Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 3

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 3

–**–**–

اکثم صوفے پر نیم دراز تھا ۔۔ کافی مشکل سے وہ اس صوفے پر سو رہا تھا۔۔ کیونکہ اس کا قد چھے فٹ چار انچ تھا۔۔۔ بار بار کروٹ بدلتے ہوئے مشکل سے ہی سویا تھا جب اس کسی نے اسے ذور سے کندھے سے ہلا کر پکارا۔۔۔
خان۔۔۔
اکثم ہڑبڑا کر اٹھ گیا۔۔۔
یااللہ خیر ۔۔۔
بے ساختہ اس کے منہ سے یہ الفاظ نکلے تھے۔۔۔
لیکن جیسے ہی اس کی نظر سامنے کھڑی ہانم پر پڑی اسے غصہ آگیا۔۔۔
کیا ہے؟؟؟
مجھے بھوک لگی ہے؟؟ میں نے کھانا بھی نہیں کھایا ۔۔ چاچی لینے گئی تھی کھانا ۔۔ لیکن وہ نہیں لائی۔۔۔
ہانم کی بات پر اکثم صوفے سے اٹھا اور جا کر کمرے کی لائٹ آن کی۔۔۔
تم نے اتنی رات کو مجھے اپنی بھوک کی وجہ سے اٹھایا ہے؟؟
اکثم نے اسے گھورا ۔۔۔۔
ہانم نے ذور ذور سے اپنا سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔
تو جب رات کو میں آیا تھا تب مجھے بول دیتی کھانے کا۔۔۔
اکثم کو غصہ آ رہا تھا۔۔۔
تب میں بھول گئی تھی کہ مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بولی۔۔۔
اس کی بات پر اکثم عش عش کر اٹھا تھا۔۔۔
کوئی کھانا کھانا کیسے بھول سکتا ہے ہانم؟؟
میں بھول جاتی ہوں۔۔ آپ کو معلوم ہے رات کو جب میں کھانا نہیں کھاتی تھی۔۔تو امی اٹھا کر کھلاتی تھیں ۔۔ کیونکہ میں بھول جاتی تھی نا۔۔۔
ہانم چپ کر جائو۔۔۔۔ اور تم یہیں رکو میں کھانا لے کر آتا ہوں۔۔۔
اکثم یہ بول کر باہر چلا گیا جبکہ ہانم وہیں بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔
تقریبا دس منٹ بعد وہ کمرے میں داخل ہوا تو اس کے ہاتھ میں ایک باول تھا جس میں ایک چمچ تھا۔۔۔
اس نے وہ بائول ہانم کے آگے رکھا۔۔۔
کھانے کو اس وقت کچھ نہیں تھا اس لئے یہ بنا کر لایا ہوں۔۔۔۔
ہانم نے ایک دفعہ بائول کو دیکھا اور ایک اکثم کو جو اب دوبارہ صوفے پر جا رہا تھا۔۔۔
خان ۔۔ یہ تو دھاگے ہیں ۔۔۔ وہ بھی موٹے موٹے ۔۔۔۔
ہانم کی بات پر اکثم نے صدمے سے ہانم کو دیکھا تھا جو نوڈلز کو دھاگے بول رہی تھی۔۔۔۔ اور بیڈ سے اٹھ گئی تھی۔۔۔
یہ نوڈلز ہیں۔۔۔
اکثم نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
ہانم بیچاری کبھی اس بائول کو دیکھ رہی تھی اور کبھی اکثم کو۔۔ بالآخر دو منٹ کی خاموشی کے بعد وہ بولی۔۔۔۔
ان دھاگوں کا نام نوڈلز ہے یا جو بھی ہے میں کیا کروں ۔۔۔ آپ مجھے کھانا لا کر دیں۔۔۔
ہانم ۔۔۔ یہ نوڈلز ہیں اور اب اگر تم نے انہیں دھاگے بولا تو قسم سے دو تھپڑ لگائوں گا۔۔ انہیں کھاتے ہیں۔۔۔ سمجھی تم اب کھانے ہیں تو کھائو ورنہ میری طرف سے بھاڑ میں جائو۔۔۔
اکثم غصے سے بول کر صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔
ہانم کی نیلی آنکھوں میں نمی آنسوئوں کی صورت گالوں پر نکلی تھی۔۔۔
میں ابا کو بتائوں گی کہ آپ بہت برے ہیں۔۔۔ مجھے دھاگے نہیں نوڈلز۔۔۔
اکثم کی گھوری پر جلدی سے بولی تھی ۔۔۔
آپ مجھے یہ کھلا رہے تھے دیکھنا وہ آپکو بہت ماریں گے۔۔۔۔ میں اپنی امی کو بھی بتائوں گی وہ بھی آپکو مارے گی ڈنڈے سے جیسے مجھے مارتی ہے بات نہ ماننے پر۔۔۔ میں روح کو بھی بتائوں گی وہ بھی آپ کے بال کھینچے گی جیسے عائشہ کے کھینچتی ہے۔۔۔ لیکن آپ کے بال تو چھوٹے ہیں وہ کیسے پکڑے گی؟؟؟
ہانم روتے ہوئے بول رہی تھی اور اکثم صدمے سے اسے سن رہا تھا۔۔۔ اور ہانم کی نئی پریشانی پر اکثم نے دانت پیسے تھے۔۔۔
یہ روح کونسی ہستی ہے جو میرے بال کھینچے گی؟؟؟
میری بہن ہے چھوٹی۔۔۔ نانی کے گھر گئی ہے۔۔ ریاح نام ہے لیکن سب اسے روح بلاتے ہیں۔۔۔ وہ سکول بھی جاتی ہے۔۔ اور اگر کوئی مجھے کہے تو اسے مارتی بھی ہے۔۔۔ اور۔۔۔
بس کر دو ہانم۔۔۔۔
ہانم کی زبان کینچی کی طرح چلتی تھی یہ بات اکثم چند گھنٹوں میں جان گیا تھا۔۔۔۔
ہانم کی زبان کو بریک لگی اور پھر سے رونے لگی۔۔۔
مجھے بھوک۔۔۔۔
ہانم چپ کرو میں کھانا لاتا ہوں۔۔
یہ بول کر اکثم نے نوڈلز کا بائول پکڑا اور دوبارہ سے کیچن کی طرف چلا گیا جبکہ ہانم نے جلدی سے آنسو صاف کرتی صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔
جس عمر میں لوگ ڈاکٹر اور بزنس مین بننے کا سوچتے ہیں میں اس عمر میں اب بیوی پالوں گا۔۔۔۔
اکثم انڈہ فرائی کرتے ہوئے مسلسل بڑبڑا رہا تھا۔۔۔۔
بیس منٹ میں بریڈ کے اندر انڈہ اور کیچپ لگا کر اس نے وہ پلیٹ میں رکھے اور کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔
پلیٹ کو ہانم کے سامنے رکھتے ہوئے وہ اس کے ساتھ صوفے پر کچھ فاصلے پر بیٹھا ۔۔۔۔
ہانم یہ کھا لو چپ چاپ اور یہ کوئی گندی چیز نہیں ہے ۔۔ انڈہ ہے اس میں ۔۔۔ اور کھانے سے پہلے تمہاری آواز اگر آئی تو میں تمہیں باہر جو کتے ہیں ان کے آگے پھینک آئوں گا۔۔۔۔
اکثم کی دھمکی کام کر گئی تھی وہ چپ چاپ کھانے لگی۔۔۔ تھوڑی دیر بعد وہ اٹھی اور بیڈ پر جا کر لیٹ گئی جبکہ اکثم نے بے ساختہ اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔۔۔ پتہ نہیں باقی زندگی اس کی کیسے گزرنے والی تھی۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح دستک کی آواز سے وہ اٹھا اور اس کی نظریں سامنے اٹھیں ۔۔ بیڈ کی بائیں جانب کھڑکی سے روشنی ہانم کے چہرے سے ٹکرا رہی تھیں۔۔
کالے بال جو چوٹی سے باہر بکھرے ہوئے تھے۔۔ لیکن بائیں سائیڈ پر چادر سے خود ڈھانپا ہوا تھا۔۔۔ بس چہرہ نظر آ رہا تھا۔۔۔ وہ گہری سانس بھر کر رہ گیا تھا۔۔۔۔
وہ صوفے سے اٹھا اور دروازہ کھولا۔۔ سامنے ہی اماں جان کھڑی تھیں ۔۔۔۔۔ وہ نظریں جھکا گیا تھا۔۔۔ ان کی نظروں میں موجود سوالوں سے وہ نظریں چرا گیا تھا ۔۔۔۔
میں تمہارا اپنے کمرے میں انتظار کر رہی ہوں بڑے خان۔۔۔ آ جائو۔۔۔۔
اکثم نے دیوار پر لگی بڑی سی گھڑی کی طرف دیکھا جہاں صبح کے دس بج رہے تھے مطلب بابا جان زمینوں کو جا چکے تھے۔۔۔۔
جی ابھی آتا ہوں۔۔۔۔
وہ جانتا تھا وہ خود کیوں بلانے آئی تھیں کیونکہ رشیدہ کے بلاوے پر وہ گھر سے ہی چلا جاتا۔۔۔ ان کے سوالوں کے جوابات جو نہیں تھے اس کے پاس۔۔۔
میرے ساتھ چلو بڑے خان۔۔۔
یسرا بیگم نے سنجیدگی سے حاکمانہ انداز میں کہا۔۔۔ تو وہ ایک نظر سوئی ہوئی ہانم کو دیکھ کر دروازہ بند کر کے ان کے پیچھے پیچھے چلنے لگا۔۔۔۔۔۔
کمرے میں پہنچ کر وہ بیڈ پر بیٹھ گئیں جبکہ اکثم ابھی کھڑا ہی تھا۔۔۔
کیا ہم اپنی تربیت پر سوال اٹھائیں خان ؟؟؟ کیوں کیا آپ نے اس سے نکاح؟؟؟ اس معصوم بچی کو دیکھ کر مجھے ہول اٹھ رہے ہیں۔۔۔ جانے کیسے اس کے گھر والے برداشت کر رہے ہوں گے۔۔۔۔؟؟ کیوں تم نے انکار نہیں کیا ؟؟؟
یسرا بیگم نے نرمی سے استفسار کیا۔۔۔
اماں جان وہ بابا جان نے اچانک بلایا تھا۔۔۔۔ اور پھر۔۔۔۔
بس کر دو خان۔۔۔ جانتے ہو نا کہ احمر کو سخت ناپسند تھی یہ رسم ۔۔ وہ تو اسے سرے سے ہی ختم کر دینا چاہتا تھا لیکن تم نے اس رسم پر عمل کرکے اس کی روح کو تکلیف دی ہے ۔۔ کیوں تم سب ماں نہیں لیتے اس کی زندگی اتنی ہی تھی۔۔۔ خدا خاموش ہونے والوں کا بدلہ خود لے لیتا ہے۔۔ اس لئے میں بھی خاموش ہو چکی ہوں اگر اس شخص کا قصور ہوا تو اللہ دیکھ لے گا معاملہ ۔۔۔۔ اللہ کے انصاف پر یقین کیوں نہیں رکھتے تم لوگ۔۔۔۔۔ ماں ضرور ہوں میں اس کی لیکن میرا ظرف یہ اجازت نہیں دیتا کہ ایک بچی کی زندگی کو اس طرح سے برباد کیا جائے۔۔۔۔
تم اس بچی کو طلاق دے کر ۔۔۔۔
بس بیگم ۔۔۔۔
دلاور خان جو کب سے زمینوں سے واپس آ گئے تھے ۔۔۔ اپنے کمرے میں داخل ہوتے ہوئے وہ یسرا کی آخری بات سن چکے تھے۔۔۔ ان کی دھاڑ نما آواز پر یسرا بیگم ایک جھٹکے سے اٹھی تھیں ۔۔۔۔ جبکہ اکثم نے سپاٹ چہرے کے ساتھ ان کو دیکھا تھا۔۔۔
آپ ہوتی کون ہیں میرے بیٹے کا خون معاف کرنے والی؟؟؟
دلاور خان طیش میں آگے بڑھے تھے۔۔۔
بابا جان پلیز۔۔۔۔ آپ پہلے ہی اپنی ضد پوری کر چکے ہیں۔۔۔ اب مزید کسی کو تکلیف نہ دیں۔۔۔۔
اکثم نے سرد انداز میں انہیں کہا۔۔۔۔
جان تھا وہ خان حویلی کی۔۔۔ چھین لیا اس بدبخت نے ہم سے۔۔۔
تو آپ بھی اسے قتل کروا دیتے حساب برابر ہو جاتا۔۔۔
اس بار یسرا بیگم نے اپنا لہجہ مضبوط بنانے کی پوری کوشش کی تھی۔۔۔
جیسے ہم مریں گے پل پل لاڈلے خان کو یاد کر کے ویسے وہ بھی تڑپے گا اپنی بیٹی کے لئے۔۔۔ یہ سزا وہ زندگی بھر بھگتے گا۔۔۔۔ سمجھیں آپ۔۔۔ اب بلائیں اس لڑکی کو سب کے لئے ناشتہ بنائے جا کر۔۔۔۔۔
دلاور خان کی بات پر اکثم کے اندر غصے کی کی ایک لہر دوڑ گئی تھی جبکہ یسرا بیگم نے تاسف سے ان کے چہرے کو دیکھا تھا جو احمر کی موت کے بعد سخت دل ہوگئے تھے۔۔۔
آپ نے اسے میرے نکاح میں دیا ہے بابا جان۔۔۔ گستاخی معاف لیکن میں اسے عام لوگوں کی طرح سزا برداشت کرنے نہیں دوں گا۔۔۔ آپ کا ناشتے کا دل چاہ رہا ہے تو اماں جان سے کہیں لیکن ہانم کسی صورت آپکی کی کوئی سزا نہیں بھگتے گی۔۔۔ اگر ایسا ہوا تو آپ اپنا دوسرا بیٹا بھی کھو دیں گے۔۔۔۔
اکثم مضبوط لہجے میں بول کر وہاں سے چلا گیا جبکہ دلاور خان نے غصے سے یسرا بیگم کے جھکے سر کو دیکھا۔۔۔۔
یہ ہے آپ کی نافرمان اولاد۔۔۔۔
ان کی بات پر یسرا بیگم نے بے ساختہ مسکراتے ہوئے سر اٹھایا تھا۔۔۔ کیونکہ ایک اکثم ہی تھا جس کی ضد دلاور خان سے ذیادہ پکی ہوتی تھی۔۔۔۔ دلاور خان انہیں گھور کر وہاں سے چلے گئے۔۔۔۔۔
یااللہ ہم سب کو صبر عطا کر دے۔۔۔ آمین۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم نے کمرے میں قدم رکھا تو سامنے ہانم غائب تھی ۔۔ وہ اندر آیا تو واش روم کا دروازہ کھلا تھا۔۔ پہلے تو جھجک کر رکا۔۔ پھر ہانم کو آواز دی۔۔۔۔
ہانم۔۔۔۔
خان میں یہاں ہوں کپڑے دھو رہی ہوں۔۔۔
ہانم کے جواب پر اکثم بنا تاخیر کے واش روم کا دروازہ کھول کر اندر بڑھا تھا۔۔ اندر کا منظر دیکھ کر اکثم نے اسے کمرے میں سوتے وقت تنہا چھوڑ کر جانے والے وقت کو کوسا تھا ۔۔۔۔
سامنے ہی ہانم بڑے مصروف انداز میں اکثم کی شلوار قمیض پہنے اپنی چادر اوڑھے ۔۔۔ اپنے کل والے کپڑوں کو واش روم کے فرش پر پھیلا کر دھو رہی تھی۔۔۔ اور وہ اس کا شیمپو صابن ہر چیز سے اپنے کپڑوں کو دھونے کی کوشش کر رہی تھی ۔۔۔ اس کا شیمپو کا ڈھکن کہیں تھا تو شیمپو کی بوتل خالی تھی جبکہ صابن کو رگڑ رگڑ کر اس نے چھوٹا کر دیا تھا۔۔۔ توتھ پیسٹ آدھا زمین پر تھا اور آدھا سنک میں ۔۔۔
اکثم کے تو مانو چودہ طبق روشن ہو گئے تھے۔۔۔
یہ تم کیا کر رہی ہو؟؟؟
خان ایک ہفتے سے یہ کپڑے پہنے تھے تو اب ان کو دھو رہی ہوں ۔۔۔ میرے پاس کپڑے نہیں ہیں نا۔۔ اس لئے۔۔ اور گندے کپڑوں میں اماں جان مجھے پیاری نہیں بولیں گی۔۔۔ اس لئے میں نے سوچا کہ ان کو دھو کر سوکھا لیتی ہوں۔۔۔ اور۔۔۔۔
ہانم تم نے میری ساری مہنگی چیزیں خراب کر دیں اور میری نئی شلوار قمیض کا کیا حال کیا ہے تم نے؟؟؟
اکثم کا صدمہ گہرا تھا۔۔۔
خان یہ شلوار قمیض تو یہاں کھونٹی پر لٹکی ہوئی تھی۔۔۔
اکثم کو یاد آیا تھا اس نے یہ شلوار قمیض کل رات ہی ہانم کے سونے کے بعد واش روم میں رکھی تھی تاکہ صبح جلدی نہا کر قبرستان جا سکے۔۔۔ اور ہانم نے اس کا سارا ارادہ ملیا میٹ کر دیا تھا۔۔۔
تم ابھی کے ابھی نکلو یہاں سے۔۔۔
اکثم اسے غصے سے دیکھ کر بولا۔۔۔
تو خان میرے کپڑے کون دھوئے گا؟؟
ہانم نے معصومیت سے پوچھا۔۔۔
تمہارا باپ دھوئے گا۔۔ اب نکلو یہاں سے۔۔۔
اکثم کا غصہ کسی صورت کم نہیں ہو رہا تھا ۔۔۔ جو غصہ اسے دلاور خان کی بات پر چڑھا تھا وہ بیچاری ہانم پر نکل رہا تھا۔۔۔
لیکن ان کو تو کپڑے دھونے نہیں آتے۔۔۔ کپڑے تو امی دھوتیں ہیں ۔۔۔
ہانم نے بروقت سمجھداری دکھائی تو اکثم بنا کسی لحاظ کے اس کے پاس پہنچا اور اس کا باذو پکڑ کر اسے واش روم سے باہر نکال دیا۔۔۔۔
خان میرے کپڑے تو دے دیں۔۔۔ وہ سوکھانے بھی ہیں۔۔۔
دفعہ ہو جائو یہاں سے جاہل انسان ۔۔۔۔
ہانم کی آواز پر اکثم کا دل کر رہا تھا کسی دیوار پر سر دے مارے اس لئے دھاڑتے ہوئے بولا ۔۔ اکثم کی دھاڑ پر ہانم منہ بسورتے ہوئے باہر چکی گئی جہاں اکثم بیچارے کو مزید شرمندگی ہونے والی تھی ۔۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: