Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 8

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 8

–**–**–

اکثم اور ارتسام حویلی کے بیرونی دروازے پر جبکہ ہانم رشیدہ بی اور دوسرے ملازموں کے ساتھ حال کے دروازے کے پاس کھڑی تھی۔۔۔۔ اسے کچھ معلوم نہیں تھا کہ وہ کیوں یہاں کھڑی ہے۔۔بس معلوم تھا تو اتنا کہ اکثم نے اسے وہاں کھڑا رہنے کے لئے کہا ہے ۔۔۔۔
یسرا بیگم اقصی کو سہارا دیتے ہوئے گھر میں داخل ہوئیں تو سامنے ہی ارتسام اور اکثم کو کھڑے دیکھا۔۔۔ دونوں نے ایک آواز میں سلام کیا۔۔۔ اس کے بعد دلاور خان اپنے پوتے ثمامہ خان کو ساتھ لے کر گھر کے اندر داخل ہوئے۔۔۔۔ اکثم نے آگے بڑھ کر ان سے ثمامہ کو لیا اور اسے ارتسام کو دکھایا۔۔۔۔
بھائی یہ کتنا پیارا ہے ماشاءاللہ ۔۔۔
ارتسام کی آواز میں سب نے خوشی واضح طور پر محسوس کی تھی۔۔۔۔
حویلی کے اندر داخل ہوتے ہی سب سے پہلے اقصی کی نظر ہانم پر پڑی جو مسکرا کر اماں جان اور اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔۔
ان کے داخل ہوتے ہی وہ خوشی سے بولی۔۔۔۔
اسلام وعلیکم اماں جان۔۔۔
وعلیکم اسلام ۔۔۔
یسرا بیگم نے مسکرا کر اسے جواب دیا جبکہ اقصی نے اسے دیکھنے کی زحمت تک گوارا نہیں کی تھی ۔۔۔۔
دلاور خان مسکراتے ہوئے حویلی کے داخلی دروازے کی طرف آئے تو ہانم نے انہیں بھی سلام کیا۔۔۔
اسلام و علیکم ۔۔۔ بابا جان۔۔۔۔
اس کی آواز پر دلاور خان نے سر کو جنبش دی اور اندر چلے گئے۔۔۔
اکثر مسکراتے ہوئے بچے کو اٹھائے گھر میں داخل ہو رہا تھا جب ہانم کی نظر اس پر پڑی۔۔۔۔ بچے تو ویسے بھی ہانم کی کمزوری تھے۔۔۔۔ وہ اکثم کے پاس آئی اور خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔۔۔
خان یہ کون ہے؟؟؟
یہ احمر بھائی کا بےبی ہے۔۔۔ بےبی بوائے ۔۔۔۔
اکثم مسکراتے ہوئے ثمامہ کو دیکھ رہا تھا جو سویا ہوا تھا۔۔۔۔
خان مجھے بھی دیں نا۔۔۔ میں بھی اس بے بی کو اٹھائوں گی۔۔۔۔
ہانم کی پرجوش سی آواز جب اقصی کے کانوں تک پہنچی تو وہ وہیں سے تقریبا چیختے ہوئے بولی تھی۔۔۔۔
بڑے خان۔۔۔ میرے بیٹے کو اس منہوس کے سائے سے بھی دور رکھئے گا۔۔۔ ورنہ میں اپنے بیٹے کو لے کر یہاں سے چلی جائوں گی۔۔۔۔
اقصی کی بات پر حال میں موجود سب لوگوں پر سکتہ طاری ہو گیا ۔۔۔۔ جبکہ اکثم نے بے ساختہ ہانم کو دیکھا تھا جو نم آنکھوں سے سر جھکا گئی تھی۔۔۔۔
مطلب وہ اتنی بھی ناسمجھ نہیں تھی کہ مقابل کے غصے اور خوشی کا اندازہ نہ لگا سکے۔۔۔۔
اقصی بیٹا تمہیں اب آرام کرنا چاہیے۔۔۔۔
رشیدہ اقصی کو لے جائو اس کے کمرے میں اور اس کے ساتھ ہی رہنا۔۔۔ اسے کسی بھی چیز کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔۔ اور ثمامہ خان کو بھی لے جائو۔۔۔۔
یسرا بیگم نے رشیدہ بیگم کو حکم دیا تو انہوں نے اقصی کو سہارا دیتے ہوئے ثمامہ کو دوسرے ہاتھ سے اٹھایا اور اس کے کمرے کی طرف بڑھ گئ۔۔۔۔
ہانم۔۔۔۔
اکثم نے اسے آواز دی۔۔۔۔ جو سر جھکائے اپنے گلابی لب چبانے میں مصروف تھی۔۔۔
اس نے اکثم کی آواز پر سر اٹھایا اور اسے دیکھا۔۔۔۔
مجھے وہ گالی کیوں دیتی ہیں؟؟؟ میں تو منہوس نہیں ہوں۔۔۔ امی کہتی ہیں یہ گندی بات ہوتی ہے۔۔۔ پھر انہوں نے مجھے منہوس کیوں کہا؟؟؟ کیا میں گندی ہوں؟؟؟
ہانم کی بات پر اکثم لب بھینچ گیا جبکہ یسرا بیگم نے بے ساختہ ہانم کو پکارا۔۔۔۔
ہانم بیٹا ادھر آئو میرے پاس۔۔۔۔
یسرا بیگم کے بلاوے پر وہ آہستہ سے چلتے ہوئے ان کے پاس گئی اور دائیں طرف ان کے پہلو میں بیٹھ گئی۔۔۔ جبکہ دلاور خان دوسرے صوفے پر بیٹھے صوفے کی پشت سے ٹیک لگا کر آنکھیں موند گئے تھے۔۔۔۔
ہانم بہت اچھی ہے ۔۔ اس لئے تو اسے ہم اپنے گھر اپنے بڑے خان کی دلہن بنا کر لے آئے۔۔۔ کیونکہ ہم سب کو ہانم بہت زیادہ اچھی لگتی ہے اور ہم اس سے دور نہیں رہ سکتے تھے۔۔۔
یسرا بیگم نے اسے پیار سے سمجھایا ۔۔۔۔
لیکن اماں جان میں تو دلہن بنی ہی نہیں؟؟؟؟
ہانم نے معصومیت سے کہا تو دلاور خان ایک دم سے اٹھ کر اسے دیکھنے لگے جبکہ یسرا بیگم نے لبوں کو آپس میں پیوست کر کے اپنی مسکراہٹ کو روکا تھا۔۔۔۔
اکثم نے اپنا سر نفی میں ہلایا تھا ۔۔۔ جیسے کہہ رہا ہو یہ واقعی لاعلاج ہے ۔۔۔۔
تمہیں معلوم ہے ہم تمہیں یہاں کیوں لائیں ہیں؟؟؟
اس بار سوال دلاور خان نے پوچھا تھا۔۔۔
دلاور خان کی آواز پر اکثم نے اپنے ہاتھوں کو ذور سے بند کیا تھا جبکہ یسرا بیگم نے انہیں التجائیہ نظروں سے دیکھا تھا۔۔۔۔
کیونکہ چھوٹے خان نے کہا تھا یہ میرے شوہر کا گھر ہے۔۔۔ جیسے امی ابا کے ساتھ رہتی ہے ویسے مجھے بھی خان کے ساتھ رہنا ہے۔۔۔۔
ہانم کے جواب پر دلاور خان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی تھی جبکہ یسرا بیگم نے حیرانگی سے دلاور خان اور ہانم کو دیکھا تھا جیسے دونوں سے اسے اس چیز کی توقع نہیں تھی۔۔۔۔
اکثم بھی مسکرایا تھا جبکہ ارتسام نے اسے گھورا تھا جو پاگل ہونے کے ساتھ حاضر جواب بھی تھی۔۔۔۔۔
اچھا۔۔۔ تو خان نے نہیں بتایا کہ وہ تمہارا شوہر ہے؟؟؟
دلاور خان نے اکثم کو ایک نظر دیکھ کر ہانم سے پوچھا۔۔۔ نجانے کیوں انہیں ہانم کی باتیں متاثر کر رہی تھیں۔۔ اس کی معصومیت اپنی طرف کھینچ رہی تھی۔۔۔۔
خان نے کہا تو وہ میری سہیلی ہیں۔۔۔
ہانم کے جواب پر دلاور خان نے بے ساختہ قہقہ لگایا جبکہ یسرا بیگم نے مسکراہٹ کو لبوں سے آزاد کیا تھا۔۔۔۔ اکثم نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔
ہانم چلو کمرے میں ۔۔۔ تمہاری چوٹ پر دوائی لگانی ہے۔۔۔
اکثم نے جان بوجھ کر بات بدل دی۔۔ یسرا بیگم نے ہانم کی پیشانی کو دیکھا جہاں ایک چھوٹا سا زخم کا نشان تھا۔۔۔ جو انہوں نے پہلے غور سے نہیں دیکھا تھا۔۔۔ کیونکہ اس کا ڈوپٹہ تھا اس زخم پر جو صوفے پر بیٹھنے سے تھوڑا سا سرک کر پیچھے ہو گیا تھا۔۔۔۔۔
ہانم تمہیں کو چوٹ کیسے لگی؟؟؟
یسرا بیگم کے سوال پر ارتسام نے اکثم اور اکثم نے ہانم کو دیکھا تھا۔۔۔
وہ اماں جان کل چھت پر چارپائی کی ٹھوکر لگنے سے گر گئی تھی۔۔۔
خان نے پٹی کی تھی۔۔ اب تو درد بھی نہیں ہے۔۔۔
ہانم مسکرا کر بولی جبکہ اکثم تو آج اس کے جوابات سن کر حیران کم شاکڈ ذیادہ ہو رہا تھا۔۔۔۔
لگتا ہے چوٹ نے گہرا اثر چھوڑا ہے دماغ پر ۔۔۔۔
اکثم نے سوچا اور وہاں سے اپنے کمرے کی طرف چلا گیا۔۔۔ جبکہ ہانم اماں جان سے باتوں میں مصروف ہوگئی۔۔۔ دلاور خان تو اس باتونی لڑکی کو دیکھ رہے تھے جو مسلسل یسرا بیگم سے باتیں کر رہی تھی۔۔۔ اور وہ مسکرا کر اسے سن رہی تھیں۔۔۔ ارتسام وہاں سے دلاور خان کے پاس آگیا اور ان سے باتیں کرنے لگا۔۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
رات کا وقت تھا جب ہانم کمرے میں داخل ہوئی ۔۔۔ سامنے ہی اس کی نظر اکثم پر پڑی جو بیڈ پر بیٹھا اپنے سر کو دونوں ہاتھوں سے مسل رہا تھا۔۔۔۔
ہانم اندر آئی اور اسے دیکھنے لگی۔۔۔
خان آپ کو کیا ہوا ہے؟؟؟
ہانم کی پریشان کن آواز پر اکثم نے اپنی آنکھیں کھولیں اور ہانم کو دیکھا۔۔ جو اپنی نیلی آنکھوں میں فکر لئے کھڑی تھی۔۔۔۔
کچھ نہیں بس دماغ درد سے پھٹ رہا ہے۔۔۔۔
اکثم نے بمشکل مسکرا کر جواب دیا۔۔۔۔
خالی ہوگا نا اس لئے درد ہو رہا ہوگا۔۔۔۔
ہانم کے جواب پر اکثم نے اپنی آنکھیں پوتی کھولیں اور شاک کی کیفیت میں اسے دیکھا جو اس کے دماغ کو خالی کہہ رہی تھی۔۔۔۔
تمہیں میں خالی دماغ نظر آتا ہوں؟؟؟
اکثم نے اسے گھورا تھا ۔۔۔۔
صبح چھوٹے خان کے پیٹ میں بھی خالی پیٹ درد ہو رہا تھا نا۔۔۔ تو پھر آپ کے سر میں بھی تو۔۔۔۔
اللہ ۔۔۔ ہانم چپ کر جائو۔۔۔۔
اکثم نے اس کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی ٹوک دیا تھا ۔۔۔۔
ہانم منہ بسور کر بیڈ پر بیٹھ گئی۔۔۔ اور اکثم اٹھ کر صوفے پر جا کر بیٹھ گیا۔۔۔۔
خان میں آپ کا سر دبا دوں۔۔۔
ہانم اسے مسلسل ہاتھ سے پیشانی مسلتے ہوئے دیکھ کر بولی۔۔۔
اکثم نے اسے دیکھا اور مسکرا کر کہا۔۔۔۔
تمہیں سر دبانا آتا ہے کیا؟؟؟۔۔۔
ہاں میں سب کچھ دبا لیتی ہوں ۔۔۔ کندھے بھی ، ٹانگیں بھی ، بازو بھی سر بھی ، پائوں بھی۔۔۔۔
ہانم معصومیت سے بتا رہی تھی۔۔۔ جب اکثم ہنستے ہوئے بولا۔۔۔
ہاں پیٹ دبانا بھی آتا ہے ۔۔۔۔
ہاں آتا ہے لیکن آپ نے مخھے چھوٹے خان کا پیٹ نہیں دبانے ہی نہیں دیا۔۔۔۔
ہانم تاسف سے بولی۔۔۔اکثم کی ہنسی کمرے کی خاموشی کو توڑ رہی تھی۔۔۔۔
ویسے تمہیں تو پھر گردن دبانی بھی آتی ہوگی۔۔۔ ہے نا؟؟؟
اکثم نے مصنوعی سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔۔
ہانم اس کے نزدیک آئی اور بولی۔۔۔
نہیں مجھے گردن دبانی تو آتی ہی نہیں۔۔ کیا آپ سکھا دو گے مجھے۔۔۔
ہاں سکھائوں گا اور پھر جیل جائوں گا۔۔۔ کیونکہ ہانم خان کوشش کئے بغیر مانیں گی تو ہے نہیں ۔۔۔۔۔
اکثم خود سے بڑبڑایا تو ہانم نے ناسمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔۔
سر دبا دو میرا۔۔۔۔
اکثم صوفے کی پشت سے سر ٹکا کر بولا۔۔۔ تو ہانم صوفے کے پچھلے حصے کی طرف جا کر کھڑی ہوگئی اور اپنے چھوٹے چھوٹے سفید ہاتھوں سے اس کی پیشانی کو دبانے لگی۔۔۔۔ اس کی نرم اور روئی جیسے ہاتھوں کا لمس محسوس کرتے ہی اکثم کے دل کی دھڑکن تیز ہو گئی تھی۔۔۔ اسے اس لمس کے ساتھ سکون مل رہا تھا اور ایک انوکھا اور پیارا سا جذبہ اس کے دل کے تہہ خانے سے نکلنے کو بے تاب ہو رہا تھا۔۔۔۔ اس کی جذبے کی دستک اکثم کو جب اپنے کانوں میں سنائی دینے لگی تو اکثم بے ساختہ اس کے ہاتھ پکڑ کر اسے روک گیا تھا۔۔۔۔
میں ٹھیک ہوں اب تم جائو سو جائو جا کر ۔۔۔۔
اکثم نے اس کہ طرف دیکھے بغیر کہا۔۔۔
دیکھا آپ ٹھیک ہو گئے۔۔۔ میرے دبانے سے ۔۔۔ چھوٹے خان نے بھی ہو جانا تھا۔۔ لیکن کوئی بات نہیں اگلی دفعہ میں اسے دبائوں گی۔۔۔
ہانم خوشی سے بول رہی تھی جب اکثم اس کی آخری بات پر لب بھینچ گیا تھا ۔۔۔۔
تم میرے علاوہ کسی کو نہیں دبائو گی ۔۔۔ سمجھی تم۔۔۔ اب جائو سو جائو جا کر۔۔۔۔
اکثم اسے سخت نظروں سے دیکھ کر بولا۔۔۔ تو ہانم منہ بسور کر بیڈ پر آ کر بیٹھ گئی۔۔۔۔
اکثم ابھی سیدھا ہو کر لیٹا ہی تھا جب ہانم نے اسے پکارا۔۔۔۔
خان ۔۔۔۔ خان۔۔۔۔
ہانم اگر آج تم نے بھوک کا نام لیا تو میں قسم سے واقعی تمہیں حویلی سے باہر چھوڑ آئوں گا اندھیرے میں۔۔۔۔
اکثم اس کی آواز پر اسے گھورتے ہوئے بولا جو بیڈ پر بیٹھی معصومیت سے اپنی آنکھوں کو چھوٹا کر کے اسے دیکھ رہی تھی ۔۔۔۔۔
نہیں خان آج بھوک نہیں لگی۔۔۔ میں نے پوچھنا تھا کہ ۔۔۔ وہ بےبی آپ ہسپتال سے لائے ہیں نا؟؟؟؟
ہانم کے سوال پر اکثم نے اپنی آنکھیں بند کر لیں ۔۔۔ کیونکہ وہ جانتا تھا اب بے تکے سوالوں کی بوچھاڑ شروع ہو جائے گی۔۔۔۔
ہاں تو۔۔۔۔
تو وہ کتنے کا لائے ہیں؟؟؟ میں نے بھی لینا ہے ۔۔۔۔ میرے پاس پیسے تو ابھی نہیں ہیں لیکن میں جمع کروں گی اور۔۔۔۔
ہانم کی باتوں پر اکثم لیٹے سے اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔۔۔
تمہیں کس نے کہا ہے بےبی پیسوں سے آتا ہے؟؟؟
عائشہ کی امی بھی ہسپتال سے ایک چھوٹا سا بےبی لے کر آئی تھیں۔۔۔۔ وہ بھی بہت پیارا تھا۔۔۔ جب میں نے امی سے پوچھا تو انہوں نے کہا مجھے بھی بےبی لا کر دیں تو انہوں نے کہا ہمارے پاس پیسے نہیں ہیں بےبی لانے کے۔۔۔۔۔۔ اور۔۔۔۔۔۔
ہانم بس کردو۔۔۔۔۔ اور اب بے بی نامہ بند کرو مجھے سونا ہے۔۔ ہم اس بارے میں صبح بات کریں گے۔۔۔۔
اکثم اسے غصے سے دیکھ کر بولا تو ہانم نا چاہتے ہوئے بھی خاموشی سے لیٹ گئی ۔۔۔۔
پتہ نہیں اس کی ماں نے اس کے دماغ کو بڑا کیوں نہیں ہونے دیا۔۔؟؟؟
اکثم سوچتے ہوئے آنکھیں موند گیا تھا۔۔۔۔
کبھی کبھی ذیادہ احتیاط بھی انسان کی شخصیت کو برے طریقے سے متاثر کرتی ہے۔۔۔ اور یہی حساب ہانم کے معاملے میں اس کی ماں نے کیا تھا اسے سکول نا بھیج کر اور اسے الٹے سیدھے جوابات دے کر۔۔۔۔ جب انسان ضرورت سے زیادہ کسی کہ فکر کرتا ہے تو تاریخ گواہ ہے وہ بندہ بڑی مصیبتوں میں جکڑا جاتا ہے۔۔۔ پھر اس کے پاس اس مصیبت سے نکلنے کا کوئی راستہ بھی نہیں ہوتا۔۔۔ کیونکہ اس کے دماغ کو آپ پہلے ہی کمزور کر چکے ہوتے ہیں۔۔۔
انسان کو بچوں پر ضرورت سے زیادہ نہ ہی سختی کرنی چاہیے اور نہ ہی حد سے زیادہ محبت دینی چاہیے کیونکہ ذیادتی ہر چیز کی نقصان دہ ہوتی ہے۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: