Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 13

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 13

–**–**–

ذاوق اور شام نہ جانے کب سے ان دونوں کو باتوں میں مصروف دیکھ رہے تھے ایسا لگ رہا تھا کہ وہ اس سے وجہ جانے میں کامیاب رہی ہے لیکن وجہ جاننے کے بعد وہ خود بھی بہت پریشان ہو گئی تھی
اور اس کی یہی پریشانی شام کو پریشان کر رہی تھی
یار یہ لڑکی تو ہمیشہ ہنستی بولتی رہتی ہے اچانک اسے ہوا کیا ہے کہیں گھر میں کوئی مسئلہ نہ ہو شام کا دیہان باہر کی طرف تھا
آنے دےتیری بھابھی کو آکر بتائے گی کیا مسلہ ہے اس نے شام کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
یار یہ لڑکی ہمیشہ ہنستی مسکراتی اچھی لگتی ہے وہ سمجھ چکا تھا زارا کی اداسی شام کو اچھی نہیں لگ رہی ۔شاید محبت ایسی ہی ہوتی ہے ایسی ہی محبت تو وہ بھی کرتا تھا اپنی احساس سے
تھوڑی دیر کے بعد وہ زارا کے قریب سے اٹھ کر اندر کی طرف آئی ۔
جب شام نے اسے جانے کا اشارہ کیا وہ شام کو دیکھتا ہوا احساس کی طرف آ گیا
سب ٹھیک ہے نہ وہ اسے گھبرائے ہوئے دیکھ کر پوچھنے لگا
زاوق وہ دراصل مجھے کچھ ۔۔۔۔۔۔اساس سے بولا نہ گیا اس طرح کی سچویشن اس کی زندگی میں پہلی بار آئی تھی
بولو احساس کیا بات ہےزارا پریشان کیوں ہے کیوں رو رہی تھی وہ اتنا ۔۔زاوق پھر سے پوچھنے لگا
اسےکچھ پیسوں کی سخت ضرورت ہے میں بابا یا ماما کو اس بارے میں نہیں بتا سکتی اور وہ بھی اپنے ماں باپ سے پیسے نہیں لے سکتی۔ اگر اسے پیسے نہیں ملے تو کچھ بہت برا ہو جائے گا ۔
احساس نے اداسی سے کہا
تم فکر مت کرو احساس بتاؤ مجھے کتنے پیسے چاہیے اسے زاوق نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا
پچاس ہزار ۔۔۔ احساس نے ایک نظر دور بیٹھی زارا کی طرف دیکھتے ہوئے بتایا
اتنے پیسوں کا کیا کرے گی وہ ۔۔۔؟ایک سٹوڈنٹس کا سارا خرچہ اس کے والدین اٹھا رہے تھے وہ اتنے پیسوں کا کیا کرے گی وہ سوچ میں پڑ چکا تھا
پتا نہیں بس اسے چاہیے اس نے مجھ سے مدد مانگی ہے اور میں اس کی مدد کرنا چاہتی ہوں ۔۔
دو ڈھائی ہزار تو میرے پاس ہیں باقی آپ دے دیں میں آہستہ آہستہ آپ کو واپس کر دوں گی ۔
اس کا انداز صاف ادھار مانگنے والا تھا اور اس کے انداز پر وہ مسکرائے بنا نہ رہ سکا
ٹھیک ہے تم مجھ سے پیسے لے لو لیکن کتنا آہستہ آہستہ واپس کرو گی یہ بتا کر وہ اپنی ہنسی دبا کر بولا
افف کتنےلالچی شخص ہیں اتنی دولت کے مالک ہیں پھر بھی 50000 کے لئے مرے جارہےہیں کڑوس کہیں کے۔ وہ دل ہی دل میں بولی
تین مہینوں میں واپس کر دوں گی احساس کو پتا تھا کہ تین مہینے میں اس کے اس سال کا رزلٹ آجائے گا اور پھر وہ جو بھی کچھ مانگے کی ماما بابا سے وہ اسے دے دیں گے ۔
ٹھیک ہے لیکن اگر مجھے وقت پر میرے پیسے نہ ملے تو میں اپنے طریقے سے وصول کروں گا ۔
وہ مسکراہٹ دبا کر اسے دیکھتے ہوئے بولا جبکہ احساس کو تو اس وقت صرف اپنے دوست کی پرواہ تھی۔
ٹھیک ہے تم جاؤ میں تھوڑی دیر میں پیسے بھیج دیتا ہوں تمہیں وہ مسکرا کر آگے بڑھ گیا
جبکہ وہ واپس زارا کے پاس جا چکی تھی
❤
چھٹی سے تھوڑی دیر پہلے زاوق نے احساس کو کالج کے پیچھے بلایا تھا جہاں وہ اپنی گاڑی کھڑی۔ کیے اس کا انتظار کر رہا تھا وہ اپنے پاس کبھی کیش نہیں رکھتا تھا اسی لئے پیسے لانے کے لئے اسے بینک جانا پڑا تھا
ویسے تو شام نے بھی اسے آفر کی تھی کہ وہ پیسے خود دے دے گا ویسے بھی مسئلہ زارا کا ہے اور زارا کا مسئلہ اس کا مسئلہ ہے
لیکن زاوق نے کہا کہ پیسے زارا نے نہیں بلکہ اس کی بیوی نے مانگے ہیں اسی لیے یہ مسئلہ ہے تو شام خاموش ہو گیا
یہ لو اپنی دوست کو دو کہ وہ اپنا مسلہ حل کر سکے اس اس نے پیسے دیتے ہوئے کہا
تھینک یو زاوق میں آپ کے پیسے جلدی واپس کر دوں گی اس سے یقینا زاراکی پرابلم دور ہو جائے گی وہ خوشی خوشی بولی
لیکن میری پریشانی بن جائے گی وہ اس کا حسین خوشی سے چہک کا چہرہ دیکھتے ہوئے بولا
آپ کی کون سی پریشانی زاوق ۔۔۔۔۔ وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگی کروڑوں کی جائیداد کا اکلوتا وارث 50ہزار سے اسے کیا فرق پڑتا تھا
ہاں میرے پیسے جا رہے ہیں اور نہ ہی کوئی گارنٹی دی جارہی ہے واپسی کی اور نہ ہی تم نے اپنی کوئی چیز میرے پاس ادھار رکھی ہے جس پر میں تم پر یقین کرکے یہ پیسے دے دو ں۔ وہ بھی سیریز انداز میں بول رہا تھا
اب وہ بات بات پر کہہ رہی تھی کہ وہ پیسے سے لوٹا دے گی تو وہ بھی تو موقع کا فائدہ اٹھا ہی سکتا تھا
آپ میرا یہ بریسلیٹ رکھ لے وہ اسی کا پہنایا ہوابریسلیٹ اسے دکھاتے ہوئے بولی
تم ہاتھ سے نکالو تو سہی میں ہاتھ نہ کاٹ دوں تمہارا اسے بریسلیٹ کا ہک نکالتے ہوئے زاوق نے فورا اس کا ہاتھ تھام کر سے آنکھیں دکھائی
بیس لاکھ کی مالیت کا بریسلیٹ وہ ایک سیکنڈ میں 50 ہزار کے لئے اتارنے کو تیار تھی
تو پھر میں آپ کو کیا دوں جس سے آپ کو یقین ہو جائے کہ میں یہ پیسے آپ کو واپس دے دوں گی ۔احساس اسے دیکھتے ہوئے بولی جب کہ اندر ہی اندر اسے اس طرح سے دیکھ کر کھول اٹھی تھی وہ اسے اتنا بھوکا ٹائپ کبھی بھی نہیں لگا تھا
تم ایسا کرو ان پیسوں کے بدلے تم روز میرا ایک کام کر دیا کرو تین ماہ تک
مجھے منظور ہے احساس بنا سوچے سمجھے بولی جبکہ اس کے انداز پر وہ پھر سے مسکرایا تھا
گڈ تمہیں ایسے ہی میری ساری باتیں ماننی چاہیے خیر تمہیں روز مجھے کس کرنا ہوگا وہ اسے شاباشی دیتے ہوئے بولا جب کہ اس کی بات سننے کے بعد احساس کا منہ کھل چکا تھا
تمہارا تین ماہ کا وقت آج سے سٹارٹ ہو رہا ہے ۔
وہ مسکراتے ہوئے اس کے قریب آیا
مجھے یہ شرط منظور نہیں ہے وہ احتجاج کرتے ہوئے بولی
دیکھو اب تم منظور کر چکی ہواب کچھ نہیں ہو سکتا اسی لئے کہتا ہوں پہلے بات کو ٹھیک سے سنا کرو پھر قبول کیا کرو چل اب زیادہ ٹائم نہیں ہے میرے پاس
یا تو پیسے یہاں واپس رکھ دو یا میری شرط کو قبول کرو
اس کے انداز سے وہ یہ تو اندازہ لگا چکا تھا کہ زارا کو پیسوں کی جلدی ضرورت ہے اسی لیے وہ پیسے چھوڑ کر نہیں جانے والی تو کیوں نہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھا لے اب اتنا حق تو اس کا بنتا تھا
زارا انتظار کر رہی ہے وہ اسے اپنے قریب آتی دیکھ کر بولی
کوئی بات نہیں انتظار کا پھل میٹھا ہوتا ہے اسے انتظار کے پھل میں پچاس ہزار ملے گے
وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے اسے کھینچ کر اپنے قریب کر چکا تھا اور پھر بنا اسے مزاحمت کا موقع دیئے وہ اس کے نرم و نازک لبوں پر جھک گیا
اس کے لبوں پر اپنے محبت کی مہر ثبت کرتے ہوئے وہ پیچھے ہٹا اور اسکا سرخ چہرہ دیکھنے لگا
اب تم یہی بیٹھی رہی تو میں اپنا شوہر والا حق بھی آج ہی وصول کرتے ہوئے ایک بار پھر سے تمہارے قریب آ جاؤں گا کیونکہ یہ تو میرے پچاس ہزار کی قیمت ہے شوہر کا حق تو میں کبھی بھی کہیں پر بھی وصول کر سکتا ہے
وہ آنکھ دباتا ہوا ایک بار پھر سے اس کے قریب آیا جب کہ اسے ایک بار پھر سے اپنے قریب آتا دیکھ کر احساس نے فوراً گاڑی کا دروازہ کھولا اور باہر نکل گئی
جبکہ وہ اسے اس طرح سے بھاگتے دیکھ کر مسکرایا تھا
❤
ذاوق کسی قیمت پر احاس اس کو طلاق نہیں دیےگا
عائشہ پیپرز ایک طرف پھینک کر اٹھ کر جانے لگی
وہ کون ہوتا ہے میری بچی کو طلاق نہ دینے والا غلطی ہوگئی ہم سے جو اس کے ساتھ نکاح کر دیا لیکن اب مزید نہیں میں یہ غلطی دہراؤں گا نہیں بلکہ اپنی بیٹی کی شادی کسی بہت امیر انسان سے کر آؤں گا اسے کہو کہ جلد سے جلد میری بیٹی کو فارغ کریں رحمان غصے سے بولے۔
رحمان کیا ہوگیا ہے آپ کو اب تو وہ مکان بھی آپ کے نام کرنے کو تیار ہے ساری جائیداد دینے کو تیار ہے پھر کیوں آپ یہ سب کچھ کر رہے ہیں اب طلاق ضروری تو نہیں وہ آپ کی شرط مان تو رہا ہے عائشہ نے سمجھاتے ہوئے کہا
اب نہیں چاہیے مجھے اس کا یہ مکان اور اس کی وہ دولت کچھ نہیں چاہئے مجھے زاوق شاہ کا
کیونکہ اب میرے پاس اس گھر اور راوق کی دولت سے بھی زیادہ پیسہ ہو گا اتنا امیر شخص ہے دولتمند کرورروں ربوں کا مالک اس کے سامنے تو زاوق کچھ بھی نہیں ۔
وہ چاہے تو کھڑا کھڑا پورا ملک خرید سکتا ہے
ارے صرف حق مہر میں کروڑوں دے گا
بدبخت عورت سوچ اپنی بیٹی کے بارے میں ایش کرے گی رحمان اسے سمجھاتے ہوئے بولا
ہماری بچی کو ایش نہیں کرنی اس زاوق کے ساتھ ایک آسان زندگی گزارنی ہے خدارا آپ یہ ضد چھوڑ دیں
عائشہ اسے سمجھاتے ہوئے بولی
بند کر اپنی بکواس میں اتنی کروڑوں عربوں کی جائیداد چھوڑ دوں صرف اس کے لیے اتنا بے وقوف نہیں ہوں میں وہ میری بیٹی ہے اور میں جہاں چاہوں گا اس کی شادی کروں گا کوئی مجھے روک کر دکھائے آج گھر آئی گی تو احساس سےکاغذات پر سائن لے لوں گا
اور ایک بار طلاق نامے پر سائن ہو جائے تو دنیا کی کوئی کوٹ کوئی کچہری ان کی طلاق اور روک نہیں سکے گی وہ اپنے ارادے بتاتا ہوں آکر سے باہر نکل گیا جب کہ عائشہ بہت پریشان ہو چکی تھی
❤
دیکھو یہ لو پیسے اور پلیز تصویریں ڈیلیٹ کر دو ذارا نے ہاتھ باندھتے ہوئے اس کی منت تھی
ارے زارا ڈارلنگ تم نے تو کہا تھا کہ میرے پاس پیسے نہیں ہیں مطلب ہم سے ہوشیاری جانتی نہیں ہو کیا کہ اگر یہ تصویر تمہاری ہم نے آگے پہنچا دیں تو تمہیں کتنا نقصان ہوگا
ذرا سوچو یہ تصویریں اگر میں نے تمہارے باپ یہ تمہارے بھائی کو دے دیں وہ تو تمہارا قتل ہی کردیں گے
ایسے کیسز میں کوئی یہ دیکھنے کی غلطی نہیں کرتا کی تصویر اصلی ہے یا فیک اور یہ سب کچھ جاننے کے بعد بھی تم نے ہم سے جھوٹ بولا کہ تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں
اسی لئے صرف پچاس ہزار مانگیں ہم نے تم سے۔ لیکن اب تمہیں ان تصویروں کو ہم سے ڈیلیٹ کروانے کے لیے تمہیں ہمہیں ایک لاکھ روپیہ دینا ہوگا
آخر تم نے ہم سے پیسے چھپا کر رکھے ہوئے تھے
میں نے کچھ نہیں چھپایا یہ تو میں نے احساس سے لئے ہیں دیکھو میرے پاس اور بالکل بھی پیسے نہیں میں نے ان کا بھی بہت مشکل سے انتظام کیا ہے پلیز تمام تصویریں ڈیلیٹ کر دو
زارا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا دو ماہ پہلے کالج میں ہونے والی پارٹی میں زارا نے بہت ساری تصویریں بنوائی تھی لیکن اسے یہ اندازہ ہرگز نہ تھا کہ ان تصویروں کو اس طرح سے استعمال کیا جائے گا
کچھ بے ہودہ قسم کی تصویروں پر زاراکی جھوٹی فوٹو لگا کر اسے بلیک میل کیا جارہا تھا اور یہ کرنے والے کوئی اجنبی نہیں بلکہ اسی کے کلاس کے دو لڑکے تھے جس کی وجہ سے زیادہ بہت پریشان تھی
پہلے تم لوگوں نے بیس ہزار کا کہا جس کا انتظام میں نے بہت مشکل سے کیا تھا پھر تم نے پچاس ہزار مانگے وہ بھی میں نے جیسے تیسے کر کے دے دیے اب پلیز تصویریں ڈلیٹ کر دو میرے پاس مزید کوئی پیسے نہیں ہیں زارا نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا لیکن سامنے کھڑے دونوں لڑکے اس کی حالت پر ہنسے جارہے تھے
ایسے کیسے بس کردے بے بی تم تو سونے کا انڈا دینے والی مرغی ہو ایسے ہی تھوڑی نہیں جانے دیں گے
ابھی تو یہ شروعات ۔۔۔۔
چٹاخ۔ ۔۔۔اس کے الفاظ ا منہ میں ہی دھرے رہ گئے جب شام کا زور دار تھپڑ اس کے منہ پر لگا
کون سی شروعات ہاں کس بات کی شروعات ہے تیرے اپنے گھر میں ماں بہن نہیں ہے کیا بے غیرت انسان
تم جاؤ یہاں سے اس نے ایک اور زور دار تھپڑ اس لڑکے کو مارتے ہوئے زارا کو جانے کا اشارہ کیا
لیکن سر میرے فوٹوز ۔۔۔۔۔
میں نے کہا جاؤ یہاں سے شام نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا تو وہ نظر جھکا گئی
پر فوراً وہاں سے اپنی کلاس کی طرف چلی گئی
❤
احساس کو آتے ہی بابا نے اپنے کمرے میں بلا لیا
تو فورا ہی چینج کر کے سب سے پہلے بابا کے کمرے میں چلی گئی ماما تو گھر پہ نہیں تھی پڑوس کی آنٹی کی طبیعت زیادہ خراب ہو جانے کی وجہ سے وہ انہیں دیکھنے چلی گئی تھی
آبیٹا اندر آ جا اسے دروازے پر کھڑا دیکھ کر بابا نے مسکراتے ہوئے اسے اندر بلایا
جی بابا آپ نے بلایا مجھے ان کے قریب بیٹھتے ہوئے بولی
ہاں یہ کام تھا ان پیپرز پر سائن کردے بڑے ضروری کاغذات ہے تیرے سائن چاہیے ان پر
بابا نے پیپر سامنے کرتے ہوئے کہا
بابا یہ کس چیز کے پیپرز ہیں ۔۔۔بیوٹیشن کلاس کا ایڈمیشن فارم اس نے پیپر اپنے ہاتھوں میں لیتے ہوئے پیپر پر لکھی تحریر پڑھی
ہاں بیٹاتو نح کہا تھا نہ کہ بیوٹیشن کا کورس کرنا چاہتی ہے اس کے پیپرز لینے گیا تھا میں
بس جلدی سے ان پر سائن کر دے تاکہ میں جمع کراوں پھر جلدی ہی تیرے پیپر شروع ہوجائیں گے اور اس کے بعد گھر پہ فارغ بیٹھنے سے بہتر ہے کہ تو کچھ سیکھ لے ویسے بھی تو لڑکیوں کو بڑا شوق ہوتا ہے نا یہ کورس کرنے کا
رحمان نے پینسل کے ہاتھ میں پکڑ آتے ہوئے کہا
اس سے پہلے کہ وہ ان پر سائن کرتی کسی نے اس کا ہاتھ تھام لیا
اپنے سامنے عائشہ کو کھڑے دیکھ کر وہ اس کا چہرہ دیکھنے لگی
ؓماما بابا بیوٹیشن کورس کے پیرز لائے تھے میں وہی سائن کر رہی تھی احساس نے مسکراتے ہوئے بتایا لیکن عائشہ نے اس کے ہاتھوں سے پیپرز لے کر دو ٹکڑوں میں تقسیم کر دیے
ماما آپ نے کیا کیا احساس انہیں حیرانگی سے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
جب کہ وہ غصے سے رحمان صاحب کو دیکھ رہی تھی
بالکل صحیح کیا ہے میں نے احساس یہ پیپرز کسی بیوٹیشن کورس کے نہیں تیری اور زاوق کی طلاق کے ہیں تیرے بیوٹیشن کورس کے نام پر جو صرف تیرے بابا دکھاوے کے لیے لائے ہیں یہ دھوکے سے تمہاری اور زاوق کی طلاق کروانا چاہتے تھے
اگر میں وقت پہ نہ آتی تو نہ جانے کیا ہو جاتا ۔
عائشہ نے رحمان صاحب کو گھورتے ہوئے احساس کو ساری بات بتائی
تو وہ بے یقینی سے اپنے باپ کو دیکھنے لگی
ہاں تو کیا غلط کر رہا ہوں میں ایک اچھی زندگی کے لیے یہ قدم اٹھانا بہت ضروری ہے
اب کیا ساری زندگی میں اس آدمی کے ساتھ اپنی بیٹی کو باندھ دوں جس کا اپنا نہ کوئی بھروسا ہے اور نہ ہی اس کی زندگی کا
مجھے میری بیٹی کے لیے ایک ایسا انسان چاہیے جو اسے ہمیشہ خوش رکھے
ہر حالات میں اس کے ساتھ رہے پیسے دولت کسی چیز کی کمی نہ ہو میری بیٹی کو ۔رحمان بنا شرمندہ ہوئے بولے
لیکن اب کیوں رحمان اب تو وہ آپ سب کچھ دینے کو تیار ہے یہاں تک کہ اپنے ماں باپ کی آخری نشانی تک آپ کے نام کرنے کے لیے تیار ہے۔ پھر ۔۔۔۔
نہیں چاہیے مجھے اب چھوٹا سا گھر اب تو میں حویلی لوں گا حویلی ۔ رضوان مرزا کو میری بیٹی پسند آگئی ہے اور وہ اس سے نکاح کرنا چاہتا ہے رضوان مرزا کوئی چھوٹا موٹا نام نہیں ہے ارے مہرانی بنا کر رکھے گا میری بیٹی کو اور کہاں ہم اس زاوق کے پیچھے پڑے ہیں
رحمان صاحب ابھی نہ جانے کیا کیا اور کہتے کہ عائشہ نے موبائل نکالتے ہوئے زاوق کا نمبر ملایا
وہ بہت کم اسے فون کیا کرتی تھی ۔عائشہ کا فون آتا دیکھ کر زاوق مسکرایا
السلام علیکم امی جان کیسی ہیں آپ ۔۔۔؟زاوق نے سارا کام کاج چھوڑتے ہوئے سب سے پہلے عائشہ کا فون اٹھایا
زاوق آکر اپنی امانت لے جاؤ ابھی اور اسی وقت میں احساس کی رخصتی کرنا چاہتی ہوں۔
سب کچھ ٹھیک تو ہے امی جان ان کی بات سن کر وہ حیران ہوا تھا
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہے جو میں نے کہا ہے تم کرو عائشہ نے کہتے ہوئے فون بند کر دیا جب کہ وہ حیرانگی سے اپنے فون کو دیکھنے لگا
یہ تم ٹھیک نہیں کر رہی عائشہ اپنی بیٹی کے ساتھ کیسے زیادتی کر سکتی ہو تم ۔۔۔رحمان غصے سے بولے
زیادتی اس کء ساتھ تب ہوگی جب میں زاوق کے ساتھ دھوکے سے اس کی طلاق کروا دوں۔ نا تو میں ایسا کروں
گی اور نہ ہی میں ایسا کچھ ہونے دوں گی تھوڑی ہی دیر میں زاوق یہاں آنے والا ہے بہتر ہوگا کہ اچھے باپ کی طرح اپنی بیٹی کو رخصت کر دیں ورنہ احساس ویسے بھی اس کے نکاح میں ہے وہ۔اسے لے جانے کا حق رکھتا ہے
عائشہ اس کے غصے سے ڈرے بغیر بولی اور احساس کا ہاتھ تھام کر اسے دوسرےکمرے میں لے گئی
❤
اسلام علیکم دوستو آج اس ناول کی 15 قسطیں ہو چکی ہیں اور میری ہمت دیکھیں کہ ان پندرہ کے دنوں میں میں نے آپ کو روز قسط دی ہے لیکن ابھی تک یہ نہیں کہا کہ اتنے لائیکس آئیں گےتو نیکسٹ دونگی ۔
اور آپ لوگوں کو بھی توفیق نہیں ہوئی کہ جو جو بڑھتا ہے وہ لائک کریں مطلب کے پیج ریچ میں چالیس ہزار لوگ آتے ہیں لیلن لائیک پوسٹ پر تو کوئی نہیں آتا ناول کی پہلی قسط 3 ہزار لائک اور اس کے کسی پر 24 کسی پر پچیس سو اور غلطی سے قسط لیٹ ہوجائے یا تھوڑا شارٹ آ جائے تو کمنٹ میں وہ لوگ جو لائیک کرتے ہی نہیں شارٹ کا کمنٹ کرنا اپنا حق سمجھتے ہیں ۔نہیں نہیں میں کوئی شکایت نہیں کر رہی اور نہ ہی مجھے اس بات کا برا لگ رہا ہے میں یہ بتا رہی ہوں کہ اس ناول میں آپ لوگ جتنے چاہے لائکس کریں مجھے کوئی مسئلہ نہیں لیکن انتہائی عشق جب فرسٹ اگست سے شروع ہوگا تو میں ڈیمانڈ کروں گی اور پھر وہاں لمبے لمبے لیکچر کسی نے کمنٹ کیے تو اس کو بلاک کر دوں گی یہ ہمارا حق ہے جو آپ دینے میں کنجوسی کرتے ہیں تب آپ کو لمبی لمبی تقریریں یاد آ جاتے ہیں اور جب لائکس کی باری آتی ہے تب آپ کا انگوٹھا دکھنے لگتا ہے اب یہ مت سوچنا کے سب کو کہہ رہی ہوں صرف ان لوگوں کو کہہ رہی ہوں جو پڑھ کر لائک نہیں کرتے کچھ دن پہلے ایک ریڈر نے مجھ سے کہا کہ آپی میں نے آپ کے ہر ناول کا معاوضہ ادا کیا ہے میں نے آپ کے ہر ناول کی قسط لائک کرنے کے بعد میں پڑھی ہے میں نے کچھ بھی مفت میں نہیں لیا آپ سے اس وقت مجھے یہ بات بری لگی تھی لیکن جب بات تو سمجھ آئی تو لگا کہ یہ لڑکی تو بالکل ٹھیک کہہ رہی تھی کسی کو بھی فری میں میرا نام پڑھنے کا کوئی حق نہیں اگر پڑھتے ہو تو لائک کرو معاوضہ ادا کرو مفت میں پڑھ کر چلے نہ جایا کرو

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: