Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 20

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 20

–**–**–

جتنا جلدی ہو سکے زاوق گھر آیا تھا
لیکن باہر واچ مین سے اسے پتہ چل چکا تھا کہ رحمان صاحب احساس کو لے کر جا چکے ہیں
اس وقت غصے سے اس کے ماتھے کی رگیں باہر آنے لگی
اس نے واچ مین کو گربان سے پکڑتے ہوئے جھنجھوڑ کر اپنا غصہ نکالا
صاحب جی وہ بی بی جی کے والد تھے میں انہیں روک نہیں سکتا تھا ۔
اور وہ بہت زیادہ گھبرائے ہوئے اورڈرے ہوئے تھے ۔
مجھے ڈر تھا کہیں کوئی بڑی بات نہ ہو گئی ہو اسی لیے میں نے جانے دیا واچ مین نے اپنی صفائی پیش کرتے ہوئے کہا
جبکہ زاوق فور اپنی گاڑی کی طرف بھاگا تھا اس کا ارادہ سیدھے گھر جانے کا تھا
❤
امی جان خالو کہاں ہیں اس نے گھر میں داخل ہوتے ہیں پہلا سوال یہی پوچھا تھا
بیٹا ہو تو صبح سے گھر سے نکلے ہوئے ہیں کیوں خیریت تو ہے عائشہ نے پریشانی سے پوچھا
کچھ خیریت نہیں ہے وہ احساس کو اپنے ساتھ نہ جانے کہاں لے کر چلے گئے ہیں ۔اور جو رشتہ احساس کے لئے آیا تھا وہ آدمی ہمارے ملک کا غدار ہے اسی لیے اس نے خالو جان کو اس کام کے لیے بہت پیسے بھی دیے تھے ۔
وہ مجھے ٹریپ کرنے کے لئے یہ سب کچھ کر رہا تھا
جب اپنے مقصد میں نہ کامیاب ہوگیا اس نے خالو جان کو اپنی باتوں میں لگا کر احساس کو غائب کر دیا ہے
دیکھیے امی جان وہ شخص بہت خطرناک ہے احساس کو نقصان پہنچا سکتا ہے پلیز سمجھنے کی کوشش کریں وہ اس کی جان ۔احساس کی جان کا سوچتے ہوئے اس کا اپنا دل کانپ کر رہ گیا تھا
وہ کیسے جیے گا اس لڑکی کے بغیر کیسے رہے گا اس کے بغیر اس نے احساس کے بغیر کبھی جینے کا سوچا بھی نہ تھا
دیکھیں پلیز خالو جان سے رابطہ کرنے کی کوشش کریں میں کنگ کے پاس جا رہا ہوں اگر اس نے میری احساس کو ہاتھ بھی لگایا میں اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دونگا
وہ غصے سے کہتا ہے ایک بار پھر سے گھر سے نکل چکا تھا ۔
❤
شام زائم اور حجاب ہر ممکن طریقے سے اس کی مدد کرنے کی کوشش کر رہے تھے لیکن احساس کا کہیں کچھ پتہ نہیں چل رہا تھا ان کے خفیہ آدمی نے بتایا تھا کہ وہاں احساس کا باپ احساس کو لے کر نہیں آیا
اور نہ ہی اس بارے میں کوئی خبر ملی ہے
زاوق کا ارادہ وہاں ریڈ مارنے کا تھا لیکن اس کے لیے اس کے پاس فی الحال لیگل نوٹس نہیں تھا
لیکن ایک طریقے سے وہ وہاں جا سکتے تھے اگر اس رات والےکلب میں موجود لوگو اور اس کے ملک کا اریسٹ وارنٹ ایشو ہو جائے تو ۔۔لیکن اس کام کے لئے بہت سارے لوگ پیچھے لگے ہوئے تھے یہ اتنا آسان نہ تھا سفیان مزرانے پاکستان میں اپنی ایک الگ پہچان بناکے رکھی تھی
سفیان کے نام پر وہ نہ صرف اس کلب کو چلا رہا تھا بلکہ اس نام پر وہ نہ جانے کتنی کمپنیاں بھی چلا رہا تھا وہ پاکستان کا ایک بہت بڑا نام تھا جس پر اس طرح سے ہاتھ ڈالنا اتنا آسان نہیں تھا
لیکن احساس کے بارے میں سوچتے ہوئے زاوق نے اپنے ہیڈ سے بات کرنی چاہیے
اس وقت سے ایماندار لوگوں کی ضرورت تھی جو اس کی مشکل وقت میں اس کے کام آ سکے
❤
زاوق کام ہو چکا ہے ریسٹورنٹ نہ سہی لیکن ہم اس کے گھر کے چیکنگ آرڈرز مل چکے ہیں ۔
شام نے آتے ہی اسے گڈ نیوز سنائی تھی ۔
اور چیکنگ آرڈرز ملتے ہیں وہ وہاں سے نکل کر سیدھا سفیان مرزا کے گھر پہنچے تھے
جانتے تھے یہ اتنا آسان نہیں ہے سفیان مرزا کو انکی آدمی پر پہلے ہی شک ہے
اسے یقین تھا کہ سفیان مرزا کو ان کے یہاں آنے کی خبر بھی پہلے سے لگ چکی ہوگی لیکن ان کے پاس چیکنگ آرڈر تھے جس کی بدولت انہوں نے اس کی کسی بھی آدمی کی پرواہ کئے بغیر ان کے گھر کا چپا چپا چھان مارا تھا سفیان آرام سے صوفے پر بیٹھا ان لوگوں کو یہ سب کچھ کرتا ہوا دیکھ رہا تھا
جب وہ ہر طرح سے ناکامیاب ہوگئے زاوق کے غصے کا پارہ ہائی ہوگیا اس نے ایک جھٹکے سے سفیان مرزا کی گردن پکڑی
احساس کہاں ہے ۔۔۔؟
اس نے غصے سے دھارتے ہوئے پوچھا جب کہ اس کے اس انداز پر سفیان مرزا مسکرا دیا تھا
مجھے پہلے ہی پتہ تھا تم یہاں اس کام کے لیے ہرگز نہیں آئے ۔
لیکن کبھی بیڈکے نیچے کبھی صوفے کے نیچے چیک کرنا کیا تمہاری احساس یہاں پر پڑی ہو گی کہیں ‏کیا
دماغ کا استعمال کرو میجر تمہاری بیوی کو اگر میں اغوا کرتا تب بھی اسے یہاں تو کبھی نہ لاتا ۔سفیان مرزا اپنے اصل انداز میں بولا تھا اس کے سامنے ڈرامہ کرنے کا کوئی فائدہ نہیں تھا وہ اس کی رگ رگ سے واقف تھا
لیکن تمہارے لئے ایک خوشخبری ہے تمہاری بیوی فی الحال میری پہنچ سے دور ہے اور کہاں گئی میں نہیں جانتا لیکن تمہیں بتا دیتا ہوں کہ بہت جلد وہ یہاں ہو گی
اور فی الحال ایک معززانسان کا اس طرح سے گریبان پکڑنا ایک آرمی والے کو سوٹ نہیں کرتا اسی لیے بہتر ہوگا کہ وہ کام کرو جو تمہیں سوٹ کرتا ہے جاؤ اپنی بیوی کو ڈھونڈو
وہ اپنا گربان اس کے ہاتھوں سے چھڑوا تا بے فکر انداز میں بولا تھا
❤
ڈھونڈو اسے آخر کہاں گیا وہ بڈھا خود احساس کو لے کر یہاں آنے والا تھا تو اس طرح سے اچانک غائب کہاں ہو گیا کنگ زاوق کے جانے کے بعد بہت پریشان تھا وہ اپنی منزل تک پہنچتے پہنچتے رہ گیا
آخر رحمان احساس کو لے کر کہاں غائب ہو گیا تھا یہ سوال اس وقت ہر کسی کے ذہن میں تھا
لیکن اس کا جواب کوئی نہیں جانتا تھا
سر مجھے آپ سے ایک بات کرنی ہے اس کے ایک آدمی نے اس کے قریب آتے ہوئے کہا
بولو وہ اسے دیکھ کر پوچھنے لگا
سر اس دن جب آپ نے رحمان سے اپنی بیٹی کو یہاں لانے کے لئے کہا تھا اور اس کے جانے کے بعد آپ اس کی بیٹی کو مارنے کی بات کر رہے تھے نہ تو تب وہ گیا نہیں تھا بلکہ دروازے پر آپ کی ساری باتیں سن رہا تھا
مجھے لگا وہ آپ کا کیا بگاڑا تھا اسی لئے آپ کو بتانا ضروری نہیں سمجھا
چٹاخ۔ ۔آدمی کے بات ابھی پوری ہی نہیں ہوئی تھی کہ کنگ کا ہاتھ اٹھا
بے وقوف آدمی اتنی اہم بات تم نے مجھے بتانا ضروری نہیں سمجھی
ہوگیا اب کام مل گئی وہ لڑکی ہمیں اس کا باپ سب جان چکا ہے اب تک تو زاوق کو بھی سب کچھ بتا چکا ہوگا
کنگ پریشانی سے بیٹھتے ہوئے اپنی پیشانی مسلی
اب نہ جانے کیا ہوگا
❤
وہ ہر جگہ احساس کو ڈھونڈ چکا تھا صبح سے دن ‘دن سے شام اور شام سے رات ہو چکی تھی
لیکن ناجانے اس کی احساس کہاں گئی تھی عائشہ بھی بے حد پریشان تھی اوپر سے اس کی دیوانوں جیسی حالت دیکھ کر اسے سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کریں
وہ بار بار رحمان کے فون پر کال کرنے کی کوشش کر رہی تھی لیکن رحمان کا فون مسلسل بند جا رہا تھا ٹریک کرنے پر پتہ چلا کہ اس کا فون گھر سی ہی بند ہوچکا تھا جب وہ اپنے گھر سے نکلا
فکر مت کرو زاوق احساس جہاں بھی ہوگی بالکل ٹھیک ہو گی وہ اس کا باپ ہے مانا وہ دولت کے لئے کچھ بھی کر سکتا ہے لیکن اپنی بیٹی کی جان کبھی خطرے میں نہیں ڈالے گا
عائشہ خود بھی پریشان تھی لیکن یہ سوچ کر کہ وہ اپنے باپ کے ساتھ ہے ایک تسلی سی تھی دل میں
ایک بار احساس واپس آجائے میں ساری زندگی اس شخص کو احساس کی شکل نہیں دیکھنے دوں گا اس بار اس نے حد کردی امی جان اس بار میں اسے کبھی معاف نہیں کروں گا
اس نے غصے سے کہتے ہوئے اپنا فون نکالا
ارسٹنگ آرڈر ایشو ہوئے اس نے شام سے پوچھا تھا
نہیں زاوق میں ہر ممکن کوشش کر چکا ہوں لیکن کنگ کےا ریسٹنگ آرڈر پاس نہیں کیے جا رہے ہیں
کوئی بات نہیں اب ہم اپنے طریقے سے اس سے احساس اور رحمان کا پتہ کروائیں گے
اس نے فون بند کرتے ہوئے کہا اور اس کا فون بند ہوتے ہی اس نے حجاب اور زائم کو فون کیا تھا زاوق کا اگلا پلان بتانے کے لئے
❤
وہ بالکل بے فکر ہو چکا تھا احساس اس کے پاس نہیں تھی لیکن جہاں بھی تھی نہ جننا آسان تھا رحمان کا پتہ لگانا اس کے لئے مشکل نہ تھا
اگر اس سے پہلے اندازہ ہوجاتا کہ رحمان نے اس کی ساری باتیں سن لی ہے وہ تب ہی رحمان کو ٹھکانے لگا دیتا
لیکن کوئی بات نہیں اس نے اپنے بہت سارے آدمی رحمان کے پیچھے چھوڑ دیے تھے
جو رحمان کا پتہ لگانے کی ہر ممکن کوشش کر رہے تھے اب اس کا ارادہ اس کو یہاں لانا نہیں بلکہ اسے جان سے مارنا تھا ۔
کیونکہ اسے پتہ چل چکا تھا کہ اس کا سارا پیسہ پاکستان سرکاری خزانے میں ایڈ کر دیا گیا ہے اب وہ چاہے کچھ بھی کیوں نہ کر لے وہ پیسہ کبھی واپس نہیں آ سکتا تھا
اور یہ سب کچھ ہوا تھا میجر زاوق حیدر شاہ کی وجہ سے
اسی لئے اب کنگ اس سے بدلہ لینے کے لیے کوئی بھی حد پار کرنے کو تیار تھا اور اس کا بدلہ تب ہی پورا ہونا تھا جب وہ زاوق کے چہرے پر ہار دیکھے اور زاوق کے چہرے پہ ہار صرف احساس کی موت لا سکتی تھی
وہ یہی سب سوچتے ہوئے سنسان گلی گلی کی طرف بڑھا تھا وہ یہاں اکثر آتا تھا اپنی رات رنگین کرنے کے لئے
لیکن اس سے اندازہ بھی نہ تھا کہ آج اس کے ساتھ کیا ہونے والا ہے اسے دو تین بار ایسا محسوس ہوا کہ کوئی اس کے پیچھے آ رہا ہے لیکن اس نے زیادہ دھیان نہ دیا اس کے لئے یہی سب سے بڑی بات تھی کہ وہ زاوق کے چہرے پر ہار دیکھنے کے لیے احساس کو مارنے کا فیصلہ کر چکا تھا اور کل صبح تک اس کے آدمیوں نے کہیں سے بھی رحمان کو ڈھونڈو کر ختم کر دینا تھا
اب اس نے دو قدم ہی آگے بڑھ کر آئے تھے جب اسے اپنی سر پر کوئی بہت بھاری چیز لگتی ہوئی محسوس ہوئی
اس نے مڑ کر دیکھا تو اس کے پیچھے ایک خوبصورت سی لڑکی کھڑی تھی
چلو کنگ ڈارلنگ تمہارا باپ تمہارا انتظار کر رہا ہے حجاب نے مسکراتے ہوئے ایک سو دار ڈنڈا دوبارہ اس کے سر پر مارا
حد ہے یار میں تو اسے بہت بڑا ڈان سمجھ رہی تھی یہ تو دو ڈنڈوں میں ہی بے ہوش ہوگیا حجاب کو افسوس ہوا تھا وہ اس پر کافی زیادہ ہاتھ صاف کرنے کا ارادہ رکھتی تھی
زائم ڈارلنگ میری شکل کیا دیکھ رہے ہو اٹھاؤ اسے ۔اس نے زائم کو گھورتے ہوئے کہا
سارے کام تم نے خود کر لیے ہیں تو یہ بھی تمہیں کرلو ویسے بھی تمہیں میری ضرورت کہاں پڑھتی ہے غنڈی کہیں کی ۔
زائم نے اسے گھورتے ہوئے کنگ کو اپنے کندھوں پر اٹھایا ۔
یار یہ ڈان تو بڑا بھاری ہے زائم ایک پل کے لئے اس کا وزن اٹھاتے ہوئے لڑکھڑایا تھا
یہ ٹریننگ ملی ہے تمہیں آرمی میں میں نے تو سنا ہے وہاں تم پانچ من ایک ہاتھ اُٹھاتے تھے
اور یہاں ایک بندہ تک اٹھایا نہیں جا رہا تم سے لعنت ہے تم پر وہ غصے سے کہتی آگے بڑھی
حجاب ڈامر تھا یہ بندہ ہے اور پتہ نہیں کیا کھاتا ہے زائم اسے اپنے کندھوں پر اٹھائے آہستہ آہستہ چل رہا تھا
جبکہ اس کی سست روی پر بہت تیزی سے آگے بڑھ گئی
❤
پانی کے گلاس کو پھینکنے والے انداز پر گرایا گیا
وہ بلبلا کر ہوش میں آیا تھا لیکن آنکھیں کھولتے ہی اپنے سامنے زاوق کا چہرہ دیکھ کر اس نے آگے پیچھے دیکھتے ہوئے اس جگہ کا خوب نظارہ کیا اس کے ہاتھ پیر بندھے ہوئے تھے اور اسے کرسی پر بٹھایا گیا تھا
یہ کون سی جگہ ہے۔۔۔؟
کہاں لائے ہو مجھے ۔۔۔؟
اس نے شام کو گھورتے ہوئے کہا یقینا اس بے بسی میں وہ زاوق کو نہیں دیکھنا چاہتا تھا
تمہارے جیسے مجرموں کو ہم جیل میں نہیں یہاں لے کے آتے ہیں زاوو نے اس کے سر کے بالوں کو جھٹکا دیتے ہوئے پیچھے کیا اور اس کے منہ پر دہاڑتے ہوئے بولا
دیکھو میجر میں تمہیں بتا چکا ہوں تمہاری بیوی کے بارے میں کچھ نہیں جانتا مجھے بے کار میں یہاں لائے ہو
چٹاخ۔
زاوق کے زور دار تھپڑ نے اس کے منہ کو بند کر دیا تھا
مجھے بس ایک سوال کا جواب دو احساس کہاں ہے ورنہ ۔
ارے نہیں جانتا میں وہ لڑکی کہاں ہے اس کا باپ اسے لے کر نہ جانے کہاں چلا گیا ہے میں بھی پریشان ہوں اسے ہر جگہ ڈھونڈا چکا ہوں لیکن وہ کہیں نہیں مل رہی
جھوٹ بولتے ہو تم ایک اور تھپڑ کے ساتھ زاوق نے پھر سے اس کے بالوں کو پکڑ کر کرسی کے ساتھ لگایا تھا
زاوق میرے خیال میں اس کے ساتھ کام نمبردو کرنا چاہیے تب یہ سارا سچ بولے گا
شام نے اپنے ہاتھ میں موجود کٹر سامنے کیا
یہ کیا کرنے والے ہو تم لوگ میرے ساتھ دیکھو تم لوگ ٹھیک نہیں کر رہے بہت پچھتاؤ گے میں کوئی مجرم نہیں ہوں جس کے ساتھ تو میں اس طرح کا سلوک کرو گے
بہت بڑا آدمی ہوں میں پاکستان میں بہت بڑا نام ہے میرا
چٹاخ۔ خبردار جو میرے ملک کا نام اپنی گندی زبان سے لیا زاوق نے ایک اور زور دار تھپڑ اس کے منہ پر لگایا
سر آپ نے اپنا ہاتھ صاف کرلیا تو ذرا سا موقع مجھے بھی دیں۔
حجاب کب سے لوگوں کو گھورے جا رہی تھی نہ رہ پائی تو بول اٹھی
ہاں کیوں نہیں اب جب تک یہ اپنا منہ نہیں کھلتا تم ہاتھ صاف کر سکتی ہو
اور اگر تب بھی اس نے احساس کا پتا نہیں بتایا تو پھر یہ کٹر جانے اور اس کے ہاتھ کی انگلیاں ۔
اور یقین کرو اگر تمہاری زبان میرے کام نہیں آئی کہ تمہاری انگلیوں کے بعد میرا نشانہ تمہاری زبان ہوگی
شاید وہ اسے ڈرانا چاہتا تھا ایسا کنگ کو لگا ۔
لیکن یہ کنگ کی غلط فہمی تھی زاوق بالکل سیریس تھا
دیکھو میں اس کے بارے میں کچھ نہیں جانتا پلیز مجھے جانے دو اگر مجھے پتا چلا تو میں تمہیں بتا دوں گا ۔کنگ نے منت کرتے ہوئے کہا
گڈ آئیڈیا لیکن وہ لڑکیاں جو پاکستان سے اسمگل کی گئی ہیں 22 لڑکیاں تھی نا وہ لڑکیاں کون سے ملک بھیجی ہیں یہ بتاؤ اور ان لڑکیوں کی کتنی قیمت لگائی ہے تم نے ان کی ۔ اور سب سے اہم سوال جو پوچھنے کے لیے میں تمہیں یہاں اٹھا کر لایا ہوں پاکستان کے خلاف انڈیا کا اگلا پلان کیا ہے ۔ اگلے ہفتے کتنی ڈرگز یہاں آ رہی ہے اور کون کون سے لوگ سب کا نام دو اور تم کن کن لوگوں کے ساتھ ڈیل کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف انڈیا اور سری لنکا کے علاوہ اور کونسا ملک سازشیں کر رہا ہے
شام اس کے سامنے بیٹھا پوچھنے لگا
وہ فائل میں اس کی ساری بائیوگرافی لکھ کر لایا تھا
شاید وہ اگلے پچھلے سارے حساب برابر کرنے کے موڈ میں تھے
دیکھو یہ سب کچھ بھی نہیں ۔ایک بار پھر سے کنگ کی زبان کو تالا لگ گیا جب زاوق نے اس کا ہاتھ ٹیبل پر رکھتے ہوئے اگلے ہی لمحے کٹر کو اس کے ہاتھ میں گھسیڑ دیا دردناک چیخ بلند ہونے سے پہلے ہی زائم نے اس کے منہ کو سختی سے دبوچ لیا
اچھے بچے شور نہیں مچاتے ۔حجاب نے ہنستے ہوئے کہا
میں کچھ نہیں جانتا مجھے جانے دو ۔۔۔اس کا منہ آزاد کرتے ہی وہ درد سے تڑپتا ہوا بولا
جب ذاوق نے دیکھتے ہی دیکھتے اس کا ہاتھ ایک بار پھر سے ٹیبل پر رکھتے ہوئے اس کٹر چلایا
اور اس بار بھی اس کی چیخ زائم کے ہاتھوں سے بند ہوئی تھی
تمہارے پاس دس منٹ کا وقت ہے ۔اگر تم نے ہمارے سارے سوالوں کے جواب نہیں دیے تو تمہیں قبر تک پہنچانے میں ہم ایک سیکنڈ نہیں لگائیں گے
میں پہلے سے جانتا تھا کہ احساس تمہارے پاس نہیں ہے اسی لیے میں تمہارے گھر آیا ساری چیکنگ کی اور وہیں پر مجھے ایک لسٹ ملی تھی
جس میں 22 لڑکیوں کی سمگلنگ کیلئے ان کے نام لکھے گئے تھے یہ لڑکیاں آج دوپہر میں سمگلنگ کی گئی ہے بتاؤ مجھے ان کو کہاں بھیجا ہے تم نے ورنہ ۔
زاوق جانتا تھا وہ اتنی آسانی سے انہیں کچھ نہیں بتائے گا اسی لیے زاوق نے اس کے سر پر ریورو رکھا تھا
اور اسے چلانے کا موقع بھی نہیں دیا جا رہا تھا
لگتا ہے تم اسے نہیں بتاؤ گے ان لڑکیوں کا بازیاب تو ہم کروا ہی لیں گے لیکن اس سے پہلے تمہیں تمہارے اصل مقام تک پہنچا دیں زاوق نے اس کے ماتھے پر پسپول لوڈ کرکے رکھتے ہوئے کہا تو وہ چلا
رک جاؤ میں سب کچھ بتاوں گا پلیز مجھے مت مارو تم جو کہو گے میں کروں گا پلیز مجھے چھوڑ دو میں پوری مدد کروں گا اس کے اس میں تمہاری پلیز جان سے مت مارو زاوق کے انداز سے وہ اندازہ لگا چکا تھا کہ وہ جلد ہی اپنی موت سے ملاقات کرنے جارہا ہے اسی لئے اس نے سوچا کہ باقی سارے کام وہ بعد میں کرے گا فی الحال اپنی جان بچانا ضروری ہے
ارے سر کا کا تو سمجھدار ہے حجاب نے مسکراتے ہوئے کہا
اور اس کے ساتھ ہی کنگ نے بولنا شروع کیا
پچھلے چھ سال سے اس نے کیا کیا اور کیسے کیسے کیا تھا اسنے سب کچھ بتا دیا جو زائم نے ایک کیمرے میں ریکارڈ کیا تھا اور شام نے وہیں بیٹھ کر ایک فائل تیار کی تھی
دیکھو تم لوگوں نے جو بھی کہا وہ میں نے کر دیا اب مجھے یہاں سے جانے دو کنگ بولا
ہاں کیوں نہیں تم جیسے غدار کو جانے نہیں دینا چاہیے زاوق نے بس اتنا ہی کہا اور ٹریگر دبایا ۔اور چھ سال سے پاکستان میں تباہی مچاتا سفیان مرزا اپنی آخری سانسیں گن چکا تھا
سر اس کا کام تمام ہو گیا اپنے احساس کے بارے میں کیسے پتا کریں گے حجاب نے پریشانی سے پوچھا
دیکھو حجاب خالو جان احساس کے بابا ہے وہ دولت کے لئے کچھ بھی کر سکتے ہیں لیکن احساس ان کی بیٹی ہے وہ اس کی جان کو خطرے میں ڈالنے کی غلطی کبھی نہیں کریں گے ۔
مجھے لگتا ہے میری احساس جہاں بھی ہوگی بالکل ٹھیک ہوگی ہمیں تلاش جاری رکھنی ہوگی ۔اور اس کی لاش کو سمندر میں پھینک دو کسی کو بھی اس کی لاش نہیں ملنی چاہیے دنیا کی نظر میں کنگ کہیں غائب ہو گیا ۔
اور جانے سے پہلے اپنا اسٹیٹمنٹ دے گیا جس میں پاکستانیوں کے بہت بڑی بڑی ہستیوں کے نام بھی موجود تھے
ان کا یہ مشن کامیاب ہوچکا تھا لیکن اس مشن میں وہ اپنے احساس کو نہ جانے کہاں گم کر چکا تھا
کل کا دن بہت اہم تھا اور وہ یہ دن اپنی احساس کے ساتھ سیلیبریٹ کرنا چاہتا تھا شادی کے بعد بھی وہ احساس کے قریب صرف اس لیے نہیں گیا کیونکہ خالو جان اس رشتے کے لئے تیار نہیں تھے زاوق کی خواہش تھی کہ خالو جان اور امی جان دونوں مل کر احساس کو رخصت کریں اور وہ اپنی رونقیں اور برکتیں لے کر اس کے گھر آئے
لیکن نہ جانے وہ اس کا گھر ویران کرکے کہاں جا چکی تھی اب سوائے دعاؤں کے وہ کچھ نہیں کر سکتا تھا
💕

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: