Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 4

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 4

–**–**–

وہ آفس سے نکل کر سڑک کی طرف آیا تھا سڑک بلکل سنسان اور اندھیری تھی
لائٹ کا زیادہ استعمال وہ کرتابھی نہیں تھا اسے اندھیرے میں رہنے کی عادت کی اندھیرے میں ہی قدم آگے بڑھتا وہ اپنا رستہ بنا رہا تھا
جب اچانک ہی اس کا دھیان اپنی جان کی طرف چلا گیا
میرا دل چاہتا ہے کہ اپنے دل کی دھڑکن میں تمہیں چھپا لوں جہاں تمہیں کوئی نہ دیکھے میرے علاوہ ۔
میرا دل چاہتا ہے کہ تم اس دنیا میں صرف مجھ سے بات کرو صرف مجھ سے ملو صرف میرے بارے میں سوچو ۔
میرا دل چاہتا ہے میں تمہیں اس دنیا سے دور لے جاؤں کہیں ایسی جگہ جہاں میرے اور تمہارے علاوہ اور کوئی نہ ہو
میں تمہیں چھپا لوں پوری دنیا سے ۔وہ آہستہ آہستہ قدم اٹھاتا مسلسل سے کے بارے میں سوچ رہا تھا
وہ وقت دور نہیں جب میں تمہیں ہمیشہ کے لئے اپنی زندگی میں شامل کر لوں گا
ہاں میری جان اب میں اور انتظار نہیں کروں گا اب میں تمہیں بتاؤں گا کہ تم میرے لیے کیا ہو اب تم کوئی نادان چھوٹی سی بچی نہیں ہو جو میرے جذبات کو سمجھ نہ سکو
اب میں تمہاری یہ آزادی ختم کر دوں گا تمہیں ہمیشہ کے لیے قید کر لوں گا ۔
اس کی سوچوں پر فی الحال صرف اور صرف اس کی جان کاحق تھا شاید وہ اس وقت کسی کی مزاحمت نہیں چاہتا تھا
تبھی سامنے کھڑے دولڑکوں کو دیکھ کر اس کے ماتھے کی رگیں باہر آنے لگیں
بہت شوق ہے نہ تمہیں کلاس میں روعب جمانے کا اب جما لڑکے چلتے ہوئے اس کے قریب آئے اور ان کے پیچھے سے ہی وہ ان کے غنڈے بھی دیکھ چکا تھا
اب ہاتھ اٹھا کے دیکھا پھر مانتا ہوں تجھے میں نے کہا تھا نہ کہ تو جانتا نہیں مجھے میں کون ہوں مجھ پر ہاتھ اٹھا کر بہت بڑی غلطی کر دی اب تو دیکھ میں تیرے ساتھ کیا کرتا ہوں
لڑکے نے اسے گھورتے ہوئے غصے سے کہا اس کے ساتھ ہی اس کے لوگوں نے اس پر حملہ کر دیا
اپنے آپ پر ہونے والے حملے کو روکتے ہوئے حیدر نے سامنے سے بھاگتے آئے لڑکے پر حملہ کیا اوردوسری۔لات سے اس نے دوسرے لڑکے کے سینے کو نشانہ بنایا
اس کے بعد ایک ایک کرکے وہ لڑکے اس سے مار کھاتے ہوئے اپنی درگت بنوانے لگے
ان دونوں لڑکوں کو جلد ہی اندازہ ہو چکا تھا کہ انہوں نے غلط جگہ پنگا لے لیا ہے ۔
لیکن ان کے ساتھ کیا ہونے والا تھا یہ وہ خود بھی نہیں جانتے تھے
میں نے تو نہیں دیکھی تیری ہمت تو میری ہمت دیکھ۔ حیدر نے کہتے ہوئے اپنی جیب سے ریواور نکالا اور ایک لڑکے کے سینے کے بیچوں بیچ گولی چلائی
اور اسے دیکھتے دوسرا لڑکا بھاگ نکلا لیکن شاید بھاگنا اس کے نصیب میں نہیں تھا اس نے فوراً ہی اس کے پیرپر گولی چلا کر اسے بے بس کر دیا
اور اس کے بعد شام کو فون کیا
ہاں شام یہاں آفس سے تھوڑے فاصلے پر ایک لڑکے کی لاش پڑی ہے جبکہ دوسرے کے پاوں پر میں نے گولی مار دی ہے بھاگنے کی کوشش کر رہا تھا اسے لے چلو ریمانڈ روم میں یہ سارا سچ اگل دے گا
اس نے کہتے ہوئے فون بند کیا اور اپنی جیب سے ہتھکڑی نکالتے اسے پہنانے لگا
کون ہو تم ۔۔۔۔اور مجھے ہتھکڑی کیوں پہنا رہے ہو وہ درد سے بلبلاتے ہوئے بولا
تم جیسے غنڈے اور کرائمرز مجھے میجر حیدر شاہ کے نام سے جنتے ہیں۔ تو پھر کیا خیال ہے سسرال چلییں آخر میں وہ ذرا سا مسکرایا ۔
❤
یار آج وہ دونوں لڑکے نہیں آئے
وہ بدتمیز آوارہ لڑکے کہاں گئے اس نے کلاس میں قدم رکھا تو گسپ جاری تھا وہ اگنور کرتے ہوئے اپنی چیئر پر آکر بیٹھی
جب دھیان سامنے بیٹھی سدرہ پر گیا جو اپنے بالوں کو نیا رنگ کروا کر پوری کلاس کو دکھا رہی تھی
احساس نے نفی میں گردن ہلاتے ہوئے اپنی نوٹ بک کھولی
کیا مطلب نیو ٹیچر وہ بھی ہینڈسم تم نے مجھے کل ٹیکس کرکے کیوں نہیں بتایا وہ اپنی دوست کو گھورتے ہوئے بولی کیونکہ پچھلے کچھ دنوں سے سدرہ غیر خاصر تھی وہ زیادہ تر غیر حاضر ہی رہتی تھی امیر باپ کی بگڑی ہوئی اولاد
او مائی گوڈ یعنی کے اب تو پڑھنے میں بھی مزہ آئے گا وہ اپنی سہیلی سے نیو ٹیچر کی تعریفیں سنتے ہوئے ایک ادا سے بولی
جب احساس نے اسے گھور کر دیکھا
ابھی دیکھ کیسے باتیں کر رہی ہے جب سر پوری کلاس کے سامنے بےعزتی کریں گے نہ تب دیکھ منہ چوہیا جیسا نکل آئے گا زارا اس کے کان میں منملائی کیونکہ اس طرح اس کے سامنے بولنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی وہ بہت ہی جھگڑلوقسم کی لڑکی تھی
جبکہ زارا کی سرگوشی پر احساس بھی ہلکے سے مسکرا دی
❤
اس نے کلاس میں قدم رکھا تو کل کی بنسبت آج کلاس کا تھوڑا ماحول ٹھیک ٹھاک تھا سب نے کھڑے ہو کر اسے سلام کیا
سر کے اشارے سے جواب دیتا ان سب کو بیٹھنے کا
کہا
آج کلاس میں کچھ نئے چہرے تھے جو کل یہاں موجود نہیں تھے اس نے ایک سرسری سی نظر پوری کلاس میں ڈالی
مس سدرہ کل کہاں غائب تھی رجسٹر سے اس کا نام دیکھتے ہوئے بولا
سدرہ اس کے انداز پر مسکراتے ہوئے کھڑی ہوئی
کل میری پالر میں اپوائنمنٹ تھی جانا بہت ضروری تھا ۔سدرہ ایک ادا سے بولی
اگر آپ کا پارلر جانا اتنا ہی ضروری ہے مسں سدرہ تو ایسا کریں کہ ایک کالج پالر میں کھلوالا لیں تاکہ آپ کی پڑھائی کا حرج نہ ہو
اس کے انداز میں حیدر کو سچ مچ غصہ دلادیا تھا
آئی ایم سوری سر مجھے پتا نہیں تھا کہ آپ نیو ٹیچر ہیں اگر پتہ ہوتا تو میں کبھی چھٹی نہیں کرتی وہ سر سے پاؤں تک حیدر کو دیکھتے ہوئے ذہ معنی انداز میں مسکرائی
اس کی حرکتیں اور انداز نوٹ کرنا حیدر جیسے آدمی کے لئے نا ممکن نہ تھا
وہ آنکھوں ہی آنکھوں میں اس کے اشارے سمجھ رہا تھا
بیٹھ جائیں وہ غصے سے بولا
پہلے میرے ایک سوال کا جواب تو دیں مسٹر حیدر آپ کا سر نیم کیا ہے سدرہ اسی بے باک انداز میں بولی
دوسروں کے لئے جو بھی ہے لیکن آپ کے لیے میرا سر نیم بھی سر ہی ہے ناو کین یو پلیز سیٹ ڈاون
آپ میرا وقت ضائع کر رہی ہے وہ اسے گھورتے ہوئے سخت لہجے میں بولا
جبکہ اس بات سے سدرا اپنی بےعزتی محسوس کرتی پوری کلاس کی طرف دیکھنے لگی
اور فورا ہی شرم سے بیٹھ کر اپنا ڈیکس پر سامان ادھر ادھرکرنے لگی شاید اس کا غصہ کنٹرول کرنے کا ایک انداز تھا
جبکہ اس کی اتنی بےعزتی پر احساس اور رازا اپنی مسکراہٹ روکے کلاس سے باہر جاکر قہقے لگانے کا ارادہ رکھتی تھی
❤
وہ دونوں کلاس سے باہر آکر اپنی ہنسی کنٹرول کرنے کی کوشش کر رہی تھی
سدرہ جس کے سامنے کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا تھا سر حیدر نے اس کی اتنی بےعزتی کی تھی یہ سب کے لیے ہی یہ بہت مزے دار خبر تھی
وہ دونوں کلاس سے باہر کھڑی تھی جب سر شام اور سر حیدر ان کے قریب سے گزرے ۔
ان دونوں کا ارادہ پرنسپل آفس میں جانے کا تھا جب اچانک سر حیدر اسے دیکھ کر رک گئے
حیدر کا سارا دھیان اس کی کلائی پر تھا جس کو شام اور زارا دونوں نے کچھ خاص نوٹ نہ کیا تھا
پھر اگلے ہی لمحے وہ اسے گھورتا ہوا آگے بڑھ گیا تو غصہ کس بات کا تھا زارا بھی نہیں سمجھ پائی اور شام بھی نہیں
لیکن اپنے دل پر ہاتھ رکھ کے احساس کلاس روم کی طرف بھاگی اور اپنے بیگ سے ایک بریسلیٹ نکال کر پہننے لگی
واو کتنا خوبصورت ہے کس نے دیا تمہیں زارا اس کا بریسلیٹ دیکھتے ہوئے بولی جو بہت خوبصورت تھا
ویسے تمہاری ماما کی پسند کو ماننا پڑے گا جب احساس نے اس کے بات کا کوئی جواب نہ دیا تو وہ خود ہی اندازہ لگا بیٹھی کہ یہ اس کی ماں نے اسے دیا ہوگا
جب کہ اس کے جواب پر احساس صرف مسکرائی۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: