Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 1

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 1

–**–**–

امی جان بس چند دنوں کی بات ہے میں جلدی واپس آنے کی کوشش کروں گا پلیز اس طرح سے روئے تو نہیں ۔زاوق ان کو روتے دیکھ کر ان کے قریب آ کر بیٹھا
تو میں کیا کروں تم ہی بتاؤ تم جاتے ہو واپس آنے کا نام نہیں لیتے نہ جانے کون سا کام کرتے ہو تم اللہ غرق کرے ایسے کاموں کو جو اولاد کو اپنے والدین سے دور کر دے عائشہ بیگم بددعائیں دیتے ہوئے بولی تو زاوق بے اختیار مسکرا دیا
اب تُو ہنسنا بند کر دے تیرا ہنسنا مجھے مزید غصہ دلا رہا ہے عائشہ بیگم اس کے قریب سے اٹھتے ہوئے بولیں تو زاوق نے ان کا ہاتھ تھام کر واپس اپنے قریب بیٹھا لیا ۔
ویسے اگر آپ چاہتی ہیں میں ہمیشہ کے لئے واپس آ جاؤں تو آپ اپنی بہو کو میرے کمرے کا راستہ دکھا دیں میں خود ہی ہمیشہ کے لئے واپس آ جاؤں گا پھر تو آپ مجھے زبردستی بھی بھیجیں گی تو میں جاؤں گا نہیں زاوق شرارت سے مسکراتے ہوئے بولا
ہائے میں صدقے میں تو اس دن کا انتظار کر رہی ہوں کہ کب احساس کو تیری دلہن بنا کر تیرے کمرے میں بیٹھاکر جاؤں بس ایک بار رحمان مان جائیں تو ان شاءاللہ ایک دن نہیں لگاؤں گی
وہ تو تیری ہی امانت ہے تیرے ہی نام پر بیٹھی ہے بس ایک بار رحمان مان جائیں اس شادی کے لیے عائشہ نے اداسی سے کہا
کوئی مانے یا نہ مانے مجھے فرق نہیں پڑتا احساس میری بیوی ہے اور میں جب چاہے اسے اپنے کمرے میں لا سکتا ہوں ابھی تک اگر مجھے کسی بات کا لحاظ ہے تو صرف اور صرف اس کی پڑھائی کا
جب تک وہ اپنی پڑھائی مکمل نہیں کرتی تب تک میں اس طرح کا کوئی فیصلہ نہیں کرنا چاہتا ۔
لیکن ایک بات کان کھول کر سن لیجئے امی جان اگر آپ کے شوہر نے میرے اور احساس کے بیچ میں آنے کی کوشش کی تو میں لحاظ نہیں کروں گا ویسے بھی بہت لحاظ کرتا آیا ہوں میں ان کا
اور خالو جان کو ایک اور بات بھی بتا دیجئے گا کہ اگلے دو ماہ میں احساس 18 سال کی ہو جائے گی
اور وہ جو چالبازیاں اپنے دماغ میں سوچے ہوئے ہیں وہ نکال دیں تو بہتر ہوگا دنیا کا کوئی شخص میری احساس کو مجھ سے چھین نہیں سکتا
تھوڑی دیر پہلے والی محبت نرمی اس کے سخت لہجے کی سختی میں کہیں کھو سی گئی تھی
وہ احساس کے معاملے میں ایسا ہی تھا ۔13 سال کا تھا جب ایک ایکسیڈنٹ میں اس کے ماں باپ اسے ہمیشہ کے لیے چھوڑ کر چلے گئے
اور تب اس کے سر پر اس کے خالواور خالا نے ہاتھ رکھا ۔
کروڑوں کی جائیداد کا اکیلا وارث تھا جسے دیکھتے ہوئے اس کے خالو کے دل میں لالچ نے جنم لیا اور اسے لالچ کو پورا کرتے ہوئے انہوں نے اپنی 6 سالہ بیٹی کا نکاح تیرا سالہ زاوق سے کروا دیا ۔
اس دولت کی لالچ میں وہ اکیلے نہیں بیٹھے تھے زاوق کے اور بھی بہت سارے رشتے دار تھے جو اس دولت کو اپنا بنانے کے لیے کوئی بھی حد پار کر سکتے تھے
وہی لوگ تھے جنہوں نے زاوق کے کان میں یہ بات ڈالی تھی کہ اس کے خالو نے دولت کے لالچ میں اپنی بیٹی کا نکاح اس کے ساتھ کروایا تھا لیکن ان سب باتوں سے زاوق کو کوئی فرق نہیں پڑتا تھا نکاح کے بعد سے لے کر اب تک وہ احساس کو دیوانوں کی طرح چاہتا تھا ۔
اور اسے کسی قیمت پر چھوڑنے کے لئے تیار نہ تھا جبکہ اب اپنے ہاتھ کچھ نہ آتا دیکھ کر خالو نے یہی فیصلہ کیا تھا کہ وہ احساس کو زاوق سے طلاق دلوا کر اس کی شادی کسی امیر آدمی سے کروا دیں گے ۔
کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ زاوق سے ان کو اب کوئی فائدہ نہیں ہونا
❤
تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو سامان پیک کرنے کے لیے کہا تھا میں نے وہ کمرے میں داخل ہوا تو احساس بیڈ پر اس کے کپڑے پیک کرنے میں مصروف تھی اس کی آواز سنتے ہی سہم کر دیوار کے ساتھ جائے لگی
دماغ خراب ہے تمہارا کوئی مونسٹر ہوں جو میں کھا جاؤں گا وہ اسے اس طرح سے دیوار کے ساتھ لگتے دیکھ کر اندازہ لگا چکا تھا کہ اس کا ہاتھ دیوار کے ساتھ کافی زور سے لگا ہے
جب کہ اس کے منہ سے مانسٹر کا لفظ سن کر اس نے ایک نظر زاوق کے چہرے پر دیکھا تھا مطلب وہ جانتا تھا کہ اس کے جانے کے بعد وہ اسے کیا کہہ کر پکارتی ہے
سامان ۔۔۔کردیا تھا ۔۔۔میں نے۔۔ اسے اپنا ہاتھ تھامتے دیکھ کر وہ مزید دیوار میں گھسنے لگی
کوئی احسان نہیں کیا ہے فرض ہے تمہارا اسے خود سے دور ہوتا دیکھ کر وہ غصے سے بولا ۔
اور بنا اس کے ڈر کی پرواہ کیے اسے کھینچ کر وہ اگلے ہی لمحے اپنی باہوں میں بھر چکا تھا
کچھ زیادہ ہی نہیں دور بھاگتی تم مجھ سے یہ جانتے ہوئے بھی کہ تم دنیا کے کسی بھی کونے میں جا کر چھپ جاو زاوق شاہ تمہیں ڈھونڈ نکالے گا ۔
اس کی کمر کو اپنے بازو سے جکڑتے ہوئے وہ اسے مزید اپنے ساتھ لگا چکا تھا
سامان ۔۔۔۔۔پیک کر چکی ۔۔۔۔ہوں میں ۔۔۔۔مجھے جانا ہے بابا ۔۔۔ڈھونڈ رہے ہوں۔۔۔ گے ۔۔وہ اپنا آپ اس سے چھڑوانے کی کوشش میں ہلکان ہو چکی تھی نا تو زاوق کو اس کی کپکپاتی آواز سے کوئی فرق پڑا تھا اور نہ ہی کانپتے وجود سے ۔
جب کہ وہ تو اسے خود سے خوفزدہ ہوتے دیکھ کر مزید بے خود ہوئے جا رہا تھا
تو میں کیا کروں وہ اس کا چہرہ اپنے ہاتھوں میں پکڑے اپنے سامنے کر چکا تھا احساس کو اس کی سانسوں کی تپش اپنے چہرے پر محسوس ہوئی
جانے دیں ۔۔۔۔۔۔وہ اپنا چہرہ اس سے تھوڑا دور کرتے ہوئے بولی کیوں کہ اگر وہ اس کے قریب بولتی تو ضرور اس کے لب اس کے ہونٹوں سے ٹکراتے
اگر نہ جانے دوں تو ۔۔۔۔۔کیا کر لو گی۔۔۔ اس کے انداز پر وہ محفوظ ہوا تھا اسی لیے اس کی کمر کو مزید اپنے بازو میں لیتےہوئے پوچھنے لگا
زاوق ۔۔۔۔پلیز جانے دیں ۔۔۔۔کل ٹیسٹ ہے ۔۔۔۔میرا ۔۔۔وہ بے بسی سے کہنے لگی کیونکہ اسے پتا تھا کہ اپنے باپ کے نام پر وہ اسے کبھی نہیں چھوڑے گا
اس کے بہانے پر زاوق نے ایک بار پھر سے دیکھا تھا لیکن اس کو چھوڑنے کے بجائے وہ اس کا ہاتھ تھام کے اپنے لبوں تک لے کے گیا احساس نے اپنی آنکھیں بند کر لیں شاید اس کی اگلی حرکت سے واقف تھی
لیکن اس بار اس نے ہمیشہ والا محبت سے بھرپور لمس نہیں بلکہ شدت سے اس کی انگلی اپنے دانتوں میں لے کر کاٹاتھا
سسسس ۔۔۔۔احساس نے اپنا ہاتھ اس کے ہاتھ سے نکالنا چاہا لیکن ناکام رہی ۔
سوری میری جان ۔لیکن مجھے ابھی ابھی تمہارے اس چہرے نے اس بات کا احساس دلایا ہے کہ میرے یہاں سے جانے پر تم بہت خوش ہو
اور مجھے اس بات کی بالکل خوشی نہیں ہوئی میں چاہتا ہوں کہ تم ہر وقت میرے عشق کے حصار میں رہو
تمہارا بس چلے تو تم تو مجھے یاد بھی نہ کرو اس لیے ایک چھوٹی سی نشانی
اور اب جب تک یہ درد تماری انگلی میں رہے گا تب تک میں تمہیں یاد رہوں گا ۔وہ محبت سے اس کا ہاتھ چومتا اپنے بیگ بند کرتے ہوئے اسے اپنی نظروں کے حصار میں لیے وہاں سے نکل گیا ۔
جبکہ احساس نے اس کے جاتے ہی ایک گہری سانس لی تھی اور پھر بے بسی سے اپنے ہاتھ کی انگلی کو دیکھنے لگی ۔
لوگ محبت کی نشانیاں محبت سے دیتے ہیں یہ وہ پہلا شخص تھا جو اپنی محبت کی نشانی ایک زخم دے کر گیا تھا
اپنی انگلی پر پھونک مارتے ہوئے وہ درد کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی ۔
مونسٹر ۔۔۔اپنی آنکھوں سے آنسو پرے دھکیلتی وہ بڑبڑاتی ہوئی اپنے کمرے کی طرف جانے لگی
خدا کا لاکھ لاکھ شکر ہے اب کم از کم ایک مہینے تک کوئی ڈر نہیں
وہ اپنی کتابوں کا انبار سامنے رکھتے ہوئے ذرا سا مسکرائی ۔
آج صبح ہی امی نے اسے بتایا تھا کہ زاوق اس بار کم از کم ایک مہینے کے لئے جانے والا ہے ۔اور اس بات کو لے کر وہ بہت خوش تھی کیوں کہ جس دوران زاوق گھر پہ ہوتا تھا اسے ہر وقت اپنی آنکھوں کے سامنے رکھتا ۔
کبھی ایک کام تو کبھی دوسرا کام اور ہر کام کے بعد جناب کا ایک ہی جملہ کوئی احسان نہیں کر رہی ہو مجھ پر تمہارا فرض ہے یہ سب ۔
احساس نے پینسل نکالتے ہوئے اپنی اسائمنٹ شروع کی لیکن انگلی کے درد نے اسے پینسل پکڑنے بھی نہ دی سچ کہتا تھا وہ شخص جب تک یہ درد رہے گا وہ اسے شدت سے یاد کرے گی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: