Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 22

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 22

–**–**–

زاوق تیزی سے اس ایک کمرے کے مکان میں داخل ہوا اسے یقین تھا وہ بھی بے چینی سے انتظار کر رہی ہو گی
لیکن رحمان صاحب اسے یہ نہیں بتا پائے تھے کہ وہ تو اس کو بتا کر ہی نہیں آئیں کہ وہ زاوق سے ملنے جا رہے ہیں
اس نے جیسے ہی اندر قدم رکھا وہ کھڑکی پر کھڑی باہر کی طرف دیکھ رہی تھی شاید اپنے بابا کی واپسی کا انتظار کر رہی تھی
زاوق نے سے پیچھے پلٹنے کا موقع دیے بغیر اس کا ہاتھ پکڑ کر اسے اپنے سینے میں چھپا لیا
وہ اس طرح سے کسی انجان کے آنے پر گھبرا کر پیچھے ہٹنے لگی جب اس کی مہک پر اپنی آنکھیں بند کر گئی
زاوق اس کے منہ سے سرگوشی نما آواز نکلی
بیوقوف بد دماغ احمق لڑکی مجھے بتا کر یہ ساری پلاننگ نہیں کر سکتی تھی تم
جان سولی پر لٹکائی ہوئی تھی پچھلے پندرہ دنوں سے میری
بس ایک ہی سوچ مجھے بار بار تنگ کر رہی تھی کہ تمہیں کچھ ہو تو نہیں گیا
کہیں تم مجھ سے دور ۔۔جانتی ہو یہ کہ سوچ بھی جان لیوا ہے میرے لیے
سختی سے اسے اپنے سینے میں بھیجے وہ اس سے بول رہا تھا
زاوق میں آپ کی طاقت بننا چاہتی ہوں آپ کی کمزوری نہیں اگر وہ گینگسٹر میرے ذریعے آپ کو بلیک میل کرنے کی کوشش کرتا تو میں اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کر پاتی
میں چاہتی ہوں آپ اپنے وطن کے لیے ہر وہ کام کرے جو ہر بہادر سپاہی کرتا ہے ۔میں کبھی آپ کے اور آپ کی وطن کے بیچ میں نہیں آنا چاہتی
میں انتی ہوں آپ مجھ سے بہت محبت کرتے ہیں ۔لیکن میں یہ بھی جانتی ہوں کہ یہ عشق یہ دیوانگی صرف میرے لیے نہیں ہے
زاوق میں نہیں چاہتی کہ میری محبت آپ کو کمزور کر دے میرا ہونا آپ سے آپ کی طاقت چھین لے
مجھے پتہ ہے میں نے جو کیا غلط کیا مجھے یہ سب کچھ آپ کو بتا کر کرنا چاہیے تھا لیکن ہمارے پاس بالکل وقت نہیں تھا بابا کے پیچھے اس گنگسٹر کے آدمی لگے ہوئے تھے
ہم میری مشکل سے دوسرے شہر پہنچے تھے راستے میں بابا پر حملہ ہوا اور ان لوگوں نے بابا کو گولیاں ماری
وہ لوگ مجھے بھی مار دینا چاہتے تھے لیکن بابا نے مجھے بچا لیا ۔آپ کو پتہ ہے میں بہت ڈر گئی تھی ۔لیکن بابا نے مجھے کچھ نہیں ہونے دیا اس نے زاوق کا دھیان رحمان صاحب کی طرف دلانے کی کوشش کی ۔
جب کہ اس طرح سے احساس کو اپنے سینے میں بھیجے زاوق نے رحمان صاحب کو دوسری طرف چہرا کیے دیکھا تو خود ہی شرمندہ ہو کر رہ گیا
اس نے اگلے ہی پل احساس کو خود سے دور کیا تھا
چلیں آپ سب کچھ ٹھیک ہو چکا ہے گھر چلتے ہیں میں آپ کو گھر چھوڑ کر احساس کو صبح آپ سے ملوانے لاؤں گا اس نے رحمان صاحب کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرائے
ایسے کیسے ملوانے لاؤ گے بھئی ابھی میں نے اپنی بیٹی کی رخصتی نہیں کی
تین دنوں میں اس کے پیپر شروع ہونے والے ہیں پیپر کے بعد سوچوں گا اپنی بیٹی کی رخصتی کے بارے میں فلحال میں اپنی بیٹی کو گھر لے کے جا رہا ہوں تم پیپرز کے بعد بارات لے کر آنا
رحمان صاحب نے کہتے ہوئے احساس کا ہاتھ تھام تو زاوق کا چہرہ اتر گیا
زاوق جو کچھ بھی میں نے کیا بہت غلط کیا مجھے لگتا تھا کہ دولت حاصل کر لینے سے ہر مسائل حل ہو جائے گا ۔مجھے لگتا تھا کہ غریب کی کوئی اہمیت نہیں ہے ۔اسی لیے میں دولت حاصل کرنے کے پیچھے پڑا رہا لیکن جب مجھے احساس ہوا کہ اس دنیا میں اولاد سے بڑھ کر کچھ نہیں اولاد ہی ماں باپ کا آخری سہارا ہے جب احساس کی جان خطرے میں دیکھی تو مجھے پتہ چلا کہ اگر احساس کو کچھ ہوگیا تو میں اس دولت کا کیا کروں گا
یہ سب کچھ تو میں اسی کے لئے کر رہا تھا اسے آسان زندگی دینے کے لیے کر رہا تھا اگر میری بیٹی ہی نہیں رہے گی تو میں اس دولت کا کیا کروں گا
میں نے اپنی زندگی کے بہت سارے سال غربت میں گزار دیے دوسروں کے ہاتھ میں پیسہ دیکھتے ہوئے گزار دیے لیکن میں چاہتا تھا کہ میری بیٹی ایک پرسکون زندگی جئے ایک بہت امیر شخص کے ساتھ میری بیٹی کسی چیز کی فرمائش کرے تو وہ فورا پوری کر دے
میری بیٹی کے پاس دنیا کی مہنگی کار ہو بڑے بڑے بنگلے ہوں لیکن زاوق میں بھول گیا تھا اللہ ہر انسان کو اس کے اوقات کے مطابق دیتا ہے اتنا ہی دیتا ہے جیسے وہ وہ سنبھال سکے ۔
دولت ۔محبت ۔زندگی ہر چیز کی ایک لمنٹ ہے میں اس لمیٹ کو کراس کرنے کی کوشش کر رہا تھا
اللہ جتنا دے رہا تھا میں اس سے زیادہ مانگ رہا تھا ۔پھر اللہ نے مجھے احساس دلایا جتنا اللہ نےمجھے دیا ہے تو اسی میں خوش رہوں ۔ کیونکہ اللہ نے اتنا دیا ہے جتنا میں سنبھال سکتا ہوں ۔
مجھے معاف کردو زاوق میں نے تمہارے ساتھ بہت برا سلوک کیا تمہاری کمپنی تمہارا گھر تمہاری دولت تم سے چھیننا چاہتا ہے ۔
لیکن اب اور نہیں اب میں اپنی بیٹی کو دھوم دھام سے تمہارے ساتھ رخصت کرکے اپنی غلطیوں کا ازالہ کروں گا میں چاہتا ہوں کہ میں خود اپنی بیٹی کو اپنے ہاتھوں سے تمہارے ساتھ رخصت کروں ویسے تو عائشہ نے ایک اچھی ماں کا فرض نبھاتے ہوئے یہ کام کر دیا ہے
لیکن میں ایک بار پھر سے ۔وہ اجازت طلب نظروں سے اس کی طرف دیکھتے ہوئے بولیں تو زاوق مسکرا دیا
کیوں نہیں خا لو جان آپ کی بیٹی ہے آپ جب چاہے جیسے چاہے اسے رخصت کریں آپ جب حکم کریں گے میں بارات لے کے آ جاؤں گا وہ مسکراتے ہوئے بولا
رحمان صاحب نے نم آنکھوں سے اپنے سینے سے لگا لیا
❤
ارے یار میں پکا میتھس میں فیل ہو جاؤں گی مجھ سے نہیں ہو رہا یہ سب کچھ وہ دائیں سے بائیں گھومتی زارا سے بول رہی تھی۔
آج سے ٹھیک سات دن کے بعد ایک ہی میرج ہال سے ان دونوں کی رخصتی ہونی تھی
اور یہاں وہ دونوں سنگھار کرنے کے بجائے اپنے پیپرز کی تیاریوں میں لگی ہوئی تھی
کل صبح میتھ کا پیپر تھا تین پیپرز گزر چکے تھے ۔جو ٹھیک ٹھاک ہوئے تھے دونوں کے پاسنگ مارکس آ ہی جانے تھے لیکن میتھس میں آکر ہمیشہ کی طرح وہ دونوں اٹک چکیں تھیں
عائشہ نے زاوق کو گھرانے سے سختی سے منع کیا ہوا تھا کیونکہ ان دونوں کا پردہ چل رہا تھا
اسی وجہ سے زاوق جب سے رحمان صاحب کے ساتھ اسے یہاں چھوڑ کر گیا تھا تب سے ہی اس کی شکل نہیں دیکھ پا رہا تھا
کیس مکمل ہو جانے کی وجہ سے اب بار بار کالج کے چکر لگانے کا بھی کوئی مقصد نہ تھا ۔
شام نے تو بہت ہاتھ پیر مارے لیکن زارا کی فیملی کی طرف سے آرڈر جاری ہوا کہ نکاح رخصتی والے دن ہی ہوگا
جس کی وجہ سے اب ان دونوں کا ملنا جلنا ان لیگل ہو چکا تھا ۔
جبکہ زاوق اپنی بے چینیوں کو دل میں سمیٹے اپنے گھر اور اپنی زندگی میں اپنی احساس کا انتظار کر رہا تھا
❤
ابھی مشکل سے اسے چند سوال ہی حل کیے تھے کہ اسے نیند آنے لگی ۔
صبح جلدی جاگ کر باقی کی تیاری کر لوں گی اسے اپنا سر بھاری ہوتا محسوس ہوا کتاب ایک طرف رکھتی وہ بیڈ پر لیٹ گئی
اس سے سوئے ہوئے بھی تھوڑی ہی دیر ہوئی تھی جب اسے اپنے چہرے پر گرم سانسوں کا احساس ہوا
اس لمحے کے لیے وہ بند آنکھوں سے پیچھے ہٹی جب اس کی خوشبو نے اسے قید کر لیا
اس نے نرمی سے نظروں کی جھالر اٹھائیں تو مسکراتا ہوا چہرہ ایسے نظر آیا
زاوق آپ آ گئے آپ کو پتہ ہے آج میں آپ کو کتنا مس کر رہی تھی وہ مسکراتے ہوئے اٹھ کر بیٹھ گئی جب کہ اس کے الفاظ زاوق کا دل دھڑکا گئے تھے
کیا سچ میں میری جان مجھے اتنا مس کر رہی تھی وہ اس کے بال کان کے پیچھے کرتے ہوئے بولا
جب کہ اس کی بدلتی نظروں کا مطلب سمجھ کر احساس نے فورا اس کے سینے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے اسے خود سے ذرا فاصلے پر رکھا
اور نہیں تو کیا کل میرا میتھس سا پیپر ہے آپ خود آ گئے یہ تو اچھا ہو گیا آپ میتھ کی ٹیچر ہیں آج آپ نہیں یاد آئیں گے تو کیا مس انعم ائیں گی ۔
چلیں جلدی سے مجھے میرے پیپر کی تیاری کروائیں لیکن ایک منٹ آپ یہاں اندر کہاں سے آئے ۔ماما نے تو آپ کو مجھے دیکھنے سے منع کیا ہوا ہے نا ہائے اللہ آپ نے شادی کا رول توڑ دیا
آپ میری شادی خراب کرنا چاہتے ہیں وہ اس کے کندھے پر مکا مارتی ہوئی بولی
کیا کیا خواب دیکھے تھے میں نے سب سے بیسٹ شادی ہوگی میری اور یہ میری بے صبرے خاوند صاحب جو میری شادی کے رولز توڑ رہے ہیں
اٹھیں یہاں سے اور نکلے میرے کمرے سے باہر کس نے بولا آپ کو یہاں آنے کے لئے ماما نے منع کیا تھا نہ ماما کی بات نہیں مانی آپ نے ابھی جا کے میں ماما سے شکایت کرتی ہوں وہ اسے گھسیٹنے کی ناکام کوشش کرتے ہوئے اب اس کی شکایت لگانے عائشہ کے کمرے کی طرف جانے لگی
جب زاوق نے اس کا ہاتھ ایک جھٹکے سے تھامتے ہوئے اسے اپنی طرف کھینچا
بیوی کیا کر رہی ہو میں تو تمہیں میتھ کے پیپر کی تیاری کروانے آیا تھا اچھی مصیبت ہے ایک تو میں تمہاری مدد کرنے آیا ہوں اور اوپر سے تم میری شکایت لگا رہی ہو ۔
زاوق نے بہانہ بناتے ہوئے کہا
لگتا ہے تم نے کل پاس نہیں ہونا ٹھیک ہے اگر نہیں ہونا تو میں چلا جاتا ہوں بس اچھی مصیبت پالی میں نے مجھے ہی کیا ضرورت پڑی تھی اس طرح سے مدد کرنے کے لئے آنے کی اچھا خاصا نیند پوری کر رہا تھا پتا نہیں کیوں تمہارا احساس کرتا ہے یہاں آ گیا
جا رہا ہوں میں خدا حافظ لیکن اگر تم پیپر میں فیل ہوگی تو مجھے مت کچھ بھی کہنا ۔
ایک تو مدد کرو اوپر سے باتیں بھی سنو وہ منہ بنا کر کہتا باہر جانے لگا جب اچانک احساس نے اس کا ہاتھ تھام لیا
سچی مچی صرف میری مدد کرنے آئے تھے وہ شاکی نظروں سے دیکھتے ہوئے بولی
ہاں میں سچی مچی تمہاری مدد کرنے کے لئے ہی آیا تھا لیکن اگر مدد کے دوران میری نیت زرا سی خراب ہو جائے تو تمہیں کمپرومائز کرنا پڑے گا ۔مطلب تمہیں پتا ہے میتھس سر کو کھپانے والا کام ہے اگر درمیان می چائے کی ضرورت پڑی تو تمہیں پلانی پڑے گی وہ اس کی گھوری کو دلچسپ نظروں سے دیکھتے ہوئے بات بدل گیا
تو آپ کو چائے پینی ہےٹھیک ہے آپ مجھے میتھس سمجائیں میں آپ کو چائے پلا دوں گی ۔
لیکن شرط یہ ہے کہ آپ یہاں چیئر پر بیٹھیں گے اور میں وہاں بیڈ پر ۔اور آپ میرا چہرہ نہیں دیکھیں گے اس سے شادی کے رولز خراب ہوں گے خیر میں گھونگھٹ کر لیتی ہوں۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: