Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 12

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 12

–**–**–

حجاب کمرے کے اندر بے ہوش پڑی تھی جب ایک لڑکے نے کیمرہ آن کیا اور دوسرا لڑکا شرٹ اترتے ہوئے اس کی طرف بڑھا تھا
سدرہ قریب ہی کھڑی کسی کی آبرو کو بےلباس ہوتے دیکھ رہی تھی
سب تیار ہے نا لڑکے نے آخری بار پیچھے مڑ کر دیکھا تو دوسرے لڑکے نے اسے انگوٹھے کا نشان دکھاتے ہوئے یقین دلایا
شرٹ دور پھینکتے ہوئے وہ حجاب کے دوپٹے اس کو ہٹانے لگا اس سے پہلے کہ وہ حجاب کا دوپٹہ ہٹاتا حجاب نے پھرتی سے اس کا ہاتھ پکڑا اور جھٹکا دیتے ہوئے اس کا ہاتھ مروڑ کر پیچھے کمر پر لگا لیا
بہت جلدی ہے بچے ۔۔۔۔۔پہلے اپنے باپ کو تو آنے دے حجاب نے اپنی پینسل ہیل والا پیر رکھ کےاس کے پیٹ پر مارا
جس سے وہ لڑکھڑاتا ہوا دور گیا
حجاب اب دوسرے لڑکے کو دیکھ رہی تھی جو اس کی ہمت پرغصے سےچلاتا ہوا آگے آیا ۔
وہ نازک سی لڑکی کسی شیری کی طرح اس کی طرف بڑھ رہی تھی ۔
وہ کوئی بےبس لڑکی نہ تھیں وہ جیتنی نازک دکھتی تھی اتنی ہی بہادر اور نڈل تھی
کراٹے چیمپئن باکسنگ میں بلیک بیلٹ ہولڈر لڑکی کو سمجھ کے کیارکھا ہے تم لوگوں نے ۔۔۔۔۔؟
اس نے زمین پر پڑے لڑکے کے قریب بیٹھتے ہوئے پوچھا
کیا سوچا تھا تم نے مجھے ہوش میں لاکر مجھ سے منتیں کرواؤ گے پلیز میرے ساتھ ایسا مت کرو میں کسی کو منہ دکھانے کے لائق نہیں رہوں گی نہ بیٹا اس معاملے میں تمہاری ماں ہوں میں کیوں کہ تمہاری ماں نے تمہیں سکھایا نہیں کہ عورتوں سے کس طرح سے بات کی جاتی ہے لیکن تمہاری یہ ماں تمہیں ٹھیک سے سکھائے گی لیکن یہاں نہیں جیل کی چار دیواروں کے بیچ
وہ اپنی ہائی ہیل سینڈل اس کے سینے پر رکھتے ہوئے ذرا وزن ڈال کر بولی جبکہ اس دوران سدرہ نے وہاں سے چپکے سے نکلنے کی کوشش کی لیکن اس سے پہلے ہی زائم دروازہ بند کر چکا تھا
سدرہ ڈارلنگ کچھ زیادہ ہی جلدی نہیں ہے یہاں سے نکلنے کی ۔تم بھی تیار ہو جاؤ سسرال جانے کے لئے
کون ہو تم اس کے بات بھی مکمل ہی نہیں ہوئی تھی جب سدرہ نے پوچھا
ار لے ارلے بچی پابھی تعارف کروایا تو سہی تمہاری اور ان سب کی ماں ہوں میں اور اب تمہارے پیچھوارے پر پھینٹی لگا لگا کہ بتاؤں گی کہ کون ہوں میں جو کام تمہاری کم عقل مائیں نہیں کر سکیں وہ میں کروں گی ۔
چلو آج زیادہ باتیں نہیں میری اچھی بیٹی چل تجھے عقل کی الف ٰب پڑھاتی ہوں ایک زور دار تھپڑ لگا
سدرہ کے منہ پر جھاڑتے ہوئے بولی۔
تمہیں کیا مجھے دیکھنے کے لیے بلایا گیا ہےوہ زائم کو گھورتے ہوئے بولی جو محبت پاش نظروں سے اسکا یہ انداز دیکھ رہا تھا
حجاب کبھی موسی کو تو اتنے پیار سے مخاطب نہیں کیا تم نے زائم نے اپنے معصوم بچے کا نام لیتے ہوئے کہا جس کی ماں کو اپنی اولاد سے زیادہ دوسروں کی اولاد کی ماں بننے کا شوق چڑھا تھا
زائم کتنی بار کہا ہے تم سے کام کے دوران پرسنل لائف مت لگایا کرو ۔
۔ چلو باہر کلب میں ریڈ ڈال دی گئی ہے سارے اسٹوڈنٹ پکڑے گئے سر باہر ہیں حجاب کے غصے سے گھورنے پر زائم نے فورا کہا
ہاں جلدی چلو موسی انتظار کر رہا ہوں گا آج صبح ہی اس نے مجھ سے چاکلیٹ کیک کھانے کی فرمائش کی تھی حجاب آگے چلتے ہوئے بولی
آئی ایس آئی والوں کی بھی کیا زندگی تھی جو والدین اپنے بچوں کی خواہش دن کے اجالوں میں پورے کیا کرتے تھے
وہی وہ رات کے اندھیروں میں کرتے تھے اور صرف اپنے وطن کے لیے وہ اپنے بچوں تک کی زندگی اگنور کرتے تھے
اور ہماری قوم کہتی ہے ہمارے آرمی والے ہمارے معاوضہ پر پلتے ہیں ۔کیا یہ قوم کسی ایک شہید کی جان کا ازالہ کر سکتی ہے ۔نہیں یہ صرف باتیں کر سکتی ہے
❤
ایک ارب کے قریب کیش مال اور اسلحہ برآمد ہوا ہے اس قلب سے جو سارا کا سارا انڈیا سے آیا تھا
بہت آسان سمجھ رکھا ہے انڈیا والوں نے ہمارے وطن کی جڑیں کاٹنا لیکن شاید وہ لوگ یہ نہیں جانتے ہیں کہ سرحدوں پر آج بھی جوان کھڑے ہیں جو ان کے ہر منصوبے کا منہ توڑ جواب دینے کے لیے ہر وقت تیار ہیں
ہم کنگ کو ایک بہت بڑا نقصان دینے میں کامیاب رہے ہیں
ادھا مشن ہم حل کر چکے ہیں کیونکہ گینگ کے آدھے لوگ ہمارے قبضے میں ہیں اور اس کی دولت کا سب سے بڑا حصہ بھی ہم ضبط کر چکے ہیں
حجاب نے بہت اچھا کام کیا ہے اس کی ہمت کی داد دینی پڑے گی ہمارے وطن کو تمہارے جیسے ہی آفیسرز کی ضرورت ہے حجاب گولڈ جاب ویلڈن ۔زاوق نے کھل کر اس کی تعریف کی تھی جب اس نے مسکراتی نظروں سے زائم کی طرف دیکھا جس کی تعارف میں زاوق نے ایک لفظ بھی نہیں بولا تھا اس نے کیا ہی کیا تھا صرف اینڈ پر زاوق کو فون کیا تھا ۔
اور سب کچھ سمجھتے ہوئے پلان کے مطابق زاوق نے ٹائم پررید ڈال دی لیکن پھر بھی وہ اپنی بیوی کی کامیابی پر بہت خوش تھا
اور اس سے بھی زیادہ خوشی اسے چاکلیٹ کیک کی تھی جو گھر چل کر اسے ملنے والا تھا کیونکہ اگر یہاں کچھ الٹا سیدھا ہوجاتا اور حجاب کا موڈ آف ہو جاتا تو اسے اور اس کے معصوم بچے موسی کو کچھ نہیں ملنا تھا سوائے گھوریوں کے
زاوق تیری برتھ ڈے والے دن ہمیں اتنی بڑی کامیابی ملی ہے سلیبریشن تو بنتا ہے شام نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
نہیں نہیں بالکل بھی نہیں موسی ابھی تک جاگ رہا ہوگا ہمارا انتظار کر رہا ہوں گا آپ پارٹی کریں ہم گھر کے لیے نکلتے ہیں ۔حجاب نے فورا سے کہا
رائٹ سب سے پہلے فیملی شام نےاس کی بات پر مسکراتے ہوئے کہا
نو سر سب سے پہلے وطن پھر فیملی ججاب نے اس کی بات پر مسکراتے ہوئے کہا
جبکہ زاوق سر ہلا کر رہ گیا شاید آگے چل کر اس کی زندگی بھی ایسی ہی ہونی تھی لیکن وہ جانتا تھا احساس سب سمجھ جائے گی
❤
وہ شام کے ساتھ ہوٹل میں بیٹھا اپنا برتھ ڈے سیلیبریٹ کر رہا تھا جب اس کا فون بجا
ہیلو سر تھانے پہنچتے پہنچتے گاڑی سے تین لوگ بھاگ گئے ہیں ہم نے ہر جگہ ڈھونڈا لیکن وہ کہیں نہیں ملے مجھے لگتا ہے اس مشن میں وہ تین بہت اہم تھے
جس کی وجہ سے کنگ اور اس کے لوگ کافی ڈرے ہوئے تھے آفیسر نے اسے پوری بات بتائیں
بھاگنے والوں میں جاوید سدرہ اور ارسلان شامل ہیں ۔فون رکھ کر اس نے شام کو ساری بات بتائی
لیکن اس کے لیے وہ اتنے پریشان نہیں تھے یہ ان کے لیے کوئی بہت بڑی بات نہ تھی اگر وہ قلب تک پہنچ کر اتنے لوگوں کو گرفتار کر چکے تھے تو کنگ تک پہنچنا بھی ان کے لئے مشکل نہ تھا کیونکہ اس کا بہت سارا مال ان کے قبضے میں تھا
جسے چھڑانے کے لئے وہ کچھ بھی کر سکتا تھا وہ لوگ جن کے لی خاص تھے کینگ انہیں بھگا چکا تھا ۔
اور اب زاوق کو کنگ کو ڈھونڈنے کی ضرورت نہیں تھی وہ خوداس پر حملہ کرنے والا تھا وہ اس کے گروپ کے چار لوگوں کی تفصیل لے کر ضرور ان کے ساتھ کچھ الٹا سیدھا کرکے اپنا پیسہ واپس لینے والا تھا
جس کے لئے زاوق شام حجاب اور زائم چاروں تیار تھے حجاب اور زائم اپنے بیٹے موسی کو کل ہی واپس بورڈنگ بھیجنے والے تھے ۔
جبکہ شام کو اس بات کی کوئی ٹینشن نہ تھی ۔
اس کی کوئی فیملی نہ تھی وہ یتیم تھا جو اپنے وطن کے لیے کچھ کرنے کی خاطر آرمی جوائن کر چکا تھا۔
جبکہ زاوق کے بارے میں انفارمیشن نکالنا اتنا بھی آساں نہ تھا زاوق کے بارے میں آرمی والے بھی بس اتنا ہی جانتے تھے کہ اس کے والدین نے ایکسیڈنٹ میں گزر چکے ہیں
❤
اس واقعے کو تقریبا ایک ہفتہ گزر چکا تھا احساس کے پیپر شروع ہونے والے تھے جس کی وجہ سے وہ اس سے بالکل تنگ نہیں کر رہا تھا
سدرا کا اتنے دن غائب رہنا سب نے نوٹ کیا تھا سدرہ کے ساتھ ساتھ کالج کے بہت سارے اسٹوڈنٹس کے بارے میں پتہ چلا تھا کہ وہ کسی کلب میں نشے کی حالت میں پائے گئے ہیں سب نے یہی کہا امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد ہیں یہ کام ان کے لیے کوئی برا نہیں
ایسے معاملوں میں نہ پڑتے ہوئے سب اپنے اپنے کام سے کام رکھا تھا
وہ کلاس لے کر باہر آیا تو شام کلاس کے باہر کھڑا تھا
کیا بات ہے میرے مجنوں کیا ہوا زارا نہیں آئی کیا شام کی زارا کے لئے پسندگی وہ نوٹ کر چکا تھا جس کی وجہ سے وہ اکثر اسے چھیڑتا تھا وہ جانتا تو نہیں تھا کہ زاراکے ساتھ اس کی محبت سہی ہے یا غلط وہ کبھی اس کا نصیب بنے گی یا نہیں لیکن شام کی آنکھوں میں اس کے لیے احساس دیکھ کر اسے اچھا لگا تھا ۔
وہ جانتا تھا کہ شام ایک بہت اچھا انسان ہے اور کسی بھی لڑکی کا نصیب بن سکتا ہے ۔
اسے بہت خوشی ہوئی تھی جب شام نے کہا کہ میری بھابی ہر وقت تیری بھابھی کے ساتھ گھومتی رہتی ہے اور اس زاوق نے شام کی بہت درگت بنا دی تھی
لیکن ایک دن شام نے پریشانی سے اس سے پوچھا یار میں تو اس کا ٹیچر ہوں وہ تو مجھے اپنا ٹیچر ہی سمجھتی ہو گی نا ۔اور دنیا کی نظر میں یہ بات کتنی غلط ہے کہ ایک ٹیچر اپنے سٹوڈنٹ کے ساتھ ۔۔۔۔شام کی پریشانی پر وہ مسکرایا
شام نہ تو زارا کا ٹیچر ہے اور نہ ہی میں احساس کا ٹیچر ہوں ہم بس اپنے مشن کے لئے اس کالج میں ہیں اور کچھ ہی دنوں میں یہاں سے چلے جائیں گے ۔
ابھی ان کا مشن پوری طرح سے ختم نہیں ہوا تھا جس کی وجہ سے ابھی بھی وہ اسی کالج میں موجود یہاں کے غیرقانونی کام پر نظر رکھے ہوئے تھے
لیکن شام کی باتیں سن کر کبھی کبھی زاوق اک دل چاہتا کہ اسے دو لگا کے رکھ دے ۔جو اکثر اس سے کہتا تھا کیا زارا اس کی محبت کو قبول کرے گی
جبکہ زاراکے بارے میں اس نے احساس سے جتنی بھی انفارمیشن لی تھی اسے یہ پتہ چلا تھا کہ وہ آرمی والوں کو بہت پسند کرتی ہے
آئی ہوئی ہے سامنے باہر کی طرف دیکھتے ہوئے کہا جہاں دور زارا ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئی تھی چہرے پر پریشانی لیے گھبرائی نظروں سے ادھر ادھر دیکھ رہی تھی جیسے کسی کی نظروں سے چھپ جانا چاہتی ہو
یہ اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہے زاوق نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا
پتہ نہیں مجھے لگتا ہے اسے کوئی پریشانی ہے بھابی کو بیج نا پوچھنے کے لئے شام نے جیسے اس کی منت کی تھی
جب کہ وہ اس کے بات پر سر ہلاتا اندر چلا گیا
مس احساس زاوق شاہ کیا زارا آپ کی دوست ہے وہ اس کے ڈسک پر دونوں ہاتھ رکھتے ہوئے پوچھنے لگا اس وقت کلاس میں بہت کم اسٹوڈنٹ تھے اور وہ ان کے سامنے یہ سوال کیوں پوچھ رہا تھا احساس کو سمجھ ہی نہ آیا وہ تو بس اپنے نوٹس پر جھکی ہوئی تھیں جبکہ حجاب بھی اسی کو گھور رہی تھی
جی ہاں وہ میری بیسٹ فرینڈ ہے احساس نے بتایا
بہت اچھی بات ہے کہ وہ آپ کی دوست ہے لیکن شاید آپ نہیں جانتی کہ جب آپ کی بیسٹ فرینڈ پریشان ہو سٹریس میں ہو تو آپ کو اس کا ساتھ دینا چاہیے نہ کہ یہاں بیٹھ کر اپنے نوٹس بنانے چاہیے ۔
شاید آپ کو اندازہ بھی نہیں کہ زارا کب یہاں آپ کے پاس سے اٹھ کر باہر درخت کے نیچے بیٹھی رو رہی ہے ۔
کیا اس کی بات سن کر احساس پریشانی سے کھڑی ہو گئی وہ صبح سے جانتی تھی کہ ذارا پریشان ہے لیکن اس بات کو لے کر وہ اس سے کہیں بار پوچھ چکی تھی
اور اب زارا یہاں سے اٹھ کر کہاں چلے گی وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ تو اپنے نوٹس بنانے میں مصروف تھی
زاوق کو ان دونوں کی دوستی سے کوئی مطلب نہ تھا اسے تو مطلب تھا اپنے دوست سے تھاجس سے زارا کی بے چینی ہضم نہیں ہو رہی تھی
نوٹس سے زیادہ فلحال آپ کے دوست کو آپ کی ضرورت ہے وہ اس کے نوٹس بندکرتے سے کلاس سے باہر چلا گیا۔
ویسے بھی بریک ٹائم تھا وہ آسانی سے زارا سے کچھ بھی پوچھ سکتی تھی
جبکہ اجازت ملتے ہی احساس فورا اپنا سامان وہی پر پھینکتی باہر نکل آئی
اور وہ واپس شام کے قریب کھڑا ہو گیا
اور اب وہ دونوں ان دونوں کو ایک ساتھ بیٹھے بات کرتے دیکھ رہے تھے اتنے دور سے وہ کیا باتیں کر رہی تھی اسے سمجھ نہیں آرہا تھا
زارا اپنی آنکھیں صاف کرتے ہوئے ناکام سے مسکرانے کی کوشش کر رہی تھی کچھ تو تھا جوزارا کو بے حد پریشان کر رہا تھا اور اس کی یہی پرشانی شام دیکھ نہیں پا رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: