Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 10

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 10

–**–**–

جس طرح سے اس نے کہا تھا اسی طرح سے احساس سارے نوٹس بارہ بجے سے پہلے اس کے ٹیبل پر لاکر رکھ چکی تھی اب ان میں سے کتنے کمپلیٹ تھے اور کتنوں میں غلطیاں تھیں ان سب کا فیصلہ زاوق نے خود کرنا تھا
مجال ہے جو برتھڈے وشیگ کے لیے منہ بھی ہلا ہو اور ڈرتی ایسے ہے جیسے کھا جاؤں گا وہ غصے سے بڑبڑاتے ہوئے آکر اپنی چیئر پر بیٹھا۔
کل رات اس کا بہت دل کیا جا کر اسے بتائے کہ کالج نہ آ کر اس نے کتنی بڑی غلطی کی ہے
آخر وہ اس کی بات مانتی کیوں نہیں تھی وہ خود اسے غصہ دلاتے تھی۔
یہ بات الگ تھی کہ ایسا پہلی بار ہوا تھا جو اس نے زاوق کی بات نہ مانی ہو ورنہ تو وہ اس کے ایک اشارے پر فورا اس کا کام کر دیتی تھی
آج اسے یقیناً پتہ تھا کہ اس کی سالگرہ ہے آج کا دن اس کے لئے اہم ہونا چاہیے تھا وہ اس نے اس برتھ ڈے کتنا اسپیشل بناتا تھا احساس کو اس بات کا احساس تک نہ کیا
ابھی بھی یہی ساری باتیں سوچ رہا تھا جب اس کا دھیان اس کے ٹیبل پر رکھے ہوئے ٹفن پر پڑا وہ مسکرا دیا
دنیا کا ہر انسان اس کی سالگرہ بھول سکتا تھا لیکن اس کی امی جان ہرگز نہیں
اس نے فورا ڈبہ کھولا جس میں اس کی سب سے پسندیدہ ڈش بریانی تھی ۔
اور اس کے ساتھ ہی رکھی ایک چھوٹی سی چٹ
میرا دل میری جان میرے جگر کا ٹکڑا اللہ تمہیں زندگی کی ہر خوشی دے میرا بچہ ہمیشہ ہنستا مسکراتا رہے چٹ پر لکھے خوبصورت الفاظ پڑھتے ہوئے اسے اندر تک سکون محسوس ہوا
کتنی پیاری تھی اس کی امی جان اور ایک ان کی بیٹی اس نے منہ بناتے ہوئے اس کے نوٹس اوپن کیے
جن میں زیادہ تر صفات خالی تھے اسے احساس کی لاپروائی پر بہت غصہ آرہا تھا
یہ لڑکی اپنی پڑھائی پر بالکل دھیان نہیں دے رہی وہ صفحے الٹتے ہوئے بولا
جب ان نوٹس میں سے کاڈر نکل کر زمین پر جا گیا
اس نے فورا اٹھایا تھا ۔
ہیپی برتھ ڈے مسٹر ہسبینڈ ۔سمیلینگ ایموجی کے ساتھ سنہری رنگ سے لکھے گئے یہ الفاظ زاوق نے نہ جانے کتنی بار پڑھے تھے
لیکن فی الحال وہ اسے معاف کرنے کا ارادہ نہیں رکھتا تھا آخر اس نے کل نہ آکے اس کے پلان کی بینڈ بجا دی ۔وہ کارڈ اپنے سامان میں رکھتے ہوئے ایک بار پھر سے اس کے نوٹس کی طرف متوجہ ہوا
جہنیں دیکھ کر اسے کافی مایوسی ہوئی تھی ۔
نوٹس بند کرنے سے پہلے اس نے آخری صفحہ پر دیکھا
جہاں پڑے خوبصورت بیل بوٹوں کے ساتھ احساس کا نام لکھا تھا ۔
اور اس کے ساتھ زاوق کا نام اس طرح سے لکھا گیا تھا کہ احساس کا نام پوری طرح سے کور ہو چکا تھا جیسے وہ اس نام کے ساتھ اپنی حفاظت چاہتی ہو زاوق کے چہرے پر خوبصورت مسکراہٹ کھلی کتنا حسین تھا یہ احساس کے احساس اسے اپنا محافظ سمجھتی ہے
اس نے مسکراتے ہوئے احساس کے نام پر اپنے لب رکھے
اب تو تم سے ملنا ہی پڑے گا میری برتھ ڈے پلاننگ خراب کی ہے تم نے اس کی سزا تمہیں ضرور ملے گی دلکشی سے مسکراتے ہوئے اس نے اپنا موبائل اٹھانے لگا
لاسٹ کلاس کے بعد کالج کے پچھلے میں انتظار کروں گا جلدی آنا میسج لکھ کر موبائل جیب میں ڈالا باہر نکل آیا
اس کا ارادہ احساس کی کلاس میں جانے کا کیا تھا اس کے بعد وہ احساس کو لونگ ڈرائیوہے لے کر جانے کا ارادہ رکھتا تھا جس کے لیے اس نے عائشہ کو میسج کر کے بتا دیا تھا
❤
اس نے کلاس میں قدم رکھتے ہی سب سے پہلے اس کو دیکھا تھا ۔
جو اپنے کام میں مگن تیز تیز کچھ لکھنے میں مصروف تھی۔
اس نے نوٹس لا کر اس کے ڈیکس پر رکھتے ہوئے اسے گھورا
یہ آپ کی آخری غلطی کے ہونی چاہیے احساس حجاب سے نوٹس لیں اور کاپی کریں
۔تین دن ہوئے ہیں حجاب کو آئے ہوئے اور سارے نوٹس تیار کر چکی ہے اور ایک آپ ہیں انتہائی افسوس ہوتا ہے آپ کو اپنی کلاس میں دیکھ کر وہ غصے سے گھورتے ہوئے بولا
جب کہ احساس تو یہ سوچ رہی تھی کہ کارڈ دیکھنے کے بعد وہ نوٹس کا غصہ بھول جائے گا ۔
لیکن وہ تو یہاں اسے حجاب کی قابلیت کی مثالیں دے رہا تھا ۔
جس انداز میں اس نے اسے نوٹس دیے تھے اسی اندازمیں اس نے نوٹس اٹھا کر اپنے بیگ میں رکھ لیے
میں نے کہا کہ حجاب سے نوٹس لے کر کاپی کریں ناکہ بیگ میں ڈالیں ۔اس کی ہٹ دھرمی پر وہ پھر سے غصے سے بولا
افٹر کلاس لے لوں گی وہ منہ بناتے ہوئے بولی
نوٹس تیار کرکے میرے ٹیبل پر رکھ کو گھر جائیں گی آپ ۔۔۔ اپنے آفس سے نکلتے ہوئے اس نے احساس کا ٹیکس پڑھا تھا جس میں اس نے کہا تھا کہ وہ زارا کے ساتھ گھر جا رہی ہے اسی لیے میرا انتظار کیے بنا آپ آرام سے اپنا کام کریں ۔
احساس اب تک حجاب کی وجہ سے اس سے ناراض تھی اور وہ یہ بات جانتا بھی نہیں تھا اور وہ کارڈتو اس نے چار دن پہلے بنایا تھا
تب اس کا ارادہ اسے وش کرنے کا تھا لیکن حجاب کو خود سے زیادہ اہمیت ملتے دیکھ کر نہ جانے کیوں اسے غصہ آ رہا تھا زاوق کی نظروں میں اپنے علاوہ کسی کے لیے اور کا عکس نہیں دیکھنا چاہتی تھی
وہ حجاب کے لیے کچھ بھی فیل نہیں کرتا تھا یہ بات وہ بھی جانتی تھی لیکن وہ اسے اس سے زیادہ اہمیت دے رہا تھا ہر بات میں اس کی تعریف کرنا ہر بات میں اس کی مدد کرنا ۔
احساس کو بالکل اچھا نہیں لگ رہا تھا
❤
چھٹی کے بعد وہ مسلسل کلاس میں نوٹس بنا رہی تھی کہ زارا نے ڈرائیور کو واپس جانے کو بولا تو اس نے منع کر دیا اس نے کہا کہ وہ چلی جائے اس کے بابا ابھی دیر میں آتے ہوں گے
اس کے کہنے پر زارا بھی اپنے گھر جا چکی تھی اس وقت وہ اکیلی کلاس میں بیٹھی تھی جبکہ حجاب اسے نوٹس دے کر باہر جا چکی تھی۔
حجاب کا غصہ وہ اپنی معصوم انگلیوں پر پیسنل کو سختی سے پکڑے نکال رہی تھی
اللہ کرے اس کے نوٹس جل جائیں اس کے دماغ میں بھوسہ بھر جائے ۔اسے جو بھی یاد ہے سب کچھ بھول جائے بڑی آئی لائق فائق ۔تیز تیز ہاتھ چلاتے ہوئے بڑبرا رہی تھی جب زاوق کلاس میں داخل ہوا
اسے دیکھ کر ایک پل کے لئے وہ سہم سی گئی پھر یاد آیا کہ وہ غصے میں ہے ۔اسی لئے بنا اس کو دوبارہ دیکھے اپنے نوٹس پر فوکس کیا
چلو میرے ساتھ باہر لانگ ڈرائیو پر چلتے ہیں اور اب بالکل نخرے مت دکھانا ۔وہ اس کا ہاتھ تھامتے ہوئے اس کے نوٹس بیگ میں ڈالنے لگا جب احساس نے اس کے ہاتھ سے نوٹس لیتے ہوئے واپس ڈیکس پر رکھے
آپ کو نظر نہیں آتا میں کام کر رہی ہوں ۔ویسے بھی میں بہت نالائق اسٹوڈنٹ ہوں اور نالائق اسٹوڈنٹس کو اپنی پڑھائی پر دھیان دینا چاہیے ناکہ باہر آوٹنگ کرنی چاہیے اب اب ہٹ جائیں میرے سامنے سے اور مجھے اپنا کام کرنے دیں۔
وہ غصے سے دوبارہ بوٹس کر جھکنے لگی
جب سے میں اس کالج میں آیا ہوں تب سے ایک بات بہت نوٹ کی ہے تمہارے بہت پر نکل آئے ہیں اور ایک منٹ نہیں لگاؤں گا ان کو کاٹنے میں بند کرو مجھے یہ نخرے دکھانا چلو میرے ساتھ تمہارا برتھ ڈے کتنا اسیشل بناتا ہوں میں اور تمہاری وجہ سے میرے برتھ ڈے پر میرے چہرے پر سمائل تک نہیں آئی ۔کتنی لاپرواہ ہو تم احساس تمہیں ذرا فرق نہیں پڑتا میری خوشی سے نجانے کیوں اس سے شکوہ کرنے لگا
احساس نے ایک نظر اٹھا کر اس کے چہرے کو دیکھا
اسے فرق پڑتا تھا بہت فرق پڑتا تھا وہ اس شخص کو بے تحاشہ چاہتی تھی
آپ کو بھی فرق نہیں پڑتا مجھے کیا اچھا لگتا ہے کیا برا لگتا ہے ۔آپ ہر بات میں اس حجاب کو اہمیت دیتے ہیں ہر بات میں یہ ظاہر کرنے کی کوشش کرتے ہیں کہ وہ مجھ سے زیادہ لائق ہے ۔انٹیلیجنٹ ہے ہارڈ ورکنگ ہے اور میں زیرو ہوں۔ اس کے شکوہ کرنے پر وہ بھی خاموش نہیں رہی ۔
جبکہ اس کی یہ شکایت سن کر زاوق کو سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ ہنسے یااسے دو تھپڑ لگائے
وہ میری اسٹوڈنٹ تم بیوی ہو میری ۔وہ ایک نیو اسٹوڈنٹ ہے اس کے پیچھے سے سب لیکچر مسگ ہیں پھر بھی کتنے اچھے سے کور اپ کیا ہے اس نے وہ واقعی ایک بہت لائق اور انٹیلیجنٹ وہ ابھی بول ہی رہا تھا جب اسے گھورتے ہوئے دیکھ کر ہنس دیا
وہ صرف میری سٹوڈنٹ ہے ۔زاوق مسکراتے ہوئے بولا تھا
مجھے کبھی بھی نہیں لگا تھا کہ ایک لڑکی کی وجہ سے تم مجھے میری برتھ ڈے وش بھی نہیں کرو گی ۔
خیر اپنی وشز تو میں لے لوں گا ۔وہ اس کے نوٹس بیگ میں ڈالتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر اسے زبردستی اپنے ساتھ باہر لگایا
اس کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر وہ اپنی ہنسی کو کنٹرول نہیں کر پا رہا تھا ۔صرف حجاب کی وجہ سے کہ وہ اس کی تعریف کر رہا تھا ۔وہ اس سے اس حد تک بدگمان ہوگئی ۔یعنی کہ آگ دونوں طرف سے برابر لگی تھی ۔
وہ مسکرایا ۔
جب سامنے سے آتک حجاب کو دیکھ کر اس نے ا حساس کا ہاتھ چھوڑ دیا
تم چلو میں آتا ہوں وہ سرگوشی نما آواز میں بولا جب احساس اسے گھورتے ہوئے حجاب کے قریب سے گزر کر آگے جا چکی تھی جب کہ وہ زاوق کے پاس رک گئی
اس نے یہ ایک بات بہت نوٹ کی تھی کہ حجاب زیادہ تر سدرہ کے پاس رہتی تھی اور اس سے بیوٹی ٹپس کے ساتھ ساتھ نہ جانے کیا کیا سرگوشیاں کرتی رہتی
 
ہر کلاس میں کنگ کا ایک گنگ ہے سدرہ کے باپ کا تعلق بھی انہیں لوگوں سے ہے ۔سدرہ نے آج رات مجھے کلب بلایا ۔
کلب میں ہمیں بہت کچھ پتا چلے گا لیکن ایک اور بات مجھے پتہ چلی ہے وہ یہ ہے کہ یہاں پر بہت سارے لوگ جانتے ہیں کہ کالج میں ائی ایس ائی والے ہیں
اس کیس میں کون کون کام کر رہا ہے یہ وہ لوگ نہیں جانتے لیکن شام بہت سارے لوگوں کی نظروں میں آ چکا ہے
اور اس میں شام کو خطرہ ہو سکتا ہے ۔
اور میرے خیال سے اس وقت ہمہیں شام کو منظر عام سے ہٹا دینا چاہیے ۔
حجاب نے اسے دیکھتے ہوئے بتایا
ٹھیک ہے وہ میں دیکھ لوں گا تم سدرا پر نظر رکھو اور ارسلان اور عمرپر بھی
اور کلب میں اکیلے نہ جانا زائم کو اپنے ساتھ لے جانا ۔لیکن کسی کو پتہ نہیں چلنا چاہیے کہ تم زائم کو جانتی ہو ۔
سر کسی کو کچھ پتہ نہیں چلے گا ۔آپ جائیں احساس گاڑی میں آپ کا انتظار کر رہی ہو گی ۔
آپ بے فکر ہو کر آج کا دن سیلیبریٹ کریں یہاں ہم سب کچھ سنبھال لے گے ۔حجاب پرفیشنل انداز میں کہتے ہوئے مسکرائی اور آگے بڑھ گئی ۔
حجاب کو کلاس میں اہمیت دینا ان کے مشن کا حصہ تھا لیکن اسے بالکل بھی پتا نہیں تھا کہ سے اس بات احساس اتنا سیریز لے گی
لیکن جو بھی تھا اس سے ایک بات اسے پتہ چلی تھی کہ احساس اپنے اور زاوق کے درمیان کسی کو بھی برداشت نہیں کر سکتی یہ بات سوچ کر زاوق بہت خوش تھا
آج کا دن اسپیشل بنانے کے لیے اس نے کچھ خاص نہیں کیا تھا۔
لیکن اپنی احساس کے ساتھ وہ آج کا سارا وقت گزارنا چاہتا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: