Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 7

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 7

–**–**–

رات کے پہر اقصی کی آنکھ اپنے بیٹے کے رونے کی آواز سے کھلی تھی۔۔۔ وہ بے بی کاٹ میں تھا اور رو رہا تھا۔۔۔ اقصی آہستہ سے اٹھی کر اپنی جگہ پر بیٹھی تھی ۔۔۔ اتنے میں یسرا بیگم کی آنکھ بھی کھل گئی تھی انہوں نے بچے کو اٹھا کر اقصی کو دیا۔۔۔ اقصی نے اسے گود میں لیا اور اس کے سر پر بوسہ دیا۔۔۔ اسے بھوک لگی تھی۔۔۔ اقصی نے نم آنکھوں سے اسے دیکھا اور اس کی ضرورت پوری کرنے لگی ۔۔ تھوڑی دیر بعد جب وہ سو گیا تو اس نے اسے اپنے پاس بیڈ پر ہی لٹا لیا۔۔۔۔ یسرا بیگم نے اقصی کی پیشانی پر بوسہ دیا تو اس کی آنکھوں سے آنسو جاری ہوگئے ۔۔۔
آپ جانتی ہیں اماں جان۔۔۔ احمر کہتے تھے کہ وہ اپنے بچے کو رونے نہیں دیں گے اور کسی کو بھی اسے مارنے نہیں دیں گے۔۔۔ اگر میں نے بھی اسے کچھ کہا تو وہ مجھ سے بھی ناراض ہو جائیں گے۔۔۔
اقصی روتے ہوئے بول رہی تھی اور یسرا بیگم کی آنکھیں بھی نم کر گئی تھی۔۔۔۔ چوٹ ایسی تھی جس کا علاج کوئی نہیں تھا۔۔۔ زخم ایسا تھا جو زندگی بھر کے لئے ناسور بن گیا تھا۔۔۔ یہ سوچ ہی اقصی کی جان لے رہی تھی کہ اس بیٹا یتیم کہلایا جائے گا۔۔۔۔
اقصی بچے چپ کر جائو۔۔۔ ہمت سے کام لو۔۔۔۔ وہ نہیں ہے لیکن اس کا بیٹا ہے تمہارے پاس ۔۔۔۔ جسے تم ہر وقت محسوس کر سکتی ہو۔۔۔۔
اماں جان ۔۔۔ اسے نہیں جانا چاہیے تھا ابھی۔۔۔ مجھے اس کی ضرورت تھی ۔۔۔۔ میری ماما پاپا اور بہن بھائیوں نے مجھ سے رخ موڑ لیا ہے کیونکہ میں نے ان کی بات نہیں مانی ۔۔۔ ان کے ساتھ نہیں گئی۔۔۔ لیکن اماں جان اگر میں ان کے ساتھ چلی جاتی تو میرا احمر تنہا رہ جاتا یہاں ۔۔ میں کیسے اسے چھوڑ کر جا سکتی ہوں۔۔۔۔ ؟؟؟
اقصی روتے ہوئے مسلسل بول رہی تھی ۔۔۔ احمر کی موت کے بعد وہ آج کھل کر رو رہی تھی ۔۔۔۔ یسرا بیگم بھی نم آنکھوں سے اسے روتا دیکھ رہی تھیں۔۔۔۔
اقصی ماں ہوں میں اس کی ۔۔۔ میری پہلی اولاد ۔۔۔جس نے مجھے ماں کے لفظ کا معنی سمجھایا ۔۔۔ وہ بہت عزیز تھا مجھے ۔۔۔ لیکن پھر چلا گیا۔۔۔ اس نے وعدہ کیا تھا کہ ہمارے گائوں سے ہر بری رسم کو ختم کر دے گا۔۔۔ لیکن دیکھو وہ وعدہ نبھائے بغیر چلا گیا۔۔۔۔
ان کی بات پر اقصی نے رخ موڑ لیا تھا ۔۔۔
جانے والے کو روکا نہیں جا سکتا اقصی لیکن جو ہیں ان نظرانداز نہیں کرو۔۔۔ اپنے بیٹے پر توجہ دو۔۔۔۔ اور کسی بھی رشتے سے پہلے انسانیت کو سامنے رکھو۔۔۔ زندگی آسان ہو جائے گی۔۔۔
یسرا بیگم نم آنکھوں سے مسکرائی تھیں۔۔۔
اقصی جانتی تھی ان کا اشارہ ہانم کی طرف ہے۔۔۔ وہ بس سر ہلا کر لیٹ گئی تھی۔۔۔
ہمارے پوتے کا کیا نام سوچا ہے تم نے اقصی؟؟؟؟
یسرا بیگم نے بیڈ پر لیٹے بچے کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔
ثمامہ خان۔۔۔
احمر نے سوچا ہوا تھا۔۔۔۔
اقصی کی آواز ایک دفعہ پھر سے آنسوئوں سے تر ہو گئی تھی۔۔۔
مآشاء اللہ ۔۔۔ بہت پیارا نام ہے۔۔۔۔ اب سو جائو تم۔۔ اللہ پاک صبر دے ہم سب کو۔۔۔۔ آمین
یسرا بیگم خود ہی بول کر اٹھ گئی تھیں۔۔۔۔
جبکہ اقصی کے آنسو اب تکیہ بھگو رہے تھے۔۔۔۔
کچھ بھی تو نہیں تھا اس کے پاس سوائے احمر کی یادوں اور ثمامہ خان کے ۔۔۔ لیکن یہی تو اس کی دنیا تھی اب۔۔۔ جس کے سہارے اس نے زندگی گزارنی تھی۔۔۔ یا شاید وقت اس کا مرہم بن کر اس کی خوشیاں لوٹانے والا تھا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
صبح ہانم اٹھی تو اس کے سر میں ہلکا ہلکا درد ہو رہا تھا ۔۔۔ اکثم کو دیکھا تو کمرے میں کہیں نہیں تھا۔۔۔
خان ۔۔۔ خان۔۔۔ کہاں ہیں آپ۔۔۔
ہانم نے اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے اپنا سر تھامتے ہوئے پوچھا۔۔۔
کچھ چوٹ اور کچھ کل رونے کی وجہ سے اب اس کے سر میں درد ہو رہا تھا ۔۔۔
اکثم جو صبح سویرے سیر کرنے نکلا تھا اپنے کمرے کا دروازہ کھولنے ہی لگا تھا جب اس کے کانوں میں ہانم کی آواز گونجی۔۔۔۔
وہ دروازہ کھول کر اندر آیا تو سامنے ہی ہانم بیڈ پر سر پکڑ کر بیٹھی تھی۔۔۔۔ وہ تشویش زدہ انداز میں آگے بڑھا اور اس کے پاس بیٹھتے ہوئے پریشان کن انداز میں پوچھنے لگا۔۔۔۔۔
ہانم کیا ہوا؟؟؟ سر میں درد ہو رہا ہے کیا؟؟؟
ہانم نے اپنی نیلی آنکھیں سامنے وجود پر ٹکائیں اور معصومیت سے سر ہلاتے ہوئے بولی۔۔۔
ہاں درد ہو رہا ہے۔۔۔
اچھا تم جلدی سے منہ ہاتھ دھو کر آئو۔۔۔ میں رشیدہ بی سے ناشتہ بنوا کر یہاں لاتا ہوں ۔۔۔ پھر تم دوائی کھا لینا ۔۔۔ سر درد کی۔۔۔
اکثم نے اسے نرمی سے دیکھ کر کہا اور وہاں سے اٹھ گیا۔۔۔
لیکن میرے سر پر تو پٹی ہے میں منہ کیسے دھوئوں گی؟؟؟ پٹی گیلی ہو جائے گی نا۔۔۔ پھر سوکھے گی کیسے؟؟؟
ہانم کی بات پر اکثم کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی۔۔۔
میں دوسری لگا دوں گا اب اٹھو۔۔۔
لیکن آپ کے پاس تو تھوڑی سے پٹی تھی کل میں نے دیکھا تھا اور اگر مجھے دوبار چوٹ لگ گئی تو پھر آپ پٹی کہاں سے لائیں گے۔۔۔۔؟؟؟
ہانم نے فکر مندانہ انداز میں پوچھا تو اکثم نے اسے گھورا۔۔۔۔
تمہیں اب دوبارہ کبھی چوٹ نہیں لگے گی۔۔۔ سمجھی تم ۔۔ اب جائو اور منہ دھو کر آئو۔۔ اور کوئی سوال نہیں۔۔۔
اکثم اسے منہ کھولتا دیکھ کر بولا۔۔۔۔
ہانم منہ بسور کر واش روم کی طرف چلی گئی۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رشیدہ بی ۔۔۔
اکثم کیچن میں داخل ہوا تو سامنے ہی رشیدہ بی ناشتے کے لئے پراٹھے بنا رہی تھیں ۔۔۔
جی بڑے خان۔۔۔۔
رشیدہ بی نے مسکرا کر پوچھا۔۔۔۔
ہانم کے لئے ناشتہ بنا دیں۔۔۔ جلدی سے ۔۔۔ اس کے سر میں درد ہے اور اس نے دوائی کھانی ہے۔۔۔
اکثم بول کر حال میں چلا گیا ۔۔۔ جہاں ارتسام بیٹھا ڈرائنگ کر رہا تھا۔۔۔ اس کی یہی عادت تھی جب بھی اکثم اس سے ناراض ہوتا تھا صبح صبح اٹھ کر وہ اس کے لئے ایک دل بناتا تھا اور پھر اس میں اپنا اور اس کا نام لکھتا تھا۔۔۔ جسے دیکھ کر وہ مسکرا کر ارتسام کو گلے لگاتا تھا۔۔۔ آج بھی وہ یہی کر رہا تھا۔۔۔۔
اکثم پاس ہی صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔ اور مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔
چھوٹے خان کیا کر رہے ہو؟؟؟
اکثم نے جان بوجھ کر پوچھا۔۔۔
میں آپ کے لئے یہ بنا رہا تھا۔۔۔ مجھے معاف کر دیں آئندہ کبھی بھی پتنگ نہیں اڑائوں گا۔۔۔
ارتسام نے اس ایک کاغذ دیا ۔۔۔ جس پر ایک دل بنا ہوا تھا اور اندر اکثم کے ساتھ ہانم کا نام لکھا تھا ۔۔۔
اکثم جو مسکرا رہا تھا ہانم کا نام دیکھ کر اس کی مسکراہٹ سمٹی اور وہ ناسمجھی سے ارتسام کو دیکھنے لگا۔۔۔۔
ہانم بھابھی کی وجہ سے آپ ناراض ہو گئے تھے نا۔۔ کیونکہ میری وجہ سے انہیں چوٹ لگی تھی ۔۔۔ اس لئے یہ ان کے لئے بھی ہے۔۔۔۔
ارتسام مسکرا کر بولا تو اکثم نے اسے گلے لگایا ۔۔۔۔
میرے نام کے ساتھ تمہارا نام لکھا جاتا ہے خان یہاں اس میں کوئی ردو بدل نہیں ۔۔۔ وہ بھابھی ضرور ہے تمہاری لیکن تمہاری جگہ کوئی نہیں لے سکتا۔۔۔ کوئی بھی نہیں۔۔۔۔
اکثم نے اسے پیار سے سمجھایا تو وہ مسکرا کر اپنا سر اثبات میں ہلا گیا۔۔۔
اچھا تم دوبارہ سے بنائو۔۔۔ میں تب تک ہانم کو ناشتہ کروا دوں۔۔۔۔
اکثم یہ بول کر وہاں سے اٹھ گیا جبکہ ارتسام دوبارہ سے بنانے میں مصروف ہوگیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
تھوڑی دیر بعد اکثم ناشتے کی ٹرے کئے کمرے میں داخل ہوا تو سامنے ہی ہانم اپنے بالوں کو کنگھی کر رہی تھی۔۔۔ اکثم کو دیکھتے ہی اس نے جلدی سے ڈوپٹہ لیا تھا ۔۔۔
اکثم کے لبوں پر ایک دم مسکراہٹ نے بسیرا کیا تھا جسے وہ کمال مہارت سے چھپا گیا تھا۔۔۔
جبکہ ہانم منہ بسور کر واش روم کی طرف ہاتھ دھونے چلی گئی تھی۔۔۔
جب باہر آئی تو اکثم ناشتے کی ٹرے کو ٹیبل پر رکھے خود صوفے پر بیٹھا اس کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔۔
ہانم صوفے پر بیٹھی اور خاموشی سے ناشتہ کرنے لگی۔۔۔ اکثم نے مسکرا کر اس کے سفید اور گلابی چہرے کو دیکھا تھا جہاں صرف معصومیت تھی۔۔۔
خان ۔۔ خان۔۔۔
ہانم نے اس کے آگے اپنا ہاتھ ہلایا تو اکثم کا ارتکاز ٹوٹا ۔۔۔۔ وہ جلدی سے رخ موڑ گیا تھا۔۔۔
ہاں۔۔۔۔
ہاں نہیں جی بولتے ہیں۔۔۔۔
ہانم نے اسے گھورا تھا۔۔۔
اس کے جواب پر اکثم نے اسے دیکھا جو اپنی نیلی آنکھوں سے اسے گھور رہی تھی۔۔۔۔
جی بولیں ۔۔۔
خان یہ پٹی گیلی ہو گئی ہے۔۔۔ میں نے جان بوجھ کر نہیں کی خود ہی ہو گئی ہے۔۔۔۔
ہانم نے نچلا لب باہر نکال کر معصومیت سے کہا۔۔۔
اکثم نے دایاں آبرو اچکا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
پانی خود چل کر تمہاری پٹی کو گیلا کرنے پہنچ گیا ہوگا ۔۔۔ ہے نا؟؟
ہاں جی۔۔۔۔
ہانم بعض آ جائو۔۔۔۔ جھوٹ بولنا بری بات ہوتی ہے۔۔۔۔
اکثم یہ بول کر اٹھا اور فرسٹ ایڈ باکس جو سائیڈ ٹیبل کے دراز میں تھا نکال کر لایا اور دوبارہ صوفے پر بیٹھ گیا۔۔۔۔
آہستہ سے اس کی پٹی کھولی۔۔۔ وہ سے معمولی سی تکلیف دینے کا بھی روادار نہیں تھا۔۔۔۔
دوبارہ پٹی کرتے وقت اس کی انگلیاں ہانم کی پیشانی سے ٹکرائی تو اکثم کو ایسے لگا جیسے اس کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی تھی۔۔ اس نے جلدی سے پٹی باندھی ۔۔۔ اور بنا اس کی طرف دیکھے باہر چلا گیا۔۔۔ جبکہ ہانم خاموشی سے اسے جاتا دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم باہر آئی تو ارتسام کو صوفے پر لیٹے دیکھا جو پیٹ پکڑ کر بیٹھا تھا اور رشیدہ بی اسے کے سر کو گود میں رکھے بیٹھی تھیں ۔۔۔۔
ہانم ان کی طرف بڑھی اور ارتسام کو دیکھنے لگی جو رو رہا تھا۔۔۔۔
چاچی چھوٹے خان کو کیا ہوا ہے؟؟؟ یہ تو کیوں رہا ہے؟؟؟
پتہ نہیں بیٹا صبح سے یہاں بیٹھا کاپی پنسل لئے کچھ بنا رہا تھا پھر اچانک سے میرے پاس کیچن میں آیا تو بولا کے پیٹ میں درد ہو رہا ہے۔۔۔ اور تب سے مجھے کھینچ کر یہاں لے آیا ہے ۔۔۔۔
چھوٹے خان کیا ہوا ہے تمہیں رو کیوں رہے ہو؟؟؟
اکثم جو چھت سے نیچے آ رہا تھا اسے روتے دیکھ کر پریشان ہوا۔۔۔
پتہ نہیں پیٹ پکڑ کر رو رہا ہے ۔۔۔
رشیدہ بی نے اکثم کو بتایا۔۔۔
تم نے ناشتہ کیا چھوٹے خان؟؟؟
اکثم نے ارتسام سے پوچھا تو اس نے اپنا سر نفی میں ہلا دیا ۔۔۔
رشیدہ بی آپ چھوٹے خان کے لئے ناشتہ بنائیں ہو سکتا ہے خالی پیٹ درد ہو رہا ہو۔۔۔۔ صبح سے تو بھوکا بیٹھا ہوا ہے ایک ہی جگہ پر۔۔۔۔
اکثم نے ارتسام کا سر اپنی گود میں رکھا اور اس کے آنسو صاف کرنے لگا جبکہ رشیدہ بی وہاں سے کیچن میں ارتسام کے لئے ناشتہ لینے چلی گئی تھیں۔۔۔
ہانم آہستہ سے اس کی ٹانگوں کی طرف بیٹھی اور اپنے چھوٹے چھوٹے ہاتھوں سے ارتسام کو کے پیٹ سے ذور ذور سے دبانے لگی۔۔۔ ارتسام چیختے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گیا۔۔۔
جبکہ اکثم اس کے چیخنے پر ہانم کو گھورنے لگا۔۔۔
کیا کر رہی ہو تم؟؟؟
اکثم اسے گھور کر پوچھنے لگا۔۔۔۔
میں تو چھوٹے خان کا پیٹ دبا رہی تھی اسے درد ہو رہا تھا نا۔۔۔ ابا کی جب بھی ٹانگوں میں درد ہوتا تھا میں انہیں بھی دباتی تھی ۔۔۔۔ان کو آرام آ جاتا تھا۔۔۔۔ اس لئے میں چھوٹے خان کا پیٹ دبا رہی تھی ۔۔۔
ہانم معصومیت سے بول رہی تھی جبکہ ارتسام صدمے سے دیکھ رہا تھا۔۔۔۔
پاگل ہو کیا ؟؟ پیٹ ہے اس کا ۔۔۔
اکثم نے اسے گھورا تھا ۔۔۔
آپ نے پھر گالی نکالی وہ بھی چھوٹے خان کے سامنے۔۔۔۔
ہانم نے جواب میں اسے گھورا تھا۔۔۔۔
بھائی ۔۔۔۔
اکثم مزید کچھ بولتا ارتسام نے اس کی توجہ اپنی جانب مبذول کروائی۔۔۔
ہانم منہ بسور کر وہاں پڑے کاغذوں کی طرف متوجہ ہوگئی تھی ۔۔۔
بھائی یہ لاعلاج ہیں۔۔۔
ارتسام پیٹ پکڑ کر بولا تو اکثم مسکرا دیا۔۔۔ کیونکہ انجانے میں ارتسام کی توجہ بھی درد سے ہٹا چکی تھی۔۔۔
تھوڑی دیر بعد رشیدہ بی ناشتہ لے کر آئیں تو اکثم نے اسے ناشتہ کروا کر اس کے کمرے میں بھیج دیا کیونکہ اس کے پیٹ میں درد اب کم تھا۔۔۔۔ اور خود حویلی سے باہر چلا گیا۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: