Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 2

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 2

–**–**–

کیا مطلب ٹیچر چینج ہو گئے ابھی تو سر خالد کی سمجھ آنا شروع ہوئی تھی پتا نہیں یہ نیو ٹیچر کیسے ہوں گے احساس نے پریشانی سے سوچا
جب بھی کوئی ٹیچر چینج آتا ہے تو اس کا یہی ڈائیلاگ ہوتا ہے ابھی تو ان کی سمجھ آنا شروع ہوئی تھی زارا نے اسے گھورتے ہوئے کہا کیونکہ وہ بھی جانتی تھی کہ احساس میتھس میں بہت کمزور ہے
یہ تو وہ کسی مجبوری کے تحت میتھس لےرہی تھی لیکن یہ مجبوری اس نے زارا کو کبھی نہیں بتائی تھی
‏یار اب کیا ہوگا مجھے بہت ٹینشن ہو رہی ہے پتا نہیں نیو ٹیچر کیسے ہوں گے ۔
احساس نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ رکھتے ہوئے معصومیت سے کہا
ویسے تو کیا چاہتی ہیں کیسے ہو زارا نے اس کے قریب کھسکتے ہوئے پوچھا
مطلب نیو ٹیچر والا گوسپ شروع ہو چکا تھا
کم ازکم ففٹی سے اوپر ہوں نرم مزاج محبت کرنے والے اور پیار سے سمجھانے والے ہو جو کسی کو نہ ڈانٹے کسی کو کلاس سے آؤٹ نہ کریں ۔احساس نے فور نقشہ کھینچا
یار حد ہے کبھی تو کہہ دے کوئی ہینڈسم سا بندہ ہو جسے دیکھتے ہی میںتھس خود بخود سمجھ آنے لگے زارانے اس کا نقشہ خراب کرتے ہوئے بتایا
یہ سب سوچتے رہو اور فیل ہو جاؤ اب تو بس ایک ہی دعا ہے اللہ جی جو بھی آئے اس کی میتھس مجھے سمجھ آ جائے احساس نے دعا مانگتے ہوئے کہا
آمین اللہ اسے سمجھا جائے کیونکہ پیپرز میں میں بھی پاس ہو جاؤں زارا کی دعا نے احساس کو اسے گھورنے پر مجبور کر دیا
یار غ
گھور کیوں رہی ہے اب جس کو بھی سمجھ آیا دوسرے کی مدد ضرور کرے گا نہ اگر ہم دونوں کے فیوچر کا سوال ہے اور میرا تیرا ہے ہی کوب تیرے میرے علاوہ زارا نے خوشامتی انداز میں کہا
جب کلاس کا ایک لڑکا بھاگتے ہوئے اندر آیا ہے نیو ٹیچر آگئے نیو ٹیچر آگئے کہہ کر چیئر پر بیٹھ گیا
زارا اور احساس کلاس کے دروازے کی طرف دیکھنے لگی آخر یہ نیا چہرہ ہے کون ۔۔۔؟
❤
اس نے کلاس میں قدم رکھا تو کلاس کافی بے ترتیب سی لگی
اسے اندر آتے دیکھ کر سارے اسٹوڈنٹ کھڑے ہو گئے
جبکہ دو بدمعاش لڑکے ابھی پچھلے بیٹھے ہوئے تھے
اس نے ساری کلاس کو بیٹھنے کا اشارہ کیا جبکہ دو آنکھیں حیران اور پریشان نظروں سے اسے دیکھ رہی تھی
اس نے ان آنکھوں کی طرف دیکھنا ضروری نہ سمجھا کیونکہ اس کا دھیان سارا پیچھے ان دو لڑکوں پر تھا
آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا ان دو لڑکوں کے پاس آکر رکا
آؤٹ ناؤ وہ ڈسک جھکتا غصے سے چلایا
آواز کم رکھو پروفیسر تم جانتے نہیں ہم کون ہیں لڑکا کھڑے ہوتے ہوئے مغرور انداز میں بولا
تم بھی ابھی نہیں جانتے بچے میں کون ہوں یہ کہتے ساتھ ہی اس نے ایک زور دار تھپڑ سامنے کھڑے لڑکے کے منہ پر دے مارا
جب کہ دوسرے لڑکے کے سامنے آ کر اس نے اس کی شرٹ کو کالرسے پکڑتے ہوئے اس کے سامنے والے بٹن بند کیے تھے
لگتا ہے تم لوگ کبھی سکول نہیں گئے اسی لیے وہاں کی ٹیچر سے سیکھ کر نہیں آئیں کی کلاس میں کس طرح سے بیٹھا جاتا ہے اور کس طرح سے رہا جاتا ہے تم دونوں میرے کلاس میں بیٹھنے کے لائق نہیں ہو آؤٹ ناؤ وہ دروازے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا کلاس کے سب سٹوڈنٹس کا دھیان انہی کی طرف تھا
اتنی بےعزتی کے بعد وہ دونوں کافی زیادہ شرمندہ ہو چکے تھے ۔اس لیے بنا کچھ بولے خاموشی سے وہاں سے نکل گئے
لیکن ان کی نظریں بتا رہی تھی کہ وہ اس بے عزتی کا بدلہ ضرور لیں گے
❤
تو کلاس اب آپ لوگ مجھے ایک ایک کرکے اپنا تعارف بتائیں گے پہلی لائن سے شروع کرتے ہیں اس نے پہلے لائن میں بیٹھے لڑکے کی طرف اشارہ کیا تھا وہ فورا اٹھ کر اپنے گلاسز ٹھیک کرتا اپنا تعارف کروانے لگا
کوئی اس کے ساتھ ہی پیچھے ایک ایک کر کے سارے سٹوڈنٹ اپنا اپنا تعارف کروانے لگے
احساس تیری باری ہے زارا نے اسے اس کی باری پر بیٹھے دیکھا تو اپنا پن چھبویا جس پر فورا اٹھ کھڑی ہوئی
س۔۔۔۔۔سر وہ۔۔۔۔۔۔۔۔ میرا نام۔۔۔۔ احساس ۔۔۔۔۔۔ جانے کیا بات تھی وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا نام نہیں بتا پا رہی تھی
باہر آئیں آپ یہاں سامنے اس نے احساس کو سامنے آنے کے لیے کہا پہلے ہی گھبرائی ہوئی لڑکی مزید گھبرا گئی
جو لڑکی اپنا نام ٹھیک سے نہیں بول سکتی اس سے میں کیا امید رکھوں کہ وہ آگے زندگی میں کامیاب زندگی گزار سکتی ہے
یہاں سامنے کھڑے ہو کر اونچی آواز میں اپنا نام لیں وہ اسے باہر کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا تو احساس گھر آتے ہوئے باہر آگئی
احساس کچھ نہیں ہوتا ہماری اپنی ہی کلاس ہے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے اس کے جانے سے پہلے زارا نے کہا تھا سرگوشی
میرا نام احاس زاوق شاہ ہے
اونچا بولو آواز سے نہیں آئی سر نے اس کی مدہم آواز پر چوٹ کرتے ہوئے کہا
میرا نام احساس زاوق شاہ ہے
مزید اونچا فی الحال بھی آواز ٹھیک سے نہیں آئی سر نے پھر سے کہا
میرا نام احساس زاوق شاہ ہے اس بار وہ خاصی اونچی آواز میں چلا کر بولی
گڈ اپنا نام لیتے ہوئے یہی غرور تمہاری آنکھوں میں ہونا چاہیے کوئی چوری نہیں کی ہے یہ تمہارا نام ہے تمہیں دیا گیا ہے اس پر صرف تمہارا حق ہے اس کو لیتے ہوئے میں تمہیں آئندہ گھبراتے ہوئے نہ دیکھوں اگر تم اپنی ہی چیز کے لیے اس طرح سے ڈرتی رہو گی ۔گھبراتے رہوگی تو یہ دنیا تم سے یہ بھی چھین لے گی
ناؤ گو بیک ٹو یور چیئر۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: