ہوگئی۔”
اکثم بڑبڑاتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔ جبکہ یسرا بیگم بے ساختہ ان دونوں کے درمیان سب کچھ صحیح ہونے کی دعا مانگی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ کمرے میں داخل ہوا تو ہانم بیڈ پر لیٹی رونے میں مصروف تھی۔ اکثم کو بے ساختہ خود پر غصہ آیا تھا۔ اس کا مذاق اس حد تک بڑھ جائے گا اگر اسے معلوم ہوتا تو شاید کبھی بھی ہانم سے نہیں چھپاتا۔ وہ آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آیا جس کا وجود ہچکولے کھانے میں مصروف تھا۔ اکثم نے اسے غور سے دیکھا آنکھوں پر بازو رکھے وہ دنیا جہاں سے بے خبر رونے میں مصروف تھی۔ لمبی سانس فضا میں خارج کرتے ہوئے وہ اس کے پاس بیڈ پر بیٹھا۔ ہانم نے اس کے بیٹھتے ہی آنکھوں سے بازو ہٹایا اور سامنے اکثم کو دیکھ کر وہ بیڈ سے اٹھ کر دوسری طرف سے نیچے اتر گئی۔ اکثم جلدی سے اٹھ کر اس تک پہنچا اور اس کے راستے میں حائل ہوگیا جو یقینا کمرے سے باہر جانے والی تھی۔
“کب تک اپنی بے رخی کی مار مارو گی؟”
اکثم نے اس کے دونوں پکڑ کر اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا۔
نیلی آنکھوں میں ڈھیروں شکایتیں تھی تو بھوری آنکھوں میں صرف جذبات تھے۔
“م۔۔مجھے ۔۔مم۔۔معاف۔ کر۔۔دیں ۔۔مم۔۔میری وجہ۔۔ سے۔۔ آپ۔۔کو۔ شرمندگی۔۔ اٹھانی ۔۔ پڑی۔”
وہ بالکل بارہ سالہ ہانم کی طرح منہ بسورتے ہوئے بولی تھی۔ اکثم کو بے ساختہ اس پر پیار آیا تھا۔ وہ سمجھدار تھی لیکن شاید گھر والوں کی نظروں میں۔ اس کے لئے تو آج بھی وہی ہانم تھی جسے وہ دس سال کے لئے چھوڑ کر گیا تھا۔
“غلطی کسی کی نہیں ہے ہانم بس وقت اور حالات ہمارے حق میں بہتر نہیں تھے۔ یہ جدائی ہمارے نصیب میں لکھی تھی یہ غلط فہمیاں ہمارے رشتے کا حصہ ضرور ہیں لیکن اعتبار کی زنجیر ان کو قید کر سکتی ہے۔ غلطی میری بھی ہے اس لئے تم مجھے بھی معاف کر دو۔”
“خان میں نے آپ سے بدتمیزی کی، آپ سے ناراض رہی، آپ سے بات بھی نہیں کی، میری غلطی زیادہ ہے۔”
ہانم کی بات پر وہ مسکرایا تھا۔ وہ آج بھی معصوم تھی۔ کون کہتا ہے وقت معصومیت چھین لیتا ہے اگر محبت کرنے والے زندگی میں موجود ہوں تو معصومیت کبھی ختم نہیں ہو سکتی۔
“سوری تمہیں تھپڑ مار دیا۔لیکن وعدہ کرو آئندہ ایسی کوئی بات نہیں کرو گی۔ دس سال اگر تم نے اذیت میں کاٹے ہیں تو سکون میں تو بھی نہیں تھا۔ تمہیں تو اپنی محبت کا اندازہ ہماری جدائی پر ہوا تھا لیکن میں تو محبت کو جان بوجھ کر خود سے دور کر گیا تھا۔ تکلیف اگر تم محسوس کرتی رہی ہو تو درد کے سمندر میں غوطے میں نے بھی لگائے ہیں۔”
اکثم کی بات پر وہ نم آنکھوں سے مسکرائی تھی۔
“آپ کبھی دوسری شادی تو نہیں کریں گے نا؟”
ہانم کے سوال پر اکثم نے بمشکل اپنا قہقہ ضبط کیا تھا۔
“تمہاری بے رخی اگر ایسے ہی رہی تو سوچا جا سکتا ہے۔”
اکثم نے اس کے ہاتھوں کو جھٹکا دے کر اسے خود سے قریب کیا تھا۔
ہانم تو اس کی قربت پر ہی اپنے حواس چھوڑ چکی تھی۔ دھڑکنوں کا شور کمرے میں گونجا تو حیا نے پلکوں پر ٹھہر کر مقابل کے جذبات کو دہکا دیا تھا۔ رخساروں پر بڑھتی اس کی سانسوں کی تپش گلال کو گہرا کر گئی تھی۔ لرزتے لبوں پر خاموشی چھا گئی تھی۔ وہ بے خود ہوتے ہوئے جھکا اور اس کے بائیں کان کے قریب سرگوشیانہ انداز میں بولا۔
“کیا خیال ہے اب ہاسپٹل سے بے بی لینے کب جانا ہے؟ اب تو ڈاکٹر کا نمبر لینے کی ضرورت بھی نہیں ہے۔”
بولتے ہوئے وہ جان بوجھ کر اس کے کان کی لو کو لبوں سے چھو کر پیچھے ہوا۔ وہ کانپ سے گئی تھی اس کے لمس پر۔ دودھیا رنگت میں سرخیاں بڑھتی جا رہی تھیں۔ وہ اب ناسمجھ تو نہیں رہی تھی کہ اس کی ذو معنی باتوں کو نا سمجھتی۔ اکثم نے اس کے گال پر اپنی انگلیوں کے نشان دیکھے تو وہ جھک کر اس کے رخسار کو اپنے تشنہ آور لبوں سے اپنی دیوانگی ظاہر کرتے ہوئے اسے مرہم فراہم کر گیا تھا۔ اس سے پہلے وہ مزید کوئی گستاخی کرتا ثمامہ کے دروازے کھٹکھٹانے کی آواز پر وہ دونوں جیسے حواس میں لوٹے تھے۔
اکثم سخت بد مزہ ہوا تھا ثمامہ کی مداخلت پر۔ جبکہ ہانم نظریں چراتے ہوئے خود کو جلدی سے اکثم سے دور کر گئی اور اپنا ڈوپٹہ ٹھیک کرتے ہوئے دروازے کی جانب بڑھی۔
“تمہارے بیٹے کی مداخلت مجھے بالکل اچھی نہیں لگی۔ رات کو اس کو ارتسام کے کمرے میں بھیج دینا۔”
اکثم اسے کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کو ساکت کر گیا تھا اور خود دروازہ کھولتے ہوئے ثمامہ کو اندر آنے کا راستہ دے کر باہر نکل گیا تھا۔
“موم پاپا نے کیا پھر مارا آپ کو؟”
ثمامہ نے اس کے سرخ چہرے کو دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔
“نہیں وہ تو سوری کرنے آئے تھے۔ اچھا تم اپنا بیگ لے کر آئو میں تمہیں ہوم ورک کروا دیتی ہوں۔”
ہانم یہ بول کر واش روم کی طرف چلی گئی جبکہ ثمامہ سر ہلاتے ہوئے باہر کی جانب بھاگ گیا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا خاموشی سے سب کھا رہے تھے جب ہانم کی آواز پر سب اس کی طرف متوجہ ہوئے۔
“بابا جان مجھے آپ سب سے کچھ بات کرنی ہے۔”
ہانم کی لرزتی آواز پر سب کو اندازہ ہوگیا تھا کہ وہ رو رہی ہے۔
“کیا بات ہے ہانم؟”
یسرا بیگم کی نرم آواز پر ضبط نہیں کر سکی اپنے آنسو۔
“اماں جان مجھے آپ سب سے اپنے رویے کے لئے معافی مانگنی ہے میں ذیادہ نہیں بلکہ بہت ذیادہ جذباتی ہوگئی تھی۔ مجھے معاف کر دیں۔”
ہانم کی بات پر دلاور خان اور یسرا بیگم نے ایک دوسرے کو دیکھا اور مسکرا دئیے۔ یہ لڑکی بہت حساس تھی وہ جانتے تھے۔
“ہمیں تمہارا رویہ برا نہیں لگا ہانم کیونکہ تمہارا ردعمل فطری تھا۔ اور ہماری بیٹی معافی مانگتے ہوئے بالکل اچھی نہیں لگ رہی۔”
دلاور خان کی نرم اور مسکراتی آواز پر ہانم کا احساس ندامت کچھ کم ہوا تھا۔
“ہاں بھابھی اور روتے ہوئے تو آپ بالکل چڑیل لگ رہی ہیں۔”
ارتسام کی آواز پر ثمامہ نے اسے گھورا تھا اور اپنی جگہ سے اٹھتے ہوئے دونوں ہاتھ کمر پر ٹکا کر وہ بالکل لڑاکا عورتوں کی طرح ارتسام خان کا بھانڈا پھوڑ گیا تھا۔
“میری موم چڑیل نہیں ہیں چاچو۔ بلکہ چڑیل تو وہ آنٹی ہے جس سے آپ ملنے جاتے ہو زمینوں پر، عجیب سی آنکھیں ہیں اس کی۔ اور اس کے ساتھ مسکراتے ہوئے بات کرتے آپ بالکل ایک جن ہی لگتے ہیں۔”
ثمامہ کی بات پر سب نے حیرت سے ارتسام کو دیکھا تھا جو اب مدد طلب نظروں سے ہانم کو دیکھ رہا تھا۔ ہانم اپنے آنسو صاف کرتے ہوئے اپنے کندھے اچکا گئی۔ جیسے کہہ رہی ہو تمہارا معاملہ ہے میں کیا کروں۔
“چھوٹے خان کیا آپ کسی لڑکی سے ملتے ہیں؟”
یسرا بیگم کی صدمے سے بھری آواز پر وہ گڑبڑا گیا تھا۔
“اماں جان وہ۔۔۔”
“دادی جان میں آپ کو بتاتا ہوں یہ پچھلے ایک سال سے اس چڑیل کو ملنے جاتے ہیں جو کھیتوں کے پاس باغ ہے نا امرود والا وہاں۔ ہیں نا چاچو؟”
ارتسام اب ثمامہ کو گھور رہا تھا جو اچھی خاصی اس کے بینڈ بجوا کر اب معصوم بن رہا تھا۔ ارتسام تو اس وقت کو کوس رہا تھا جب وہ ثمامہ کو ساتھ لے کر جاتا تھا۔
“ہمیں تم سے یہ امید بالکل نہیں تھی چھوٹے خان۔”
دلاور خان نے تاسف سے کہا۔
“بابا جان سامی کسی لڑکی کو پسند کرتا ہے اور اس سے شادی کرنا چاہتا ہے۔ وہ خان کا ہی انتظار کر رہا تھا کہ جب وہ آئیں گے تب آپ سے بات کرے گا۔ وہ بہت محبت کرتا ہے اس لڑکی سے دیکھا تو میں نے بھی نہیں اسے ابھی اور نام بھی نہیں جانتی کیونکہ ارتسام خان بھی نام جانے بغیر ہی اس سے محبت کرتے ہیں۔ پلیز ارتسام کو غلط مت سمجھیں کیونکہ ثمامہ جو مرچ مصالحہ لگا رہا ہے ایسا کچھ نہیں ہے۔”
ہانم نے شائستگی سے بات سنبھالی تھی۔
“آج کے بعد تم اس لڑکی سے نہیں ملو گے کیونکہ کل ہم اس کے گھر رشتہ لے کر جائیں گے۔”
دلاور خان نے مسکرا کر ارتسام کو دیکھتے ہوئے کہا۔
“شکریہ بابا جان۔ اور شکریہ بھابھی۔”
ارتسام کی خوشی اس کے چہرے سے عیاں ہو رہی تھی۔
“اور میرا شکریہ؟”
ثمامہ نے ارتسام کو گھورا تھا۔
“بیٹا تیری تو ہڈیاں مضبوط کرتا ہوں آج میں۔”
ارتسام نے دھیمی آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کی۔
“دادا جان چاچو۔”
“اچھا اچھا شکریہ میرے باپ۔خبردار اب بابا جان سے کوئی شکایت کی تو؟”
ارتسام اس کی بلیک میلر کو گھورتے ہوئے بولا تو ثمامہ نے اپنے فرضی کالر جھاڑے۔
“ڈیٹس بیٹر۔۔۔ اور اگلی دفعہ مجھے دھمکی نہیں دینی ورنہ بہت پچھتائیں گے آپ۔”
“وہ تو نہ بھی دوں تب بھی پچھتاتا ہوں۔”
ارتسام بڑبڑاتے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ ہوگیا جبکہ اکثم نے مسکراتے ہوئے فیملی کو دیکھا تھا۔ اکثم کی نظریں ہانم پر رک سی گئی تھیں۔ وہ بے خودی میں اس دشمن جان کو دیکھ رہا تھا جو کھانا کھانے میں مصروف تھی۔ اچانک اکثم کو کچھ یاد آیا تو وہ ہانم کی طرف تھوڑا سا جھکا اور بولا۔
“سبزیوں والی روٹی کھانے چلیں؟”
اکثم کی سب کے سامنے اس قدر نزدیکی پر وہ بوکھلاہٹ کا شکار ہوئی تھی۔ اور اسے گھورتے ہوئے بولی۔
“ہٹیں پیچھے اور خبردار جو میری ناسمجھی میں کی گئی باتوں پر میرا مذاق اڑایا آپ نے۔”
ہانم کی دھیمی آواز پر وہ بمشکل اپنے قہقے کا گلا گھونٹ گیا تھا۔
“ورنہ کیا کریں گی مسز خان؟”
“ذیادہ کچھ نہیں بابا جان سے شکایت کروں گی آپ کی۔”
ہانم بھی اسی کے انداز میں بولی۔
“بھائی رومینس بعد میں کر لیجئے گا ابھی پلیز سب دیکھ رہے ہیں۔”
ارتسام کی شرارت بھری سرگوشی پر ہانم اور اکثم دونوں نے اسے گھورا تھا۔ جبکہ وہ مسکراتے ہوئے کھانے کی طرف متوجہ ہو گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: