Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 5

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 5

–**–**–

یسرا بیگم مسلسل تسبیح کے دانے پھیر رہی تھیں۔۔ جبکہ دلاور اور اکثم دونوں بینچ پر بیٹھے تھے۔۔۔۔ جب ایک لیڈی ڈاکٹر ایمرجنسی وارڈ سے مسکراتے ہوئے باہر آئی۔۔۔ یہ ایک سرکاری ہسپتال تھا جہاں اقصی کو لایا گیا تھا۔۔۔
مبارک ہو خان صاحب۔۔ مآشاء اللہ سے بیٹا ہوا ہے۔۔۔اور آپکی بہو بھی بالکل ٹھیک ہے۔۔۔
اقصی کو چیک اپ کے لئے اسی لیڈی ڈاکٹر کے پاس لایا جاتا تھا اس لئے وہ جانتی تھی سب کو۔۔۔۔
سب کے چہرے پر خوشی اور غمی تاثرات بیک وقت چھائے تھے۔۔۔پوتے کی آنے کی خوشی اور بیٹے کے جانے کا غم ۔۔۔۔۔ لیکن خوشی غم پر بھاری پڑ گئی تھی ۔۔۔
یسرا بیگم نے بے ساختہ آسمان کی طرف دیکھا تھا۔۔۔ اور اللہ کا شکر ادا کیا تھا۔۔۔ دلاور خان خوشی سے اکثم کے گلے ملے تھے۔۔۔۔ آنکھوں میں خوشی کے آنسو تھے۔۔۔
تھوڑی دیر بعد ایک نرس انہیں کپڑے میں لپٹا وجود تھما کر گئی تھی۔۔۔ وہ کمزور اور سرخ و سفید سابچہ بالکل احمر کی کاپی تھا۔۔۔
یسرا بیگم نے اس کی پیشانی پر نم آنکھوں سے بوسہ دیا۔۔۔ جبکہ دلاور خان تو اسے اپنی گود میں لے کر ایسا محسوس کر رہے تھے جیسے احمر کو گود میں اٹھا لیا ہو۔۔۔۔ اکثم نے اس کے چھوٹے چھوٹے سفید ہاتھوں پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
بابا جان یہ کتنا پیارا ہے ماشاءاللہ ۔۔۔
اکثم بے ساختہ بولا تھا۔۔۔ دلاور خان نے نم آنکھوں سے مسکرا کر اپنا سر اثبات میں ہلایا۔۔۔۔
یہ میرا احمر ہے۔۔۔ اللہ نے اسے مجھے لوٹا دیا ہے ۔۔۔۔
دلاور خان کے لہجے میں خوشی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اقصی کو ہوش آیا تو اسے وارڈ میں شفٹ کر دیا گیا۔۔۔ سب اس کے پاس جمع ہوگئے۔۔۔ اقصی اپنے بیٹے کو گود میں لے کر زارو قطار رو دی تھی۔۔۔۔
یسرا بیگم نے اسے اپنے ساتھ لگایا۔۔۔
اماں جان۔۔۔ احمر نے کہا تھا کہ سب سے پہلے وہ اپنے بیٹے کو اٹھائے گا۔۔۔ اماں جان اسے بولیں نہ کے اس کا بیٹا انتظار کر رہا ہے۔۔۔
اقصی کے رونے پر دلاور خان کی آنکھیں بھی نم ہو گئی تھیں جبکہ اکثم وارڈ سے باہر آ گیا تھا۔۔۔۔ کیونکہ اقصی کی باتیں اس کی برداشت کو آزما رہی تھیں۔۔۔
ڈاکٹر نے آج کا دن ہاسپٹل رکنے کا کہا تھا کیونکہ اقصی کافی کمزور تھی ۔۔۔ دلاور خان نے سب سے پہلے اقصی کو بچے سمیت روم میں شفٹ کروایا تھا ۔۔ پہلے روم کا مسئلہ ہو رہا تھا اس لئے انہیں اتنی دیر وارڈ میں رکنا پڑا۔۔۔ لیکن پھر ڈاکٹر سے بات چیت کر کے انہوں نے روم لے لیا تھا۔۔ ایک دن کے لئے۔ یسرا اور دلاور خان اقصی کے پاس رک گئے تھے ج کہ اکثم کو انہوں نے زبردستی گھر بھیج دیا تھا کیونکہ ارتسام اور ہانم گھر میں اکیلے تھے۔۔۔۔۔ اور اس وقت وہ دونوں ان کی نظر میں بچے تھے۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم کو شدید کوفت ہو رہی تھی اس گھر کی تنہائی سے۔۔۔ وہ اکثم کے کمرے میں موجود ہر چیز کو تقریبا دس دفعہ دیکھ چکی تھی۔۔۔۔ اب تو وہ خاموش رہ رہ کر بھی بیزار ہو چکی تھی۔۔۔ وہ کمرے سے باہر نکلی اور کیچن میں چلی گئی۔۔۔ سامنے رشیدہ ٹینڈے پکانے میں مصروف تھی ۔۔۔۔۔
چاچی۔۔۔ ابھی پکی نہیں ہنڈیا؟؟؟
ہانم نے رشیدہ سے پوچھا جو دھنیا کاٹ رہی تھی۔۔۔
نہیں بس دم پر رکھی ہوئی ہے ۔۔ کیوں تمہیں بھوک لگی ہے؟؟؟
رشیدہ نے مسکراتے ہوئے اس کے معصوم چہرے کو دیکھا ۔۔۔
ہانم نے معصومیت سے اپنا سر اثبات میں ہلایا ۔۔۔۔
اچھا میں فریج میں دیکھتی ہوں کچھ کھانے کو۔۔۔۔۔
یہ بول کر رشیدہ نے کیچن میں موجود سنک پر ہاتھ دھوئے اور فریج کو دروازہ کھولا۔۔۔
سامنے ہی ٹوکری میں سیب پڑے ہوئے تھے۔۔۔ رشیدہ نے نکال کر ہانم کو دئیے تو ہانم نے ایک سیب ٹوکری سے اٹھایا اور اسے کھانا شروع کر دیا ۔۔۔۔
رشیدہ بی۔۔۔ رشیدہ بی۔۔۔۔۔
چاچی یہ تو خان کی آواز ہے نا؟؟؟ میں ابھی پوچھتی ہوں کہاں گئے تھے مجھے چھوڑ کر۔۔۔۔
ہانم اکثم کی آواز سنتے ہی خوشی سے سیب وہیں چھوڑ کر باہر بھاگی تھی جبکہ رشیدہ بھی اس کی پیچھے ہنستے ہوئے گئی تھی۔۔۔۔
خان۔۔۔ آپ آ گئے۔۔۔ کہاں گئے تھے مجھے بغیر بتائے۔۔ آپ جانتے ہیں میں کب سے آپ کو ڈھونڈ رہی ہوں۔۔۔۔ نہیں آپکو کیسے معلوم ہوگا آپ تو گھر پر ہی نہیں تھے۔۔۔ ہاں میں خود ہی بتا دیتی ہوں۔۔۔ خان میں آپ کو ڈھونڈ رہی تھی۔۔۔ اور۔۔۔۔
ہانم حال میں صوفے پر بیٹھے اکثم کے پاس بھاگ کر پہنچی تھی اور مسکراتے ہوئے نان سٹاپ بولنا شروع ہو گئی تھی جبکہ اکثم آنکھیں کھولے اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔ جس کے چہرے پر خوشی کے رنگ واضح تھے۔۔۔۔ اور انداز بیویوں والا تھا۔۔۔
اکثم نے بے ساختہ اس کے منہ میں گلاب جامن ڈال کر اسے ٹوکا تھا۔۔۔۔
بس کرو تم۔۔۔ تھکتی نہیں بول بول کر۔۔۔
اکثم کی بات پر ہانم نے منہ بنایا۔اور گلاب جامن کھاتے ہوئے بولی۔۔۔۔
بول بول کر کون تھکتا ہے؟؟؟
اس سے پہلے وہ کوئی جواب دیتا رشیدہ وہاں پہنچ گئی۔۔۔
بڑے خان آپ نے بلایا۔۔۔؟؟؟
رشیدہ بی ایک منٹ روکیں۔۔۔ آپ یہ مٹھائی کھائیں پہلے۔۔۔ چھوٹے خان ۔۔۔۔ چھوٹے خان۔۔۔ جلدی باہر آئو۔۔
اکثم رشیدہ بی کے سامنے مٹھائی کا ڈبہ کر تے ہوئے اٹھا اور ارتسام کو آوازیں دینے لگا۔۔۔۔
ارتسام اپنے کمرے سے باہر آیا اور آہستہ سے چلتے ہوئے اکثم کے پاس آیا۔۔۔
جی بھائی۔۔۔۔
مبارک ہو میری جان ۔۔ تم چاچو بن گئے ہو۔۔۔ احمر بھائی کا بیٹا آیا ہے دنیا میں؟؟؟
اکثم خوشی سے اسے گلے لگا کر بولا تو ارتسام بھی خوش ہو گیا۔۔۔ جبکہ رشیدہ بیگم نے مسکرا کر ان دونوں کو دیکھا تھا۔۔۔ ہانم بیچاری منہ کھولے ان دونوں کو دیکھ رہی تھی جو خوشی سے ایک دوسرے کے گلے لگے ہوئے تھے۔۔۔۔
خان۔۔۔ یہ احمر بھائی کون ہیں؟؟ اور ان کا بیٹا کہاں سے آیا ہے؟؟؟
ہانم نے اکثم سے سوال کیا تو اکثم نے اسے گھورا جبکہ ارتسام نے اپنا سر نفی میں ہلا دیا۔۔۔ گو کہ اس بندی کا علاج ناممکن تھا۔۔۔ رشیدہ مسکراہٹ دباتے ہوئے کیچن میں چلی گئی۔۔۔۔
خان آپ نے خواب نہیں دیا۔۔۔ کہاں سے آیا بیٹا اور احمر بھائی کون ہیں؟؟
ہانم احمر میرے بڑے بھائی کا نام ہے جو اللہ کے پاس جا چکے ہیں۔۔۔ اور ان کا بے بی ہاسپٹل سے آیا ہے۔۔۔
اکثم نے اسے اس کی عقل کے مطابق سمجھانے کی کوشش کی۔۔۔ جو کہ ناکام ٹھہری ۔۔۔۔
بے بی۔۔۔۔
ہانم کے الفاظ ابھی منہ میں تھے جب اکثم نے اس کو جواب دیا۔۔۔
چھوٹے سے بچے کو بےبی کہتے ہیں۔۔۔ اب کوئی سوال مت کرنا۔۔۔
بھائی یہ پیزا آپ میرے لئے لائے ہیں نا؟؟؟
ارتسام نے اکثم سے کہا جو ہانم کو گھور رہا تھا جو منہ بسور کر رہ گئی تھی۔۔۔
ہاں چھوٹے خان کیونکہ میں جانتا ہوں تمہیں ٹینڈے پسند نہیں ہیں۔۔۔
اکثم نے ٹیبل پر پڑے ہوئے ڈبے کو کھول کر ارتسام کو دیا۔۔۔۔
جب پیزے کی خوشبو ہانم تک پہنچی تو وہ جلدی سے آگے آئی۔۔۔
خان یہ تو سبزیوں والی روٹی ہے۔۔۔ وہ بھی موٹی سی۔۔۔ میری امی پکاتی ہیں ۔۔ جب ہم گھر میں سبزیوں کا سالوں بناتے ہیں تب جو سالن بچ جاتا ہے امی اس کی روٹیاں پکاتی ہیں۔۔۔ وہ بھی ایسی ہی ہوتی ہیں ۔۔۔ لیکن اس کی سبزیاں باہر نکلی ہیں۔۔کیا یہ صحیح نہیں پکی ہوئی۔۔۔؟؟؟
ہانم کی سمجھ پر دونوں بھائی عش عش کر اٹھے تھے۔۔۔
ارتسام کو تو سکتہ ہو گیا تھا۔۔۔ اس کی پسند کا نقشہ کتنی بےدردی سے اس نے کھینچا تھا۔۔۔۔
ہانم یہ سبزیوں کی روٹی نہیں ہے اسے پیزا بولتے ہیں ۔۔۔
اکثم نے دانت پیس کر کہا ۔۔۔
میں بھی کھائوں گی یہ سبزیوں ۔۔۔ نہیں پیزا۔۔۔
اکثم کی گھوری پر ہانم نے جلدی سے کہا۔۔۔۔
ارتسام نے اسے ایک پیس نکال کر دیا اور خود بھی وہیں صوفے پر بیٹھ کر کھانے لگا ۔۔۔۔ جبکہ اکثم اپنے کمرے کی طرف چلا گیا فریش ہونے کے لئے۔۔۔۔
اور ارتسام کی بدقسمتی کہ ہانم اس سے بنا پوچھے پانچ پیس کھا گئی جبکہ ارتسام شاک کی حالت میں تھا اسے کھاتا دیکھ کر۔۔۔
ہانم بھابھی ۔۔۔۔
ارتسام کی صدمے بھری آواز ہانم کے کانوں میں پڑی تھی۔۔۔
ہانم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
کہاں بھیج رہی ہیں پیزے کو؟؟؟
ارتسام نے غصے سے پوچھا۔۔
میرا پیزا تو پیٹ میں جا رہا ہے کیوں تم کہیں اور بھیج رہے ہو؟؟؟
ہانم کی بات پر ارتسام نے پیزے کا ڈبہ اٹھایا جس میں صرف ایک ہی پیس تھا وہ بھی ہانم کی گود میں رکھا اور خود اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔۔
ہانم نے پہلے تو ارتسام کی پشت کو دیکھا پھر پیزے کو اور کھانا شروع کر دیا۔۔۔
امی تو پیزا اتنا مزیدار نہیں بناتیں ۔۔ جبکہ یہ تو اتنے مزے کا ہے۔۔۔۔
ہانم خود سے بڑبڑائی اور آخری پیس کھا کر ڈبے کو اٹھائے اکثم کے کمرے کی طرف چل دی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
خان میں آپ کو پیاری نہیں لگتی کیا؟؟؟
ہانم کمرے میں داخل ہر کر اکثم سے بولی۔۔۔ اکثم جو ابھی پاجامہ شرٹ پہنے بیڈ پر تھوڑی دیر سونے کی غرض سے لیٹ ہی رہا تھا اس کی بات پر پلٹا ۔۔۔ اور شاک کی کیفیت میں اسے دیکھا جو دائیں ہاتھ میں پیزے کا ڈبہ ہاتھ میں پکڑے اور بائیں ہاتھ کو کمر پر ٹکائے اپنی نیلی آنکھوں کو چھوٹا کئے اس سے پوچھ رہی تھی۔۔۔
یہ کیسا سوال ہے ہانم؟؟؟
اکثم نے اس کے چہرے سے نظریں ہٹائی تھیں ۔۔۔ کیونکہ اس کی معصومیت ہی اسے خوبصورت بنا رہی تھی۔۔۔۔
خان بتائیں نا؟؟؟
ہاں تم بہت پیاری ہو۔۔۔۔
اکثم اس کی طرف دیکھے بغیر بول کر سونے کے لئے لیٹ گیا۔۔۔
تو پھر آپ میرے لئے بھی یہ سبزی والی روٹی۔۔۔ نہیں پیزا لائیں گے نا؟؟؟
ہانم کی بات پر اکثم کے لبوں پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔ مطلب یہ ساری کوشش پیزا کھانے کے لئے ہو رہی تھی۔۔۔
تمہارے لئے پیزا میں کیوں لائوں گا؟؟؟
اکثم نے مسکراہٹ ضبط کرتے ہوئے اس سے پوچھا۔۔۔
کیونکہ میں آپکو پیاری لگتی ہوں۔۔ اور۔۔۔
اور امی کہتی ہیں جو آپ کو پیارا لگتا ہے آپ اس کی ہر بات مانتے ہیں اس کے لئے پیزا بھی لاتے ہیں ۔۔ یہی نا؟؟؟
اکثم نے اس کی بات کو درمیان میں ہی کاٹ کر مکمل کیا۔۔۔۔
ہانم نے منہ کھولے اسے دیکھا جو اب مسکرا رہا تھا۔۔۔۔
خان آپ کو کیسے معلوم ہوا؟؟
ہانم کی حیرانگی پر اکثم نے بمشکل اپنا قہقہ ضبط کیا۔۔۔۔
جادو۔۔۔۔
اکثم نے آہستہ آواز میں اسے کہا ۔۔۔۔
خان آپ جادو کرتے ہیں؟؟؟
ہاہاہاہاہا۔۔۔۔
اکثم پیٹ پکڑ کر قہقہ لگا رہا تھا جبکہ ہانم نا سمجھی سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
تم پاگل ہو ۔۔۔۔
اکثم ہنستے ہوئے بولا۔۔۔۔ احمر کی موت کے بعد آج وہ ہنسا تھا۔۔۔۔
آپ نے مجھے گالی دی؟؟
اکثم نے اسے دیکھا جو غصے سے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔
ہیں کب دی گالی ؟؟؟
ابا کہتے ہیں کسی کو پاگل نہیں بولتے یہ گالی ہوتی ہے۔۔اور آپ نے ابھی مجھے پاگل کہا۔ اب میں آپ سے بات نہیں کروں گی۔۔آپ گندی سہیلی ہو۔۔۔۔
ہانم یہ بول کر کمرے سے چلی گئی جبکہ اکثم کی ہنسی اب مسکراہٹ میں بدل گئی تھی ۔۔۔
لگتا ہے ناراض ہو گئی ہے ۔۔۔ چلو بعد میں منائوں گا۔ ورنہ گلے پڑنے میں دیر نہیں لگائے گی۔۔۔۔۔ جھلی۔۔۔
اکثم بڑبڑاتے ہوئے لیٹ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: