Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 4

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 4

–**–**–

ہانم کمرے سے نکل کر باہر آئی تو ہال میں دو تین عورتوں کو کام کرتے دیکھا ۔۔۔ ایک جھاڑو لگا رہی تھی۔۔ دوسری کپڑا اور تیزی عورت وہاں موجود چیزوں کو کپڑے سے صاف کر رہی تھی۔۔۔۔۔ ہانم آگے بڑھی اور ہر چیز کو حسرت سے دیکھنے لگی۔۔۔ کتنی پیاری تھی یہ حویلی۔۔۔ وہ ہر چیز کو غور سے دیکھ رہی تھی جب اس کے کانوں میں ان تین عورتوں کے ہنسنے کی آواز آئی۔۔۔۔ اس نے ان تینوں کو دیکھا تو اسے دیکھ کر ہنس رہی تھیں۔۔۔۔
میں پیاری لگ رہی ہوں نا؟؟
ہانم خوش ہوتے ہوئے بولی جبکہ وہاں سے گزرتی یسرا بیگم ٹھٹھک کر رکیں ۔۔۔ ہانم کو اکثم کے کپڑوں میں دیکھ کر وہ بے ساختہ اس کی طرف بڑھی تھیں۔۔۔
ہانم۔۔۔ بیٹا ادھر آئو۔۔۔
یسرا بیگم نے اسے پکارا ۔۔۔۔ یسرا بیگم کی پکار پر ہانم ان کی جانب بڑھ گئی۔۔۔
اماں جان دیکھیں وہ سب مسکرا کر مجھے دیکھ رہی تھیں ۔۔۔ کیونکہ میں پیاری لگ رہی ہوں۔۔ اور آپکو معلوم ہے جب بھی میری امی مجھے مسکرا کر دیکھتی ہیں ان کا یہی مطلب ہوتا ہے کہ میں پیاری لگ رہی ہوں۔۔۔۔
ہانم کی خوشی اس کے چہرے سے ظاہر ہو رہی تھی۔۔ یسرا بیگم نے اس کا ہاتھ پکڑا اور اکثم کے کمرے کی طرف بڑھ گئیں۔۔۔ اکثم جو ارتسام کے کمرے سے نہا کر ابھی کمرے میں آیا تھا ۔۔۔ یسرا بیگم کو ہانم کے ساتھ دیکھ کر سارا معاملہ سمجھ گیا۔۔۔ یسرا بیگم نے ہانم کو دیکھا جو نیلی آنکھوں سے انہیں دیکھ رہی تھی پھر اکثم کو جو ان کے دیکھنے پر جلدی سے بولا۔۔۔۔
اماں جان وہ۔۔۔۔۔
بڑے خان ایک منٹ۔۔۔۔
یسرا بیگم نے انہی ہاتھ کے اشارے سے منع کیا۔۔۔
ہانم آپ نے خان کے کپڑے کیوں پہنے ہیں؟؟؟
یسرا بیگم کے انداز میں بلا کی نرمی تھی ۔۔۔۔
اماں جان وہ میرے کپڑے گندے تھے تو انہیں دھونا تھا۔۔۔ یہ کپڑے اندر موجود تھے تو میں نے پہن لئے۔۔ اب بتائیں نا میں پیاری لگ رہی ہوں نا؟؟؟
اس کی بات پر اکثم نے اسے گھورا جو اسے بلاوجہ اس کی ماں کے سامنے شرمندہ کروا رہی تھی ۔۔۔ جبکہ یسرا بیگم بے ساختہ مسکرائی تھیں۔۔۔۔
بہت پیاری لگ رہی ہو۔۔۔ لیکن آئندہ ایسے کپڑوں میں تم باہر نہیں جائو گی۔۔۔ میں نے رشیدہ کو بھیجا تھا کل رات کو بازار تمہارے کپڑے لانے کے لئے وہ لے آئی ہے تمہارے کپڑے ۔۔۔ میرے کمرے میں رکھے ہیں دیتی ہوں تمہیں ۔۔۔اور آئندہ ایسے کپڑے نہیں پہننے تم نے۔۔۔۔
یسرا بیگم نے نرمی سے سمجھایا تو وہ اپنا سر اثبات میں ہلا کر اکثم کی طرف بڑھی۔۔۔۔
خان آپ نے میرے کپڑے دھو دئیے؟؟؟
ہانم کے سوال پر جہاں اکثم سٹپٹایا وہیں یسرا بیگم نے مسکراہٹ دبائی۔۔۔
جائو پڑے ہیں اندر ۔۔۔۔
اکثم نے اسے گھورتے ہوئے کہا۔۔۔
اماں جان میں جائوں۔۔۔۔
ہانم نے یسرا بیگم کو دیکھ کر اجازت مانگی۔۔۔
جائو اور جلدی واپس آئو۔۔۔ پھر میرے ساتھ جانا ہے تم نے کمرے میں۔۔۔۔ نئے کپڑے لینے۔۔۔۔
ہانم اندر گئی تو اکثم نے سکھ کا سانس لیا اور کمرے میں موجود آئینے کے سامنے اپنے بالوں میں کنگھی کرنے لگا تھا جب ہانم اپنے گیلے کپڑوں کو ہاتھوں میں پکڑ کر باہر لائی۔۔۔۔
خان آپ نے میرے کپڑے کیوں نہیں دھوئے؟؟؟ اور مجھے بھی نہیں دھونے دیا۔۔۔۔ کتنے گندے ہیں آپ۔۔۔۔ جانتے ہیں امی نے کتنی محنت سے سلائی کئے تھے میرے کپڑے ۔۔۔
ہانم اپنی آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے گھور رہی تھی۔۔۔
اکثم تو اس کے انداز پر عش عش کر اٹھا تھا۔۔۔ جبکہ یسرا بیگم کی مسکراہٹ بے ساختہ تھی۔۔۔۔
تمہارا ملازم ہوں میں جو تمہارے کپڑے دھوتا پھروں۔۔۔۔
اکثم غصے سے اسے دیکھ کر بولا۔۔۔
نہیں ملازم نہیں سہیلی ہیں آپ میرے۔۔۔ ارے رات کو ہی تو آپ نے کہا تھا۔۔۔ اماں جان آپکو معلوم ہے رات کو مجھے بھوک لگی تو یہ میرے لئے دھاگے لے آئے تھے۔۔ اب بھلا دھاگے بھی کھاتے ہیں کیا۔۔۔؟؟ میں نے منع کیا تو مجھ پر غصہ کرنا شروع ہو گئے۔۔۔
ہانم کی نان سٹاپ باتوں کو بریک لگنی نہیں تھی اس لئے وہ اپنے بال بنا کر کمرے سے نکل گیا جبکہ اماں جان ہانم کی باتیں سنتی ہوئیں اسے اپنے کمرے میں لے گئیں۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔
فیروزی رنگ کی پٹیالہ شلوار قمیض پہن کر وہ خود کو بار بار آئینے میں دیکھ رہی تھی۔۔۔ گیلے کال لمبے سے بالر کمر پر بکھرے تھے۔۔۔ یسرا بیگم نے رشیدہ کو اسے کمرے سے لینے بھیجا تو وہ شلوار قمیض میں نظر لگ جانے کی حد تک پیاری لگ رہی تھی ۔۔۔ رشیدہ اندر آئی تو ہانم سامنے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر مسکرا رہی تھی۔۔۔۔
ہانم بیٹا باہر آ جائو سب آپ کا ناشتے پر انتظار کر رہے ہیں۔۔۔
رشیدہ کی آواز پر ہانم مڑی اور بے ساختہ ان سے لپٹ گئی۔۔۔
چاچی یہ کپڑے دیکھو کتنے پیارے ہیں؟؟؟
ہانم گول گول گھوم کر بول رہی تھی ۔۔۔
ہاں بہت پیارے ہیں اب چلو۔۔۔
رشیدہ کی آواز پر اس نے ان کپڑوں کے ساتھ کا ہم رنگ ڈوپٹہ اچھے سے اوڑھا ۔۔۔ ڈوپٹہ وہ نہیں اتارتی تھی کیونکہ اس کی ماں نے اسے سختی سے ڈوپٹہ اتارنے سے منع کیا ہوا تھا۔۔۔
وہ مسکراتے ہوئے رشیدہ کی پیروی کرتے ہوئے باہر آئی تو سڑھیوں کی دائیں جانب سیدھے بڑے سے کیچن میں داخل ہوئی ۔۔ وہ کیچن کم ایک بڑا سا حال ذیادہ تھا۔۔ جہاں ایک دو عورتیں برتن دھونے اور چیزیں سمیٹنے کا کام کر رہی تھیں وہیں دائیں جانب ایک بڑا سا لکڑی کا ڈائینگ ٹیبل تھا جہاں گھر کے سب لوگ براجمان تھے سوائے اقصی اور ارتسام کے۔۔۔ اکثم کی ضد کی وجہ سے وہ چپ تھے ۔۔۔
رشیدہ نے ہانم کو اکثم کی ساتھ والی کرسی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا ۔۔۔
ہانم نے ایک نظر سب کو دیکھا اور پھر رشیدہ سے بولی۔۔۔۔
چاچی یہ مونچھوں والے چچا کون ہیں؟؟؟
ہانم کی آواز پر یسرا بیگم نے ڈر کر دلاور خان کو دیکھا جو سپاٹ چہرے کے ساتھ ہانم کی طرف متوجہ ہوئے تھے۔۔۔۔
ہانم یہ میرے بابا جان ہے۔۔۔ اور آج سے تمہارے بھی بابا جان ہیں۔۔۔اب بیٹھو اپنی جگہ پر ۔۔۔۔
رشیدہ سے پہلے اکثم نے جواب دیا۔۔۔
خان مجھے اس پر نہیں بیٹھنا ۔۔۔ میری ٹانگیں درد کرتی ہیں ۔۔۔ مجھے ایسے محسوس ہوتا ہے جیسے میری ٹانگیں ہوا میں لٹکی ہوئی ہیں۔۔۔۔۔
ہانم کی بات پر اکثم نے دانت پیسے جبکہ دلاور خان نے سپاٹ چہرے سے اس چھوٹی سے پانچ فٹ کی لڑکی کو دیکھا جہاں معصومیت تھی۔۔۔۔۔
ہانم چپ کر کے بیٹھو اس پر ۔۔۔۔
اکثم نے اسے گھورا۔۔۔
ہانم منہ بسور کر اس کے ساتھ کرسی پر آلتی پالتی مار کر بیٹھ گئی ۔۔۔ اکثم نے اپنا سر نفی میں ہلایا ۔۔۔۔
خاموشی سے سب ناشتہ کر رہے تھے جب دس سالہ ارتسام کیچن میں داخل ہوا۔۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔۔
ارتسام نے مسکرا کر سب کو سلام کیا۔۔۔ لیکن جیسے ہی اس کی نظر اکثم کے ساتھ بیٹھی ایک لڑکی پر پڑی وہ سوالیہ نظروں سے یسرا بیگم کو دیکھنے لگا۔۔۔۔۔
اماں جان یہ کون ہے؟؟؟
تمہاری بھابھی ہے۔۔۔ اکثم کی بیوی ۔۔۔۔
جواب یسرا بیگم کی بجائے دلاور خان نے طنزیہ انداز میں دیا تھا۔۔۔
ارتسام کو شاک لگا تھا۔۔۔
بھائی۔۔۔ اتنی جلدی آپ نے شادی کر لی۔۔۔ مجھے کسی نے بتایا ہی نہیں ۔۔۔ سچ کہتے تھے احمر بھائی کہ صرف وہی مجھے پیار کرتے ہیں اکثم بھائی نہیں کرتے۔۔۔۔
ارتسام کے الفاظ وہاں موجود ہر شخص کے دل کو چیر گئے تھے سوائے ہانم کے جو ہونقوں کی طرح منہ کھولے اسے روتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔ اس نے شاید پہلی بار کسی لڑکے کو روتے دیکھا تھا۔۔۔۔
چھوٹے خان۔۔۔ ایسی بات نہیں ہے ۔۔ بڑے خان بھی تم سے بہت محبت کرتے ہیں۔۔۔
یسرا بیگم نے اسے اپنی گود میں بٹھا کر پچکارنے کی کوشش کی۔۔۔ دلاور خان ناشتہ چھوڑ کرچلے گئے تھے۔۔۔ جبکہ اکثم لب بھینچ کر رہ گیا تھا۔۔۔۔ کچھ زخموں کو بھرنے کے لئے واقعی ایک عرصہ درکار ہوتا ہے۔۔۔۔۔
تم بارش میں نہاتے ہو؟؟؟
ہانم نے ارتسام کی طرف دیکھ کر پوچھا۔۔۔۔ اکثم اور یسرا سمیت ارتسام نے بھی ہانم کو دیکھا ۔۔۔۔
کیوں؟؟؟
ارتسام نے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کر کے پوچھا۔۔۔۔
وہ تمہاری ناک بہہ رہی ہے نا۔۔۔ میری امی کہتی ہیں جو بچے بارش میں نہاتے ہیں ان کی ناک بہتی ہے۔۔۔ میں تو نہیں نہاتی ۔۔ ہاں روح نہاتی ہے اس کی ناک بھی بہتی ہے جب وہ روتی ہے۔۔۔
ہانم کی باتوں پر ارتسام نے منہ کھولے اسے دیکھا جبکہ یسرا بیگم کے لبوں پر مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا ۔۔۔ اکثم نے بمشکل خود کو مسکرانے سے روکا تھا۔۔۔
میری ناک نہیں بہتی ۔۔۔۔
ارتسام ہانم کو گھور کر بولا۔۔۔
خان آپ نے دیکھا نہ یہ جھوٹ بھی بولتا ہے۔۔۔ ابھی اس کی ناک بہہ رہی تھی جب یہ رو رہا تھا ۔۔ اس نے اپنی قمیض کے بازو سے صاف کی تھی ۔۔۔۔۔
ہانم اکثم کو دیکھ کر معصومیت سے بولی تو ارتسام ہانم کو گھور کر وہاں سے چلا گیا کیونکہ اس نے روتے ہوئے واقعی ایسے کیا تھا۔۔۔۔۔
یسرا بیگم بھی وہاں سے چلی حئی تھیں۔۔۔
خان یہ آپکا بھائی ہے نا؟؟؟
ہاں میرا چھوٹا بھائی ہے کیوں؟؟؟
اکثم جو اپنی کرسی سے اٹھ رہا تھا اس کی بات پر پلٹا اور اسے ناسمجھی سے دیکھنے لگا۔۔۔۔
تو یہ بھی میری سہیلی ہوا نا۔۔؟؟
ہانم نے خوش ہوتے ہوئے کہا تو اکثم نے اسے گھورا۔۔۔
بھائی ہے وہ تمہارا ۔۔۔ جیسے میرا چھوٹا بھائی ہے ویسے تمہارا بھی چھوٹا بھائی ہے۔۔۔ سمجھی تم ۔۔۔
اکثم اسے گھور کر چلا گیا جبکہ ہانم ناشتہ کرنے میں مصروف ہوگئی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم کھانا کھا کر کمرے میں آگئی۔۔۔ جہاں بیڈ پر لیٹتے ہی اسے نیند آگئی ۔۔۔ دوپر کے وقت اس کی آنکھ کھلی تو وہ بال سمیٹ کر باہر آئی ۔۔ حال میں صوفے پر ارتسام بیٹھا ٹی وی دیکھ رہا تھا جبکہ رشیدہ پاس بھی ٹی سبزی بنا رہی تھی۔۔۔
ہانم چلتے ہوئے ان ے پاس آئی۔۔۔
چاچی کیا پکانے لگی ہیں؟؟؟
ٹینڈے ۔۔۔۔ بڑے خان کو بہت پسند ہیں۔۔۔
رشیدہ نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔
اسی لئے وہ غصہ کرتے ہیں۔۔۔ میں تو نہیں یہ کھاتی ۔۔۔ روح بھی نہیں کھاتی ۔۔۔۔ اس لئے ہم دونوں ہی غصہ نہیں کرتیں ۔۔۔۔
ارتسام نے اسے گھورا ۔۔۔
تم چپ کر کے بیٹھ سکتی ہو۔۔۔ نظر نہیں آ رہا میں کارٹون دیکھ رہا ہوں۔۔۔
ہانم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر غصے سے اپنی چھوٹی سی ناک کو پھلایا ۔۔۔۔
تم چھوٹے ہو مجھ سے۔۔۔ خان نے بتایا ہے مجھے ۔۔۔ تو اس لئے تم مجھ سے آپ بول کر بات کرو۔۔۔ میرے ابا کہتے ہیں بڑوں کو آپ اور چھوٹوں کو تم کہہ کر پکارتے ہیں ۔۔۔
ہانم کی بات پر رشیدہ کئ چہرے پر مسکراہٹ آئی تو ارتسام شرمندہ سا ہوگیا ۔۔۔ اسے تو بس غصہ تھا اکثم کہ شادی بھی ہوگئی اور اسے کسی نے بتایا ہی نہیں تھا۔۔۔۔
چاچی اماں جان کہاں ہیں؟؟؟
بیٹا وہ چھوٹی بی بی کی طبیعت خراب ہو گئی تھی تو اسے ہسپتال لے کر گئی ہیں۔۔۔ بڑے خان اور مالک بھی ان کے ساتھ ہی ہیں۔۔۔۔
رشیدہ کے جواب پر ہانم نے ایک نظر ارتسام کو دیکھا اور پھر رشیدہ کے کان میں سرگوشیانہ انداز میں بولی۔۔۔
وہ جو موٹی لڑکی تھی ۔۔ اس کی بات کر رہی ہو آپ ؟؟؟
رشیدہ نے اپنا سر اثبات میں ہلادیا ۔۔۔
اسے کیا ہوا ہے؟؟
ہانم نے فکر مندی سے پوچھا ۔۔۔
اس کی بات پر رشیدہ کا دل کیا اپنا سر پھاڑ لے جبکہ ارتسام اسے گھور کر رہ گیا جو دوبارہ سے اونچا بولی تھی ۔۔۔
ان کے سر میں درد تھا۔۔۔
رشیدہ جواب دے کر وہاں سے چلی گئی جبکہ ہانم اب ارتسام کو دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
خان نے کہا تھا تم میرے بھائی ہو۔۔۔
ہانم کی بات پر ارتسام نے اس کی طرف دیکھا ۔۔۔۔
تو ۔۔۔۔۔
تو پھر تم کہاں تھے؟؟؟ امی اتنا یاد کرتی ہیں تمہیں جبکہ ابا بیچارے بھی اکیلے کام کرتے ہیں۔۔۔ روح بھی بہت یاد کرتی ہے تمہیں۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔
ہانم کی بات پر ارتسام نے بے ساختہ شاک کی کیفیت میں اسے دیکھ کر ٹوکا۔۔۔۔
بس کریں ۔۔۔ کیا بولے جا رہی ہیں آپ؟؟ آپ خان بھائی کی بیوی ہیں۔۔ وہ شوہر ہیں آپ کے تو اس لحاظ سے میں آپکا بھائی ہوں۔۔۔
ارتسام اس کے نسبت زیادہ سمجھدار اور ایکٹیو بچہ تھا۔۔۔۔
لیکن خان نے تو کہا تھا وہ میری سہیلی ہیں۔۔۔ اور شوہر کیا ہوتا ہے؟؟
یہ آپ اپنے خان سے ہی پوچھیے گا۔۔ مجھے معاف کر دیں۔۔۔
ارتسام گویا ہار مان کر اس کے سامنے ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔۔۔
تم مجھ سے معافی کیوں مانگ رہے ہو چھوٹے خان۔۔ تم نے کوئی غلطی کی ہے کیا؟؟؟
ہانم کی معصومیت پر ارتسام کا دل بے ساختہ دیوار کے ساتھ سر پھاڑنے کا کر رہا تھا۔۔۔
ہاں غلطی کی ہے آپ جیسی عظیم ہستی کے ساتھ باتیں کر کے۔۔۔
ارتسام اسے گھور کر وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا ج کہ ہانم منہ کھولے اسے جاتے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
میں نے تو کچھ بھی نہیں کہا اسے پھر کیوں چلا گیا یہ؟؟؟
ہانم خود سے بڑبڑائی ۔۔۔ اور پھر ایل سی ڈی پر لگے کارٹونز ٹام اینڈ جیری کی طرف متوجہ ہوگئی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: