Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 25

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 25

–**–**–

“ہانم بیٹا کیا ہوا نیند نہیں آ رہی کیا؟”
یسرا بیگم جو حال سے ہوتے ہوئے کیچن میں جا رہی تھیں وہاں صوفے پر موجود ڈوپٹہ چھوٹی ہانم کو دیکھ کر بولیں۔ ہانم جو اکثم کو اپنے کمرے میں جاتا دیکھ کر اب سوچ رہی تھی کمرے میں جائے یا نہیں یسرا بیگم کی آواز پر وہ اپنی حالت کو درست کرتے ہوئے اٹھی اور بولی۔
“اماں جان میں بس جا رہی تھی۔”
ہانم یہ بول کر اپنے کمرے کی طرف آہستہ سے قدم اٹھانے لگی۔ اکثم کی باتیں اس کے دل کی دھڑکن کو مزید تیز کر رہی تھیں۔ ثمامہ کو بھی اکثم نے صبح پیزا کھلانے کی لالچ دی جسے اس نے خوش اسلوبی سے مان لیا تھا۔ اور آج رات وہ بھی ارتسام کے کمرے میں تھا۔ ہانم آہستہ سے دروازہ کھول کر جیسے ہی اندر داخل ہوئی سامنے بیڈ پر اکثم کو لیٹے دیکھ کر وہ چند پل اپنی جگہ سے ہل نہ سکی۔ اکثم جو دروازہ کھلنے کی آواز پر دروازے کی طرف متوجہ ہوا تھا۔ سامنے ہی وہ ناخن چباتے ہوئے دروازہ بند کر رہی تھی۔
“شکر ہے تمہیں یاد آیا کہ ایک عدد شوہر بھی ہے کمرے میں جو تمہارا انتظار کر رہا ہے۔”
اکثم نے مسکراتے لہجے میں اس سے شکوہ کیا تھا۔
“خان میں بس آ رہی تھی۔ ثمامہ کہاں ہے؟”
ہانم اس سے نظریں ملائے بغیر بات بدل گئی۔
“وہ اپنے چاچو کے کمرے میں ہے کیونکہ اس نے صبح میرے ساتھ سبزیوں والی روٹی کھانے جانا ہے نا اس لئے۔”
اکثم کی بات پر ہانم نے اسے گھورا۔
“آپ میرا مذاق اڑا رہے ہیں خان؟”
“میرے باپ کی توبہ جو میں تمہارا مذاق اڑائوں۔”
اکثم اپنے کانوں کا ہاتھ لگاتے ہوئے بولا۔
ہانم نے بس اکثم کو گھورنے پر اکتفا کیا۔
“ویسے میرا ایک دوست ہے جو بےبی دیتا ہے تو کیا خیال ہے ہانم بےبی لینے چلیں؟”
اکثم مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے بولا۔ ہانم نے اکثم کو دیکھنے کی غلطی بالکل نہیں کی تھی۔ اس کی بےضرر سی بات پر اس کے رخسار دہک اٹھے تھے۔ سرخیوں نے اس کے چہرے کا جیسا بسیرا کر لیا۔ اکثم بے خود ہوتے ہوئے اپنی جگہ سے اٹھا اور اس کے مقابل آیا جو فرش پر نگاہوں کا تسلسل برقرار رکھے بیڈ سے ذرا فاصلے پر کھڑی تھی۔ اکثم نے اسے شانوں سے پکڑ کر اپنے قریب کیا اور خمار آلود لہجے میں بولا۔
“نظریں تو تب بھی تم سے ہٹنے سے انکاری تھیں جب تم شرم و حیا کے معنی سے واقفیت نہیں رکھتی تھی لیکن اب تو دل فقط تمہاری اس سرخی کا اسیر ہو گیا ہے۔ بخدا اس سے حسین نظارہ اکثم خان نے آج تک نہیں دیکھا۔”
بولتے ہوئے وہ جھکا تھا اور اس کی پیشانی پر اپنی محبت کا لمس چھوڑتے ہوئے پیچھے ہٹا تھا۔ ہانم نے آنکھیں بند کر کے اس لمس کو محسوس کیا تھا۔ اکثم جیسے ہی پیچھے ہٹا ہانم کی آنکھوں سے نکلتے آنسو دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
“کیا ہوا ہانم؟ تم رو کیوں رہی ہو؟ میری کوئی بات بری لگی ہے کیا؟”
اکثم اس کے چہرے کو دونوں ہاتھوں سے تھامتے ہوئے ایک دیوانے کی طرح سوال کر رہا تھا۔ ہانم نے اپنا سر نفی میں ہلا دیا۔ اکثم نے اسے کندھوں سے تھامتے ہوئے بیڈ پر بٹھایا اور خود گھٹنوں کے بل اس کے قدموں میں بیٹھتے ہوئے بولا۔
“کیا تم اس رشتے کے لئے تیار نہیں ہو؟”
ہانم نے پھر اپنا سر نفی میں ہلایا اور منہ سے کچھ نہ بولی۔
“ہانم ہوا کیا ہے یار؟ اب تو مجھے پریشانی ہو رہی ہے۔”
“خان آپ مجھے چھوڑ کر تو نہیں جائیں گے نا؟”
ہانم نے معصومیت سے پوچھا تو اکثم کا رکا سانس بحال ہوا۔
“نہیں جائوں گا یار وعدہ کرتا ہوں۔”
اکثم اس کے دونوں ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں تھامتے ہوئے مسکرا کر بولا۔ ہانم نم آنکھوں سے مسکرائی تھی۔ بارش کے بعد پھولوں پر ٹھہری شبنم کی طرح اس کی پلکوں پر آنسو چمک رہے تھے۔اکثم بے ساختہ اس کے قریب ہوا تھا اور اپنے لبوں سے ان موتیوں کو چنتے ہوئے پیچھے ہوا تھا۔
“انتہائے عشق ہو تم میری”
یہ بول کر وہ اس کے مقابل بیڈ پر بیٹھا تھا جو اپنی روانگی سے ہٹتی دھڑکنوں کو مزید منتشر ہونے سے روک رہی تھی اور گہرے سانس لے کر خود کو نارمل کر رہی تھی۔ اکثم نے مسکرا کر اسے دیکھا اور اس کے سر پر بوسہ دے کر اٹھ گیا۔ اور بیڈ کی دوسری سائیڈ پر جا کر لیٹ گیا۔
تھوڑی دیر بعد ہانم اپنی کیفیت پر قابو پا کر اکثم کے سونے کا یقین کرتے ہوئے وہ بیڈ کے دوسری طرف کروٹ بدل کر لیٹ گئی تھی۔ ابھی چند لمحے ہی ہوئے تھے جب اکثم نے اس کا بازو پکڑ کر اسے اپنی طرف کھینچا وہ سیدھے اس کے سینے سے ٹکرائی تھی۔
“میرا دل بغاوت کر چکا ہے ہانم اسے صرف تمہاری قربت لگام ڈال سکتی ہے۔”
اکثم یہ بول کر کروٹ بدل گیا اور ساتھ ہی لائٹ آف کر گیا تھا۔ ہانم نے پرسکون ہوتے ہوئے اکثم کی پناہوں میں خود کو سونپ دیا تھا۔ قسمت بھی ان کے ملن پر مسکرائی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی صبح جب وہ اٹھا تو ہانم کہیں نہیں تھی گزری شب کے سیاق و سباق اس کے ذہن میں آئے تو وہ بے ساختہ مسکرایا تھا۔ اسی مسکراہٹ کو اپنے لبوں پر سجائے وہ واش روم کی طرف فریش ہونے کے لئے چلا گیا تھا۔ سب ناشتے کی میز پر اکثم کا انتظار کر رہے تھے۔ اکثم اپنی پرجوش آواز میں سلام کرتے ہوئے کیچن میں داخل ہوا تو سامنے ہی ہانم بیٹھی تھی جو اکثم کے دیکھنے پر اپنی نظریں جھکا گئی تھی۔ اکثم آہستہ سے قدم اٹھاتے ہوئے اس کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھ گیا۔
“بھائی آج آپ لیٹ آئے ہیں ناشتے کے لئے خیریت ہی تھی نا؟”
ارتسام کی زبان پر کجھلی ہوئی تو ہانم کا جھکا سر مزید جھک گیا۔ وہ اکثم سے نگاہیں ملانے سے اجتناب برت رہی تھی۔
“چاچو پاپا کو چھوڑیں اور یہ بتائیں کہ آج صبح آپ کہاں گئے تھے؟ فجر کی نماز پڑھنے میں دو گھنٹے لگتے ہیں کیا؟”
ثمامہ ارتسام کو دیکھ کر معصومیت سے بولا تو ارتسام نے اسے گھورا تھا جو ہر وقت اس پر دھماکے کرتا رہتا تھا۔ آج صبح وہ فجر کی نماز کے بعد اس لڑکی سے ملنے گیا تھا اور اسے بتانے گیا تھا کہ اس کے بابا جان آج ان کے گھر آئیں گے۔ اور یہ بات ثمامہ سے اس نے رات میں کچھ ذیادہ ہی خوش ہوتے ہوئے ڈسکس کر دی تھی اور نتیجہ ہر بار کی طرح بھیانک نکلا تھا۔ سب کی توجہ خود پر محسوس کرتے ہوئے اس نے اپنے بتیس دانتوں کی نمائش کرنا ضروری سمجھا تھا۔
“میں تو سیر کرنے گیا تھا بھاگ تک۔”
ارتسام کی بات پر اکثم نے بمشکل مسکراہٹ دبائی تھی جبکہ یسرا اور دلاور خان نے اسے گھورا تھا۔
“موم میں یہ ناشتہ نہیں کھائوں گا مجھے نوڈلز بنا دیں پلیز۔”
ثمامہ اپنے سامنے پڑے پراٹھے کو دیکھ کر منہ بناتے ہوئے ہانم سے بولا۔ اس سے پہلے ہانم کوئی جواب دیتی اکثم کی بات سب گھر والوں کے چہروں پر مسکراہٹ بکھیر گئی تھی۔
“سیم تم موٹے دھاگے کھاتے ہو؟”
سب جانتے تھے کہ اکثم نے ہانم کو چڑانے کے لئے ایسا کہا ہے۔ ہانم نے اکثم کو دیکھنے کی زحمت اب بھی نہیں کی تھی۔
“پاپا نوڈلز بولتے ہیں ان کو اور آپ کو نہیں معلوم میری موم بہت اچھے نوڈلز بناتی ہیں۔”
ثمامہ کا مکھن لگانا اپنے عروج پر تھا۔
“ہانم کیا واقعی ان کو نوڈلز بولتے ہیں؟”
اکثم نے مسکراہٹ لبوں پر روکے براہ راست اب ہانم کو مخاطب کیا تھا جو اکثم کو گھورتے ہوئے اٹھ کر ثمامہ کے لئے نوڈلز بنانے چلی گئی تھی۔
“بھائی جان بوجھ کر آپ شیرنی کے پنجرے میں ہاتھ ڈال رہے ہیں۔”
ارتسام کی سرگوشی پر اکثم مسکرایا تھا۔
“بڑے خان یہ ناشتہ کر کے تیار ہو جائو کیونکہ ہمیں ارتسام کی پسند کی ہوئی لڑکی کے گھر جانا ہے۔ جتنی دیر ہم کریں گے یہ گدھا اتنا ہی بے صبرا ہوتا جائے گا۔”
دلاور خان ناشتہ کر کے اپنی جگہ سے اٹھے اور اکثم کو حکم دیتے ہوئے کیچن سے باہر چلے گئے۔
“کہیں میں خواب تو نہیں دیکھ رہا؟”
ارتسام نے خود کو چٹکی کاٹتے ہوئے بے یقینی سے کہا۔
“چاچو آپ بالکل خواب نہیں دیکھ رہے کیونکہ جن لوگ خواب نہیں دیکھتے۔”
ثمامہ نے ارتسام کو گویا یاد دلایا تھا کہ وہ انسان ہے ہی نہیں۔ ارتسام نے اسے گھورا تو ثمامہ نے دایاں آبرو اچکا کر اسے دیکھا۔
“بھائی آپ کا بیٹا دشمن ہے میرا۔”
ارتسام کی مصنوعی خفگی پر اکثم مسکرایا تھا۔
“ماں نے سکھایا ہوگا سب اس کو۔”
“پاپا۔ موم کے بارے میں مذاق مین بھی کچھ نہیں”
“بھائی بھابھی کے بارے میں کچھ نہیں سنوں گا میں۔”
ثمامہ اور ارتسام کی آواز پر اکثم نے دونوں کو گھورا تھا۔
“ایک چمچہ کم تھا اب دوسرا بھی آگیا۔”
اکثم بڑبڑاتے ہوئے بولا۔
“بھائی کچھ کہا کیا؟”
ارتسام اسے بڑبڑاتے دیکھ کر بولا۔
“نہیں۔۔ ہانم میرے کپڑے نکال دو آ کر مجھے بابا جان کے ساتھ جانا ہے۔”
اکثم ارتسام کو جواب دے کر ہانم سے بولا جو ثمامہ کے آگے نوڈلز رکھ رہی تھی۔ ہانم نے اکثم کو گھورا مگر وہ بغیر کسی کی پرواہ کئے مسکراتے ہوئے دائیں آنکھ کا کونا دبا کر اپنی جگہ سے اٹھا اور وہاں سے نکلتا چلا گیا۔ جبکہ ہانم نے بمشکل اس کی حرکت کو ہضم کرنے کی کوشش کی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ارتسام کے بتائے ہوئے ایڈریس پر جیسے ہی اکثم اور دلاور خان پہنچے سامنے خوش بخت کو دروازہ بند کرتے دیکھا۔ خوش بخت نے بھی دلاور خان کو پہچان لیا تھا۔
“تم۔”
دلاور خان کی حالت ایسی تھی جیسے کاٹو تو بدن میں خون نہیں۔
“خان صاحب آپ یہاں؟”
خوش بخت کی کمزور لرزتی آواز پر دلاور خان نے اپنی کیفیت پر قابو پایا تھا۔
“ہمیں تم سے کچھ بات کرنی ہے خوش بخت۔”
ارتسام کا خیال آتے ہی دلاور خان نے خوش بخت سے کہا تو اس نے گھر کا دروازہ کھولتے ہوئے دونوں کو اندر داخل ہونے کا اشارہ کیا اور پھر خود بھی ان کے ساتھ ہی داخل ہوگیا۔
وقت سب کا اب کہاں کھڑا کرنے والا تھا یہ تو کوئی نہیں جانتا تھا لیکن شاید اب بچھڑے لوگوں کا ملن ہونے والا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
دوپہر کو ہانم ثمامہ کو کھانا کھلانے کے بعد کیچن میں برتن رکھ کر واپس آ رہی تھی جب حال میں داخل ہوتی شخصیت کو دیکھ کر وہ ساکت رہ گئی تھی۔ خوش بخت اور مریم کا حال بھی مختلف نہ تھا۔ ریاح اکثم اور دلاور خان کے ساتھ پیچھے تھی۔
مریم تقریبا بھاگنے والے انداز میں ہانم کے پاس پہنچی اور اس کے چہرے کو تھامتے ہوئے اس پر دیوانہ وار بوسے دینے لگی۔ ہانم ویسے ہی بے حس و حرکت کھڑی تھی۔
“ہانم میری بچی۔”
مریم کی آواز پر وہ جیسے ہوش میں آئی تھی۔ بے ساختہ اس نے اپنے قدم پیچھے کی طرف اٹھائے تھے۔
“نہیں ۔۔۔ نہیں ہوں میں آپ کی بچی۔۔ سنا آپ نے نہیں ہوں میں آپ کی کچھ لگتی۔”
ہانم چیختے ہوئے بولی تھی اکثم نے آگے بڑھ کر اسے کندھوں سے تھاما تھا۔ ہانم ہانپ رہی تھی اور اس کا سانس اکھڑ رہا تھا۔
“ہانم ریلیکس۔”
اکثم نے اس کو شانوں سے پکڑ کر نرمی سے کہا۔
“جان ان کو بولیں یہ یہاں سے چلی جائیں مر گئی ان کی بیٹی ان کے لئے۔ اب کیا دیکھنے آئے ہیں یہ لوگ کہ ہانم واقعی مری ہے یا نہیں؟”
ہانم کا رد عمل سب کی توقع کے بر عکس تھا۔
“سٹاپ اٹ ہانم کیا بچپنا ہے یہ۔”
اکثم نے سختی سے ہانم کو شانوں سے تھام کر کہا تھا۔
“خان ان لوگوں نے ایک بار بھی میرے بارے میں نہیں سوچا۔ اگر آپ کی جگہ کوئی ظالم انسان ہوتا تو میں تو مر جاتی خان۔ وہ تو خدا کو نا جانے کونسی میری ادا پسند آ گئی تھی کہ مجھے اس فیملی کا حصہ بنا دیا ورنہ یہ تو مجھے سرعام بیچ۔۔۔۔”
“آپی بس کریں۔ اگر آپ تڑپی ہیں تو ہم نے بھی ہر ابھرتے سورج کے ساتھ اس امید کو باندھا تھا کہ ایک نہ ایک دن ہم ضرور ملیں گے۔ ہم بھی تڑپے ہیں آپی آپ سے ملنے کے لئے۔”
ریاح کی آواز پر وہ رکی تھی۔ سترہ سالہ ریاح ہوبہو اس کے جیسے تھی سوائے آنکھوں کے رنگ کے تھوڑے نین نقش بھی مختلف تھے لیکن نزدیک سے دیکھنے پر وہ بالکل اس جیسی ہی لگتی تھی۔ ہانم نے پلٹ کر ریاح کو دیکھا تھا جو نم آنکھوں سے ہانم کو دیکھ رہی تھی۔
“روح۔”
ہانم اکثم کے ہاتھ ہٹاتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اسے گلے سے لگا کر خوب روئی۔ آنسوئوں نے دس سال کی محبت کو دوبارہ اجاگر کر دیا تھا۔ ساری رنجشوں کو دھو کر وہ اب اپنے باپ اور ماں کے گلے لگی تھی۔ سارے شکوے ختم ہونے کے بعد اسے معلوم ہوا تھا کہ ارتسام ریاح کے بارے میں سب جانتا تھا اور اس نے جان بوجھ کر اس سے سب چھپایا تھا۔دلاور خان نے خوش بخت سے مل کر پرانی باتوں کو بھلائے ایک نئی شروعات کی طرف قدم بڑھائے تھے۔ ٹھیک ایک ماہ بعد کی ڈیٹ فکس ہوئی تھی دونوں کی اور اس سب سے کوئی بے خبر تھا تو وہ تھا ارتسام جو ایک میٹنگ کے سلسلے میں باہر تھا۔ ہانم اپنے ماں باپ کے پاس گھر رکنے کے لئے چلی گئی تھی جبکہ اکثم کا منہ بن گیا تھا اس کے فیصلے پر اس نے کافی دفعہ ہانم کو اشاروں اشاروں میں منع کیا لیکن وہ اسے مکمل نظر انڈا کرتے ہوئے دلاور خان سے اجازت لے کر اپنے گھر چلی گئی تھی۔ رات کو ارتسام کی واپسی ہوئی تو گھر میں خاموشی کا راج تھا۔ وہ فریش ہو کر اکثم کے کمرے کی طرف آیا۔ ناک کر کے وہ جیسے ہی کمرے میں داخل ہوا سامنے کا منظر دیکھ کر وہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: