Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 15

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 15

–**–**–

اندھیرا دھیرے دھیرے چھا رہا تھا ابھی شام اپنے گھر واپس جا رہا تھا
جب اچانک اسے سڑک کے کنارے زارا کھڑی نظر آئی
ذارا اس وقت یہاں کیا کر رہی ہے وہ حیرت سے سوچتا ہوا گاڑی کو آگے بڑھا کر اس کے سامنے لے آیا
ویسے تو آج کل اسے ہر طرف زارا ہی نظر آتی تھی ۔لیکن اس وقت اسے زارا کے ساتھ ایک اور لڑکی بھی کھڑی نظر آئی اور کچھ فاصلے پر ایک ڈرائیور گاڑی ٹھیک کرنے میں مصروف تھا
دونوں کے چہرے کے تاثرات اکتایت سے بھرپور تھے
شام نے گاڑی ان کے سامنے روکی اور دوسری طرف سے گاڑی کا شیشہ کھولتے ہوئے اپنے دل کے جذبات کو کنٹرول کیا اور ذرا سے جھک کر زارا سے یہاں رکنے کی وجہ پوچھنے لگا
خیر وہ تو اس کے سامنے تھی کہ گاڑی خراب ہوچکی ہے جس کی وجہ سے وہ یہاں سڑک کے کنارے کھڑی ہے لیکن پھر بھی زارا سے بات کرنے کا کوئی نہ کوئی بہانہ تو چاہیے تھا
شام سر کیسے ہیں آپ ذارا نے مسکراتے ہوئے کہا دو دن پہلے جب شام نے اس لڑکے کے موبائل سے اس کی ساری تصویریں ڈیلیٹ کر کے اسے یقین دلایا تھا کہ اب وہ لڑکا اسے بلیک میل نہیں کرے گا وہ اسی دن سے اس کا شکریہ ادا کرنا چاہتی تھی
لیکن اسے موقع ہی نہیں ملا
جی میں یہاں سے اپنے گھر جا رہا تھا ۔آپ کو کھڑے دیکھا تو پوچھنے کے لئے رک گیا سب خیریت ہے نا ۔
جی سر سب خیریت ہے ۔وہ دراصل ہم شاپنگ کے لیے آئے تھے کہ گاڑی خراب ہوگئی
اور ایسی منحوس جگہ ہے یہاں پر سروس بھی نہیں کہ گھر میں فون کرکے ہی بتا دوں ڈرائیور چاچا کب سے گاڑی ٹھیک کرنے کی کوشش کر رہے ہیں لیکن شاید نہیں ٹھیک ہوگی زارا نے مایوسی سے کہا
ارے اس میں پریشان ہونے والی کونسی بات ہے ۔۔۔۔آئیے میں آپ کو آپ کے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں ۔ویسے بھی بہت اندھیرا ہو رہا ہے ۔
تھینک یو سو مچ سر ابھی گاڑی ٹھیک ہو جائے گی زارا نے معذرت کرنا چاہی
اس طرح سے وہ کسی کے ساتھ گھر تو نہیں جا سکتی تھی جب کہ اس کے گھر والوں نے اسے ڈرائیور کے ساتھ بھیجا ہوا تھا
ڈرائیور چاچا ان کے گھر کے بہت پرانے ڈرائیور تھے اور ان کے گھر والوں کے لئے کابل اعتماد بھی
زارا چلو نا گھر چلتے ہیں یار میرے گھر والے انتظار کر رہے ہوں گے ذارا کی سہیلی بولی جو کہ ایسی کے محلے میں رہتی تھی ۔
کچھ ہی دن میں اس کی شادی ہونے جا رہی تھی اور وہ آجکل بازاروں کے چکر کاٹنے میں مصروف تھی
اس وقت وہ بیوٹی پارلر سے آئی تھی ان کی اپوائنمنٹ کافی لیٹ تھی جس کی وجہ سے وہ اتنی لیٹ ہوگئی اور پھر راستے میں گاڑی خراب ہوگئی
ذارا میں کوئی اجنبی انسان نہیں ہوں آپ مجھ پر اعتماد کر سکتی ہیں زارا کا انکار کرنا شام کو بالکل اچھا نہ لگا تھا
نہیں سر ایسی کوئی بات نہیں ہے میں تو بس ۔۔
اگر ایسی کوئی بات نہیں ہے تو میرے ساتھ چلنے میں کیا مسئلہ ہے دیکھیں آپ کی دوست بھی کافی لیٹ ہیں انہیں بھی جلدی گھر پہنچنا ہے اس لڑکی کی باتوں سے اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ اس کی کوئی فیملی ممبر نہیں بلکہ دوست ہے
ذارا نے ایک نظر اپنے ساتھ کھڑی لڑکی کو دیکھا جو اس کی ہاں کی منتظر کھڑی تھی
سارا نے اسے ہاں کا اشارہ کیا تو وہ خوش ہو گئی
وہ بس جلد از جلد گھر جانا چاہتی تھی
ویسے تیرے سر بہت ہینڈسم ہیں وہ گاڑی میں بیٹھتے ہوئے سرگوشی نما آواز میں بولی
ہینڈسم تو ہیں زارا نے خوشی سے کہا
شاٹ اپ تو ایسا نہیں بول سکتی تمہارے ٹیچر ہیں وہ اسے گھورتے ہوئے شرارتی انداز میں بولی تو زارا بھی مسکرا دی
تم بھی اس طرح سے نہیں بول سکتی دو دن میں تمہاری شادی ہے زارا نے بدلہ چکایا
ویسے کیا کر رہی تھی آپ لوگ اس وقت یہاں پر شام نے بات کرنے کی غرض سے کہا
جب زارا ڈرائیور چچا کو اعتماد میں لیتی گاڑی میں آ بیٹھی تھی
وہ دراصل سریہ میری سہیلی ہے آسرا دو دن میں اس کی شادی ہے اسی کے سلسلے میں ہم پالر آئے ہوئے تھے ہماری اپوائنٹمنٹ بہت لیٹ تھی جس کی وجہ سے ہم بہت لیٹ ہو گئے
اور واپسی میں گاڑی خراب ہوگئی شکر ہے کہ آپ مل گئے ورنہ نہ جانے اور کتنی دیر اور وہاں رکنا پڑتا زارا نے مسکراتے ہوئے جواب دیا
شادی بہت بہت مبارک ہو اللہ تمہیں زندگی کی ہر خوشی نصیب کرے اس نے مسکراتے ہوئے سے دعا دی
جبکہ اسرا تھینکس کہتی شرمادی
ویسے اتنی کم عمر میں شادی تمہاری پڑھائی مکمل ہو گئی کیا اس نے آسرا سے پوچھا ۔
سر پرھائی پوری کر کے کیا کرنا ہے مجھے کون سا کوئی جاب کرنی ہے اور بابا کا فیصلہ ہے اور بیٹیوں کا فرض ہوتا ہے کہ اپنے باپ کے ہر فیصلے پر عمل کرے بیٹوں کا تو نہیں پتہ لیکن بیٹیوں کے معاملے میں باپ سے زیادہ نرم دل اور کوئی نہیں ہوتا ۔
باپ اپنی ہر ممکن کوشش کے ساتھ اپنی بیٹی کو دنیا کی ہر خوشی دینے کی کوشش کرتا ہے ۔بدلے میں کیا چاہتا ہے صرف عزت کے ساتھ رخصتی ۔ تو اس میں غلط کیا ہے جو اپنی بیٹیوں کی ہر خواہش پوری کردے کیا اس کی بیٹی اس کے لیے اتنی نہیں کرسکتی
کیا تم اس شخص سے محبت کرتی ہو شام یہ سوال کیوں پوچھ رہا تھا وہ خود بھی نہیں جانتا تھا
نہیں سر میں نے تو ان کو دیکھا بھی نہیں ہے ۔بس بابا کے فیصلے کے آگے سر جھکا دیا اس نے مسکراتے ہوئے کہا
محبت بھی کوئی چیز ہوتی ہے آسرا وہ اس لڑکی کی ہمت دیکھتے ہوئے بولا
میں اکثر سنتی اور پڑھتی ہوں محبتیں باپ کی پگڑی کے سامنے ہار جاتی ہیں ۔
لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا یہ محبتیں باپ کی پگڑی کے نیچے پیدا کیسے ہوتی ہے ۔ باپ کی پگڑی بچانے کے لیے بیٹی نے محبت کو قربان کردیا ۔لیکن مجھے سمجھ نہیں آتا کہ جب یہ محبت پیدا ہوئی تب باپ کی پگڑی کا خیال نہیں آیا
اللہ ہر بیٹی کو ایسی نامحرم محبت سے دور رکھے ۔جو باپ کی پگڑی کے نیچے پیدا تو ہو جاتی ہے لیکن اس پگڑی کو بچانے کے لیے اس ناجائز محبت کی قربانی دینی پڑتی ہے ۔
میرے نزدیک ہر لڑکی کو ایک بات یاد رکھنی چاہیے ۔
تمہارا محرم تمہارا باپ تمہارا بھائی تمہارا شوہر ۔کسی چوتھے انسان کی محبت تمہارے دل میں پیدا ہو کبھی اپنے دل کو اتنا نرم نہ کرو ۔
کیوں کہ اپنے دل کو نرم کر کے ناجائز محبتوں کو دل میں پال کر ان کے بچھڑنے کا الزام باپ کی پگڑی اور بھائیوں کے مان پر لگا دیے جاتا ہے ۔
لیکن جب یہ محبتیں پیدا ہوتی ہیں تب نہ باپ کی پگڑی کا خیال ہوتا ہے اور نہ ہی بھائی کے مان کا ۔
آسرا کی باتوں نے اسے کافی متاثر کیا تھا وہ چھوٹی سی لڑکی کافی گہری باتیں کرتی تھی
انہیں گھر چھوڑنے کے بعد وہ اپنے راستے پر جا چکا تھا ۔
جب کہ زارا اسے اصرار ہی کرتی رہی کہ وہ چائے تک رک جائے لیکن وہ نہیں روکا
لیکن زارا کو آتے آتے بتایا کہ وہ بہت جلد یہاں آئے گا زارا نہ وجہ نے پوچھی تھی اور نہ ہی اس نے بتائی تھی۔
❤
اس نے گھر میں قدم رکھا تو گھر میں بالکل اندھیرا چھایا ہوا تھا ۔زاوق نے اسے اندر جانے کا کہتے ہوئے گاڑی روکنے کرنے چلا گیا اس کا سامان ابھی تک گاڑی میں ہی تھا زاوق نے کہا تھا کہ وہ لے آئے گا
اس نے موبائل کی روشنی سے سوئچ بورڈ ڈھونڈا جو دروازے کے بلکل ساتھ تھا اس نے لائٹ آن کی
‏صاف ستھرا جگمگاتا گھر جیسے وہ اس دن بھی نہیں دیکھ پائی تھی اس دن اس نے یہی سوچا تھا کہ وہ یہ گھر وہ زاوق کے ساتھ دیکھے گی ۔
کیا ہوا احساس تم یہاں کیوں رکی ہو ۔۔۔وہ بھی دروازے کے نزدیک کھڑی تھی جب ؤہ لوٹ آیا
کچھ نہیں بس آپ کے ساتھ اندر جانا چاہتی ہوں آپ کے ساتھ ہی یہ گھر دیکھنا چاہتی ہوں احساس نے مسکرا کر کہا
اس وقت اس کے چہرے پر کوئی مایوسی نہ تھی وہ کچھ حد تک ریلیکس ہو چکی تھی
زاوق نے مسکراتے ہوئے اس کا ہاتھ تھاما
چلو آؤ میں تمہیں یہ گھر دکھاتا ہوں میں جانتا ہوں اس دن بھی تم نے یہ گھر نہیں دیکھا تھا
آئی ایم سوری میں تمہیں اس دن ایسے ہی چھوڑ کر چلا گیا ۔لیکن بہت ضروری کام تھا اگر ضروری نہ ہوتا تو نہیں جاتا وہ اس کا ہاتھ تھام کر اسے گھر کا کونا کونا دکھاتے ہوئے بتانے لگا
آج بھی آپ ضروری کام چھوڑ کر آئے تھے نا میں کوشش کروں گی کہ میں آپ کے کام کے بیچ بالکل بھی نا آؤں مجھے پتا ہے آپ اپنے کام سے بہت پیار کرتے ہیں اور میں چاہتی ہوں کے آپ کا یہ پیار آپ کے کام اور اس وطن کے لیے ہمیشہ بنا رہے ہیں
احساس نے مسکراتے ہوئے کہا تو وہ بھی مسکرا دیا
تھینک یو میری میٹھی سی جان اب اگر اجازت ہو تو کچھ کھا لیں ُُمجھے بہت سخت بھوک لگی ہے احساس کو پتا تھا کہ راستے میں ہوٹل میں اس نے اپنے اور اس کے لئے کھانا پیک کروایا تھا
بھوک تو مجھے بھی بہت سخت لگی ہے آج ہم باہر کا کھانا کھائیں گے.لیکن کل سے کھانا میں گھر پر بنایا کروں گی ۔احساس نے کیچن کی راہ لیتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیا بالکل بھی نہیں جب تک تمہارے پیپر نہیں ہو جاتے تب تک تم گھر کا کوئی کام نہیں کرو گی پیپرز کے بعد جو چاہے کرو اور ویسے بھی کچغمھ عرصے بعد تم بچوں میں بیزی ہو جاؤ گی
وہ مسکراتے ہوئے بول کر اس کے آگے چل دیا جبکہ بچوں کا نام سنتے ہی احساس کے قدم وہیں رک گئے
چہرہ لال ٹماٹر ہو چکا تھا جبکہ زاوق بنا اس کی حالت پر غور کیے آرام سے کھانے کے لئے پلیٹس نکال رہا تھا
کیا ہوا جانم تم وہاں کیوں رک گئی کیا بھوک نہیں لگی زاوق مسکراتے ہوئے بولا جب کہ احساس بنا کچھ بولے اس کے قریب آ بیٹھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: