Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 3

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 3

–**–**–

اس نے گھر میں قدم رکھا تو ماما کیچن میں مصروف تھیں امی بہت بھوک لگی ہے پلیز کچھ کھانے کو دیں
وہ اپنا بیگ وہیں صوفے پر پٹکتی صوفے پر ہی لیٹ گئی
ٹھیک ہے میری جان تم جاؤ فریش ہو کے آؤ میں کھانا لگاتی ہوں ماما نے کچن سے ہی جواب دیا تو وہ اٹھ کر فریش ہونے چلی گئی
واؤ ماما دال چاول آج تو عید ہوگئی وہ دال چاول دیکھتے ہوئے ہاتھ ملتی میز پر بیٹھی جبکہ اس کے انداز پر عائشہ بے اختیار مسکرا ئیں
ماما آپ کو ایک بریکنگ نیوز سناوں ۔وہ انہیں دیکھ کر پوچھنے لگی
پہلے کھانا کھاؤ احساس کتنی بار کہا ہے کھانے کے دوران باتیں نہیں کرتے امی نے اس کا دھیان کھانے کی طرف لگانے کی کوشش کی
پہلے سن تو لیں ماما بڑے مزے کی بات ہے آپ کو پتہ ہے زاوق کی جاب چھوٹ گئی ۔اس نے چاولوں سے بھرا ہوا چمچ منہ میں رکھتے ہوئے بتایا
اب وہ تین تین مہینے گھر سے غائب نہیں رہیں گے اس نے مزے لیتے ہوئے کہا
اور تمہیں یہ بات کیسے پتا چلی اور تمہیں اتنی خوشی ہے زاوق کے گھر سے غائب نہ ہونے کی امی نے جیسے اس کے چہرے پر کچھ کھوجنا چاہا
ارے مجھے کیوں خوشی ہوگی میں تو بس ایسے ہی بتا رہی ہوں احساس نے فورا ہی ان کی بات کاٹتے ہوئے کہا
میرا ہو گیا اب میں اپنے کمرے میں جا رہی ہوں زاوق کے نام پر آئی اپنے گالوں پر سرخی چھپاتے ہوئے وہ اٹھ کر کمرے کی جانب چل دی
جھلی اسے لگتا ہے اس کے چہرے کے رنگ میں نہیں پڑھ سکتی کہ یہ تو جانتی بھی نہیں اس کے دل میں جو چل رہا ہے جس سے وہ خود بھی بے خبر ہے وہ بھی جانتی ہوں میں ماما نے مسکراتے ہوئے نفی میں سر ہلایا اور برتن اٹھانے لگیںں
❤
آج کا سارا کلاس ٹائم تعارف میں ہی گزر گیا اس لیے سر حیدر کی طرف سے انہیں کوئی کام نہیں ملا تھا دونوں پیریڈز بلکل فری ہوگئے اسی لیے دوسرے ٹیچرز کا دیا ہوا کام نٹپانے لگی
جب اچانک ہی صوفے کے قریب لینڈ لائن فون بول اٹھا
اف خدایا پھر سے ایڈورٹائزمنٹ والوں کا فون ہوگا آج کے زمانے میں یہ لینڈ لائن نمبر رکھتا کون ہے گھر پہ اس نے اکتاتے ہوئے فون کو گھورا۔
اور وہیں سے لٹک کر فون کو اٹھایا
السلام علیکم ہم بالکل ٹھیک ہیں اللہ آپ کو بھی ٹھیک رکھے لیکن ہمیں کچھ نہیں چاہیے برائے مہربانی دوبارہ فون مت کیجئے گا شکریہ ۔
احساس نے جلدی جلدی کہتے ہوئے فون رکھنا چاہا
تمہارے منہ سے اپنا نام سن کر مجھے سکون ملتا ہے احساس فون رکھتے ہوئے رسیور میں آواز گونجی
زاوق ۔۔۔۔ اس کے منہ سے بے اختیار پھسلا
احساس کا زاوق ۔ زاوق کی جذبات سے بھرپور آواز آئی ۔
وہ وہ دراصل وہ مجھے لگا ایڈورٹائزمنٹ والے ہیں ۔اس نے سوکھے لبوں پر زبان پھیرتے ہوئے کہا
اس کے ٹوٹے پھوٹے جملے نے زاوق کے لبوں پر مسکراہٹ بکھیری
لیکن فون تو تمہارے زاوق کا تھا وہ مسکراتے ہوئے لہجے میں بولا
میں نے آج تمہیں بہت مس کیا تم نے مس کیا مجھے ۔۔۔۔۔؟
وہ آہستہ آواز میں پوچھ رہا تھا
اس کے جملے نے احساس کے دل کی دھڑکن تیز کردی
لیکن آج ہی تو ہم ۔۔۔
میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں شامل کرنا چاہتا ہوں احساس میں تمہیں اپنے بہت نزدیک لے آنا چاہتا ہوں ۔
اتنا نزدیک کے تم میرے دل کی ہر دھڑکن کو سن سکو میری ہر سانس کو محسوس کر سکو ۔اتنا نزدیک کے
زاوق کل ٹیسٹ ہے میں تیاری کر رہی ہوں وہ بوکھلا کر بولی اس کے انداز سے اس کے ہاتھوں کی ہتھیلیوں میں پسینہ آ چکا تھا
تم بہت بے رحم ہو احساس ۔ تمہیں مجھ پر ترس نہیں آتا رکھتا ہوں کل اسی وقت فون کروں گا زاوق نے فون رکھتے ہوئے کہا جبکہ فون رکھنے کی آواز سنتے ہی احساس نے بے اختیار اپنے دل پر ہاتھ رکھا جو بہت بری طرح سے دھڑ رہا تھا ۔
❤
میجر پہلے ہی دن تمہیں کنگ کے لوگوں سے پنگا نہیں لینا چاہیے تھا اس طرح سے تو ہم لوگوں کو تم پر شک ہو جائے گا ۔
سر آپ بے فکر رکھے ہیں میں ان لوگوں کو شک نہیں ہونے دوں گا ۔
لیکن میجر تمہیں یقین ہے کہ وہ لوگ کینگ کے آدمی ہیں کرسی پر بیٹھے آدمی نے پوچھا
سر مجھے یقین ہے ان دونوں میں سے ایک کی فوٹو پہلے ہی میرا ایک آدمی مجھ تک پہنچا چکا تھا اور اب بہت جلدی میں کینگ اور اس کے سبھی آدمیوں کو ان کے انجام تک پہنچا دوں گا
ویری گڈ میجر مجھے تم سے یہی امید ہے ۔
مجھے یقین ہے کہ تم اپنا کام بخوبی سرانجام دوگے لیکن مجھے ایک چیز سمجھ نہیں آئی کہ تھرڈ ایئر کے دو پیریڈز تم نے کیوں لے لیے میتھس اور فزکس تم خود اپنے آپ پر بوجھ ڈال رہے ہو جب کہ میں پرنسپل سے بات پہلے ہی کر چکا تھا
سروہ دراصل تھرڈ ایئر میں شام نے کچھ بولنا چاہا اس سے پہلے ہی حیدر نے گھور کا اسے دیکھا اور اس کی گھوری نے شام کی زبان پر تالا لگا دیا
میجر کوئی اور چکر تو نہیں تمہارا دھیان تمہارے فرض سے بھٹکنانہیں چاہیے سامنے بیٹھے آفیسر نے مسکرا کر کہا
آپ بے فکر رہیں میرے فرض کے آگے کوئی چیز نہیں آ سکتی میں اب چلتا ہوں اسنے سامنے بیٹھے انسان کو سلیوٹ کرتے ہوئے الوداع کہا
تو اس نے بھی مسکرا کر اسے جانے کی اجازت دے دی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: