Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 17

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 17

–**–**–

کالج کے گھر کے بہت نزدیک تھا وہ اکیلے ہی کالج آ چکی تھی جب کہ نہ جانے زاوق کہاں تھا جو ابھی تک نہیں آیا تھا
اس نے آتے ہی سب سے پہلے زارا کو بتایا کہ اس کی رخصتی ہوچکی ہے اور وہ یہاں کالج کے بالکل قریب ہی رہتی ہے ۔
زارا اس کی رخصتی کا سن کر بہت ایکسائٹڈ تھی لیکن جب اس نے پوری بات بتائی تو بہت پریشان ہوگئی اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ رحمان انکل اس حد تک کیسے جا سکتے ہیں وہ تو اپنی بیٹی سے بہت محبت کرتے تھے
وہ زارا سے کبھی بھی کچھ بھی نہیں چھپاتی تھی اسی لیے یہ بات بھی اس نے چھپائی نہیں تھی لیکن پھر بھی یہ نہیں بتا پائی کے اس کا باپ دولت کی لالچ کی وجہ سے اس کی شادی کسی اور کے ساتھ کروا رہا تھا
اس نے بس یہی بتایا تھا کہ وہ زاوق کے ساتھ اس کی شادی پر راضی نہیں ہے ۔
مجھے تمہارے شوہر سے ملنا ہے سب جانے کے بعد زارا کا پہلا جملہ یہی تھا جو سننے کے بعد وہ مسکرائی
ضرور ملاؤں گی بلکہ انہیں دیکھ کر نا تم شوکڈ ہو جاؤں گی
ارے شاکڈ ہی تو ہونا چاہتی ہوں میں ان صاحب کو دیکھ کر آخر دکھتے کیسے ہیں نیچر کیسی ہے میری سہیلی کا دل کیسے چڑایا ایک ایک سوال پوچھوں گی
اور سالی ہونے کے سارے حق بھی ادا کروں گی میرا نیگ بھی دیں گے وہ بڑے آئے چھپا کر رخصت کروانے والے جانتے نہیں ہیں مجھے زارا افضل خان نام ہے میرا زارا اپنی دھن میں بولے جا رہی تھی
جب زاوق کلاس میں داخل ہوا
❤
سر آج تو کوئی ٹیسٹ نہیں تھا زاوق نے کلاس میں داخل ہوتے ہی ٹیسٹ کے لیے کہا تو سارے اسٹوڈنٹس پریشان ہوگئے
آپ لوگوں کو ٹیسٹ کے لیے تیار رہنا چاہیے میں کبھی بھی کسی بھی وقت پیچھے پڑھائے گئے سارے چپٹر کا ٹیسٹ لے سکتا ہوں جیسے آج رہا ہوں
مجھے جاننا ہے کہ یہ سب آپ کو صرف وقتی طور پر سمجھ میں آ رہے ہیں کیا پیپرز میں بھی کچھ کر پائیں گے آپ لوگچلیں اب جلدی سے ٹیسٹ شروع کرتے ہیں ۔زاوق نے ان کے سوال کا جواب دیتے ہوئے بورڈ پر سوال لکھنا شروع کر دیا
جبکہ کچھ سٹوڈنٹس سمجھ بھی نہیں پا رہے تھے کہ یہ سوال کون سے چپٹر کا کون سا فارمولا ہے
بس پتہ تھا تو اتنا کہ آج زاوق کے چہرے پر جو سختی اور غصہ ہے وہ سب پر نکالنے والا ہے
سب اسٹوڈنٹس بہت پریشان تھے اور انہیں میں وہ دونوں بھی بہت پریشان تھی سب کی طرح ان کا بھی وہی حال تھا
جبکہ وہ سوال لکھنے کے بعد حل کرنے کا کہتا ہوا تھوڑی دیر کے لیے باہر جا چکا تھا
سب کو الگ الگ سوال الگ الگ فارمولا سولر کرنے کا کہہ کر وہ نہ جانے کہاں غائب ہو چکا تھا ۔
جبکہ ساری کلاس مایوسی سے ایک دوسرے کا چہرہ دیکھ رہی تھی
❤
سر بہت بڑی گڑبڑ ہو گئی ہے وہ لڑکی جو زاوق حیدر شاہ کے نکاح میں تھی اس کی رخصتی ہو چکی ہے اب اس لڑکی کو غائب کرنا بہت مشکل ہو چکا ہے اب وہ زاوق حیدر شاہ کے گھر پر رہتی ہے
اب ہم اپنے پیسے کیسے نکلوائیں گے سر
حجاب اور زائم بھی اپنا بچہ غائب کر چکے ہیں ۔وہ ہر طرح سے تیار ہو کر ہم پر حملہ کر رہے ہیں
اور اگر ہمارے پیسے ہمیں نہیں ملیں گے ہمارا آگے کیسے پہنچائیں گے
وہی پیسے تو ہم انہیں دینے والے تھے ۔آرڈر بک ہو چکے ہیں چالیس من ڈرگز پاکستان پرائیویٹ جیک کے ذریعے ٹرانسفر کروائی جا رہی ہے
ہم پیسے کہاں سے لائیں گے کہاں سے دیں گے اس آرڈر کی رقم ان لوگوں کو ہمارے پاس تو فلحال کچھ نہیں ہے
جتنا ہے اتنا دے دو باقی میں ان لوگوں سے نکلوانے کی کوشش کرتا ہوں کنگ نے پریشانی سے کہا اسے لگا تھا
احساس کو غائب کرکے وہ اپنا مقصد آسانی سے پانے والے تھے اور اپنے پیسے بھی واپس لینے والے تھی لیکن ایسا نہ ہوسکا
احساس اب زاوق کے گھر پر رہتی تھیں اور زاوق کے گھر پر گھسنا اتنا بھی آسان نہ تھا وہ چیل سے تیز نظر رکھنے والا شخص اپنے چاروں طرف کی نگرانی کرنا ہو اچھے سے جانتا تھا
اور کنگ کو اس وقت اپنے پیسے سے مطلب تھا وہ زاوق سے پنگا لے کر اپنے پیسوں پر رسک نہیں لے سکتا تھا
ابھی تک وہ پیسے ان کے گینگ کے پاس تھے اگر وہ پاکستانی سرکاری خزانے میں جمع ہو گئے تو ان پیسوں کو نکلوانا ناممکن ہو جائے گا
اس لیے اس نے جواب دیا تھا ان تین دنوں میں ہی کرنا تھا
❤
زاوق بہت پریشان تھا بورڈنگ سکول میں حجاب اور زائم کے بچے پر کوئی انجان لوگ نظر رکھے ہوئے تھے
جس کی خبر ملتے ہی اس نے موسی کو سکول سے نکلوا کر غائب کردیا صبح سے لے کر اب تک وہ لوگ اسی کام میں لگے ہوئے تھے
وہ تو شکر تھا کہ وہ مو سی کو وقت پر وہاں سے نکالنے میں کامیاب رہے تھے ور نہ جانے وہ لوگ اس معصوم بچے کے ساتھ کیا کرتے
اسے صبح سے اسی بات کا غصہ تھا ڈرگز اور پیسہ ان لوگوں کے لئے اتنا اہم تھا کہ ایک چھوٹے سے بچے کی جان بھی ان کے سامنے کوئی اہمیت نہیں رکھتی تھی وہ غصے سے اپنے کلاس روم میں واپس آیا جہاں سب لوگ ٹیسٹ دینے میں مصروف تھے
پتا نہیں وہ جو لکھ رہے تھے وہ صحیح تھا یا غلط لیکن اسے دیکھتے ہیں سب الرٹ ہو کر اپنی پنسل کو پیپر پرچلانے لگے
اس نے ایک سٹوڈنٹ کے سامنے سے پیپر اٹھایا اوردیکھنے لگا اوپر صرف ریاضی کے چند الفاظ لکھے تھے اس نے ایک نظر سامنے کھڑے لڑکے کو دیکھا اور پھر آوٹ کہ کر کلاس سے آؤٹ کر دیا
اور پھر اسی لسٹ میں نہ جانے کتنے ہی سٹوڈنٹ کلاس سے آؤٹ ہو گئے ۔
جب احساس کے پاس آیا احساس نظریں نیچے کئے ہوئے اسے اپنا ٹیسٹ دکھا رہی تھی جس پر صرف تین ہی لفظ لکھے تھے
ایک دو تین ۔۔۔
گڈ مس احساس آپ تو بورڈ میں ٹائپ کریں گی وہ اسے غصے سے گھورتے ہوئے بولا
اسی طرح سے وہ کلاس کے سارے سٹوڈنٹ کی اچھی خاصی بےعزتی کر کے آیا تھا
کلاس سے باہر جائیں اور آج کی تاریخ میں 50 ہزار تک گنتی لکھ کر لائیں کیونکہ آپ کالج کے لیول کی سٹوڈنٹ نہیں ہیں سکول کے لیول کی سٹوڈنٹ ہیں
اس نے اس کا پیپر ٹیبل پر پٹختے ہوئے زارا کا پیپر اٹھایا
سر میں باہر جاؤں زارا شاید اپنی بےعزتی سننے کے لیے تیار نہ تھی اسی لیے پہلے ہی بول اٹھی
زاوق نح سکون سے اس کا پیپر اس کے ہاتھ میں پکڑایا اور باہر جانے کا اشارہ کیا
دیکھا میں کیسے بچ گئی بندے کو اپنی قابلیت کا اندازہ خود ہونا چاہیے اس کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے اس کے ساتھ باہر آگئی
جبکہ احساس انچ ہزار تک گنتی لکھنے میں مصروف ہو چکی تھی
کیا زندگی ہے تیری احساس آج ہی تیری شادی ہوئی ہے اور آج تو یہاں بیٹھ کر گنتیاں لکھ رہی ہے ۔آج چھٹی مار لی تو کیا جاتا اب جب گھر جاکے جیجو کو بتائے گی کہ اس ہٹلر نے تیرے ساتھ کیا کیا تو تیرا کتنا مذاق کر آئیں گے کیا کہیں گے ان کی بیوی اتنی نالائق اور وہ خود آرمی آفیسر
زارا اس کے ساتھ بیٹھے اگلے چند صفحے چھوڑ کر1000 سے آگے لکھنے میں مصروف تھی۔
جبکہ احساس اندر ہی اندر خود کو کوس رہی تھی کل تو اس کی شادی ہوئی تھی اسے کالج آنا ہی نہیں چاہیے تھا کم از کم اتنی بےعزتی تو نہیں ہوتی جتنی آج ہوئی تھی آج تو اگلے پچھلے سارے ریکارڈ ٹوٹ گئے
آج تو اس نے یہ بھی بول دیا کہ وہ سکول لیول کی سٹوڈنٹ ہے ۔غلطی بھی اسی کی ہے اسے زاوق کی خواہش کا احترام کرتے ہوئے میتھس لینی ہی نہیں چاہیے تھی
❤
زاوق کا میسج آتے ہی وہ باہر جانے کے لیے اٹھی
اور زارا کو خدا حافظ کہتے ہیں وہ باہر آ گئی موڈ خراب تھا جبکہ اب زاوق کا موڈ ٹھیک ہو چکا تھا
زاوق نے اس کا پھولا ہوا چہرہ دیکھا تو مسکرا دیا
دو منٹ رکو شام فائل دینے آئے گا وہ گاڑی کا دروازہ کھولنے لگی تو زاوق نے کہا
شام سر کو پتہ چل جائے گا ۔۔
اسے سب پتا ہے تمہیں گھبرانے کی ضرورت نہیں وہ اس کی بات کاٹتے ہوئے بولا
کیا بات ہے جانےمن آج موڈ بہت آف ہے اس کا پھولا ہوا چہرہ دیکھ کر وہ اس کی طرف آیا
دور رہیں مجھ سے بالکل بھی بات نہیں کرنی مجھے آپ سے ایسی کیسے اتنا سارا ڈانٹ دیا وہ بھی سب کے سامنے میں کالج لیول کی سٹوڈنٹ نہیں سکول کی سٹوڈنٹ ہوں میں وہ اس کے الفاظ دہراتے ہوئے بولی تو وہ بے اختیار مسکرایا
میری جان تم تو میرے دل کی سٹوڈنٹ ہو۔۔۔۔بہت جلد
تمہیں وہ والے چپٹرپڑھاوں گا جو اگے ساری زندگی کام آئیں گے وہ اس کے سرخ گال کھینچتے ہوئے اس کا ہاتھ تھام کر
اپنے قریب کر چکا تھا
جب کہ احساس آگے پیچھے دیکھتی اسے خود سے دور کرنے میں مصروف ہو چکی تھی
وہ ہر ممکن کوشش سے مزاحمت کر رہی تھی لیکن سامنے زاوق حیدرشاہ تھا جس کے سامنے اس کی مزاحمت کبھی بھی نہ چلی تھی ابھی وہ اس کا روٹھا ہوا انداز انجوائے کر رہا تھا جب کسی نے اسے اپنی طرف کھینچتے ہوئے اپنے نازک ہاتھ سے رکھ کر ایک طمانچہ اس کے منہ پر مارا
جبکہ زاوق حیران اور پریشان نظروں سے سامنے کھڑی نازک لڑکی کو دیکھ رہا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: