Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 11

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 11

–**–**–

یہ دن اس کی زندگی کا سب سے خوبصورت دن تھا وہ احساس کو لونگ ڈرائیو پر لے کر جا رہا تھا وہ آج کا سارا وقت صرف اور صرف احساس کے نام کر دینا چاہتا تھا اور احساس بھی خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھی کبھی اس کی شرارتیں نظروں کو دیکھتی تو کبھی اس کے ہاتھ میں اپنا ہاتھ
کبھی کبھی وہ خود کو بہت خوش نصیب سمجھتی تھی ایسے چاہنے والے بھی زندگی میں کم ہی ملا کرتے ہیں
لیکن کبھی کبھی وہ اس کی دیوانگی سے گھبرا جاتی اس کا باپ نے شادی کے لئے تیار نہیں تھا اور زاو ق ہر وقت اسے اپنے ساتھ رکھنا چاہتا تھا نہ جانے ان کی شادی اس کے باپ اور شوہر کے درمیان کیا ناچاقی پیدا کرے گی
لیکن ایک بات وہ اچھے سے جانتی تھی کہ اس کا باپ یہ شادی نہیں چاہتا
احساس جانتی تھک کہ اس کا باپ اس کی شادی زاوق سے کسی قیمت نہیں کروائے گا جب کہ وہ اپنی ساری جائیداد اس کے نام لکھ دے گا
لیکن سب سے ضروری تھا وہ مکان جس میں وہ لوگ رہے تھے زاوق ماں باپ کی آخری نشانی جو زاوق کبھی خود سے دور نہیں کر سکتا تھا
اگر اسے احساس اپنی زندگی میں چاہیی تو اپنی بہت ساری زندگی میں۔ بہت ساری چیروں کی قربانی دینی پڑتی تھی احساس سے وہ محبت کا دعوی تو کرتا تھا لیکن وہ اپنے ماں باپ کی آخری نشانی بھی اس طرح سے کسی کے حوالے نہیں کر سکتا تھا
رحمان صاحب اس کے آفس کو کس طرح سے سنبھال رہے ہیں اس کی دولت کا کس طرح سے استعمال کر رہے ہیں اس نے کبھی نہیں جاننا چاہتا تھا
وہ جہاں کہتے تھے خاموشی سے سائن کر دیتا تھا
رحمان صاحب نے ایک بار دھوکے سے اس کی ساری جائیداد اپنے نام کروانہ چاہی لیکن ویل ورکرز نے ایسا نہ ہونے دیا
وہ اسے پہلے ہی باخبر کر چکے تھے اور اس کے بعد زاوق خود ہی ہوشیاری سے کام لینے لگا اسے اپنوں کے بہت سارے چہرے نظر آ چکے تھے ۔
❤
حجاب نے کلب میں قدم رکھا تو کلب دیکھ کر حیران رہ گئی کالج کے کہیں اسٹوڈنٹس یہاں پر موجود تھے نشے کی حالت میں ادھر سے ادھر گرتے اف اور یہ لڑکیاں بھی اجنبی نہیں تھیں ۔
اسے یقین نہیں آرہا تھا کہ یہ اس کے کالج لڑکیاں ہیں جو اپنے آپ کو ڈھانپ کر رکھتی ہیں
حجاب تم یہاں کیا کر رہی ہو چلو آؤ وہاں چلتے ہیں ۔ سدرہ اس کا ہاتھ تھام کر زبردستی ایک ٹیبل کی طرف لے جانے لگی
نہیں نہیں ٹھیک ہوں حجاب نے اپنا ہاتھ چھڑانا چاہا سدرہ سمجھ گئی کہ وہ گھبرا رہی ہے
وہ اسے سمجھا بجھا کر اپنے ساتھ لے کر آنے لگی
تم یہاں بیٹھو میں تمہارے لیے کچھ پینے کو لاتی ہوں ۔سدرہ مسکرا کر کہتی ایک طرف جا کر کسی لڑکے کے ساتھ کھڑی ہو گئی
حجاب اس کی ایک ایک حرکت لوٹ کر رہی تھی وہ اپنے آپ کو کافی سہما ہوا پیش کر رہی تھی وہ گھبرا کر ادھر ادھر د دیکھ رہی تھی جسے دیکھ کر سدرہ کافی محفوظ ہو رہی تھی اسے لگ رہا تھا کہ اس کا مقصد پورا ہو رہا ہے
کافی امیر لڑکی ہے ہم اس سے کافی فائدہ ہو سکتا ہے اس کی ویڈیو بنا کر ہمیں فائدہ ہوگا جاؤ اس کے لئے ایک کک
گلاس تیار کر کے لاؤ
سدرا کے حکم کے مطابق وہ لڑکا فورن کانٹرکی طرف چلا گیا اور ایک گلاس لا کر اس کو دے دیا
وہ خاموشی سے گلاس اٹھایا اور واپس آ گئی
مجھے پیاس نہیں لگی ہے سدرہ تھینک یو سو مچ حجاب نے گھبراتے ہوئے گلاس خود سے بری کیا
گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے صرف جوس ہے یہاں سب آزاد ہے آزادی تم جیسے چاہے رہ سکتی ہو وہ زبردستی جوس کا گلاس اس کے لبوں سے لگاتے ہوئے بولی
حجاب کو مجبوراً جوس پینا پڑا ۔
تھوڑی دیر میں اس گلاس میں اپنا کام کر دیا تھا اسے ہوش و حواس سے بیگانہ ہوتے تھے سدرہ نے پیچھے کھڑے لڑکوں کو اشارہ کیا گیا اشارہ ملتے ہی اور اس کی طرف آئے تھے
❤
زاوق یہ کس کا گھر ہے ۔۔۔؟
ہم یہاں کیوں آئے ہیں۔۔۔۔؟ احساس نے گھر دیکھتے ہوئے اس سے پوچھا یہ ایک بہت ہی خوبصورت مگر چھوٹا سا مکان تھا
جس میں ہر طرح کی جدید ترین آزائشیں سے سجایا گیا تھا
اس کے اس طرح سے سوال کرنے پر زاوق نے اس کا ہاتھ تھام اور اسے باہر لے آیا
ابھی تو گھر کے اندر قدم رکھے ہوئے دو منٹ بھی نہیں ہوئے تھے کہ وہاں سے واپس لے آیا تھا
کیا ہوازاوق ہم واپس جا رہے ہیں یوں اچانک وہ باہر کے راستے اس کے ساتھ چلتے ہوئے پوچھنے لگی
جب زاوق نے اسے دروازے پہ لاکر اس کا ہاتھ چھوڑ کر دروازے کے بورڈ کی طرف اشارہ کیا
وہ پریشان نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے بورڈ کو دیکھنے لگی
جہاں پر بڑے الفاظ میں احساس زاوق شاہ کا لکھا ہوا تھا
زاوق یہ ہمارا گھر ہے وہ بورڈ پرہاتھ پھیرتے ہوئے بے یقینی سے پوچھنے لگی
ہاں میری جان یہ ہمارا گھر ہے میرا اور تمہارا شادی کے بعد ہم یہاں رہیں گے
یہ گھر میں نے صرف تمہارے لئے بلوایا ہے میں نے بہت سوچا ہے احساس پوپھا جان سے ضد لگانے کا کوئی مقصد نہیں ہے وہ یہ گھر چاہیے ہیں تومیں دینے کے لیے تیار ہوں مانتا ہوں میرے ماں باپ کی آخری نشانی ہے لیکن یادیں دل میں ہوتی ہیں
اور میرے ماں باپ میرے دل میں زندہ ہیں اسی لئے میں وہ مکان ان کے نام کرنے کے لیے تیار ہوں
بس اب تم یہاں آنے کی تیاری کرو وہ اس کے ماتھے پہ اپنے لب رکھتے ہوئے بولا
اس کے لئے وہ اپنے ماں باپ کی آخری نشانی تک دینے پر تیار تھا یہ سوچ اتے یہ اس کی آنکھوں میں پانی بھرنے لگا خبردار احساس اگر تم نےایک آنسو بہایا تمہیں معلوم ہے مجھے تمہاری آنکھوں میں آنسو بالکل اچھے نہیں لگتے اب چلو میرے ساتھ اندر ابھی ہم نے پورا گھر دیکھنا ہے لیکن سب سے پہلے میں تمہیں ہمارا روم دکھانا چاہتا ہوں جو سارا کا سارا میں نے خود ڈیکوریٹ کروایا ہے
تمہیں یقیناًبہت پسند آئے گا وہ اس کا ہاتھ تھامیں اس اوپر لے جاتے ہوئے بولا جب اس کا فون بجا
ذائم کا فون آتے دیکھ کر وہ ایک نظر احساس کو دیکھ کر تھوڑا سائیڈ پر رکھ کر فون اٹھا لے گا
سر سدرہ نے حجاب کو زبردستی کوئی چیز پلائی ہے اس کے بعد دو لڑکے اسے کمرے میں ڈالے گئے ہیں
نہ جانے اس کے ساتھ کیا کرنے والے ہیں پلیز آپ جلدی آئیں زائم میسج دیتے ہوئے جلدی فون بند کر دیا تاکہ کسی کو شک نہ ہو
احساس تم گھر دیکھو تب تک ایک کام کر کے آتا ہوں اور اگر میں نہیں آ سکا تو تم بیشک ڈرائیور کے ساتھ گھر چلے جانا وہ گھر کی چابی اسکے حوالے کرتے ہوئے بولا
یہ تمہارا گھر ہے تم جب چاہے یہاں آ سکتی ہو اگر کام ضروری نہ ہوتا تو میں اس طرح چھوڑ کے نہ جاتا وہ اس کے ماتھے پر لب رکھتے ہوئے فوراً باہر کی طرح بھاگ گیا
جب کہ اس کی مجبوری کو سمجھتے ہوئے مسکرائی اسے ساری زندگی اس کی مجبوریوں کو سمجھناتھا
وہ صرف اس کا نہیں بلکہ پورے وطن کا تھا وہ اس کی سلامتی کی دعائیں مانگتی ڈرائیور کو گھر چھوڑنے کا کہنے لگی ہے کیونکہ یہ گھروہ اس کے ساتھ دیکھنا چاہتی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: