Main Aashiq Deewana Tera Novel by Areej Shah – Episode 6

0
میں عاشق دیوانہ تیرا از اریج شاہ – قسط نمبر 6

–**–**–

ماما شادی پر گئی ہوئی تھی اسے بہت سخت بھوک لگی تھی بابا ابھی تک آفس سے آئے نہیں اور اوپر سے اتوار کا بورنگ دن تھے اس طرح بور ہو کر بیٹھنے سے بہتر تھا کہ وہ اپنے لیے کچھ بنا لیتی ۔
اس سوچ کے آتے ہی اس نے فیصلہ کیا کیچن کی طرف آئی ماما نے کہا تھا کہ وہ جلدی واپس آ جائے گی لیکن نہ جانے کیا وجہ تھی کہ وہ ابھی تک گھر واپس لے آئیں۔
وہ اسے گھر کا زیادہ کام نہیں کرنے دیتی تھی وہ کھانا کبھی کبھی بناتی تھی یا جس دن زاوق کے گھر آنے کے چانس ہوتے ۔
ورنہ وہ تو بس اتنا ہی کہتی تھی کہ اپنی پڑھائی پر دھیان دو زاوق تمہاری پڑھائی کی وجہ سے رخصت ہی نہیں لے رہا
آج کل زاوق سے بہت ناراض تھی پچھلے کچھ دنوں سے میں وہ مسلسل اسے ڈانٹ رہا تھا ۔اوراب پچھلے کچھ دنوں سے شاید وہ زیادہ سے زیادہ بیزی تھا کہ اس کے موبائل پر زاوق کی ایک بھی کال یا میسج نہیں آیا تھا
ایسا کبھی نہیں ہوتا تھا زاوق نے خود اسے یہ موبائل خرید کر دیا تھا اور سختی سے منع کیا تھا کہ اس کا نمبر اس کی کسی دوست کے پاس بھی نہیں ہونا چاہیے ۔
اس موبائل پر وہ صرف اور صرف زاوق سے ہی بات کر سکتی ہے
اور اب نہ جانے کتنے دنوں سے وہ موبائل بالکل خاموش پڑا تھا اسے موبائل رکھنے کی عادت نہیں تھی اسی لیے اکثر ا کہیں بھی بھول جاتی
جس کی وجہ سے زاوق کو اسے لینڈلائن نمبر پر فون کرنا پڑتا لیکن اس بار سخت ڈانٹ کی وجہ سے وہ موبائل ہر وقت اپنے پاس رکھ رہی تھی
❤
پچھلے چار دنوں سے اس نے اپنی جان کو بالکل فون نہیں کیا تھا اور اب وہ اس سے ملاقات کے لئے تڑپ رہا تھا کتنے دن ہو چکے تھے اسے محسوس کئے ہوئے
اپنے دل کے ہاتھوں مجبور ہو کر آج وہ گھرآ ہی گیا تھا اس کے پاس ہمیشہ سے گھر کی ڈپلیکیٹ کی موجود لیکن پھر بھی وہ بیل بجاتا تھا لیکن آج امی جان کو سرپرائز دینے کے لئے وہ بنا دروازہ کھٹکھٹائے ایکسٹرا کی سے دروازہ کھول کر اندر داخل ہوا
گھر میں کوئی بھی موجود نہ تھا صرف کچن سے تھوڑی آواز آ رہی تھی امی جان کا خیال آتے ہی وہ مسکرایا اور کچن کی طرف جانے قدم بڑھائیں
لیکن کچن میں امی جان کی جگہ اسے کھڑا دیکھ کر اس کا دل اپنے آپ فل سپیڈ کو دھڑکنے لگا ۔
احساس اپنے کام میں مگن ہر چیز سے بے نیاز پہلے کھانا کھانا بنانے میں مصروف تھی۔
جب اسے اپنی کمر پر سنسناتا ہوا ہاتھ محسوس ہوا ۔وہ اس کی خوشبو محسوس کرتی بے اختیار اپنی آنکھیں بند کی ۔
جب اس کی کمر پر گرفت ذرا سخت ہوئی وہ مکمل طور پر اس پر اپنا قبضہ جما چکا تھا
کیا یہ میرے لیے بنایا جا رہا ہے اس کے لب اس کے کانوں کوچھو رہے تھے۔
نہ ۔۔۔ نہیں یہ تو ۔۔۔۔ وہ اس سے دور ہونے کی کوشش میں بولی۔ اس کا انداز ایسا تھا کہ وہ فاصلہ بھی قائم کر لے اور زاوق کو برا بھی نہ لگے ۔کیونکہ اس بات کی بھی زاوق اسے الگ سزا دیتا تھا ۔
مطلب میرے لیے نہیں ہے اس کی کمر پراپنی گرفت مزید مضبوط کرتے ہوئے وہ پھر سے بولا احساس جواب میں نظریں جھکا گئی وہ محفوظ ہوا
چلو تو پھر جو میرا ہے وہ مجھے دے دو اگلے ہی لمحے وہ فاصلہ ختم کر کے ایک بار پھر سے اسے اپنے بے حد قریب کر چکا تھا اس کی صراحی دار گردن سے بال ہٹاتے ہوئے اس نے اپنے لب رکھے جب احساس مچل کر اس کی گرفت سے نکلنے لگی
دل سینے کی سبھی دیواروں کو توڑ کر باہر آنے کو مچل اٹھا تھا ہاتھ پیر آہستہ آہستہ کانپ رہے تھے جبکہ زاوق کا آج اسے بخشنے کا کوئی ارادہ نہ تھا وہ اس کی مزاحمت کو اگنور کرتے مزید اسے اپنے قریب کرنے لگا
زاوق کوئی آجائے گا وہ تڑپ کر بولی
کوئی آ ہی نہ جائے وہ مسکرا کر اس کے لبوں پر جھکا اس سے پہلے کہ وہ محبت بھری کوئی جسارت کرتا باہر کا دروازہ کھلا اور وہ اچانک ہی وہ اس سے دور ہٹا۔اور باہر نکل گیا۔
احساس نے سکون کا سانس لیا اور کپکپاتے ہاتھوں سے چولہا بند کیا ۔دل زوروں سے دھڑک رہا تھا ۔چہرے سرخی مائل تھا۔
جبکہ لبوں پر ایک شرمیلی سی مسکراہٹ
❤
عائشہ نے گھر میں قدم رکھا تو زاوق کو سامنے پا کر کھل اٹھی
میرا بچہ میرے دل کا ٹکڑا وہ اس کی بلائیں لیتے ہوئے اس کے پاس آئی اور اس سے ملنے لگی
پورے ایک ماہ کے بعد وہ اس کا چہرا دیکھ رہی تھی۔
یہ عورت زاوق کے لیے بہت اہمیت رکھتی تھی وہ اس کی ماں نہیں بلکہ ماں سے بھر کر تھی تیرہ سال کا تھا وہ جب اسے منافقت سے پاک ہے ایک رشتہ ملا جس سے وہ بے پناہ محبت کرتا تھا اور اسی کے وجود کا حصہ تو احساس تھی
جس کے بغیر رہنے کا زاوق سوچ بھی نہیں سکتا تھا
عائشہ سے ملتا ہوا اس کے گرد بازو پھیلا کے اسی کے کمرے میں چلا گیا اب نہ جانے اسے وہاں کتنی دیر رہنا تھا کیونکہ ان ماں بیٹے کی میٹنگ تو کبھی ختم ہی نہیں ہوتی تھی
کھانا بنانے کے بعد احساس نے ان کوکھانا لگ جانے کی خبر دی
جب کہ احساس کا روٹھا ہوا انداز وہ کچن میں نوٹ نہیں کر پایا تھا
وہ اس سے خفا تھی
کیوں۔۔۔۔؟ وہ خود سے سوال کر رہا تھا پھر مسکرایا اور پھر خاصہ اونچی آواز میں اسے سنانے والے انداز میں بولا
مسز عائشہ آپ کی بیٹی بہت نالائق ہے یہ پرھائی نہیں کر سکتی شادی کر دیں اس کی وہ عائشہ کو آنکھ دبا کر مسکراتے ہوئے بولا
ہاں بالکل صحیح کہا ایک میں ہی نالائق ہوں خوری کلاس میں خود تو جیسے بہت لائق ہیں نا وہ پردے کے پیچھے کھڑی ہلکی آواز میں بڑبڑائی تھی جس کی آواز اس طرف واضح طور پر جا رہی تھی
ماما کھانا لگ گیا ہے ٹھنڈا ہو رہا ہے آئیں اور کھا لیں میں نے اپنے ہاتھوں سے بنایا ہے اس نے زاوق کو سنانے والے انداز میں کہا اب تک وہ کھانا صرف زاوق کی فرمائش پہ بناتی تھی ۔اور آج بنا فرمائش کے ہی اسے اپنی جان کے ہاتھوں کا کھانا نصیب ہو رہا تھا
کھانے کے دوران بھی وہ باز نہیں آیا ہر تھوڑی دیر میں احساس کی جانب جملے پھینکتے ہوئے اسے تنگ کرتا رہا جب کہ احساس منہ بناتی رہی۔
جب کہ وہ اس کا پھولا ہوا منہ دیکھ کر مسکرائے جا رہا ۔

–**–**–
جاری ہے
——
آپکو یہ ناول کیسا لگا؟
کمنٹس میں اپنی رائے سے ضرور آگاہ کریں۔

Leave a Reply

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

Subscribe For Latest Novels

Signup for Novels and get notified when we publish new Novel for free!




%d bloggers like this: