Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 14

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 14

–**–**–

احساس بہت عجیب سی کشمکش میں تھی
ایک طرف اسکا باپ تھا دوسری طرف اس کا شوہر وہ اپنے باپ کی مرضی کے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھانا چاہتی تھی وہ تو اس رشتے میں اپنے والدین ماں باپ دونوں کی رضامندی چاہتی تھی
بابا ماما دور کمرے میں لڑرہے تھے جبکہ ماما نے اسے کمرے میں بھیجتے ہوئے یہ کہا تھا جاکر تم تیاری کرو
میں تمہیں ایک دلہن کی طرح اس گھر سے رخصت کرنا چاہتی ہوں
ما ماکے کہنے پر وہ اپنے کمرے میں آ گئی ان کی کمرےسے ابھی بھی آوازیں آ رہی تھیں
آج وہ اپنے ماں باپ کی لڑائی کی وجہ بن گئی تھی
اس کا باپ چند پیسوں کے لیے اس کی زندگی مشکل میں ڈالنے کو تیار تھا
وہ آدمی احساس کے باپ کو گاڑی بنگلہ اور نہ جانے کیا کیا دینے کا وعدہ کر چکا تھا جس کی وجہ سے اس کے باپ نے لالچ میں آتے ہوئے اس کی شادی اس کے ساتھ کرانے کا فیصلہ کیا
اس رخصتی میں اس کے باپ کی مرضی شامل نہیں تھی لیکن اس کی ماں اسے دلہن کی طرح رخصت کرنا چاہتی تھی اس کی ماں کی کچھ خواہشیں تھیں جنہیں وہ اس طرح سے ادھورا چھوڑ کر نہیں جا سکتی تھی
لیکن باپ کی مرضی کے بغیر اس طرح سے تیار ہوتے ہوئے بھی اسے بہت عجیب لگ رہا تھا
ابھی بھی اپنے کمرے میں سامان پیک کرنے کے بعد تیاری کر رہی تھی جب دروازے کی بیل بجی یقینا وہ آ چکا تھا
اس میں کوئی بہت شوخ تیاری نہ کی تھی بس سادہ سا سرخ رنگ کا سوٹ پہنا تھا اس کے ساتھ ایک کافی بھاڑی کام جالی کا ڈوپٹہ تھا
وہ اپنا بیگ اٹھا کر خاموشی سے باہر چلی آئی
❤
میں اپنی بیٹی کی رخصتی نہیں کروں گا خبردار جو تم نے میری بیٹی کو ہاتھ بھی نہ لگایا وہ غصے سے آگے بڑھتے ہوئے بولے
آپ روکیں گے مجھے ۔۔۔وہ گھورتے ہوئے بولا جیسے کہہ رہا ہواگر دم ہے تو روک لو
وہ میری بیوی ہے اللہ کے سوا اس دنیا کی کوئی طاقت اسے مجھے یہاں سے لے جانے سے روک نہیں سکتی
پلیز راستے سے ہٹائیں میں بہت ضروری کام چھوڑ کے آیا ہوں ۔
آپ کی فضول بحث اور تکرار میں اپنا قیمتی وقت ضائع نہیں کر سکتا امی جان احساس کو بلایں وہ انہیں اگنور کرتے ہوئے بولا ۔
ایک باپ کی مرضی کے بغیر تم اس کی بیٹی کی رخصتی نہیں کر سکتے یہ کسی کتاب میں نہیں لکھا وہ غصے سے بولے
اگر باپ اپنی بیٹی کا سودا کرنے پر آجائے تو ایک ماں حق رکھتی ہے اپنی بیٹی کی زندگی کا بہترین فیصلہ کرنے کا عائشہ اس کے سامنے ڈال بن کر کھڑی ہو گئی
احساس کو یہاں سے لے جاؤ وہ زاوق کو دیکھتے ہوئے بولی
یقین کرے مجھے آپ کی اجازت کے علاوہ موجود کسی کی اجازت درکار نہیں ہے
وہ ایک نظر رحمان صاحب کو گھورتا کمرے کی طرف جانے لگا تبھی احساس باہر آئی
سادہ سے سرخ جوڑے میں سیٹ جالی کا سرخ دوپٹہ کیے وہ دلہن تو نہیں لیکن دلہن سے کم بھی نہیں لگ رہی تھی
جیسے زاوق نے سوچا تھا بالکل سادہ سی بنا کسی آزائش کے بھی وہ قیامت ڈھا رہی تھی۔
زاوق نے مسکرا کر ایک نظر اس کے چہرے کو دیکھا اور اس کا ہاتھ تھام کر عائشہ کے سامنے لے آیا جس کے گلے لگ کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رودی
جبکہ رحمان صاحب اپنی ہر کوشش کو ناکام ہوتے دیکھ کر اپنے کمرے میں چلے گئے
جب کہ وہ آنسو بہاتی ہے اپنی ماں کی دعاوں کے سہارے زاوق کے کندھے کا سہارا لیتے رخصت ہو چکی تھی
❤
آج وہ بے انتہا خوش تھا اور اپنی یہ خوشی وہ احساس کے ساتھ شئیر کرنا چاہتا تھا لیکن احساس کو اس قدر اداس دیکھ کر وہ کچھ بھی نہ بول پایا سفر خاموشی میں کٹ گیا
وہ ہر تھوڑی دیر کے بعد اس کے چہرے کو دیکھتا جہاں باپ کا ساتھ نا پانےکا غم تھا
وہ بھی اس کے درد میں برابر کا شریک تھا وہ بھی اس کے اپنے تھے
بے شک دولت کے لئے ہی سہی لیکن رحمان نے ایک باپ کی طرح اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا وہ دل سے ان کی عزت کرتا تھا اور احساس کے والد ہونے کی وجہ سے وہ انہیں اپنے والد کے مقام پر رکھتا تھا
لیکن ان سے اسے یہ امید نہ تھی کہ وہ اپنی بیٹی کے ساتھ اس طرح سے کریں گے
اس سے ان کی حرکت پر غصہ تو بہت آیا لیکن اس نے انہیں کچھ نہیں کہا تھا وہ ان کی بیٹی تھی اس کے بارے میں بہتر سوچنے کا وہ حق رکھتے تھے
لیکن اب نہیں کیوں کہ اب وہ زاوق کی بیوی بھی تھی وہ کیسے اسے دھوکے میں رکھ کر پیپر سائن کروانے کی کوشش کر رہے تھے ۔
یہ بات اسے عائشہ نے بتائی تھی اگر وہ غلطی سے بھی ان پر سائن کر دیتی توزاوق کا تو سب کچھ لٹ جاتا
لیکن اس سب کے باوجود بھی اس نے بہت ہمت اور حوصلے سے کام لیا تھا وہ رحمان صاحب کے ساتھ کوئی بدتمیزی نہیں کرنا چاہتا تھا
اسی لئے خاموشی سے گیا اور اپنی احساس کو اپنے ساتھ لے آیا بنا کسی سے کچھ کہے
وہ رحمان صاحب سے بالکل ملنا ہی نہیں چاہتا تھا لیکن پھر بھی ان کے راستے میں آئے جسکی وجہ سے وہ کچھ حد تک ان کے ساتھ بدتمیزی کر گیا تھا
لیکن اس کے لئے بھی انہوں نے ہی اسے مجبور کیا تھا
❤
سر میں نے ساری انفارمیشن نکال لی ہے آپ کا سارا پیسہ پاک آرمی سب کر چکی ہے
کراچی میں جتنے بھی کالجز ہیں جہاں ہمارے لوگ ہیں فل لوگوں نے سب سے بڑے کالج کو ٹارگٹ کیا تھا ہر کالج میں چار لوگوں کی ٹیم ہے جو صرف اور صرف آئی ایس آئی والوں کے لیے کام کر رہی ہے
ان لوگوں کا مقصد ڈرگز کو ختم کرکے جوان نسل میں نشہ ختم کرنا ہے
یہ ٹوٹل چار ٹیمیں ہیں جو کہ کراچی کے چار بڑے کالجز میں موجود ہیں سب سے بڑی ٹیم کا لیڈر زاوق حیدر شاہ تھا ۔
جس کی ٹیم میں شام حجاب اور زائم شامل ہیں۔شام کے بارے میں پتا کروایا ہے ہم نے اس کی کوئی فمیلی نہیں ہے جب کہ حجاب اور زائم کا ایک بیٹا بھی ہے
سر اگر آپ کے ہیں تو بچے کو اٹھا لیں سدرہ اس کے سامنے بیٹھتے ہوئے بولی جب کنگ نے نفی میں سر ہلایا
مجھے میرا پیسہ واپس چاہیے اور اپنا پیسہ واپس حاصل کرنے کے لئے مجھے درخت کے پتوں کو نہیں بلکہ جڑروں کو پکڑنا ہوگا ۔
ان کے گروپ کا لیڈر زاوق ہے جس کی کمزوری کو میں جڑ سے پکڑ چکا ہوں اب بس اکھارنا باقی ہے کنگ نے ایک بلندقہقہ لگاتے ہوئے کہا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: