Mah E Mohabbat Novel by Kiran Rafique – Last Episode 26

0
ماہ محبت از کرن رفیق – آخری قسط نمبر 26

–**–**–

اکثم کا سارا کمرہ بکھرا پڑا تھا۔ بیڈ شیٹ آدھی بیڈ پر اور آدھی قالین پر بکھری ہوئی تھی۔ سرہانے ایک بیڈ پر اور ایک واش روم کے دروازے کے قریب پڑا تھا۔ ڈریسنگ ٹیبل سے آدھی چیزیں نیچے گری ہوئی تھیں۔ کپڑے الماری سے باہر نکل کر جھانک رہے تھے۔ اور اکثم صوفے پر بیٹھا ثمامہ کے ساتھ موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف تھا۔ دونوں باپ بیٹا اس قدر مگن انداز میں گیم کھیل رہے تھے کہ ارتسام کے اندر داخل ہونے پر بھی وہ متوجہ نہ ہوئے۔ ارتسام نے گہری سانس فضا میں خارج کر کے اپنے نفاست پسند بھائی کو دیکھا تھا جو اس وقت بکھرے کمرے میں سکون سے بیٹھا تھا۔
“لگتا ہے بھابھی سے لڑائی ہوگئی ہے جو کمرے کا یہ حال ہو گیا ہے؟”
ارتسام خود سے بڑبڑایا اور آہستہ سے چلتے ہوئے ان کے پاس آیا اور دونوں کو اپنی طرف متوجہ کیا۔
“بھائی بھابھی کہاں ہے؟نظر نہیں آ رہیں۔ کیا اماں جان کے کمرے میں ہیں؟ اور کمرے کا کیا حال بنایا ہوا ہے آپ نے؟”
ارتسام کے سوالوں پر دونوں باپ بیٹے اس دیکھنے لگے۔
“تمہاری بھابھی تمہارے سسرال گئی ہے چھوٹے خان اور یہ سارا کمرہ اس کے لاڈلے نے غصے میں بکھیرا ہے۔ کیونکہ وہ اسے ساتھ لے کر نہیں گئی۔”
اکثم مسکراتے ہوئے ثمامہ کو دیکھ کر بولا جو دوبارہ موبائل پر گیم کھیلنے میں مصروف ہو گیا تھا۔
“مطلب بھابھی کو سب معلوم ہوگیا ہے؟”
ارتسام نے دھیمی مگر صدماتی آواز میں پوچھا۔
“ہاں اسی لئے تو ناراض ہو کر چلی گئی ہم سب سے اپنے گھر۔”
اکثم نے اپنی مسکراہٹ کو ضبط کرتے ہوئے بمشکل اپنے چہرے پر سنجیدگی طاری کرتے ہوئے کہا۔
“بھائی یار میں تو ان کو سرپرائز کرنا چاہتا تھا یہ کیا ہوگیا؟ اور اگر وہ ناراض ہو کر جا رہی تھیں تو پا نے روکا کیوں نہیں ان کو؟”
ارتسام نے پریشانی سے اپنی پیشانی مسلی۔
“ہاں جیسے میری باتوں پر تو وہ صدا ہی لبیک کہتی ہے۔ کاٹ کھانے کو دوڑتی ہے تمہاری بھابھی جب اس کے طبیعت کے برعکس کو کوئی بات ہو جائے۔”
اکثم ارتسام کو مزید تنگ کر کے مزے سے اس کا چہرہ دیکھ رہا تھا۔ ارتسام پانچ منٹ کمرے میں ادھر دے ادھر چکر کاٹنے کے بعد وہاں سے جانے لگا تو اکثم نے اسے روکا۔
“چھوٹے خان کہاں جا رہے ہو؟”
“بھائی بھابھی کو لے جانے جا رہا ہوں۔ غلطی میری ہے تو سزا بھی مجھے ہی ملنی چاہیے نا کہ آپ سب کو۔”
ارتسام کے سنجیدہ جواب پر اکثم کا قہقہ کمرے میں گونجا تھا جبکہ ارتسام نے ناسمجھی سے اکثم کو دیکھا تھا جو پاگلوں کی طرح ہنس کر لوٹ پوٹ ہو رہا تھا۔
“تم واقعی جلدی بیوقوف بن جاتے ہو۔”
اکثم ہنستے ہوئے بولا۔ ارتسام نے اکثم کو گھورا تھا۔
“یار وہ کچھ دنوں کے لئے اپنے میکے گئی ہے آ جائے گی۔”
اکثم کے جواب پر ارتسام کے چہرے پر سکون کی پرچھائی اکثم کو واضح اترتی ہوئی محسوس ہوئی تھی۔
“بھائی سچ بول رہے ہیں نا؟”
“پاپا سچ بول رہے ہیں اور ہم کل موم کو واپس بھی لے آئیں گے۔ ہیں نا پاپا؟”
ثمامہ نے ان دونوں کی گفتگو میں مداخلت کرتے ہوئے آخری بات پر اکثم کی یقین دہانی چاہی۔
“بالکل تمہاری موم کو کل واپس آنا ہی ہوگا۔”
اکثم مسکراتے ہوئے اس کے بال بکھیر گیا تھا۔
“اوو تو مطلب یہاں ہر گزرتے لمحے کا شمار کیا جا رہا ہے؟”
ارتسام شرارت سے بولا تو اکثم جھینپ گیا تھا اس کے سوال پر کیونکہ وہ واقعی ہانم کو بہت مس کر رہا تھا۔
“ہاہاہاہا ۔۔ بھائی آر یو بلشنگ؟”
ارتسام نے اس کے جھینپنے پر چوٹ کی تو اکثم نے اسے گھورا اور صوفے سے ایک کشن اٹھا کر اس کا نشانہ باندھا۔ جو اس نے بروقت دروازے کے پاس پہنچ کر خطا کیا تھا۔
“بھائی بوڑھے ہوگئے ہیں آپ اس لئے آپ کا نشانہ بھی خطا ہوگیا۔”
ارتسام اس کو چڑاتے ہوئے باہر کی جانب بھاگا تھا کیونکہ اکثم اب اپنی جگہ سے اٹھ کر اس کے نزدیک آ رہا تھا۔ اس کے جانے کے بعد اکثم نے ایک نظر خالی بیڈ کو دیکھا اور لمبی سانس لی۔
“یار ہانم واپس آ جائو کیسے نیند آئے گی مجھے؟”
اکثم خود سے بڑبڑاتے ہوئے کمرے میں بکھری چیزوں کا سمیٹنے لگا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلے دن جب ثمامہ اور اکثم تیار ہو کر ہانم کو واپس گھر لانے کے لئے جانے والے تھے دلاور خان نے دونوں کو ڈانٹ کر سختی سے انہیں منع کر دیا تھا کیونکہ ان کا بھی ماننا تھا ہانم کافی دیر بعد اپنے والدین سے ملی ہے تو اس لئے وہ جب تک رہنا چاہے رہے گی۔ اکثم اور ثمامہ نے ارتسام کو اس بات پر خوب پیٹا تھا کیونکہ اسی نے بابا جان کے کان بھرے تھے۔ اکثم کی جہاں بے چینی میں دن بدن اضافہ ہو رہا تھا وہیں ہانم مزے سے اپنی بہن کی شادی کی تیاریوں میں مصروف ہو چکی تھی۔ اس دوران اکثم نے دلاور خان سے مشورہ کر کے گائوں میں ہسپتال کھولنے کا ارادہ کیا اور اس پر کام شروع کروا دیا۔ وقت کا کام ہے گزرنا سو وہ گزر ہی جاتا ہے۔ آخرکار وہ دن بھی آ گیا جب ریاح ارتسام کی دلہن بنی اس کے کمرے میں بیٹھی تھی اور ہانم بھی حویلی واپس آ چکی تھی۔ ارتسام اپنے دوستوں سے فارغ ہو کر کمرے میں پہنچا تو بیڈ پر ریاح کے ساتھ ثمامہ کو باتیں کرتے دیکھ کر ٹھٹک گیا۔
“تم یہاں کیا کر رہے ہو؟”
ارتسام ثمامہ کو گھورتے ہوئے بیڈ کے نزدیک آیا۔ ریاح نے مسکراہٹ لبوں میں دبا کر ارتسام کو دیکھا تھا۔
“چاچو میں آج آپ کے پاس ہی سونا چاہتا ہوں کیونکہ میرا تنہا اپنے کمرے میں سونے کا دل نہیں کر رہا۔”
ثمامہ کے جواب پر وہ دانت پیس کر رہ گیا۔ جبکہ ریاح کی مسکراہٹ لبوں سے آزاد ہو چکی تھی۔
“نکلو ابھی کے ابھی میرے کمرے سے ورنہ میں تمہیں اٹھا کر باہر پھینک آئوں گا۔”
ارتسام اسے گھورتے ہوئے بولا جو مزے سے بیڈ پر لیٹ گیا تھا۔
“میں نہیں جائوں گا اور اگر مجھے ہاتھ بھی لگایا تو میں آنی کو سب سچ بتا دوں گا کہ آپ کی یونیورسٹی فرینڈ رابی آپ کر پرپوز کر چکی ہے۔”
ثمامہ کی بات پر ریاح نے ارتسام کو دیکھا جو اس کے دیکھنے پر اپنا سر نفی میں ہلا گیا تھا۔
“یار یہ جھوٹ بول رہا ہے میں تو جانتا بھی نہیں کسی رابی کو؟”
ارتسام نے ریاح کے دیکھنے پر جلدی سے کہا۔
“ثمامہ بیٹا آپ آج یہی سونا اپنی آنی کے پاس۔”
ریاح ارتسام کو گھورتے ہوئے بیڈ سے اٹھ گئی تھی جبکہ ارتسام ثمامہ کو گھورتے ہوئے بیڈ کی جانب آیا اور اسے اٹھا کر کمرے سے باہر نکالا جو دو منٹ میں اس کی سال کی محنت پر پانی پھیر گیا تھا۔ دروازہ لاک کر کے جیسے ہی وہ مڑا سامنے ریاح اسے گھور رہی تھی۔
“یار تمہاری قسم میں نے تمہارے علاوہ کبھی کسی کو دیکھا تک نہیں یہ جھوٹ بول کر گیا ہے۔”
ارتسام کی بات پر وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھی اور اس کے قریب چند انچ کے فاصلے پر رک گئی۔
“آپ پر اعتبار ہی تو کیا ہے ڈئیر ہزبینڈ اور میں جانتی ہو آپ یہ کبھی نہیں توڑو گے۔ جب میں نے آپ کو اپنے گھر والوں کے بارے میں سب بتایا تھا تب ہی آپ نے میری ہمت باندھی تھی کہ مجھے میری فیملی کو ٹوٹنے نہیں دینا اور آپی سے بھی ملوانا کا وعدہ سچ کیا آپ نے۔ آپ پر شک کرنا گویا خود پر شک کرنے کے مترادف ہے۔ میری کوشش ہوگی خان کہ میں آپ کو کبھی شکایت کا موقع نہ دوں؟”
ارتسام یک ٹک اسے دیکھ رہا تھا جو مسلسل بولتے ہوئے اس کے تمام جذبات کو ایک پل میں جگا گئی تھی۔ اکثم نے اس کا بایاں ہاتھ پکڑا اور اس پر بلیک ڈائمنڈ سے بنا ہوا ایک بریسلیٹ پہنا کر اس کی پیشانی پر اپنا حق استعمال کرتے ہوئے گویا ہوا۔
“میری کوشش ہوگی خان کی جان کے کبھی تم پر کوئی آنچ نہ آئے اور تمہیں اپنے فیصلے پر کبھی شرمندگی محسوس نہ ہو۔”
یہ بول کر اس نے ریاح کو اپنے حصار میں لے لیا تھا۔ ریاح نے پرسکون ہوتے ہوئے خود کو اس کے حصار میں محفوظ محسوس کیا تھا۔ قسمت بھی دور کھڑی ان کی خوشیوں کے لئے دعا کر رہی تھی۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہانم ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی اپنے جھمکے اتار رہی تھی جب اکثم کمرے میں داخل ہوا۔ وہ مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے آیا اور اسے اپنے حصار میں لے کر اس کے کندھے پر اپنے تھوڑی ٹکاتے ہوئے محبت بھرے لہجے میں بولا۔
“مجھے واقعی خدا نے نوازہ ہے تمہاری صورت میں۔”
اکثم کی حرکت کے بعد اس کے الفاظ ہانم کی پلکوں کر لرزنے پر مجبور کر گئے تھے۔
“خان چھوڑیں نے مجھے چینج کرنا ہے۔”
ہانم اس کا حصار توڑنے کی کوشش کرتے ہوئے بولی۔
“اتنے دن دور رہی ہو بیوی اب تو گن گن کر بدلے لینے والا ہوں میں۔”
اکثم کی ذومعنی بات اس کے جسم میں سنسنی دورڑا گئی تھی۔ شرم و حیا سے اس کے رخسار دہک اٹھے تھے۔ اکثم نے اس کا رخ اپنی طرف کیا اور دائیں ہاتھ کی دو انگلیوں کو اس کی تھوڑی کے نیچے رکھے اس کا چہرہ اوپر کیا تھا۔ نیلی آنکھوں پر لرزتی پلکوں کی جھالر نے اسے بے خود کیا تو اس نے جھک کر باری باری اس کی دونوں آنکھوں پر اپنا محبت بھرا لمس چھوڑا تھا۔ ہانم نے ذور سے اس کی قمیض کو تھام لیا تھا۔ اکثم نے مسکرا کر اس کی غیر ہوتی حالت کو دیکھا تو اس بے ساختہ اس پر بہت ذیادہ پیار آیا وہ ہانم کو اپنے حصار میں لے کر اسے پرسکون کرنے کی کوشش کر رہا تھا۔ہانم نے مسکرا کر خود کی اس کی پناہوں میں چھپایا تھا اور اللہ کا شکر ادا کیا تھا جس نے اسے اکثم جیسا ہمسفر دیا تھا۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ایک سال تین ماہ بعد:
“مبارک ہو ڈاکٹر اکثم آپ کو اللہ نے اپنی رحمت سے نوازہ ہے۔”
لیڈی ڈاکٹر کے لبوں سے نکلے الفاظ گویا اکثم کے ساتھ ساتھ کوریڈور میں موجود ہر شخص کے دل کو سر شار کر گئے تھے۔
“اور میری وائف کیسی ہیں ڈاکٹر؟”
اکثم نے بے چینی سے پوچھا۔
“وہ بالکل ٹھیک ہیں ابھی آدھے گھنٹے تک ہم انہیں روم میں شفٹ کر دیں گے۔”
ڈاکٹر یہ بول کر وہاں سے چلی گئی جبکہ اکثم نے وہاں موجود دلاور خان، ارتسام اور خوش بخت کو گلے لگا کر مبارک دی تھی۔ اس کی خوشی دیدنی تھی۔ یسرا بیگم، اور مریم نے اس کے سر پر ہاتھ پھیر کر اسے دعا اور مبارک باد دی تھی۔ ریاح ثمامہ کے ساتھ گھر پر تھی جسے اب ارتسام موبائل پر کال کر کے باخبر کر رہا تھا۔
ہانم کی آج طبعیت خراب ہونے پر اکثم اسے اپنے ہاسپٹل ہی لایا تھا جس کا افتتاح اس نے چاہ ماہ پہلے کیا تھا۔ وہ ہاسپٹل میں موجود مسجد کی طرف بڑھ گیا تھا۔
آدھے گھنٹے بعد ہانم کو کمرے میں شفٹ کیا گیا تو سب ہی اس ننھی پری کی آمد پر ہانم کو مبارک باد دینے وہاں پہنچ گئے۔ یسرا بیگم، مریم اور خوش بخت نے اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر جبکہ دلاور خان نے اس کے سر پر دستک شفقت رکھ کر اسے مبارک باد دی تھی۔ ارتسام ثمامہ اور ریاح کو گھر اے لینے جا چکا تھا۔ تھوڑی دیر بعد اکثم کمرے میں داخل ہوا تو سب ہی آہستہ آہستہ سے کمرے سے نکلتے چلے گئے۔ بےبی کاٹ میں موجود اپنی بیٹی کو دیکھتے ہی وہ نمی اس کی آنکھوں میں چمکی تھی۔ بے ساختہ اس نے اسے اپنی گود میں نرمی سے اٹھایا اور اس کی بند آنکھوں پر بوسہ دیا۔وہ جا بجا نرمی سے اپنی بیٹی کو محسوس کر رہا تھا جب اس کا دھیان ہانم کی طرف گیا جو آنکھوں میں نمی لئے اسے دیکھ رہی تھی۔وہ چلتے ہوئے اس کے پاس آیا اور بولا۔
“خدا کے بعد میں تمہارا شکر گزار ہوں ہانم جس کی وجہ سے میں اپنی بیٹی کو محسوس کر رہا ہوں۔ شکریہ ہانم۔”
اکثم اپنی بیٹی کو ہانم کی گود میں دیتے ہوئے اس کے پاس بیڈ پر بیٹھ گیا اور اس کی پیشانی پر بوسہ دے کر اسے مسکرانے پر مجبور کر گیا۔
“اس کا نام انفال اکثم خان ہوگا۔”
اکثم اس بچی کو دیکھتے ہوئے مزید بولا تو ہانم نے اسے گھورا۔
“اس کا نام ہادیہ ہوگا۔”
“دیکھو ہانم یہ بات پہلے ہی ڈیسائیڈ ہو چکی تھی کہ بیٹی ہوئی تو نام میں رکھوں گا اور بیٹا ہوا تو تم اب بیٹی ہوئی ہے تو اصولا میں ہی نام رکھوں گا۔”
اکثم نے ہانم نرمی سے سمجھایا۔
اس سے پہلے ہانم کچھ بولتی ثمامہ دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوا۔ اکثم جلدی سے بیڈ سے اٹھ کر کھڑا ہوگیا تھا۔ ریاح بھی ارتسام کے ہمراہ اندر داخل ہوئی تھی۔
“مبارک ہو آپی، مبارک ہو بھائی۔”
ریاح اور ارتسام نے یک آواز میں کہا تو ہانم اور اکثم مسکرا دئیے۔
“خیر مبارک تم لوگوں کی بھی مبارک ہو۔”
“موم شی از سو کیوٹ اینڈ پریٹی”
ثمامہ اس سرخ و سفید بچی کو دیکھ کر خوشی سے بولا تو ہانم نے مسکرا کر ثمامہ کی پیشانی پر بوسہ دیا۔
“میرا بیٹا”
“موم یہ باربی میری ہے نا؟”
ثمامہ نے ہانم سے پوچھا تو اکثم نے مسکرا کر اس کے کندھے پر ہاتھ رکھا۔
“بالکل تمہاری ہے اور اس کا نام انفال اکثم خان ہے”
اکثم کے جواب پر وہ خوش ہوتے ہوئے ارتسام کو دیکھ رہا تھا۔
“چاچو شی از مائن۔”
ارتسام کو زبان چڑاتے ہوئے وہ بولا تو سب اس کی حرکت پر مسکرا دئیے تھے۔ خوشیوں نے خان حویلی کا بسیرا کر لیا تھا۔ اقصی نے ہانم کو موبائل پر مبارک باد دے دی تھی اور رات کو آنے کا وعدہ کرتے ہوئے کال بند کر گئی۔ زندگی میں دکھ کے ساتھ خوشی اور مشکل کے ساتھ ہی آسانی ہوتی ہے۔
اس کہانی میں ایک ونی کی رسم کا نقشہ کھینچا گیا ہے جس میں یہ سب نہیں بتایا کہ ایسا ہوتا ہوگا لیکن اگر وجہ کی گئی لڑکی کو عزت اور محبت دی جائے تو وہ سر اٹھا کر معاشرے میں آپ کی تربیت کے بارے میں بتائے گی۔ اکثم کا کردار ایک ایسے شوہر کے بارے میں دکھایا گیا ہے جو ہر حال میں اپنی بیوی کا ساتھ دیتا ہے اس کی ہمت بنتا ہے اسے اچھے برے کی تمیز سکھاتا ہے جہاں ڈانٹنا ضروری ہو وہاں ڈانٹتا ہے جہاں نرمی کی ضرورت ہو وہ نرم ہوتا ہے اور ہانم ایک ایسا کردار تھا جو کچھ لوگوں کی نظر میں شاید دنیا میں پایا ہی نہیں جاتا کیونکہ انہیں لگتا تھا کہ اتنی معصومیت کسی میں نہیں ہوتی۔ اس کی معصومیت کے پیچھے اس کی ماں کا ہاتھ تھا جس نے اس کے دماغ کی پرورش نہیں ہونے دی تھی اسے بچی بنے رہنے پر مجبور کیا تھا۔ ضرورت سے ذیادہ توجہ اسے حساس کر گئی تھی۔ وہ ناسمجھ تھی لیکن اکثم نے سمجھداری سے اس رشتے کو آگے بڑھایا تھا۔ میں یہ نہیں کہتی کہ ونی کی رسم میں آئی لڑکی کے ساتھ ایسا سلوک ہوتا ہے لیکن میں یہ ضرور کہوں گی کہ ایسا ہونا چاہیے۔ کیونکہ ہمارا مذہب انسانیت کا درس پہلے دیتا ہے انسان اور جانور میں ایک چیز ہی فرق کرتی ہے اور وہ ہے عقل اور شعور جس کے پاس یہ دونوں چیزیں نہیں وہ جاہل سے بدتر تصور کیا جاتا ہے۔ امید ہے جو چھوٹے چھوٹے سبق دینے کی کوشش کی گئی ہے اس ناول میں اسے آپ لوگ عملی زندگی کا حصہ ضرور بنائیں گے۔ دعائوں میں ضرور یاد رکھئے گا آپکی رائیٹر کرن رفیق۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ہر خوبصورت اختتام کے ساتھ ایک نیا آغاز ہمارا انتظار کرتا ہے امید کرتی ہوں میری غلطیوں کو نظر انداز کرتے ہوئے آپ لوگ پڑھ کر اس کہانی پر تبصرہ ضرور کریں گے اور اگلے ناول میں بھی میرے ساتھ رہیں گے۔شکریہ سب کی سپورٹ کا۔

–**–**–
ختم شد
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: