Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 21

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 21

–**–**–

زاوق بہت سارے لوگوں کو ان کے انجام تک پہنچا چکا تھا اندر ہی اندر پاکستان کے خلاف کام کرنے والے لوگ اس وقت سلاخوں کے پیچھے تھے
زاوق نے دو ہفتوں کے اندر ہر ایک انسان کو ڈھونڈ نکالا تھا اور سب کے سب اس وقت میں اپنے انجام کو جا پہنچے تھے
کوئی کرپشن کے کیس میں تو کوئی سمگلنگ کے کیس میں حجاب اور زائم دونوں سعودیہ عرب گئے ہوئے تھے سمگل کی ہوئی لڑکیوں کو بازیاب کروانے
جہاں قانون کے لیے یہ بہت ہی بڑی کامیابی تھی وہی پچھلے پندرہ دنوں سے احساس کا کچھ پتہ نہ چلا تھا
ایک یہ امید کے احساس اپنے باپ کے ساتھ ہے اسے کچھ بھی غلط سوچنے سے روکے ہوئے تھی
لیکن پھر بھی احساس کا ناملنا پریشانی کی وجہ تھی
اگلے پانچ دنوں میں احساس کے ایگزام شروع ہونے والے تھے ۔
شام اور زارا کا نکاح ان کے پیپرز کے بعد تھا زارا بھی بہت پریشان تھی۔
اور اس نے گھر میں سب کو کہا تھا تب تک شادی نہیں کرے گی جب تک اس کی شادی میں اس کی سہیلی شامل نہیں ہوگی
جب کہ شام سے اپنے دوست کی حالت دیکھی نہیں جا رہی تھی ۔اس کی آنکھیں بتاتی تھیں کہ وہ ساری رات نہیں سوتا ۔ہر وقت چرچڑا پن اس کی طبیعت کا حصہ رہتا ۔ داڑھی بڑی ہوئی تھی ۔آنکھوں کے نیچے ہلکے پڑ چکے تھے ۔ وہ خوبصورت سازاوق جو سب کو اپنی پرسنیلٹی سے متاثر رکھتا وہ کہیں کھو سا گیا تھا ۔احساس کے ٹھیک ہونے کی امید کے باوجود بھی وہ بے فکر نہیں تھا
💕
رات دو بجے کا وقت تھا روز کی طرح وہ آج بھی جاگ رہا تھا احساس کی گمشدگی اسے سکون سے سونے نہیں دیتی تھی
اس وقت بھی وہ چھت کو گھورتے احساس کے بارے میں یہ سوچ رہا تھا جب اس کا فون بجا
انجان نمبر دیکھ کر اس نے فون نہ اٹھانے کے بارے میں سوچا لیکن پھر احساس کے بارے میں سوچتے ہوئے اس نے فون اٹھا لیا کہ ہو سکتا ہے کہ احساس کی کوئی خبر مل جائے ۔
اور اس نے فون اٹھا کر بہت اچھا کیا تھا کیونکہ فون پر اور کوئی نہیں بلکہ رحمان صاحب تھے
ہیلو زاوق میں بات کر رہا ہوں زاوق تم سن رہے ہو نہ میری آواز آرہی ہے نہ گھبرائی ڈرئی ہوئی رحمان صاحب کی آواز اس کے کانوں میں گھونجی ۔
کہاں ہیں آپ اور احساس کہاں ہے زاوق نے غصے سے پوچھا ۔
زاوق کا دل چاہ رہا تھا کہ وہ ابھی اس کے سامنے ہوں اور وہ سارا لحاظ ایک طرف رکھ کر کسی مجرم کی طرح ان سے اپنی احساس کے بارے میں پوچھے
زاوق میں تمہیں سب کچھ بتاوں گا میں تمہیں جہاں بلا رہا ہوں وہاں آ جاؤ ۔رحمان صاحب نے کہا ۔
میں جو پوچھ رہا ہوں وہ بتائیں زاوق نے غصے سے کہا
زاوق میری بات کو سمجھنے کی کوشش کرو پلیز جو میں کہہ رہا ہوں وہ کرو
رحمان صاحب نے منت بھری آواز میں کہا
اس وقت اسے ان پر بہت غصہ آ رہا تھا لیکن احساس کے بارے میں ان کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا اسی لیے اس نے وہاں جانے کا فیصلہ کیا اب وہ اپنی احساس سے زیادہ دور نہیں تھا ۔
💕
وہ ان کے بتائے گئے پتے پر پہنچ چکا تھا یہاں بہت اندھیرا چھایا ہوا تھا اور دور دور تک یہاں کوئی بھی نہیں تھا وہ کافی دیر وہیں کھڑا رہا جب ایک درخت کے پیچھے سے اسے کوئی آہٹ سی محسوس ہوئی
کون ہے وہاں۔۔۔؟ اس نے جلدی سے آگے بڑھتے ہوئے پوچھا
یقیناً وہ رحمان صاحب تھے جو چھپ چھپا کر یہاں آئے تھے
زاوق میں ہوں مجھے ڈر تھا کہ کنگ کا کوئی آدمی نہ آ گیا ہو اس لیے چھپ کر تمہیں وہاں سے دیکھ رہا تھا
انہوں نے زاوق کی آواز پہچانتے ہی باہر نکلتے ہوئے کہا
لیکن ان کی حالت دیکھ کر زاوق اچھا خاصا پریشان ہو چکا تھا
خالو جان یہ آپ کی کیا حالت ہے ان کا جسم زخموں سے چُور اور ان کے کندھے پر پٹی بندھی دیکھ کر وہ پریشانی سے پوچھنے لگا
جو بھی تھا جیسا بھی تھا اس کی یتیمی پر اسی شخص نے اس کے سر پہ ہاتھ رکھا تھا
زاوق میں ٹھیک ہوں بیٹا تم چلو میرے ساتھ میں نے بڑی مشکل سے احساس کو بچایا ہے وہ لوگ اسے جان سے مار دینا چاہتے تھے رحمان صاحب نے پریشانی سے بتایا
پہلے آپ مجھے پوری بات بتائیں اور یہ سب کچھ کیا ہے آپ کو گولی لگی ہے چلیں پہلے میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے کے چلتا ہوں لگتا ہے آپ اپنا علاج نہیں کروایا ان کی حالت دیکھ کر بہت اچھا خاصا پریشان ہو چکا تھا
ان کا سارا جسم زخموں سے چُور تھا
نہیں بیٹا میں بالکل ٹھیک ہوں تم چلو میرے ساتھ میں تمہیں راستے میں سب کچھ بتاتا ہوں
💕
اس دن کنگ باتیں سننے کے بعد رحمان صاحب کو احساس ہوا کہ وہ اس شخص کے ساتھ اپنی بیٹی اس کی شادی کرنا چاہتے تھے جو ان کے وطن کا دشمن ہے
شروع سے ہی وہ دولت چاہیے تھے انہیں لگتا تھا کہ دولت سے سارے مسائل حل ہو جاتے ہیں
زاوق کے سر پہ ہاتھ رکھنے کی سب سے بڑی وجہ اس کی دولت ہی تھی رحمان صاحب اس کی دولت حاصل کرکے بڑا آدمی بننا چاہتے تھے
دولت حاصل کرنا اپنی زندگی آسان کرنا ہر انسان کی خواہش ہوتی ہے رحمان صاحب کی بھی تھی
لیکن اس خواہش کے حصول کے لیے وہ اپنی بیٹی کی زندگی داؤ پر نہیں لگا سکتے تھے
جب انہیں پتہ چلا کہ کنگ کے آدمی احساس کو جان سے مار دینا چاہتے ہیں تو وہ سیدھے ہی احساس کے گھر گئے تھے
انہیں پتہ تھا کہ ان کے پیچھے کنگ کے آدمی لگتے ہیں وہ احساس کو اپنے ساتھ لے کر زاوق کے پاس جانا چاہتے تھے
لیکن وہ سمجھتے تھے کہ کنگ احساس کو زاوق کی کمزوری کے طور پر استعمال کرنا چاہتا ہے اسی لئے انہوں نے زاوق سے احساس کو دور کرنے کا فیصلہ کیا
تاکہ وہ ایسے وطن کے دشمنوں کو ان کے انجام تک پہنچا سکے
وہ اس دن احساس کو اپنے ساتھ دوسرے شہر لے کے جانے کے بارے میں سوچ رہے تھے لیکن انہیں جلد ہی احساس ہوگیا کہ ان کے پیچھے کنگ کے آدمی لگے ہوئے ہیں
انہوں نے احساس کو ایک جگہ پر چھپایا اور کنگ کے آدمیوں کو گمراہ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ ان کی غلط فہمی تھی
اب وہ لوگ احساس تک تو نہ پہنچ پائے لیکن ان کو دیکھتے ہی مارنے کی کوشش کی جس کوشش میں وہ ایک حد تک کامیاب بھی ہو چکے تھے
ان کے آدمیوں نے انہیں بری طرح سے زخمی کردیا یہاں تک کہ ان کے کندھے پر دو گولیاں بھی چلائیں
وہ زخمی حالت میں جیسے تیسے احساس تک پہنچے اور اسے لے کر دوسرے شہر آ گئے
لیکن کسی بھی ڈاکٹر کے پاس نہیں گے وہ کسی قسم کا رسک نہیں لینا چاہتے تھے احساس سے جو کچھ بن سکا اس نے کرنے کی کوشش کی
انسانیت کے ناتے ایک ڈاکٹر نے ان کی جان بچانے کے لئے ان کے جسم سے گولیاں نکالتے ہوئے انہیں ہسپتال میں ایڈمٹ ہونے کا مشورہ بھی دیا لیکن وہ نہیں گئے تھے کیونکہ بات ان کی بیٹی کی زندگی پر آ رہی تھی
احساس نے انہیں بہت سمجھایا کہ زاوق سے رابطہ کریں
لیکن جب احساس کو یہ بات پتہ چلی کہ وہ لوگ اس اس کے ذریعے زاوق کو بلیک میل کرنا چاہتے ہیں تو وہ خود ہی اپنے باپ کا ساتھ دینے کا فیصلہ کر چکی تھی
اسے اس وقت اپنے باپ کا یہ فیصلہ بالکل ٹھیک لگ رہا تھا کے احساس کوزاوق کی ہمت بننا ہے اس کی کمزوری نہیں
اور اس نے اپنے باپ کی قسم کھائی تھی کہ چاہے جو بھی ہو جائے جب تک اس کا باپ نہیں کہے گا وہ زاوق سے رابطہ نہیں کرے گی
اس سب کے دوران ایک بار رحمان صاحب نے عائشہ کو فون کیا تھا اور کہا تھا وہ جہاں بھی ہیں بالکل ٹھیک ہیں لیکن انہوں نے عائشہ کو بھی قسم دی تھی کہ زاوق کو ان کے بارے میں کچھ بھی نہ بتایا جائے
جس کے بعد عائشہ نے اس کال کے بارے میں زاوق کو کچھ نہیں بتایا لیکن اسے حوصلہ دیتی رہی کہ وہ اس کا باپ ہے اس کے ساتھ کبھی کچھ غلط نہیں ہونے دے گا
اور ان کا یہی حوصلہ زاوق کو بہت ہمت دیتا رہا تھا
وہ اسے لے کر سیدھے اپنی اس خفیہ جگہ پر آئے تھے جہاں وہ پچھلے دو دن سے چھپے ہوئے تھے
انہیں پرسوں ایک نیوز چینل سےپتہ چلا تھا ۔کنگ کے سارے آدمی پکڑے جا چکے ہیں اور کنگ کے آخری سٹیٹمنٹ میں بہت سارے پاکستانی بڑی بڑی ہستیوں کے نام شامل ہیں
انہیں اندازہ ہو چکا تھا کہ زاوق اپنے مشن میں کامیاب ہو چکا ہے ۔
لیکن انہیں ڈر اس بات کا تھا کہ کنگ کہیں غائب ہوچکا تھا کہاں گیا تھا یہ کوئی نہیں جانتا تھا سوائے زاوق کے اور اس کی ٹیم کے
انہیں ڈر تھا کہ کنگ کہیں واپس نہ آ جائے اور ان کی بیٹی کی جان لے لے
لیکن وہ یہ نہیں جانتے تھے کہ کنگ تو اسی دن اپنے انجام کو پہنچ چکا تھا

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: