Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 5

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 5

–**–**–

وہ گہری نیند میں تھی جب اسے اپنے چہرے پر کسی کی گرم سانسیں محسوس ہوئی وہ جانتی تھی وہ کون ہے لیکن ڈر کے مارے اپنی آنکھیں نہیں کھول پا رہی تھی وہ جانتی تھی وہ اسے سزا دینے آیا ہے
اس نے پھر اس کی سب سے عزیز چیز خود سے دور کی تھی لیکن اس نے جان بوجھ کر ایسا نہیں کیا تھا مس انعم اپنی کلاس میں لڑکیوں کو کسی قسم کی جولری نہیں پہننے دیتی تھی
میں ۔۔۔۔۔میں نے جان۔۔۔۔۔۔ بوجھ کر۔۔۔۔۔ نہیں کیا مس۔ ۔۔۔۔۔ نے منع کیا ۔۔۔۔تھا وہ بند آنکھ سے بڑبڑاتے ہوئے بولی تو وہ مسکرا دیا
مس انعم کی باتیں مانتی ہو اور میری نہیں وہ اس کے چہرے کو نرمی سے اپنے لبوں سے چھوتا اس کی سانسیں روک رہا تھا
احساس کو لگا کہ اگر اب بھی وہ اس پر نہ اٹھا تو یقینا اس کا ننھا سا دل بند ہو جائے گا
میں نے۔۔۔۔۔ کچھ نہیں کیا۔۔۔۔۔ مجھے معاف ۔۔۔۔۔کر دیں میں آئندہ ۔۔۔۔۔ایسی غلطی ۔۔۔۔۔۔نہیں کروں ۔۔۔۔۔گی
اس کی آنکھیں ابھی بند تھی اس کی ہلکی ہلکی منمنآہٹ سن کر وہ مسکرا دیا
تمہیں سزا دے کر سکون محسوس کرتا ہوں کیونکہ یہی ایک طریقہ ہے میرے پاس تمہارے قریب آنے کا تمہیں چھونے کا
جب اپنے لبوں سے تمہارے کان میں سرگوشی کرتا ہوں تو اپنے اندر سکون محسوس کرتا ہوں
جب تمہاری آنکھوں کو چومتا ہوں مجھے میرا خواب سچ ہوتا محسوس ہوتا ہے وہ اس کی آنکھوں کو چومتے ہوئے بولا
تمہاری ننھی سی ناک میں بہت جلدی اپنی شادی کی لونگ سجاؤنگا ۔
اور تمہارے لبوں کو چوم کر مجھے محسوس ہوتا ہے کہ میرا بھی اس دنیا میں کوئی اپنا ہے ۔ یہ کہتے ہوئے روکا نہیں بلکہ اپنے کہے پر عمل کرتے ہوئے وہ اس کے لبوں پر جھکا تھا
اس کے نرم اور ملائم سانسیں اپنی سانسوں میں اتارتے ہوئے وہ اسے اپنی باہوں میں قید کرنے لگا
جذبات کا طوفان اٹھتا چلا جا رہا تھا اس کے انداز میں شدت آ رہی تھی
جب اچانک وہ اس کے لبوں کو اپنے لبوں کی قید سے آزاد کرتے ہوئے اس کا ماتھے کو چھو کر فوراً ہی اس کے کمرے سے باہر نکل آیا شاید اسے ڈر تھا کہ وہ اپنی ساری حدیں کراس نہ کردے۔
نکاح کے بعد کون سی حددو تھی وہ تو بس اس کی رخصتی کا انتظار اس کے والدین کی مرضی کے ساتھ کر رہا تھا جس سے پہلے وہ اسے اپنی محبت کا کوئی نظارہ دکھانا نہیں چاہتا تھا
❤
اس نے کلاس میں قدم رکھا تو سب ایک دوسرے سے باتیں کرنے میں مصروف تھے
اسے دیکھتے ہی سب الرٹ ہو کر کھڑے ہو گئے
سر ہماری کلاس میں دو لڑکے تھے نہ جو آپ سے بدتمیزی کر رہے تھے جیسے آپ نے تھپڑ مارا تھا ان میں سے ایک کی ڈیتھ ہوگئی سر بیچارہ کیسے پتہ تھا اس طرح سے مر جائے گا
اپنے گلاسز ٹھیک کرتے ہوئے عمر نے افسوس سے کہا
اللہ اسے بخش دے خیر ہم کلاس اسٹارٹ کرتے ہیں اظہار افسوس کرتا ہوں اپنا مالکر اٹھانے لگا
جب نظر پانچویں ڈیکس پر بیٹھی احساس پر پڑی
مس احساس یہاں فرینٹ میں بیٹھا کریں ماشااللہ سے ایک تو آپ کو سمجھ ضرورت سے زیادہ آتی ہے ۔اور دوسرا آپ اتنی پیچھے ہو کر بیٹھتی ہیں
سدرہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے نے اسے سدرہ کی چیئر پر بیٹھنے کا اشارہ کیا
سر میں ہمیشہ سے یہاں بیٹھتی ہوں سدرہ کو غصہ آیا یقینا اپنی جگہ چھوڑنے کو تیار نہ تھی
لیکن میری کلاس میں آپ پیچھے جا کر بیٹھا کریں گی ویسے بھی آپ اس چیئر پر بیٹھنے کے قابل نہیں ہیں ۔
کیوں کہ میرا نہیں خیال کہ آپ اس کالج میں پڑھنے کے لئے آتی ہیں اور آپ کی مزید فصولیات میں مجھے انٹرسٹ نہیں ہے حیدرنے جتاتے ہوئے کہا
اور احساس کو آگے آنے کا اشارہ کیا جو خاموشی سے اپنا بیگ اٹھا کر سدرہ کی چیئر پر آگئی
❤
دن گزرتے جا رہے تھے اور آِئے دن وہ کسی نہ کسی بات پر احساس کو ڈانٹا تھا
وجہ یہ تھی کہ وہ میتھ میں ضرورت سے زیادہ کمزورتھی یہ تو شکر تھا کہ اس کا فزکس اچھا تھا ورنہ جانے اس کا سال کیسا ہوتا
آج جمعہ تھا کلاس میں بہت سارے اسٹوڈنٹس مسنگ تھے جمعےکو وہ لوگ پڑھتے نہیں تھے
لیکن سر حیدر نے آکر کہہ دیا کہ اب سے ہر جعمے ان لوگوں کا ٹیسٹ ہوا کرے گا وہ ایک بھی دن ضائع کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے لیکن آپنے میز پر موجود بہت ساری اپلیکیشن دیکھ لے کر سے کافی غصہ آیا
❤
وہ جتنا جلدی کلاس میں پہنچنا چاہتی تھی اتنا ہی لیٹ ہو چکی تھی
وہ جب پہنچی کلاس شروع ہو چکی تھی اور سرحیدر تقریبا بورڈ سیاہی سے بھر چکے تھے نہ جانے وہ میتھ کا کون سا کوشن سمجھا رہے تھے
مس احساس زاوق شاہ تو آج آپ لیٹ ہیں کیا دیر سے آنے کی وجہ سے سکتا ہوں میں
وہ سب کو بورڈ پر لکھا ہوا نوٹ کرنے کو کہہ کر اس کی طرف بڑھا
وہ گاڑی لیٹ ہو گئی وہ جلدی سے بولی
اور گاڑی کے لیٹ ہونے کی وجہ کیا ہے آپ جانتی ہیں آپ میتھ میں کتنی کمزور ہیں اور پھر سے کبھی آپ کا لیٹ آنا کبھی آپ کا چھٹی کرنا ۔آپ کا ارادہ ہے پاس ہونے کا یا نہیں وہ اس سے ڈانٹتے ہوئے بولا
اس نے تو صرف جمعہ کی چھٹی کی تھی غلطی سے آج ہی لیٹ ہوئی تھی اور اس پر بھی اسے اتنی باتیں سنی پر رہی تھی جعمے کو بھی مما کی طبیعت خراب ہونے کی وجہ سے اس نے چھٹی کی تھی
اب اس میں ڈانٹنے والے کون سے بات تھی اس نے ابلیکیشن بھی تو بھیج دی تھی
میں پوچھ رہا ہوں پاس ہونے کا ارادہ ہے یا نہیں وہ اپنا سوال دہرایا تے ہوئے بولا جب کہ احساس نظریں زمین میں گاڑے کبھی ادھر تو کبھی ادھر دیکھ رہی تھی اسے انہیں پڑھاتے ہوئے دس دن ہو چکے تھے اور اس دن کے دوران وہ سب سے زیادہ اسے ہی ڈانٹ رہا تھا
مس احساس بہتر ہو گا کہ اپنی پڑھائی پر غور کرے ورنہ بے کار میں اپنے ماں باپ کا وقت ضائع نہ کریں جائیں اپنی چیئر پر بیٹھ جائیں اور یہ جو کوشنز ہیں ان کا کل ٹیسٹ ہوگا بورڈ پر لکھے سوالوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے ٹیسٹ کا کہہ کر باہر نکل گیا
جب کہ احساس اچھی خاصی مشکل میں پڑ چکی تھی
اس نے ایک نظر زارا کے چہرے کی طرف دیکھا جو منہ لٹکائے بیٹھی تھی اس کا مطلب تھا کہ اسے بھی ان سوالوں کی سمجھ نہیں آئی اور انہیں سمجھ نہیں آئی تھی تو یہ ٹیسٹ کیا دیتی ہے

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: