Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 6

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 6

–**–**–

ہانم حویلی کی چھت پر چلی گئی تھی اور وہاں جا کر دیوار کے ساتھ بیٹھ کر رونا شروع کر دیا۔۔۔۔
امی آپ مجھے بہت یاد آ رہی ہیں۔۔ روح بھی بہت یاد آ رہی ہے۔۔۔ ابا کیوں مجھے چھوڑ کر چلے گئے تھے وہاں ۔۔۔ اور اب مجھے لینے بھی نہیں آ رہے؟؟ مجھے آپ کے پاس واپس آنا ہے۔۔۔۔ مجھے نہیں رہنا خان کے گھر ۔۔۔ وہ میری کوئی بات نہیں مانتے۔۔۔
ہانم روتے ہوئے اونچا اونچا بول رہی تھی ۔۔۔ اس کی نیلی آنکھیں کافی سرخ ہوچکی تھیں ۔۔۔۔ ارتسام جو چھت پر پتنگ اڑانے کی غرض سے آیا تھا ایک کونے میں ہانم کو روتے دیکھ کر پریشان ہو گیا۔۔۔ اس نے پتنگ اور ڈور وہیں رکھی اور خود ہانم کے پاس آ گیا۔۔۔۔
ہانم بھابھی ۔۔۔۔
ارتسام نے اس پکارا تو اس نے آنکھیں اوپر اٹھائیں۔۔۔ نیلی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر اس کے پاس ہی گھٹنوں کے بل بیٹھ گیا۔۔۔۔
تم مجھے بھابھی کیوں بلاتے ہو۔۔۔ میرا نام ہانم ہے۔۔۔ ہانم بخت۔۔۔۔
ہانم غصے سے سرخ ہوتی ناک کو پھلا کر بھولی۔۔۔
کیونکہ آپ خان بھائی کی بیوی ہیں۔۔۔ جس طرح اماں جان بابا جان کی بیوی ہیں ان کے ساتھ رہتی ہیں۔۔ اس طرح آپ بھی خان بھائی کے ساتھ رہتی ہیں تو آپ بھی ان کی بیوی ہیں۔۔۔ اور ان کی بیوی میری بھابھی ہے کیونکہ میں ان کا بھائی ہوں۔۔۔۔
ارتسام کی وضاحت پر ہانم نے اپنا سر اثبات میں ہلایا جسے سمجھ گئی ہو۔۔۔۔
آپ رو کیوں رہی ہیں؟؟؟
ارتسام نے اس کا چہرہ دیکھ کر پوچھا۔۔۔ جہاں آنسوئوں نے لکیریں کھینچ دیں تھی۔۔۔۔
تمہارے بھائی بالکل بھی اچھے نہیں ہیں۔۔۔ وہ میری کوئی بات نہیں مانتے۔۔۔ اور انہوں نے مجھے گالی بھی نکالی۔۔۔۔
ارتسام کو اچھا خاصہ شاک لگا تھا سن کر۔۔۔۔
اکثم بھائی نے گالی دی؟؟؟
ارتسام نے صدمے کی کیفیت میں پوچھا تھا۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا اس کا بھائی غصے میں بھی تمیز کا دامن نہیں چھوڑتا تھا۔۔۔۔۔۔
جائو جا کر پوچھ لو اپنے بھائی سے ۔۔۔ انہوں نے خود اپنی زبان سے مجھے پاگل کہا۔۔۔۔
ہانم کی بات پر ارتسام نے اسے دیکھا جس کے لئے پاگل ایک گالی تھی۔۔۔
تو کہا غلط کہا بھائی نے؟؟ اچھی خاصی پاگل ہیں۔۔۔۔
ارتسام بڑبڑایا۔۔۔۔ تو ہانم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔
تم کیا بول رہے ہو؟؟؟
کچھ نہیں۔۔۔
یہ بول کر ارتسام وہاں سے اٹھ گیا جبکہ ہانم بھی دونوں ہاتھوں سے اپنے آنسو صاف کرتے اس کے پیچھے آئی۔۔۔
تم پتنگ اڑانے لگے ہو؟؟؟
ہانم نے خوش ہوتے ارتسام سے پوچھا تو ارتسام نے حیرت سے اس دھوپ چھائوں سے لڑکی کو دیکھا ۔۔۔ جو تھوڑی دیر پہلے رو رہی تھی اور اب خوش ہو رہی تھی۔۔۔
ہاں۔۔۔ لیکن آپ کیوں پوچھ رہی ہیں؟؟؟
ارتسام نے اسے مشکوک نظروں سے گھورا۔۔۔
وہ عائشہ کا بھائی بھی پتنگ اڑاتا تھا۔۔۔ میرا بہت دل کرتاتھا اڑانے کو لیکن مجھے کوئی اڑانے نہیں دیتا تھا۔۔۔ اب تم میرے بھائی ہو نا۔۔۔ تو تم مجھے اڑانے دو گے نا پتنگ؟؟؟
اس کی بات پر ارتسام نے اسے گھورا تھا۔۔۔ آج وہ دلاور خان اور یسرا بیگم کی غیر موجودگی میں پتنگ اڑانے اوپر آیا تھا۔۔۔ اور آنے سے پہلے اکثم کے نیند میں ہونے کی مکمل تصدیق کر چکا تھا۔۔۔
لیکن اب ہانم جان نہیں چھوڑ رہی تھی۔۔۔
میں اپنی پتنگ آپکو اڑانے نہیں دوں گا۔۔۔۔
ارتسام نے حتمی انداز میں کہا۔۔۔
میں اماں جان کو بتائوں گی تم نے مجھے پتنگ اڑانے نہیں دی۔۔۔
ہانم رونے والا منہ بنا کر بولی ۔۔۔
اماں جان کے نام پر ارتسام نے غصے سے ہانم کو دیکھا جو اسے اچھا خاصہ بلیک میل کر چکی تھی ۔۔۔۔
دیکھیں بھابھی۔۔۔ پتنگ لڑکیاں نہیں اڑارتیں ۔۔۔۔۔۔
ارتسام نے اسے سمجھانے کی کوشش کی ۔۔۔
کیوں نہیں اڑاتی لڑکیاں پتنگ؟؟؟ میں اڑائوں گی پتنگ۔۔۔ تم نہ دو مجھے اپنی پتنگ۔۔۔ میں خان سے بولتی ہوں وہ لا کر دیں گے مجھے پتنگ۔۔۔۔
ہانم منہ بسور کر مڑی تو ارتسام جلدی سے بولا۔۔۔
ہانم۔۔ بھابھی میں تو مذاق کر رہا تھا۔۔۔ آپ اڑائیں پتنگ۔۔ لیکن صرف تھوڑی دیر کے لئے۔۔ اور وہ بھی اس شرط پر کہ آپ کسی کو گھر پر پتنگ اڑانے کا نہیں بتائیں گی۔۔۔ وعدہ کریں۔۔۔
ارتسام نے جلدی سے اس کے آگے ہاتھ پھیلایا ۔۔۔ ہانم خوش ہوتے ہوئے اس کے ہاتھ پر ہاتھ رکھ گئی۔۔۔
وہ خوشی خوشی پتنگ اڑانے کی کوشش کرنے لگی۔۔۔ ارتسام منہ پھلا کر اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ابھی پانچ منٹ ہی ہوئے ہوں گے جب ہانم کا پائوں چھت پر موجود چارپائی سے ٹکرایا اور وہ منہ کے بل چھت کے فرش پر گری۔۔۔
امی۔۔۔
ہانم کے منہ سے بے ساختہ چیخ نکلی تھی۔۔۔۔ ارتسام جو غصے سے اسے دیکھ رہا تھا ۔۔۔ ڈور کو وہیں پھینک کر اس کی طرف بھاگا۔۔۔
بھابھی۔۔۔
ارتسام نے اسے سیدھا کیا تو اس کے سر سے بہتے خون کو دیکھ کر ڈر گیا۔۔ جبکہ ہانم نے باقاعدہ اونچی آواز میں رونا شروع کر دیا تھا۔۔۔
ارتسام اسے چھوڑ کر نیچے کی طرف بھاگا۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم کو سوئے ابھی کچھ ہی دیر ہوئی تھی جب اس کے کمرے کا دروازہ کسی نے ذور ذور سے بجانا شروع کر دیا ۔۔۔ ہانم کے جانے کے بعد اس نے دروازہ لاک کر لیا تھا تاکہ کوئی اسے ڈسٹرب نہ کرے۔۔۔ وہ سرخ ہوتی آنکھوں سے اٹھا تھا۔۔۔ سر میں درد بھی شروع ہو گیا تھا۔۔ نیند ٹوٹنے کی وجہ سے۔۔۔
بھائی۔۔۔ جلدی دروازہ کھولیں۔۔۔
ارتسام کی پریشان آواز پر وہ جلدی سے اٹھا اور دروازہ کھولا۔۔۔۔
کیا ہوا ہے چھوٹے خان؟؟؟ تم رو کیوں رہے ہو؟؟؟
ارتسام کی آنکھوں میں آنسو دیکھ کر وہ فکرمندانہ انداز میں بولا۔۔۔
بھائی ۔۔ وہ چھت پر ہانم بھابھی کا خون نکل رہا ہے۔۔۔۔
ارتسام نے اکثم کو روتے ہوئے بتایا تو اکثم ننگے پائوں ہی چھت کی طرف بھاگا۔۔۔ سڑھیاں چڑھتے ہوئے وہ چھت پر پہنچا تو سامنے ہی ہانم سر پر ہاتھ رکھے رو رہی تھی۔۔ اور خون سے اس کا سفید ہاتھ سرخ ہوتا جا رہا تھا۔۔۔
یااللہ خیر۔۔۔
اکثم جلدی سے اس کے پاس پہنچا اور اس کا ہاتھ ہٹا کر دیکھنے لگا۔۔۔
نیچے چلو میں تمہیں ڈا کٹر کے پاس لے کر جاتا ہوں۔۔۔
اکثم نرمی سے بولا۔۔ حالانکہ غصہ تو بہت آ رہا تھا۔۔۔ بیچاری ہانم کا خون جو نکل رہا تھا۔۔۔۔
اکثم نے اسے کندھوں سے پکڑ کر اٹھایا ۔۔۔ وہاں پڑی پتنگ کو دیکھ کر سب سمجھ گیا تھا۔۔ ہانم کو پکڑ کر وہ نیچے آیا۔۔۔ اور اسے حال میں صوفے پر بٹھایا ۔۔۔۔
رشیدہ بی ۔۔۔ رشیدہ بی۔۔۔
اکثم کی آواز سے اس کا غصہ واضح ظاہر ہو رہا تھا۔۔۔
رشیدہ جلدی سے کیچن سے آئی۔۔۔
جی بڑے خان۔۔۔
برف اور کوئی پرانا کپڑا لے کر آئیں۔۔۔
اکثم نے رشیدہ بی کو دیکھ کر کہا ۔۔۔
ارتسام بھی وہیں صوفے پر بیٹھ کر سر جھکا گیا۔۔۔ بھائی کو غصے میں دیکھ کر تو اس کی جان بھی جان رہی تھی۔۔۔۔ جبکہ ہانم ہچکیوں سے رونے میں مصروف تھی۔۔۔۔
رشیدہ بی نے برف اور کپڑا لا کر اکثم کو دیا تو اکثم نے کپڑا اٹھایا اور ہانم کا خون صرف کرنے لگا۔۔۔
جو خون ہلکا ہلکا جم گیا تھا۔۔۔ اسے اس نے برف کی مدد سے اتارا تھا۔۔۔
شکر تھا کہ چوٹ گہری نہیں تھی۔۔۔ لیکن خون بہت ذیادہ نکل گیا تھا۔۔۔
اکثم خاموشی سے اٹھا تھا اور اپنے کمرے سے فرسٹ ایڈ باکس لے کر آیا تھا۔۔۔
ڈیٹول سے زخم صاف کرنے لگا تو ہانم کی آواز اس کے کانوں میں پڑی۔۔۔
آہ۔۔۔ آرام سے درد ہو رہا ہے۔۔۔
ہانم کی بات پر اس نے آہستہ سے پھونک مار کر اسے ڈیٹول لگایا اور پھر پایوڈین لگا کر پٹی کر دی۔۔۔۔ اس دوران سب خاموش تھے۔۔۔
تمہیں چوٹ کیسے لگی؟؟؟
اکثم نے اس کی طرف دیکھا تو اس نے بے ساختہ ارتسام کا جھکا ہوا سر دیکھا۔۔۔
وہ میں گر گئی تھی چھت پر۔۔۔۔
وہ مجھے بھی معلوم ہے لیکن کیسے گری مجھے یہ بتائو؟؟؟
اکثم نے اسے سرخ آنکھوں سے گھورا تھا۔۔۔
وہ۔۔۔
ہانم انگلیاں چٹخاتے ہوئے اتنا ہی بولی تھی جب اکثم کی دھاڑ پر سہم کر صوفے کے ساتھ لگ گئی تھی۔۔۔۔
چھوٹے خان مجھے ساری بات بتائو وہ پتنگ چھت پر کیا کر رہی تھی۔۔۔۔
ارتسام نے جھکے سر کے ساتھ ہی اسے سب بتا دیا۔۔۔
اکثم کو بس نہیں چل رہا تھا کہ دونوں کو ایک ایک لگا دیتا۔۔۔
تم جیسی جاہل لڑکی میں نے اپنی زندگی میں نہیں دیکھی؟؟؟ بتائو کیا کمی ہے تمہیں یہاں؟؟ تم ایک بیوقوف لڑکی ہو جو کبھی سمجھدار نہیں ہو سکتی۔۔۔ صحیح کہتے ہیں بابا جان تم نرمی کے لائق بالکل نہیں ہو۔۔۔ اگر تمہیں سر پر چڑھائوں گا تو ایسے ہی نتائج ملیں گے مجھے۔۔۔ کرتا ہوں تمہارا علاج میں۔۔۔ بہت کر لی تم نے اپنی من مانی۔۔۔ میری نظروں کے سامنے سے دور ہو جائو ہانم اس سے پہلے میں تمہارا قتل کر دوں۔۔۔
اکثم ہانم پر اپنا غصہ نکال رہا تھا جبکہ ہانم نیلی آنکھوں میں پانی لئے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔ اسے برا لگا تھا اکثم کا ڈانٹنا ۔۔۔۔
رشیدہ بی اسے دور کر دیں میری نظروں سے۔۔ جیسا جاہل باپ ہے ویسی جاہل بیٹی ہے۔۔۔۔
بھائی میری بھی غلطی تھی ۔۔۔۔
ارتسام ہانم کو روتے دیکھ کر بولا۔۔۔
ہاں بہت بڑا کارنامہ سر انجام دیا یے نا تم دونوں نے ۔۔ جو ایسے سرعام مان رہے ہو کہ میری بھی غلطی تھی ۔۔۔۔ جائو یہاں سے تم بھی اپنے کمرے میں اور اگر اب مجھے رات کے کھانے سے پہلے تم باہر نظر آئے تو یاد رکھنا بہت بری طرح پیش آئوں گا۔۔۔
اکثم نے اسے بھی غصے سے کہا اور وہاں سے حویلی کے باہر چلا گیا۔۔۔
ارتسام ہانم کے پاس آیا۔۔۔
بھابھی۔۔۔ خان بھائی غصے میں ہیں ابھی تھوڑی دیر بعد دیکھنا وہ پھر سے پہلے جیسے ہو جائیں گے۔۔۔۔
ہانم روتے ہوئے اکثم کے کمرے کی طرف چلی گئی۔۔۔۔
جبکہ رشیدہ بی بھی اس کے پیچھے گئی تھیں۔۔۔۔
مجھے میری امی کے پاس جانا ہے ابھی۔۔۔ مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔ یہ مجھے ڈانٹتے ہیں۔۔۔ ابا نے کبھی نہیں ڈانٹا۔۔۔۔ خان مجھے گالیاں بھی دیتے ہیں۔۔۔ مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔ میں انہیں جا کر سب بتائوں گی۔۔۔۔
ہانم روتے ہوئے بول رہی تھی جب رشیدہ بی نے اسے گلے لگایا۔۔۔۔
بڑے خان تمہارا خون دیکھ کر پریشان ہوگئے تھے نا ۔۔۔ اس لئے وہ اتنا غصہ کر گئے۔۔۔
نہیں چاچی ۔۔۔ مجھے میری امی کے پاس ہی جانا ہے ۔۔۔ مجھے نہیں رہنا یہاں ۔۔۔۔ خان بالکل اچھے نہیں ہیں۔۔۔
وہ ہچکیوں سے رو رہی تھی۔۔۔
ہانم بیٹا ۔ خان تھوڑی دیر میں آکر آپ لے جائیں گے۔۔۔ رونا بند کرو۔۔۔
رشیدہ بی نے اس کا چہرہ دونوں ہاتھوں میں تھام کر اس کی آنسو صاف کئے۔۔۔ ہانم نے اپنا چہرہ ان کے ہاتھوں سے آزاد کروایا اور نفی میں سر ہلانے لگی۔۔۔
مجھے ان کے ساتھ کہیں نہیں جانا۔۔۔ میں خود جائوں گی گھر۔۔۔ اور ابھی جائوں گی۔۔۔۔
ہانم یہ بول کر کمرے سے باہر بھاگی تھی۔۔۔ رشیدہ بی بھی اس کے پیچھے گئی تھیں ۔۔۔
مجھے نہیں رہنا یہاں۔۔۔۔ میں امی کے پاس ہی جائوں گی۔۔۔
ہانم بھاگتے ہوئے بول رہی تھی ۔۔ ابھی حویلی کے داخلی دروازے تک ہی پہنچی تھی جب اکثم اندر آگیا اس بھاگتے دیکھ کر اس کی پیشانی پر ان گنت بلوں کا اضافہ ہوا تھا۔۔۔ کیونکہ سارے مرد ملازم باہر تھے ۔۔۔
اکثم کو آتے دیکھ کر رشیدہ بی نے سکھ کا سانس لیا۔۔۔۔
ہانم نے غصے سے اکثم کو دیکھا ۔۔۔
مجھے امی کے پاس جانا ہے پیچھے ہٹیں ۔۔۔۔
ہانم کی بات پر اکثم نے اسے دیکھا جو تھوڑا سا غصہ کرنے سے ہی رو رو کر خود کو ہلکان کر چکی تھی ۔۔۔ آنکھیں اور چھوٹی سی ناک بہت ذیادہ سرخ ہو گئی تھی۔۔۔۔ اور پیشانی پر بندھی پٹی دیکھ کر اکثم نے لمبی سانس لی اور اس کا ہاتھ پکڑ کر زبردستی اپنے ساتھ اپنے کمرے میں لے آیا۔۔۔ کمرے میں لا کر اس نے دروازہ بند کیا۔۔۔۔ ہانم کو اس نے تقریبا بیڈ پر دھکا دیا تھا۔۔۔
مجھے امی کے پاس جانا ہے۔۔۔
ہانم ڈرتے ہوئے بولی ۔۔۔۔
مر چکے ہیں تمہارے ماں باپ اور آج کے بعد اگر میں نے تمہارے منہ سے ان کا نام سنا تو میں زبان کاٹ دوں گا تمہاری ۔۔۔۔
اکثم نے اسے غصے سے دیکھ کر کہا۔۔۔
ہانم نے ڈر کر اسے دیکھا۔۔۔۔
اس کی آنکھوں میں اپنے لئے ڈر دیکھ کر اکثم کو اب خود پر غصہ آیا تھا۔۔۔
خود کو پرسکون کرنے کے لئے وہ واش روم میں گیا اور چہرے پر پانی کے چھینٹے مارنے لگا۔۔۔۔
وہ کیوں اتنا غصہ کر گیا تھا؟؟ معمولی چوٹ ہی تو تھی۔۔۔ مجھے درد کیوں ہو رہا ہے۔۔۔ مجھے تکلیف نہیں ہونی چاہیے۔۔۔۔
اکثم نے آئینے میں اپنے عکس کو دیکھ کر سوچا۔۔۔ اس کیوں کا جواب تو تھا لیکن شاید وہ اس کیوں کے جواب کو ابھی سمجھنے سے قاصر تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
وہ دس منٹ بعد باہر نکلا تو ہانم کو سامنے بیڈ پر گھٹنوں میں سر دئیے روتے دیکھا۔۔۔ اکثم آہستہ سے چلتے ہوئے اس کے پاس آیا۔۔۔۔
رو کیوں رہی ہو؟؟؟
ہانم نے اپنے گھٹنوں کے گرد بندھے ہاتھوں کو مزید سخت کر لیا ۔۔۔ وہ واقعی ڈر گئی تھی اکثم کے غصے کو دیکھ کر۔۔۔۔
اکثم اس کے پاس بیٹھا اور اس کے ہاتھوں کو اپنے ہاتھوں میں لیا ۔۔۔۔
تمہیں چوٹ لگی ہے ہانم۔۔۔ اور اماں جان تمہیں اس حال میں دیکھیں گی تو وہ مجھ سے سوال کریں گی۔۔۔ میں کیوں تمہارا خیال نہیں رکھ سکا۔۔۔تم جانتی ہو نا کہ اماں جان تم سے کتنا پیار کرتی ہیں ۔۔۔۔
اکثم کے لہجے میں بلا کی نرمی تھی ۔۔۔۔
ہانم نے سر اٹھایا اور نیلی آنکھوں کی سرخی دیکھ کر اکثم نے اپنے غصے پر ہزار دفعہ لعنت بھیجی تھی ۔۔۔۔
آپ نے ہانم پر غصہ کیا۔۔۔۔
ہانم ڈرتے ہوئے بولی۔۔۔
اب نہیں کروں گا ۔۔۔ پکا وعدہ ۔۔۔
اکثم مسکرا کر بولا۔۔۔۔
ہانم نے اس ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا ۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے بولی۔۔
آپ مجھے پیزا بھی لا کر دیں گے ۔۔۔
ہانم کی بات پر وہ بے ساختہ مسکرایا ۔۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن تم اب پتنگ کبھی بھی نہیں اڑائو گی۔۔۔
اکثم کی بات پر ہانم مسکرائی ۔۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔۔
اکثم بے ساختہ نظریں چرا گیا تھا کیونکہ اس کی آنکھوں کی پلکوں پر جمے آنسو اکثم کو خود کو چننے کی دعوت سرعام دے رہے تھے۔۔۔۔
وہ اٹھ کر باہر کی جانب جانے لگا جب ہانم بولی۔۔۔
آپ میرے شوہر ہیں نا جیسے ابا امی کے اور بابا جان اماں جان کے ۔۔۔
اکثم حیرت سے مڑا اور اسے دیکھنے لگا۔۔۔۔
جو مسکرا رہی تھی۔۔۔
تو ۔۔۔
اکثم کے جواب پر ہانم اس کے پاس آئی اور بولی۔۔۔
تو ابا تو امی کی ہر بات مانتا ہے نا ۔۔
تو مجھے کیوں بتا رہی ہو۔۔۔۔ ؟؟؟
مجھے وہ پیزا کھانا ہے کیونکہ میں ٹینڈے نہیں کھاتی ۔۔۔۔
ہانم کی بات پر وہ مسکرایا ۔۔۔
مکھن لگانا خوب آتا ہے تمہیں۔۔۔۔
مکھن۔۔۔ مگر میں نے کس کو مکھن لگایا۔۔۔۔ ؟؟؟؟
ہانم کو جواب دینے کی بجائے وہ باہر نکل گیا تھا۔۔۔ کیونکہ اس کے سوال کبھی ختم نا ہونے والے تھے۔۔۔
میرے پاس تو مکھن تھا ہی نہیں ۔۔۔
خان کی نظر کمزور ہوگئی ہے۔۔۔
ہانم خود سے بڑبڑائی اور واش روم کی طرف چلی گئی۔۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: