Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 18

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 18

–**–**–

اس کے ہاتھ کا تھپڑ کھانے کے بعد اب وہ اسے گھور کر دیکھ رہا تھا جو بنا اس سے ڈرے اس کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالے غصے سے بولنا شروع ہوئی تو چپ ہونے کا نام ہی نہیں لیا
کیا سمجھ کے رکھا ہے آپ نے کہ آپ ٹیچر ہیں تو ہم اسسٹوڈنٹ کے ساتھ کچھ بھی کر سکتے ہیں بہت ہی ڈیسنٹ قسم کے انسان لگتے تھے مجھے آپ لیکن مجھے نہیں پتا تھا کہ آپ اس طرح کے گھٹیا گرے ہوئے انسان ہوں گے
آپ کی ہمت کیسے ہوئی میری دوست کو اس طرح سے ٹچ کرنے کی کیا سمجھ رکھا ہے آپ نے اسے معصوم ہے کچھ نہیں بولے گی جو چاہے کر لیں گے آپ ۔
سوچیئے گا بھی مت اگر میں چاہوں تو ایک منٹ میں سارے ٹیچرز کو یہاں اکٹھا کرکے آپ کی اس گھٹیا حرکت کے بارے میں بتا سکتی ہو ں۔
لیکن نہیں میں ایسا نہیں کروں گی میں یہ سب کچھ ٹیچرز کو نہیں بتاؤں گی بلکہ زاوق شاہ کو بتاؤں گی ۔
شاید کسی آرمی آفیسر سے آپ کا پالا نہیں پڑا ہوگا لیکن اب پڑے گا ۔کہاں ہیں زاوق بھائی بتاؤ مجھے پہلے ان صاحب کی مرمت کرواتے ہیں
وہ غصے سے بولے جا رہی تھی جب شام نے پیچھے سے آ کر اسے چپ کرانے کے لئے ہاتھ باندھے
بس کر جاؤ بے وقوف لڑکی تمہیں کیا لگتا ہے ہم لوگ اتنے برے ہیں جو کسی کو بھی اس طرح اسے ٹچ کرلیں گے ۔جس کا ڈراوا تو اسے دے رہی ہو وہ یزاوق شاہ ہے
میرا مطلب ہے یہی تمہاری سہیلی کا شوہر ہے ۔بنا جانے بنا سمجھے تم نے رکھ کر لگا دیا اس کے مہ پر شام نے اسے سمجھاتے ہوئے کہا تو ذارا نے ایک نظر اٹھا کر زاوق کے چہرے پر دیکھا جہاں اسے غصے میں دیکھ کر وہ ایک بار پھر سے نظریں جھکا گئی
❤
یا اللہ یہ زاوق بھائی ہیں میرا مطلب ہے حیدر سر !!
ہاں سر حیدر ہی میرے شوہر زاوق حیدر شاہ ہے اور یہی بات میں تمہیں بتانے کی کوشش کر رہی تھی لیکن جب تم شروع ہوتی ہو آگے پیچھے دیکھتی کہاں ہو ؟؟
احساس نے منہ بنا کر کہا اس وقت وہ دونوں زاوق کے گھر پر بیٹھے ہوئے تھے جبکہ زاوق اپنے کمرے میں تھا اور شام بھی اس کے ساتھ ہی تھا جب احساس نے اسے پوری بات بتائی تو زارا پریشان ہوگئی
یعنی کہ وہ لوگ ہمارے کالج میں کسی مشن کو پورا کرنے آئے ہیں واو مطلب شام سکریٹ ایجنٹ ہیں کوئی ٹیچر نہیں زاراایکسائیڈ ہو کر بولی تو احساس نے ہاں میں سر ہلایا
واو یار ہمارے کالج میں سیکریٹ ایجنٹ گھوم رہے ہیں اور ہمیں پتا ہی نہیں کتنے نکمے ہیں ہم لوگ
خیر کوئی بات نہیں میں زاوق بھائی سے معافی مانگ لوں گی میں نے بنا سوچے سمجھے ان پہ ہاتھ اٹھایا مجھے لگا وہ تمہارے ساتھ زبردستی کرنے کی کوشش کر رہے ہیں تمہیں ہراس کر رہے ہیں اسی لیے میں نے انہیں تھپڑ مار دیا
وہ شرمندہ سی اس کا ہاتھ تھامے ہوئے بولی جب زاوق کمرے سے باہر آیا
تم نے غلط نہیں کیا زارا ہر لڑکی میں اپنا یا اپنی دوست کا بچاو کرنے کی ہمت ہونی چاہیے
اپنی سہیلی کے لیے تم نے اتنا بڑا قدم اٹھایا یہ کوئی چھوٹی سی بات نہیں ہے
آج تم نے جو کیا وہ قابل تعریف تھا ۔!!
لیکن سر پھر بھی مجھے آپ پر اس طرح سے ہاتھ نہیں اٹھانا چاہیے تھا پتہ ہے کیا میں آگے پیچھے دیکھتی ہی نہیں ہوں جو دماغ میں آتا ہے وہی کرتی ہوں اب آپ کو احساس کے ساتھ اتنا قریب دیکھ کر میں نے بنا سوچے سمجھے آپ پر ہاتھ اٹھایا آئی ایم سوری
وہ سر جھکا کر بولی تو زاوق مسکرایا
کوئی بات نہیں ۔۔مجھے برا نہیں لگا لیکن تھپڑ کافی زورکا تھا ۔اس نے اپنا گال مسلتے ہوئے کہا تو زارا کھلکھلا کر ہنس دی
اب ہمت دکھاؤ تو زور کی ہی دکھانی چاہیے وہ کھلکھلاتے ہوئے بولی ۔
جبکہ اس کے گھر جانے کا وقت ہوتے ہوئے زاوق خوف اسے گھر ڈراپ کرکے آیا تھا
لیکن گھر آتے ہی اسے ایک اور بات بتا چلی گئی اس کا رشتہ آیا ہے اور اس کے پیپرز کے فوراً بعد ہی اس کی شادی کر دی جائے گی
زارا پریشان نہیں تھی یہ فیصلہ اسے ہمیشہ سے اپنے ماں باپ کو دیا ہوا تھا وہ جب چاہے جیسے چاہے اس کی زندگی کا فیصلہ کر سکتے ہیں ۔
لیکن وہ ان لوگوں سے دودنہیں جانا چاہتی تھی ۔وہ ہمیشہ اپنی فیملی کے قریب رہنا چاہتی تھی اتنا قریب کے وہ جب بھی چاہے اپنے والدین سے آکر مل سکے اب پتہ نہیں اس کی یہ خواہش پوری ہونی تھی یا نہیں
❤
سر جی میں نے بہت کوشش کی کہ دونوں کی طلاق ہوجائے لیکن وہ زاوق اور میری بیوی نے مل کر سب کو خراب کر دیا میری بیٹی تو طلاق نامے پر سائن کرنے والی تھی
مجھے معاف کر دیجیے میں آپ کی خواہش پوری نہیں کر سکا ۔
کوئی بات نہیں رحمان انکل اس طرح سے پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے ۔میں اب بھی آپ کو ایک شاندار زندگی دینے کے لئے تیار ہوں ۔میرا مطلب ہے آپ کو گاڑی چاہیے بنگلہ چاہیے سب کچھ ملے گا لیکن اس کے لیے آپ کو میرا ایک کام کرنا ہوگا
عہ انہیں دیکھتے ہوئے مسکرا کر بولا تو رحمان صاحب اسے دیکھنے لگے
کہیں میں آپ کے لیے کیا کر سکتا ہوں
مجھے زاوق حیدر کی بیوی چاہیے فکر مت کیجئے آپ کی بیٹی کو میں کوئی نقصان نہیں پہنچا دوں گا صرف اپنی رقم واپس نکلوآنے کے لئے اس کا تھوڑا سا استعمال کروں گا
دیکھیں میرا سارا بزنس داؤ پر لگا ہوا ہے ۔ زاوق نے دھوکے سے مجھ سے سارا پیسہ لے لیا ہے وہ پاکستان کے سارے بڑے لوگوں کو ٹارگٹ کرکے ان کا پیسہ پاکستانی سرکار ی خزانے میں ٹرانسفر کر دے گا اس سے پہلے مجھے میرا پیسہ واپس چاھیے میں نے سنا ہے کہ وہ اپنی بیوی سے بہت پیار کرتا ہے اس کے لیے کسی بھی حد تک جا سکتا ہے
پلیز میری مدد کریں یقین کریں آپ کی بیٹی کو کچھ نہیں ہوگا بس مجھے میرا پیسہ واپس مل جائے گا اور میں وعدہ کرتا ہوں کہ اس کے بعد میں آپ کو منہ مانگی قیمت دونگا
وہ ان کے ہاتھ تھامتے ہوئے بولا تو رحمان صاحب سوچنے پر مجبور ہو گئے
ایک طرف پیسہ دولت بے شمار تھا اور دوسری طرف ان کی بیٹی کا سوال تھا جس سے وہ بے تحاشہ محبت کرتے تھے لیکن وہ کون سا ان کی بیٹی کو کوئی نقصان پہنچانے والا تھا
یہی سوچتے ہوئے انہوں نے اس کی آفر کو قبول کرلیا اور واپس جانے کے لئے مڑے۔
سر آپ کیا سچ میں اس بڈھے کو اتنا پیسہ دیں گے اور کیا ہم زاوق سے بدلہ نہیں لیں گے ۔ ارسلان نے پوچھا
لینگے ضرور لیں گے اور اس بڈھے کو تو میں پھوٹی کوڑی نہیں دوں گا اور اس زاوق سے بدلہ تو میں اپنے انداز میں لوں گا جس طرح سے اس نے میری کمزوریوں پر حملہ کیا ہے میں اس کی کمزوری پر حملہ کروں گا اس کی بیوی کو جان سے مار کر کنگ کا پیسہ مار کر اس نے بہت بڑی غلطی کی ہے اور اب وہ بہت پچتائے گا ۔
کنگ نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تو ارسلان قہقہ لگا کر ہنس دیا
لیکن فون پر ملنے والی اگلی خبر نے ان کے رونگٹے کھڑے کر دیے تھے
انڈیا سے پاکستان آنے والا بحری جہاز زاوق حیدر شاہ کے ہاتھ لگ چکا تھا جس میں موجود 40من ڈرگس پانی میں بہا کر ضائع کر دی گئی تھی
اس بار نقصان اربوں کا نہیں کھربوں کا ہوا تھا
زاوق حیدرشاہ میں تمہیں زندہ نہیں چھوڑوں گا ۔سفیان مرزادہارتے ہوئے چلایا تھا
❤
اسے یہاں رہتے ہوئے چار دن گزر چکے تھے
زاوق ہر ممکن طریقے سے اس کا خیال رکھتا اور اسے پڑھائی پر دھیان دینے کے لیے زیادہ سے زیادہ کہتا اور خود بھی پڑھائی میں اس کی بہت مدد کرتا تھا
آج زاوق بہت خوش تھا اس کا بہت بڑا مقصد کامیاب ہوگیا تھا
انڈیا سے پاکستان شیفٹ کرنے والی خفیہ ڈرگز کا جہازر پکڑ چکا تھا
اس نے جان بوجھ کر ساری ڈرگز ضائع کی تھی اس نے خود ساری ڈرگز کو سمندر میں بہایا تھا کیونکہ وہ جانتا تھا کہ پاکستان میں بہت سارے ایسے لوگ ہیں جو اندر ہی اندر ایسے گھٹیا لوگوں کے لیے کام کرتے ہیں ۔
اگر وہ سب کچھ ضابط کرتا تو یقینا بہت جلد وہی کوئی نہ کوئی اسے یہاں سے نکلوا کر واپس ان لوگ تک پہنچا دیتا اس لیے اس نے جان بوجھ کر سب کچھ ضائع کر دیا اور بعد میں کہہ دیا کے حملے کے دوران سب کچھ ضائع ہوگیا
ایک اس کی خوشی کی یہ وجہ تھی اور دوسری وجہ یہ تھی کہیں حجاب اور زائم کو شام کے رشتے کی طرف سے اچھی خبر مل چکی تھی
وہ لوگ شام اور زارا کی شادی شام سے کروانے کے لیے تیار تھے
لیکن اسے حیرت اس بات کی تھی کہ زارا کو اس رشتے سے کوئی پرابلم نہ تھی کیا وہ جانتی تھی کہ اس کی شادی شام سے ہونے والی ہے یا وہ انجان تھی ان سب باتوں سے جو بھی تھا شام اس شادی کو لے کر بہت خوش تھا اور اس کی خوشی دیکھ کر وہ بہت خوش تھا
❤
بس میری جان یہ آخری سوال حل کرو پھر سو جانا وہ اسے پیار سے پچکارتے ہوئے پھر سے سوال سمجھانے لگا جب کہ احساس کی آنکھیں نیند سے بھری ہوئی تھی
زاوق مجھے اچھے سے سمجھ آگیا ہے کل ٹیسٹ بہت اچھا ہو گا پلیز اب مجھے سونے دیں مجھے بہت نیند آ رہی ہے وہ منتیں کرنے والے انداز میں بولی
کہہ رہا ہوں کہ یہ آخری سوال جلدی سے حل کرو پھر سو جاؤ وہ تو کب سے اسے پیار سے سمجھا رہا تھا اس کی ضد پر غصے سے بولا تو وہ منہ پھولا کر بیٹھ گئی
میں نہیں بولتی آپ سے جب دیکھے مجھ پر غصہ کرتے رہتے میں جارہی ہوں اپنے گھر مجھے نہیں رہنا آپ کے ساتھ سب بنتاوں گی ماما کو وہ کتابیں ایک طرف رکھتی اٹھنے لگی جب زاوق نے اس کا ہاتھ تھام کر اسے اپنی طرف کھینچا
وہ کسی ٹوٹی ہوِئی ڈالی کی طرح کھینچتی ہوئی اس کے سینے میں آ لگی جب زاوق نے اسے بیڈ پو لیٹتے ہوئے خود اس کے اوپر آ گیا احساس کا دل زور زور سے دھڑکا تھا
یار ایک تو تم روٹھتی بہت ہو کہہ تو رہا ہوں کہ آخری سوال سو جانا پھر پلیز سمجھنے کی کوشش کرو
وہ محبت سے اس کے بال سوار تھے ہوئے اسے اپنے بالکل نزدیک کر چکا تھا
جبکہ اس کی قربت سہتے ہوئے نظر تک نہیں اٹھا رہی تھی
صبح نماز کے وقت سمجھ لونگی پکا وعدہ اور ویسے بھی فریش مائنڈ کے ساتھ زیادہ اچھے سے سمجھ آتا ہے وہ اپنے نیند کا خیال کرتے ہوئے بہت بھی مدھم لہجے میں بولی تو زاوق کو بھی احساس ہوا کہ پچھلے دو گھنٹے سے وہ مسلسل اپنا سر کھپا رہی ہے
جیسی میری جان کی مرضی وہ اس کے ماتھے پر اپنے لب رکھتا اس کی کتابیں سمیٹ کر ایک طرف رکھ کر بیڈ پر لیٹ گیا
اور اس کا سر اپنے سینے میں رکھتے ہوئے اس کے بالوں میں انگلیاں چلانے لگا
جبکہ احساس روز کی طرح اس کے گرد اپنی باہیں پھیلائی اپنی آنکھیں بند کر چکی تھی
کبھی کبھی تمہیں اپنے اتنے قریب دیکھ کر سوچتا ہوں سارے وعدے ارادے ایک طرف رکھ کر سب سے پہلے اپنا حق وصول کروں لیکن پھر سوچتا ہوں ۔!! اس سے پہلے کہ وہ پھر سے کوئی بے باکی شروع کرتا احساس نے چہرہ اس کے سینے سے اٹھاتے ہوئے اس کے لبوں پر ہاتھ رکھ دیا
سو جائے زاوق مجھے بہت نیند آ رہی ہے ۔’ اور اس وقت آپ نے کسی بھی قسم کی کوئی بھی فضول بات کی تو میں کبھی آپ سے بات نہیں کروں گی بلکہ یہ کمرہ بھی چھوڑ کر چلی جاؤں گی وہ نیند سے ڈوبی آنکھیں لیے اسے دیکھ کر دھمکی دینے والے انداز میں بولی تو وہ بے اختیار مسکراتے ہوئے اس کا سر ایک بار پھر سے اپنے سینے سے لگائے سونے کی کوشش کرنے لگا
اس کی باتوں سے اس کا یہی حال ہوتا تھا ۔
کبھی چہرہ شرم کے مارے سرخ تو کبھی غصے کے مارے تپ کر رہ جاتا ۔جب کہ وہ اس کا یہ انداز بہت انجوائے کرتا تھا کچھ ہی دنوں میں اس کی زندگی بہت حسین ہو چکی تھی

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: