Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Episode 9

0
ماہ محبت از کرن رفیق – قسط نمبر 9

–**–**–

اگلی صبح ہانم اٹھی تو بے ساختہ اس کا دھیان صوفے پر گیا جہاں اکثم سویا ہوا تھا۔۔۔۔ وہ مسکرائی تھی۔۔۔ لیکن کیوں ؟؟ یہ تو وہ جانتی ہی نہیں تھی۔۔۔ وہ اٹھ کر واش روم کی طرف گئی اور منہ ہاتھ دھو کر ڈوپٹے کو صحیح سے اوڑھ کر باہر نکل گئی۔۔۔۔ ۔۔
وہ حال میں آئی جہاں اماں جان بیٹھی قرآن پاک کی تلاوت کر رہی تھیں۔۔۔۔ وہ مسکراتے ہوئے ان کی جانب بڑھی اور بنا کوئی آواز کئے ان کے پاس صوفے پر بیٹھ گئی۔۔۔۔ اماں جان نے مسکرا کر اسے دیکھا ۔۔۔۔ اور تلاوت جاری رکھی۔۔۔ تقریبا آدھے گھنٹے تک تلاوت کرنے کے بعد وہ قرآن پاک کو غلاف میں لپیٹ کر حال میں موجود ایک لکڑی کی الماری میں رکھ کر واپس آئیں۔۔۔اور اس کے سر پر پھونک ماری۔۔۔۔
اماں جان مجھے بھی قرآن پاک پڑھنا ہے۔۔۔۔
ہانم کی بات پر یسرا بیگم نے اسے مسکرا کر دیکھا ۔۔۔
ہاں تو پڑھ لو کس نے روکا ہے؟ وضو تو تمہارا ہوگا نا نماز بھی پڑھی ہوگی۔۔۔ جائو پڑھ لو۔۔۔۔
لیکن مجھے تو بس نماز پڑھنی آتی ہے۔۔۔ وضو کرنا تو امی نے سکھایا تھا۔۔۔ لیکن میں نے بس پانچ سپارے ہی پڑھے ہوئے ہیں۔۔بعد میں امی نے مدرسے جانے ہی نہیں دیا۔۔۔۔
ہانم معصومیت سے بولی تو یسرا بیگم کی مسکراہٹ ایک پل میں سمٹی تھی۔۔۔
کیوں نہیں جانے دیا مدرسے؟؟؟
یسرا بیگم نے ہانم کے بائیں رخسار پر دایاں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
وہ کہتی تھیں کہ ہانم گھر پر پڑھے گی لیکن پھر ان کے پاس وقت نہیں ہوتا تھا مجھے قرآن پڑھانے کا۔۔۔۔
اچھا میں کل سے تمہیں اسی وقت پڑھائوں گی ۔۔۔ لیکن شرط یہ ہے کہ تم تمام نمازیں پڑھو گی۔۔۔۔
یسرا بیگم کی بات پر وہ خوش ہوتے ہوئے بولی۔۔۔
اماں جان وہ تو میں پہلے بھی پڑھتی ہوں۔۔۔ آپ جانتی ہیں جب میں چھوٹی تھی نا تب سے پڑھتی ہوں۔۔۔۔
اس کی بات پر یسرا بیگم کے لبوں پر مسکراہٹ آئی۔۔۔
اچھا تو اب تم بڑی ہوگئی ہو؟؟ ویسے پہلے تم کتنی چھوٹی تھی؟؟؟
پہلے تو میں اس صوفے جتنی تھی نا لیکن اب دیکھیں میں کتنی بڑی ہوگئی ہوں۔۔۔
ہانم خوش ہوتے ہوئے کھڑے ہو کر بول رہی تھی جبکہ یسرا بیگم بے ساختہ ہنسنے لگیں۔۔۔۔
بڑے خان اٹھ گئے کیا؟؟؟
نہیں وہ ابھی نہیں اٹھے۔۔۔۔
ہانم نے معصومیت سے جواب دیا۔۔۔۔
کیوں ۔۔۔ خان کی طبعیت ٹھیک ہے نا؟؟؟
یسرا بیگم نے پریشانی سے پوچھا کیونکہ اکثم کبھی بھی صبح دیر تک نہیں سوتا تھا۔۔۔
ان کے سر میں کل رات کو درد ہو رہا تھا میں دبایا تھا۔۔۔ پھر وہ سوگئے ۔۔۔
ہانم کے جواب پر وہ اٹھیں اور ہانم کی پیشانی پر بوسہ دیتے ہوئے بولیں۔۔۔
تم وہ آئینہ ہو جس کا عکس بالکل شفاف ہے۔۔۔ دنیا کی گرد سے بچانے کے چکر میں تمہاری ماں اس آئینے کو صاف کرنا بھول گئی۔۔۔ لیکن میں وعدہ کرتی ہوں اس آئینے کو اتنا شفاف کر دوں گی کہ ذرا سی گرد بھی اس کی خوبصورتی کو کم نہ کر سکے ۔۔۔۔۔
یسرا بیگم کی باتوں پر ہانم منہ کھولے انہیں دیکھنے لگی۔۔۔ مطلب صاف تھا کہ سب باتیں اوپر سے گزر رہی ہیں۔۔۔۔
جائو خان کو اٹھا کر لائو میں تب تک ثمامہ خان کو اور اقصی کو دیکھ لوں۔۔۔۔
یسرا بیگم کی بات پر ہانم مسکراتے ہوئے اپنے کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم کمرے میں آئی تو اکثم کمرے میں نہیں تھا۔۔۔ واش روم سے پانی گرنے کی آوازیں آ رہی تھیں۔۔۔۔ مطلب وہ نہا رہا تھا۔۔۔ وہ بیڈ پر بیٹھ کر اس کا انتظار کرنے لگی۔۔۔ اکثم جو ہاف سلیوز شرٹ اور ٹراوزر پہنے واش روم سے نکلا تھا سامنے ہانم کو دیکھ کر رک گیا۔۔۔۔ اس کے گیلے بال پیشانی پر بکھرے تھے۔۔۔۔ جن سے پانی کی بوندیں نیچے گر کر قالین میں جذب ہو رہی تھیں۔۔۔۔
خان آپ نے کہا تھا صبح بات کریں گے۔۔۔۔ اب بتائیں نا بےبی کب لائیں گے؟؟؟
اکثم جو اب آئینے کے سامنے کھڑا ہو کر تولیے سے بال خشک کر رہا تھا اس کی بات پر مڑا۔۔۔
دیکھو ہانم ۔۔۔ مجھے ابھی بہت کام ہیں۔۔۔ میں آج کالج جا رہا ہوں ۔۔۔ اس لئے میرا دماغ صبح صبح خراب مت کرنا۔۔۔ ورنہ کوئی بےبی لاکر نہیں دوں گا۔۔۔۔
اکثم اسے گھورتے ہوئے بولا۔۔۔
ہانم منہ بنا کر کھڑی ہوگئی ۔۔۔ اور الماری سے اپنی ایک کالے رنگ کی شلوار قمیض لے کر واش روم کی طرف چلی گئی۔۔۔ اکثم جو خاموشی سے اس کی تمام کاروائی مو ملاحظہ کر رہا تھا دروازے کے بند ہونے کی آواز پر ہوش میں آیا۔۔۔ کیونکہ دروازہ کافی ذور سے بند کیا گیا تھا۔۔۔
اکثم مسکرایا تھا۔۔۔۔ اس کی ناراضگی پر ۔۔۔۔
چھوٹی سی ہے لیکن حرکتیں کبھی کبھی بیویوں والی کرتی ہے۔۔ ۔
اکثم بڑبڑاتے ہوئے باہر چلا گیا۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم بائیولوجی کا لیکچر لے کر باہر آیا تو اس کا دوست اسامہ بھی اس کے پیچھے آیا۔۔۔۔
اکثم یار رک تو سہی۔۔۔۔ صبح سے غائب ہے ۔۔۔ اور اب بھی مجھ سے ایسے بھاگ رہا ہے جیسے میں تمہیں کھا جائوں گا۔۔۔
اسامہ اس کے پیچھے کوریڈور میں آیا تھا۔۔۔۔ اکثم نے رک کر اسے دیکھا ۔۔۔۔
کیا ہوا ہے؟؟؟ تم مجھے کیوں ڈھونڈ رہے ہو؟؟؟
اکثم نے اسامہ سے سنجیدگی سے پوچھا ۔۔۔
اتنے دن کہاں غائب تھا۔۔۔ اور احمر بھائی کو کیا ہوا ہے؟؟ ساری کلاس میں ان کے متعلق باتیں ہو رہی ہیں۔۔۔
اسامہ اس کا شہر کا دوست تھا۔۔۔جس سے اس کہ دوستی یہاں آ کر ہی ہوئی تھی۔۔۔ وہ اپنے ماں باپ کا اکلوتا بیٹا تھا ۔۔۔ اس کا باپ شہر کا مشہور ڈاکٹر تھا ۔۔۔ اور بیٹے کو بھی وہ ڈاکٹر ہی بنانا چاہتا تھا ۔۔۔۔
احمر بھائی کی ہفتہ پہلے دیتھ ہوگئی ہے ۔۔۔
اکثم یہ بول کر کالج کے گرائونڈ میں چلا گیا جبکہ اسامہ اپنی جگہ ساکت رہ گیا تھا۔۔۔۔
اکثم نم آنکھوں سے سامنے گرائونڈ کی دیوار کو دیکھ رہا تھا جب اسامہ اس کے پاس آیا اور اس کے کندھے پر ہاتھ رکھ کر اسے اپنی طرف متوجہ کیا۔۔۔۔
کہا ہوا تھا انہیں؟؟؟؟
اسامہ کے سوال پر اس نے سرجھکا کر اسے احمر کے قتل سے لے کر ہانم سے نکاح تک ساری بات بتا دی۔۔۔۔
اسامہ شاکڈ رہ گیا تھا اکثم کے منہ سے سب سن کر۔۔۔۔
یہ تو بہت ہی برا ہوا یار۔۔۔ اللہ تمہارے گھر والوں کو صبر دے۔۔۔ آمین۔۔۔
اسامہ کی بات پر وہ زخمی سا مسکرایا ۔۔۔۔
جس دکھ کا علاج نہیں ہوتا نا اسے سہنا پڑتا ہے ۔۔۔ اسامہ لغاری ۔۔۔۔ خیر چھوڑو یہ بتائو ڈیٹ شیٹ کب تک آ رہی ہے پیپرز کی؟؟؟
یار پتہ نہیں۔۔۔ سر افتخار نے کہا تھا کہ اگلے سوموار تک آئے گی اب دیکھو۔۔۔ ویسے بھی پرائیوٹ کالجز والے ان کا بس چلے تو پیپرز کے بعد بھی بلا لیں ۔۔۔۔۔
اسامہ کی بات پر اکثم کے چہرے پر بے ساختہ مسکراہٹ آئی تھی ۔۔۔۔
چلو کینٹین چلتے ہیں؟؟؟
اکثم اسامہ کو دیکھ کر بولا۔۔۔
کیوں کینٹین کیوں؟؟؟ کیا بھابھی گھر میں کھانا نہیں دے گی؟؟؟
اسامہ شرارت سے بولا تو اکثم نے اسے گھورا۔۔۔
بھابھی نہیں ہے بارہ سالہ کی بچی کہو جسے میں نے گود لیا ہے۔۔۔۔
اکثم جل کر بولا تو اسامہ کا قہقہ نکل گیا ۔۔۔۔
یار۔۔۔ ویسے ایک دفعہ تو میں ضرور ملوں گا اپنی بارہ سالہ بھابھی سے۔۔۔۔۔
اسامہ یہ بول کر وہاں سے بھاگا تھا کیونکہ اکثم کے تیور سخت ہو گئے تھے۔۔۔۔
کمینہ انسان میں تمہاری پر چھائی نہ اس پر پڑنے دوں ۔۔۔ ملاقات تو دور کی بات ہے۔۔۔۔
اکثم بڑبڑاتے ہوئے اس کے پیچھے گیا تھا۔۔۔۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اکثم کالج سے گھر آیا تو سیدھے اپنے کمرے کی طرف گیا۔۔۔ کمرے میں داخل ہوتے وقت اس کی لبوں پر ایک مسکراہٹ تھی ۔۔۔ جو کمرے میں داخل ہوتے ہی غائب ہوگئی تھی۔۔۔۔ بے ساختہ اس کی نظروں نے ہانم کو ڈھونڈا تھا لیکن وہ کہیں نہیں تھی۔۔۔۔
میں کیوں اسے ڈھونڈ رہا ہوں۔۔۔؟؟ ویسے یہ گئی کہاں ہے اس وقت؟؟؟
اکثم خود سے بولتے ہوئے کمرے سے باہر نکلا اور اماں جان کے کمرے کی طرف گیا ۔۔۔ دروازہ ادھ کھلا ہوا تھا اور ہانم کی چہکتی ہوئی آواز اس کے لبوں پر مسکراہٹ واپس لے آئی تھی۔۔۔۔
اماں جان۔۔۔ اس کے ہاتھ دیکھیں ۔۔۔ کتنے پیارے ہیں؟؟؟ اور یہ آنکھیں بھی دیکھیں۔۔۔۔ یہ تو مجھ سے بھی زیادہ پیارا ہے۔۔۔۔
اس کی بات پر اکثم نے بمشکل اپنا قہقہ ضبط کیا سلام کرتے ہوئے اندر داخل ہوا۔۔۔۔
اسلام وعلیکم اماں جان۔۔۔
وہ اندر داخل ہوا تو سامنے بیڈ پر ہانم ثمامہ کے ہاتھوں کو آہستہ سے پکڑے ہوئے مسکرا رہی تھی ۔۔۔ جبکہ اماں جان بیڈ کرائون سے ٹیک لگائے بیٹھی تھیں ۔۔۔ اور ہانم کی باتوں پر مسکرا رہی تھیں۔۔۔
وعلیکم اسلام۔۔۔ کب آئے تم؟؟؟
اماں جان نے مسکرا کر جواب دیتے ہوئے ہوچھا۔۔۔
جی بس ابھی آیا تھا۔۔۔۔
اکثم جواب یسرا بیگم کو دے رہا تھا اور سیکھ ہانم کو رہا تھا۔۔۔ جس کے گلابی لبوں پر مسکراہٹ چپک کر رہ گئی تھی۔۔۔۔
کھانا تو پھر کھایا نہیں ہوگا۔۔۔ رشیدہ بھی اقصی کے کمرے میں ہے اور دوسری ملازمہ کے ہاتھ کا تم کھانا کھائو گے نہیں تو میں خود لے کر آتی ہوں ۔۔۔۔
یسرا بیگم کی بات پر وہ ان کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
نہیں اماں جان ۔۔۔ میں بعد میں کھا لوں گا۔۔۔
آپ بیٹھی رہیں۔۔۔
اکثم یہ بول کر بیڈ پر نیم دراز ہوگیا اور ان کی گود میں سر رکھ کر لیٹ گیا۔۔۔۔ ہانم نے ایک نظر اسے دیکھا اور پھر سے بےبی کے ساتھ مصروف ہو گئی ۔۔۔۔
یسرا بیگم نے جھک کر اس کی پیشانی پر بوسہ دیا تھا۔۔۔۔
اماں جان ۔۔۔ مجھے بھی ایسا بےبی لینا ہے؟؟ جسے ہر وقت میں اپنے پاس رکھ سکوں ۔۔۔۔
ہانم کی بات پر اکثم لیٹے سے اٹھ بیٹھا تھا۔۔۔ جبکہ یسرا بیگم نے مسکراتے ہوئے اکثم کو دیکھا تھا جو ہانم کو گھور رہا تھا۔۔۔۔
ہانم کبھی بے بی کے علاوہ بھی کوئی بات کر لیا کرو۔۔۔۔
اکثم نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
خان آپ مجھے غصے سے مت دیکھیں۔۔۔ میں نے آپ سے نہیں کہا بےبی لانے کو۔۔۔۔ میں تو اماں جان سے بول رہی ہوں۔۔۔۔
ہانم اپنی چھوٹی سی ناک پھلا کر بولی۔۔۔۔
اس کی بات پر یسرا بیگم نے قہقہ لگایا جبکہ اکثم اسے گھورتے ہوئے وہاں سے اٹھ کر اپنے کمرے کی طرف چلا گیا تھا۔۔۔۔
ہانم ابھی تم چھوٹی ہو۔۔۔ تو بےبی کیسے سنبھالو گی؟؟؟ جب تم بڑی ہو جائو گی تب میں تمہیں بےبی لا کر دوں گی۔۔۔۔
یسرا بیگم نے اس کی ذہنیت کے مطابق اسے سمجھانے کی ناکام کوشش کی۔۔۔۔
اس سے پہلے ہانم کچھ بولتی اکثم اسے پکارنے لگا۔۔۔۔
اماں جان۔۔۔ خان مجھے بلا رہے ہیں۔۔ میں ابھی ان کی بات سن کر آئی آپ نے بےبی اپنے پاس رکھنا ہے میں آ کر اس سے باتیں کروں گی۔۔۔
ہانم یہ بول کر وہاں سے اٹھی اور کمرے سے باہر چلی گئی جبکہ یسرا بیگم نے بے ساختہ اس کی خوشیوں کی دعا کی تھی۔۔۔۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: